03/03/2026
اہلِ سنت کا اصولی موقف — جذبات سے بالاتر، عدل کے ساتھ
اہلِ سنت و جماعت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ظلم جہاں سے بھی ہو، جس کے خلاف بھی ہو، وہ قابلِ مذمت ہے۔ کسی ریاست، جماعت یا گروہ کو اس کے مذہبی یا سیاسی لیبل کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کے اعمال کی بنیاد پر دیکھا جاتا ہے۔ یہی وہ میزان ہے جس پر اہلِ سنت اپنے سیاسی و مذہبی مؤقف کو پرکھتے ہیں۔
ایران کے حوالے سے اہلسنت ناقدین یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ اس نے مشرقِ وسطیٰ کی جنگوں میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر مداخلت کی، خصوصاً عراق میں 2003 کے بعد پیدا ہونے والی فرقہ وارانہ کشیدگی، شام کی خانہ جنگی میں عسکری حمایت، لبنان میں بعض مسلح گروہوں کی سرپرستی، اور یمن میں جاری تنازع میں کردار۔ اہلِ سنت حلقے یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ ان پالیسیوں کے نتیجے میں سنی آبادیوں کو شدید جانی و مالی نقصان پہنچا، مساجد تباہ ہوئیں، اور مذہبی و سماجی تقسیم میں اضافہ ہوا۔ ان کے نزدیک "اہلِ بیت" کے نام پر سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے کی کوششوں نے امت کے اتحاد کو نقصان پہنچایا۔
اہلِ سنت و جماعت کا بنیادی اصول یہ نہیں کہ "دونوں فریق لڑیں تو خوشی ہو" بلکہ یہ ہے کہ مسلمان کسی بھی ظالم طاقت کا اندھا حمایتی نہیں بن سکتا۔ فرقہ واریت کی بنیاد پر قتل و غارت کی مذمت کی جائے۔ مظلوم کی حمایت کی جائے، خواہ وہ کسی بھی مسلک یا قوم سے تعلق رکھتا ہو۔ امت کے اتحاد کو سیاسی مفادات کی نذر نہ کیا جائے۔
قرآن کا اصول واضح ہے:
"وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ"
(کسی قوم کی دشمنی تمہیں انصاف سے نہ روکے، انصاف کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔)
اہلِ سنت کا متوازن موقف یہ ہے کہ ظلم خواہ ایران کی پالیسیوں میں ہو یا اسرائیل کی ریاستی کارروائیوں میں — دونوں کی مذمت کی جائے۔ امت کو فرقہ وارانہ نفرت سے بچایا جائے۔ سیاسی کشمکش کو دینی عقیدے کا رنگ دے کر عوام کو مشتعل نہ کیا جائے۔ عالمی تنازعات میں جذبات کے بجائے عدل، تحقیق اور حکمت کو اختیار کیا جائے۔
قنوتِ نازلہ اور نبی ﷺ کی دعائیں — پس منظر
نبی کریم ﷺ نے مختلف مواقع پر دعا اور قنوت نازلہ کا اہتمام فرمایا، خصوصاً مظلوم صحابہ کے لیے، دشمن کے ظلم کے مقابلے میں، اور اجتماعی مصیبت کے وقت۔ جنگِ بدر سے پہلے اور بعض دیگر مواقع پر آپ ﷺ نے قریش کے ان سرداروں کے خلاف دعا کی جو ظلم و ایذا میں پیش پیش تھے۔ یہ روایات صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں موجود ہیں۔
اسی طرح بعض سلف سے یہ دعا منقول ہے:
اللهم أشغل الظالمين بالظالمين وأخرجنا من بينهم سالمين
یہ دعا ایک اصولی بات سکھاتی ہے:
✔ ظالم کی تائید نہیں
✔ اپنی سلامتی کی طلب
✔ براہِ راست فساد میں شریک نہ ہونا
فقہاء کے نزدیک قنوتِ نازلہ اجتماعی مصیبت میں پڑھی جا سکتی ہے، فجر یا دیگر نمازوں میں وقتی طور پر کی جا سکتی ہے، اور اس کا مقصد نصرتِ مظلوم اور دفعِ شر ہوتا ہے۔ مگر اس میں الفاظ اور اسلوب ایسا ہونا چاہیے جو شرعی حدود میں ہو، بے گناہوں کی ہلاکت کی تمنا نہ ہو، اور امت کے عمومی امن کی دعا شامل ہو۔
مثلاً:
اے اللہ! ظالموں کے ظلم کو روک دے، مظلوموں کی مدد فرما، امتِ مسلمہ کو فتنوں سے بچا، اور ہمیں عدل و حکمت کے ساتھ ثابت قدم رکھ۔
غیرتِ ایمانی کا صحیح مفہوم
غیرتِ ایمانی صرف سخت الفاظ یا دشمن کی بربادی کی تمنا کا نام نہیں، بلکہ ظلم سے نفرت، عدل پر قائم رہنا، مظلوم کی حمایت، اور اپنے کردار کو پاک رکھنا ہے۔ قرآن کا اصول یہی ہے کہ دشمنی بھی انصاف سے نہ ہٹائے۔
خلاصہ یہ کہ ظلم کی مذمت کی جائے، چاہے کسی کی طرف سے ہو۔ دو طاقتوں کی جنگ پر خوشی نہ منائی جائے۔ اللہ سے دعا کی جائے کہ وہ فتنوں کو خود ختم کرے اور مسلمانوں کو محفوظ رکھے۔ قنوت نازلہ اگر پڑھی جائے تو حکمت اور اعتدال کے ساتھ۔
سیاسی بیانیہ اور سخت مؤقف
جو آج ایران کی حمایت کرتا ہے، وہ اہل سنت کے قاتلوں کا ساتھ دے رہا ہے۔ اور جو اسرائیل کا حمایتی ہے، وہ بیت المقدس کے مجرم کا ساتھی ہے۔ ایسے وقت میں خاموشی بھی جرم ہے — ہمیں کسی کا حمایتی نہیں بننا، صرف حق کا علم بلند کرنا ہے۔
لاکھوں شامی مظلوم مسلمانوں کا قاتل۔
لاکھوں عراقی مسلمانوں کا قاتل۔
لاکھوں ایرانی اور ایرانی مسلمانوں کا قاتل۔
راہبرِ انقلابِ ایران کا ساتھی و نائب۔ ولایتِ فقیہ نام کے سیاسی کم مذہبی ٹائٹل کا حامل۔ امامِ غائب کا نائب سمجھا اور کہلایا جانے والا شخص۔ اسلامی ممالک میں پراکسیز لڑنے والی حکومت کا سربراہ۔ انتہائی غلیظ لٹریچر چھپوا کر تقسیم کرنے والی حکومت کا راہبرِ اعلیٰ۔ پاکستان میں فرقہ وارانہ قتل و غارت میں ملوث تمام گروہوں کو ٹریننگ، پیسہ اور پناہ دینے والے ملک کا روحانی پیشوا۔ گینگ وار اور انڈین را کو facilitate کرنے والے ایران کا حقیقی، ظاہری و باطنی حکمران۔
حال ہی میں مہنگائی کے خلاف اٹھنے والے اپنے ہزاروں ایرانی ہم مذہبوں کا وحشی قاتل۔ قرآن میں تحریف کا عقیدہ رکھنے والوں کا سب سے بڑا مذہبی و روحانی پیشوا۔ پرشین ایمپائر کا دنیاوی مالک و مختار۔ حزب اللہ، زینبیون، فاطمیون اور حسینیون نامی دہشت گرد تنظیموں کا ہیڈ اور روحانی قائد۔ ایران میں سنی بلوچ مسلمانوں پر قیامتیں برپا کرنے والا فارسی بان۔ حسن نصراللہ اور قاسم سلیمانی کا روحانی و مذہبی و سیاسی قائد۔ تہران میں مساجد اور آذان کی اجازت نہ دینے والا۔
آخری وقت تک اسلامی ملکوں پر میزائل برسانے والا۔ ایرانی حکومت کا وہ ظالم اور سفاک سر، دھڑ اور چہرہ —سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اب مارا گیا ہے۔ ایرانی میڈیا اور حکومت نے اس کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔
یہ لمحہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ طاقت اور اقتدار کے پیچھے کتنی گہری منصوبہ بندی، کتنی خونی سیاست اور کتنی خوفناک حقیقت چھپی ہوتی ہے۔ ہر لفظ، ہر ٹائٹل، اور ہر کردار ایک تاریخ کی تلخ یاد دہانی ہے، جو امت کے لیے سبق اور انتباہ ہے۔
از قلم خان زیارت احمد خان لودھی ایڈووکیٹ ہائیکورٹ ساہیوال سینٹرل پنجاب پاکستان۔