Sahiwal Spiritual-News

Sahiwal Spiritual-News یا شیخ عبدالقادر جیلانی
یا شیخ شاہ کمال جیلانی
یا شیخ شاہ سکندر جیلانی

03/03/2026

اہلِ سنت کا اصولی موقف — جذبات سے بالاتر، عدل کے ساتھ
اہلِ سنت و جماعت کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ظلم جہاں سے بھی ہو، جس کے خلاف بھی ہو، وہ قابلِ مذمت ہے۔ کسی ریاست، جماعت یا گروہ کو اس کے مذہبی یا سیاسی لیبل کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کے اعمال کی بنیاد پر دیکھا جاتا ہے۔ یہی وہ میزان ہے جس پر اہلِ سنت اپنے سیاسی و مذہبی مؤقف کو پرکھتے ہیں۔
ایران کے حوالے سے اہلسنت ناقدین یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ اس نے مشرقِ وسطیٰ کی جنگوں میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر مداخلت کی، خصوصاً عراق میں 2003 کے بعد پیدا ہونے والی فرقہ وارانہ کشیدگی، شام کی خانہ جنگی میں عسکری حمایت، لبنان میں بعض مسلح گروہوں کی سرپرستی، اور یمن میں جاری تنازع میں کردار۔ اہلِ سنت حلقے یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ ان پالیسیوں کے نتیجے میں سنی آبادیوں کو شدید جانی و مالی نقصان پہنچا، مساجد تباہ ہوئیں، اور مذہبی و سماجی تقسیم میں اضافہ ہوا۔ ان کے نزدیک "اہلِ بیت" کے نام پر سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے کی کوششوں نے امت کے اتحاد کو نقصان پہنچایا۔
اہلِ سنت و جماعت کا بنیادی اصول یہ نہیں کہ "دونوں فریق لڑیں تو خوشی ہو" بلکہ یہ ہے کہ مسلمان کسی بھی ظالم طاقت کا اندھا حمایتی نہیں بن سکتا۔ فرقہ واریت کی بنیاد پر قتل و غارت کی مذمت کی جائے۔ مظلوم کی حمایت کی جائے، خواہ وہ کسی بھی مسلک یا قوم سے تعلق رکھتا ہو۔ امت کے اتحاد کو سیاسی مفادات کی نذر نہ کیا جائے۔
قرآن کا اصول واضح ہے:
"وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ"
(کسی قوم کی دشمنی تمہیں انصاف سے نہ روکے، انصاف کرو، یہی تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔)
اہلِ سنت کا متوازن موقف یہ ہے کہ ظلم خواہ ایران کی پالیسیوں میں ہو یا اسرائیل کی ریاستی کارروائیوں میں — دونوں کی مذمت کی جائے۔ امت کو فرقہ وارانہ نفرت سے بچایا جائے۔ سیاسی کشمکش کو دینی عقیدے کا رنگ دے کر عوام کو مشتعل نہ کیا جائے۔ عالمی تنازعات میں جذبات کے بجائے عدل، تحقیق اور حکمت کو اختیار کیا جائے۔
قنوتِ نازلہ اور نبی ﷺ کی دعائیں — پس منظر
نبی کریم ﷺ نے مختلف مواقع پر دعا اور قنوت نازلہ کا اہتمام فرمایا، خصوصاً مظلوم صحابہ کے لیے، دشمن کے ظلم کے مقابلے میں، اور اجتماعی مصیبت کے وقت۔ جنگِ بدر سے پہلے اور بعض دیگر مواقع پر آپ ﷺ نے قریش کے ان سرداروں کے خلاف دعا کی جو ظلم و ایذا میں پیش پیش تھے۔ یہ روایات صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں موجود ہیں۔
اسی طرح بعض سلف سے یہ دعا منقول ہے:
اللهم أشغل الظالمين بالظالمين وأخرجنا من بينهم سالمين
یہ دعا ایک اصولی بات سکھاتی ہے:
✔ ظالم کی تائید نہیں
✔ اپنی سلامتی کی طلب
✔ براہِ راست فساد میں شریک نہ ہونا
فقہاء کے نزدیک قنوتِ نازلہ اجتماعی مصیبت میں پڑھی جا سکتی ہے، فجر یا دیگر نمازوں میں وقتی طور پر کی جا سکتی ہے، اور اس کا مقصد نصرتِ مظلوم اور دفعِ شر ہوتا ہے۔ مگر اس میں الفاظ اور اسلوب ایسا ہونا چاہیے جو شرعی حدود میں ہو، بے گناہوں کی ہلاکت کی تمنا نہ ہو، اور امت کے عمومی امن کی دعا شامل ہو۔
مثلاً:
اے اللہ! ظالموں کے ظلم کو روک دے، مظلوموں کی مدد فرما، امتِ مسلمہ کو فتنوں سے بچا، اور ہمیں عدل و حکمت کے ساتھ ثابت قدم رکھ۔
غیرتِ ایمانی کا صحیح مفہوم
غیرتِ ایمانی صرف سخت الفاظ یا دشمن کی بربادی کی تمنا کا نام نہیں، بلکہ ظلم سے نفرت، عدل پر قائم رہنا، مظلوم کی حمایت، اور اپنے کردار کو پاک رکھنا ہے۔ قرآن کا اصول یہی ہے کہ دشمنی بھی انصاف سے نہ ہٹائے۔
خلاصہ یہ کہ ظلم کی مذمت کی جائے، چاہے کسی کی طرف سے ہو۔ دو طاقتوں کی جنگ پر خوشی نہ منائی جائے۔ اللہ سے دعا کی جائے کہ وہ فتنوں کو خود ختم کرے اور مسلمانوں کو محفوظ رکھے۔ قنوت نازلہ اگر پڑھی جائے تو حکمت اور اعتدال کے ساتھ۔
سیاسی بیانیہ اور سخت مؤقف
جو آج ایران کی حمایت کرتا ہے، وہ اہل سنت کے قاتلوں کا ساتھ دے رہا ہے۔ اور جو اسرائیل کا حمایتی ہے، وہ بیت المقدس کے مجرم کا ساتھی ہے۔ ایسے وقت میں خاموشی بھی جرم ہے — ہمیں کسی کا حمایتی نہیں بننا، صرف حق کا علم بلند کرنا ہے۔
لاکھوں شامی مظلوم مسلمانوں کا قاتل۔
لاکھوں عراقی مسلمانوں کا قاتل۔
لاکھوں ایرانی اور ایرانی مسلمانوں کا قاتل۔
راہبرِ انقلابِ ایران کا ساتھی و نائب۔ ولایتِ فقیہ نام کے سیاسی کم مذہبی ٹائٹل کا حامل۔ امامِ غائب کا نائب سمجھا اور کہلایا جانے والا شخص۔ اسلامی ممالک میں پراکسیز لڑنے والی حکومت کا سربراہ۔ انتہائی غلیظ لٹریچر چھپوا کر تقسیم کرنے والی حکومت کا راہبرِ اعلیٰ۔ پاکستان میں فرقہ وارانہ قتل و غارت میں ملوث تمام گروہوں کو ٹریننگ، پیسہ اور پناہ دینے والے ملک کا روحانی پیشوا۔ گینگ وار اور انڈین را کو facilitate کرنے والے ایران کا حقیقی، ظاہری و باطنی حکمران۔
حال ہی میں مہنگائی کے خلاف اٹھنے والے اپنے ہزاروں ایرانی ہم مذہبوں کا وحشی قاتل۔ قرآن میں تحریف کا عقیدہ رکھنے والوں کا سب سے بڑا مذہبی و روحانی پیشوا۔ پرشین ایمپائر کا دنیاوی مالک و مختار۔ حزب اللہ، زینبیون، فاطمیون اور حسینیون نامی دہشت گرد تنظیموں کا ہیڈ اور روحانی قائد۔ ایران میں سنی بلوچ مسلمانوں پر قیامتیں برپا کرنے والا فارسی بان۔ حسن نصراللہ اور قاسم سلیمانی کا روحانی و مذہبی و سیاسی قائد۔ تہران میں مساجد اور آذان کی اجازت نہ دینے والا۔
آخری وقت تک اسلامی ملکوں پر میزائل برسانے والا۔ ایرانی حکومت کا وہ ظالم اور سفاک سر، دھڑ اور چہرہ —سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اب مارا گیا ہے۔ ایرانی میڈیا اور حکومت نے اس کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔
یہ لمحہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ طاقت اور اقتدار کے پیچھے کتنی گہری منصوبہ بندی، کتنی خونی سیاست اور کتنی خوفناک حقیقت چھپی ہوتی ہے۔ ہر لفظ، ہر ٹائٹل، اور ہر کردار ایک تاریخ کی تلخ یاد دہانی ہے، جو امت کے لیے سبق اور انتباہ ہے۔
از قلم خان زیارت احمد خان لودھی ایڈووکیٹ ہائیکورٹ ساہیوال سینٹرل پنجاب پاکستان۔

01/03/2026

دربار قادریہ فاضلیہ لاہور پر ناجائز قبضے کا تحقیقی جائزہ
تمہید
دربار قادریہ فاضلیہ لاہور میں قائم ایک معروف روحانی مرکز ہے جو صوفی سلسلۂ قادریہ فاضلیہ کی تاریخی اور روحانی روایات کا امین سمجھا جاتا ہے۔ یہ دربار نہ صرف اہلِ عقیدت کے لیے فیوض و برکات کا مرکز رہا ہے بلکہ اس کے گرد اور نواح میں واقع جائیدادیں اور متعلقہ سہولیات بھی طویل عرصہ تک سلسلہ کے سجادہ نشینوں اور جانشینوں کی تحویل اور ملکیت میں رہتی آئی ہیں۔ اس روحانی ادارے نے اپنے ماننے والوں کی مذہبی، سماجی اور اخلاقی رہنمائی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، جس کے باعث اسے شہر لاہور میں ایک باوقار اور معتبر مقام حاصل ہے۔ حالیہ برسوں میں اس دربار سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان ناجائز قبضہ اور جانشینی کے تنازعات سامنے آئے ہیں، جن کی تفصیلات ذیل میں پیش کی جاتی ہیں۔
دعویٰ اور قانونی پیچیدگی
ثاقب محی الدین صاحب نے سول کورٹ لاہور میں ایک دعویٰ دائر کیا، جس میں انہوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ وہ سلسلہ قادریہ فاضلیہ کے بارہویں جانشین ہیں لہٰذا قادریہ فاضلیہ کالونی لاہور کی قانونی تقسیم نہ کی جائے۔ اس دعویٰ میں اہم حقائق چھپائے گئے، جن کی روشنی میں یہ واضح ہوتا ہے کہ:
اس جائیداد کی اصل ملکیت سید بدر محی الدین علیہ الرحمہ کی اولاد کے پاس تھی، جو سلسلہ قادریہ فاضلیہ کے نویں جانشین تھے۔
دربار قادریہ فاضلیہ کی یہ جائیداد وقف شدہ نہیں تھی بلکہ ذاتی ملکیت تھی۔
سید بدر محی الدین علیہ الرحمہ نے اپنی رجسٹرڈ وصیت میں واضح طور پر تحریر کروایا کہ سلسلہ قادریہ فاضلیہ کی مرکزی جانشینی ان کی اولاد میں سے ہوگی۔
جانشینی اور وصیت کی روشنی میں موقف
وصیت میں درج تھا کہ ہر سجادہ نشین اس جائیداد کو اپنے جانشین کو نسل در نسل منتقل کرے گا۔ ثاقب محی الدین صاحب نہ تو سید بدر محی الدین علیہ الرحمہ کی اولاد میں سے ہیں، نہ میرٹ پر جانشینی کے اہل ہیں اور نہ ہی اس جائیداد سے قانونی استفادہ حاصل کرنے کے اہل ہیں۔
مزید برآں، ثاقب محی الدین صاحب نے یہ اہم حقیقت نہ صرف معزز عدالت سے مخفی رکھی بلکہ سید مقبول محی الدین علیہ الرحمہ کے سامنے بھی مکمل صورتحال واضح نہ کی اور غلط بیانی کے ذریعے اپنی دستار بندی کروا لی، حالانکہ بدر محی الدین علیہ الرحمہ کی رجسٹرڈ وصیت کے مطابق وہ بارہویں جانشین بننے کے میرٹ پر اہل نہ تھے اور نہ ہی ثاقب محی الدین صاحب نے بدر محی الدین علیہ الرحمہ کی اولاد سے ایسی کوئی اجازت حاصل کی تھی۔ بعد ازاں 29 اکتوبر 2021 کو حضور قبلہ سید مقبول محی الدین علیہ الرحمہ، سجادہ نشین دربار قادریہ اور کیتھل شریف، نے ایک واضح اور دوٹوک تردیدی بیان جاری کیا جس میں انہوں نے خاندان فاضلیہ کے اندر جاری تنازعات اور جائیداد کے معاملات سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔ اپنے بیان میں انہوں نے صراحت کی کہ یہ خاندانی اور اندرونی معاملات ہیں، وہ کسی فریق کی حمایت یا مخالفت میں شامل نہیں، اور ایسے تنازعات کا بہترین اور مؤثر حل معزز عدالتوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے دعا کی کہ یہ مسائل باہمی افہام اور تفہیم اور قانونی طریقہ کار کے تحت خوش اسلوبی سے حل ہوں تاکہ سلسلہ کی روحانی وقار اور باہمی احترام کی فضا برقرار رہ سکے۔
عدالت میں پیش رفت
عدالت کے سامنے اصل حقائق پیش کیے جانے کے بعد، سال 2022 میں ثاقب محی الدین کا دعویٰ خارج کر دیا گیا۔ تاہم، ثاقب محی الدین صاحب نے قانونی کارروائی سے ہٹ کر اپنے خلیفہ مجاز عبدالمجید کے ذریعے ایک منظم قبضہ گروپ کے ذریعے جائیداد پر ناجائز قبضہ کرنے کی کوشش کی۔
اس دوران قانونی کارروائی کے نتیجے میں عبدالمجید گرفتار ہوا۔ مزید برآں، بیوہ سید راقب محی الدین اور بیوہ سید قمران محی الدین علیہمم الرحمہ نے آسیہ بخاری کے ساتھ مل کر جانشینی سے منسوب 8 کنال 17 مرلے کی جائیداد پر غیر قانونی قبضہ کر لیا جو کہ بدر محی الدین علیہ الرحمہ کی رجسٹرڈ وصیت کے صریحاً خلاف ہے، جس میں درج ذیل سہولیات شامل تھیں:
مسجد
لائبریری
تعویز خانہ
وضو خانہ
لنگر خانہ اور مہمان خانہ
خدام کی رہائش گاہیں
دو ہال سالانہ تقریبات کے لیے
یہ قبضہ ایل ڈی اے کی منظوری کے بغیر غیر قانونی پلازہ کی تعمیر تک پہنچ گیا، جس نے جائیداد کی روحانی اور قانونی حیثیت کو شدید متاثر کیا۔
نتیجہ اور تجزیہ
ثاقب محی الدین صاحب اور دیگر غیر اولاد بدر محی الدین علیہ الرحمہ کی کارروائیاں واضح طور پر نہ صرف قانونی طور پر ناجائز ہیں بلکہ خاندان کے روحانی اور تاریخی ورثہ کی خلاف ورزی بھی ہیں۔ اس معاملہ سے واضح ہوتا ہے کہ:
سلسلہ قادریہ فاضلیہ کی جانشینی اور جائیداد کی ملکیت کی وضاحت کے لیے رجسٹرڈ وصیت اور قانونی دستاویزات کی اہمیت لازمی ہے۔
غیر قانونی قبضہ اور دستار بندی کے دعوے نہ صرف روحانی مراکز کے لیے خطرہ ہیں بلکہ عدالتی عمل اور عقیدت مند مریدین پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔
خاندان کے اندر تنازعات کے حل کے لیے عدالتوں اور قانونی طریقہ کار کو ہی مرکزی حیثیت دی جانی چاہیے۔
سفارشات
تاریخی اور روحانی جائیدادوں کے قانونی تحفظ کے لیے رجسٹرڈ وصیت کے مطابق عمل ہونا چاہیے۔
غیر قانونی قبضہ کو فوری طور پر ختم کرنے اور قانونی کارروائی کو مؤثر بنانے کے لیے مجاز عدالتیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے فعال کردار ادا کریں۔
روحانی ورثہ اور عوامی اعتماد کو بحال رکھنے کے لیے خاندان کے اندر افہام اور تفہیم کی کوششیں بڑھائی جائیں۔
از قلم
خان زیارت احمد خان لودھی
ایڈووکیٹ ہائی کورٹ ساہیوال۔

01/03/2026

نبیرہ اعلی حضرت عمر رضا خان کا ناگپور انڈیا میں kidney transplant ہوا ہے۔ ڈیڑھ سال سے بہت سخت بیمار ہیں۔ عمر میاں کو ان کی ہمشیرہ نے اپنی kidney donate کی ہے۔ عمر رضا خان کے بہنوئی حمیر حسن قادری کی انتھک محنت اور ماہرہ شریف پیر خانہ اعلی حضرت کے سید امین میاں صاحب کی دعاؤں کا نتیجہ ہے کہ یہ آپریشن کامیاب ہوا ہے۔
آپ لوگوں سے التماس ہے کہ نبیرا اعلی حضرت اور ان کی ہمشیرہ کی مکمل صحت یابی کے لیے دعائیں کریں۔
واسلام جواد رضا خان

20/01/2026

غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی، 561ھ
مظہر شان نبوت سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ
میثاق نبوت اور میثاق ولایت

وَلِلّهِ الْمَثَلُ الْأَعْلَىَ.
(النحل : 60)
’’اور بلند تر صفت اللہ ہی کی ہے‘‘۔​

اللہ کی بلند تر صفت / سب سے بڑی شان سے کیا مراد ہے؟ اس کو سمجھنے کے لئے یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ نبوت، الوہیت کی دلیل ہوتی ہے اور ولایت امت میں نبوت کی دلیل ہوتی ہے۔ نبی، اللہ کی شان ہوتا ہے اور ولی اپنے نبی کی شان ہوتا ہے جیسی شان کا حامل نبی ہو اسی کا مظہر ولی ہوتا ہے۔ آدم علیہ السلام سے لیکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک ہر نبی کو بڑے بڑے ولی ملے جس طرح حضرت سلمان علیہ السلام کو آصف بن برخیا جیسے ولی بھی ملے جو آنکھ جھپکنے سے پہلے سینکڑوں میلوں کی مسافت سے بلقیس کا تخت حاضر کرتے ہیں۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی آئے مگر کسی نبی کو غوث الاعظم سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی جیسا ولی عطا نہیں ھوا اس لئے کہ کوئی نبی، محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہیں ہوا۔ جو نبی کی شان ہوتی ہے وہ ولی اس شان کی برہان ہوتا ہے۔ ولی، نبی کی شان کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ لہذا جس طرح نبی کا مرتبہ ہوگا اس کی امت میں ولایت بھی اس کے مرتبے کا عکس ہوگی۔ نبوت حضور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اپنے نکتہ کمال پر جاپہنچی اور نبوت کا کمال نکتہ وجود محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آگے حرکت نہیں کرسکتا۔ نبوت کا ارتقاء مقام محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک قدم بھی آگے بڑھ نہیں سکتا۔ اسی طرح نبوت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ولایت کا ارتقاء اور ولایت کا کمال نکتہ وجود غوث الاعظم رضی اللہ عنہ سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ حضور سیدنا غوث الاعظم کو سلطان الاولیاء بنایا جیسے آقا خود سلطان الانبیاء ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لیکر عیسیٰ علیہ السلام تک ہر نبی اللہ کی شان ہوتا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقام کیا ہوا؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چونکہ تمام انبیاء کے سردار ہیں لہذا مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اللہ کی سب سے بڑی شان ہیں اور اللہ فرما رہا ہے۔ وَلِلّٰهِ الْمَثَلُ الْاَعْليٰ ’’اللہ کی شان سب سے بڑی ہے‘‘۔ مراد یہ ہے کہ خدا کا مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سب سے بڑا ہے۔ خدا کے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسا کائنات میں کوئی نہیں ہے پس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اللہ کی شان کا سب سے بڑا عنوان ہے۔ اللہ کی رحمت کا عنوان محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، اللہ کے ذکر کا عنوان محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ اللہ کی اطاعت کا عنوان محمد ہیں، اللہ کی محبت کا عنوان محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ اسی طرح اللہ کی قدرت کا عنوان محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، اللہ کی عظمت کا عنوان محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔

اللہ پاک نے فرمایا :

أَلاَ بِذِكْرِ اللّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُO

(الرعد : 28)

’’جان لو اللہ ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینان ملتا ہے‘‘۔

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے ذکر سے مراد محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں یعنی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کا ذکر ہیں۔ گویا اللہ فرما رہا ہے لوگو دلوں کا اطمینان چاہتے ہو تو میرے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہو جاؤ کہ میرا ذکر، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وابستگی میں سب دلوں کا چین ہے۔

سورہ الفاتحہ میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا :

اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَO

’’ہمیں سیدھی راہ دکھا‘‘۔

حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سیدھی راہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام ہے۔ یہ عظیم قول حضرت امام حسن بصری تک پہنچا تو امام حسن بصری رضی اللہ عنہ تڑپ اٹھے کہنے لگے خدا کی قسم درست معنی کیا ہے۔ امام حسن بصری رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ صراط مستقیم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

وَاعْتَصِمُواْ بِحَبْلِ اللّهِ جَمِيعًا.

(آل عمران : 103)

’’اللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھام لو‘‘۔

حضرت عبداللہ بن عباس سے پوچھا گیا کہ حَبْلِ اللّٰہ سے مراد کیا ہے؟ اللہ کی رسی جس کو تھامنا ہے وہ کیا ہے؟ فرمایا : ’’محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں‘‘۔ پس حبل اللہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ ۔ ۔ ذکر اللہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ ۔ ۔ صراط مستقیم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ ۔ ۔ نور اللہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، اطاعت اللہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ ۔ ۔ وجہ اللہ، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ ۔ ۔ بس اک رب، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہیں باقی سب کچھ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ بس ایک رب کو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہ کہو اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رب نہ کہو باقی سب کچھ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ قرآن محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے، ایمان محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے، ا سلام محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے، کعبے کا کعبہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ جس کی طرف ہاتھ کرکے کہہ دیا یہ کعبہ ہے وہی کعبہ ہوگیا، جس سمت اشارہ کر دیا وہ قبلہ ہوگیا، جس کو قرآن کہہ دیا وہ قرآن ہوگیا، کسی نے قرآن اور جبرئیل کو اترتے، وحی کا نزول ہوتے نہیں دیکھا، جو مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہہ دیا وہی قرآن اور وہی کعبہ ہوگیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا بن دیکھے کہہ دو خدا ہے۔ ۔ ۔ سب نے کہا خدا ہے اور چودہ سو سال گذر گئے کسی نے خدا کو دیکھا نہیں ہر کوئی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کہنے پر مانتا چلا آرہا ہے پس یہ عقیدہ ایمان ہے۔

ہر نبی اللہ کی شان ہے اور محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کی سب سے بڑی شان۔ اسی طرح حضور کی امت میں ہر ولی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان اور غوث الاعظم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے بڑی شان ہیں۔ جس نے خدا کو اور خدا کی شان کو دیکھنا ہو تو مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھے اور جس نے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان دیکھنی ہو وہ سرکار بغداد غوث الاعظم رضی اللہ عنہ سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی کو دیکھے۔ غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کون ہیں؟ امت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے بڑی شان کا عنوان غوث الاعظم رضی اللہ عنہ ہے۔ کائنات نبوت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کی شان اور کائنات ولایت میں غوث الاعظم رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان۔


میثاق نبوت اور میثاق ولایت​

عالم ارواح میں سب انبیاء علیھم السلام کی روحوں کو جمع کیا اور ان سے میثاق لیا فرمایا :

وَإِذْ أَخَذَ اللّهُ مِيثَاقَ النَّبِيِّيْنَ لَمَا آتَيْتُكُم مِّن كِتَابٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنصُرُنَّهُ قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلَى ذَلِكُمْ إِصْرِي قَالُواْ أَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْهَدُواْ وَأَنَاْ مَعَكُم مِّنَ الشَّاهِدِينَO

(آل عمران : 81)

’’اور (اے محبوب! وہ وقت یاد کریں) جب اﷲ نے انبیاءسے پختہ عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب اور حکمت عطا کر دوں پھر تمہارے پاس وہ (سب پر عظمت والا) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے جو ان کتابوں کی تصدیق فرمانے والا ہو جو تمہارے ساتھ ہوں گی تو ضرور بالضرور ان پر ایمان لاؤ گے اور ضرور بالضرور ان کی مدد کرو گے، فرمایا: کیا تم نے اِقرار کیا اور اس (شرط) پر میرا بھاری عہد مضبوطی سے تھام لیا؟ سب نے عرض کیا: ہم نے اِقرار کر لیا، فرمایا کہ تم گواہ ہو جاؤ اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوںo‘‘۔

اس میثاق پر رب نے خود کو گواہ قرار دیا۔ کیوں کہ اللہ کی سب سے بڑی شان تو مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ گویا اپنی شان پر خدا خود گواہ ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کا معاملہ آیا تو سب نبیوں نے گردنیں جھکالیں۔ امام قسطلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں جب وعدہ ہو رہا تھا۔ اچانک ایک نور چمکا اور سب انبیاء کے اُوپر بادل کی طرح چھا گیا تو انبیاء علیھم السلام نے پوچھا یہ نور کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جس کی نبوت کی وفاداری کا عہد کیا ہے یہ اُسی محمدِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نور ہے۔

گویا نبوتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات آئی تو سب نبیوں نے گردنیں جھکا دیں اور اُمتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں جب حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کی بات آئی تو سب ولیوں نے گردنیں جھکا دیں وہ میثاق نبوت تھا اور یہ میثاقِ ولایت تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سوا کسی اور نبی کے لئے نبیوں کی گردنیں نہ جھکیں اور سرکارِ غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کے سوا کسی اور ولی کے لئے ولیوں کی گردنیں نہ جھکیں۔ ایک واقعہ کائناتِ نبوت میں ہوا اور ایک واقعہ کائناتِ ولایت میں ہوا۔ اس لئے میں نے کہا نبوت کی دُنیا میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اللہ کی سب سے بڑی شان ہیں اور ولایت کی دُنیا میں حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے بڑی شان ہیں۔ کوئی اعتراض کرے کہ تم شاہِ جیلاں، غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کا وظیفہ کیوں کرتے ہو ان کی خدمت میں عرض ہے کہ ہم تو کچھ بھی نہیں کرتے۔ ہم تو صرف حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کا نام پکارتے ہیں اور اس طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے بڑی صفت اور شان کا تذکرہ کرتے ہیں اور جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اوصاف اور شمائل کا ذکر کرتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام کی مالا جپتے ہیں تو حقیقت میں خدا کی شان کا ورد کرتے ہیں۔

حضور سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کو اﷲ رب العزت نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمت میں کائناتِ ولایت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے بڑی شان بنایا۔ لہٰذا آپ کی ولایت کو ولایتِ عظمیٰ اور آپ کی غوثیت کو غوثیتِ عظمیٰ بنایا اور آپ کی قطبیت کو قطبیتِ کبریٰ سے نوازا اور اس کا اقرار حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ سے اﷲ پاک نے قَدَمِيْ هٰذِه عَلٰي رَقَبَةِ کُلِّ وَلِيِّ اﷲ کے کلمات سے کروایا۔ یہ اَمر کسی اور کے لئے نہ کروایا۔ سب انبیاء کو معجزات دیئے مگر کثرتِ معجزات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیئے۔ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اتنی کثرتیں دیں کہ کثرتیں بھی ختم ہو گئیں۔ کثرتوں کی اِنتہا کر دی تو شانِ نبوت میں کوثر منصبِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ اور شانِ ولایت میں کوثر منصبِ غوث الاعظم رضی اللہ عنہ ہے۔ وہاں معجزات کی کثرت ہے۔ یہاں کرامات کی کثرت ہے۔ ولی کی ہر کرامت اس کے نبی کے معجزے کا تسلسل ہوتی ہے۔ ان کی ساری کرامتیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزے کے تذکرے میں لکھی جاتی ہیں۔ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سب ولیوں کی کرامتیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے باب معجزہ کی فصلیں بنتی ہیں۔ اس لئے ہم کہتے ہیں کہ ولی نبی کی شان ہوتا ہے۔ اس لئے قاعدہ ہے کہ ولی کی کرامت اپنے نبی کا معجزہ ہوتا ہے۔ ایسے ہی جیسے نبی کا معجزہ اﷲ کی قدرت ہوتی ہے۔ نبی کا معجزہ رب کی قدرت کا اظہار ہوتا ہے اور ولی کی کرامت نبی کے معجزے کا اظہار ہوتی ہے۔

حلقہ ارادت میں وسعت کی حکمت​

اللہ تعالیٰ نے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کثرتِ امت عطا کی۔ حدیث پاک ہے کہ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جنت میں جنتیوں کی 120 صفیں ہو نگیں۔ کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کی اُمتیں ہیں۔ سب نبیوں کی اُمتوں میں کچھ نہ کچھ اُمتی جنت میں جائیں گے ہر ایک کو حصہ ملے گا۔ فرمایا کل انبیاء کی امت کے جنتی لوگوں کی ٹوٹل صفیں 120 ہونگیں اُن 120 صفوں میں 80 صفیں میری اُمت کی ہونگیں اور باقی ایک لاکھ چوبیس ہزار باقی انبیاء کی اُمتوں میں 40 صفیں تقسیم ہونگیں۔ جس طرح کثرتِ امت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا ہوئی اس طرح حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کو کثرتِ ارادت کی نعمت ملی یعنی سلسلہ قادریہ میں کثیر تعداد میں مریدین عطا کئے گئے۔ اِس کائنات دُنیا میں جتنے مرید حضور غوثِ پاک کے ہوئے اوّل سے آخر تک کسی ولی کے نہ ہوئے اور نہ کبھی ہونگے۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ جنہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کلمہ پڑھا وہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت ہیں اور جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے ہو گزرے، ایمان لانے کے خواہشمند تھے مگر کلمہ نہ پڑھ سکے وہ بھی امت میں سے ہیں اور جملہ انبیاء بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمت میں سے ہیں۔ اِسی طرح جنہوں نے حضور غوثِ پاک رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر ان کے سلسلہ میں بیعت کی وہ بھی اُن کے مریدوں میں اور جو اس سلسلے میں بیعت نہ کر سکے مگر گردن جھکا لی وہ بھی مرید ہو گئے۔ جو زبان سے کہہ دے یا غوث میں آپ کا مرید ہوں وہ غوث پاک کا مرید ہو گیا اور پھر وہ لاج رکھ لیتے ہیں۔ سلسلہ قادریہ سے تعلق رکھنے والے تو حضور غوث پاک رحمۃ اللہ علیہ کے مرید ہیں ہی مگر جملہ سلاسل سلسلہ چشتیہ، نقشبندیہ، سہروردیہ وغیرہ کے مربی و رہنما اور مریدین بھی حضور غوث الاعظم کے مرید اور فیض یافتہ ہیں۔

آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا قَدَمِیْ هٰذِه عَلٰی رَقَبَةِ کُلِّ وَلِيَّ اﷲ ’’میرا قدم ہر ولی کی گردن پر ہے‘‘۔ ۔ ۔ یہ نہیں فرمایا کہ مرید کی گردن پر۔ ۔ ۔ یا میرے سلسلے کے ہر ولی کے کندھوں پر ہے۔ ۔ ۔ یہ نہیں کہا۔ ۔ ۔ بلکہ فرمایا ہر ولی کی گردن پر ہے۔ گویا جو حضور غوثِ پاک کو نہ مانے وہ ولی ہو ہی نہیں سکتا اور جو ولی حضور غوثِ پاک کے زیرِ قدم ہونے کا انکار کر دے اگلے ہی لمحے اس سے ولایت سلب ہو جائے گی۔

سلسلہ چشتیہ اور فیضانِ غوث الاعظم رضی اللہ عنہ​

خواجہ ہند حضور خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمۃ اللہ علیہ خراسان کے پہاڑوں میں محوِ مراقبہ ہیں۔ آپ نے عالم کشف میں دیکھا اور حضور غوثِ پاک کا یہ فرمان سن کر اپنی گردن اور سر جھکا لیا اور عرض کیا یا سرکارِ غوث الاعظم رضی اللہ عنہ آپ کا قدم مبارک میری گردن پر ہی نہیں بلکہ میرے سر اور میری آنکھوں پر ہے۔ صاحب قلائد الجواہر بیان کرتے ہیں جب آپ نے یہ اعتراف کر لیا تو آپ حضور غوثِ پاک کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ 50 دن سے زائد حضور غوثِ پاک کی صحبت میں اکتساب فیض کے لئے رہے۔ جب فیض پا لیا تو عرض کیا حضور اب عراق مجھے دے دیں، فرمایا : معین الدین عراق میں شہاب الدین سہروردی (سلسلہ سہروردیہ کے امام صاحب عوارف المعارف حضرت شیخ شہاب الدین عمر سہروردی) کو دے چکا ہوں۔ تمہیں ہندوستان عطا کرتا ہوں۔ بس حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید قیامت تک حضور غوثِ پاک کے مرید ہیں۔ اس فیض کی لطافت سے سلسلۂ چشتیہ حضور غوثِ پاک کی شاخ اور فیضانِ غوثیتِ مآب کی برانچ ہو گئی۔

سلسلہ سہروردیہ اور فیضان غوث الاعظم رضی اللہ عنہ​

اسی طرح سلسلہ سہروردیہ کے امام حضرت خواجہ شہاب الدین عمر سہروردی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میری عمر 14 سال تھی۔ تمام عقلی ونقلی علوم میں نے پڑھ لئے۔ علمِ ظاہری میں جو کچھ تھا وہ میں نے پڑھ لیا تو میرے شیخ حضرت ابو نجیب عبدالقاھر سہروردی رحمۃ اللہ علیہ مجھے حضور غوثِ پاک رضی اللہ عنہ کی بارگاہ میں لے کر گئے اور عرض کیا۔ حضور میرے اس بیٹے نے تمام علوم پڑھ لئے ہیں اب فیض کے لئے آپ کی بارگاہ میں لایا ہوں۔ حضرت شیخ شہاب الدین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور غوث پاک نے اَپنا دستِ مبارک میرے سینے پر پھیرا اور سارے علوم کا صفایا ہوگیا۔ اس کے بعد چند سوالات کئے کہ ان کا جواب دو، میں نے جو کچھ پڑھا تھا کچھ بھی پاس نہ رہا لہذا جواب نہ دے سکا۔ آپ مسکرا پڑے، فرمایا : پریشان نہ ہو۔ تختی پر کچھ لکھنا ہو تو پہلا لکھا ہوا صاف کرنا پڑتا ہے۔ ۔ ۔ پہلے علم تھا اب معرفت لکھیں گے۔ ۔ ۔ اُس کے بعد دوبارہ دستِ اقدس رکھا تو سینہ معرفت کے سمندروں سے موجزن کر دیا پس سہروردی سلسلے میں غوث بہاء الدین زکریا ملتانی رحمۃ اللہ علیہ سے لے کر قیامت تک جس کو حضرت شیخ سہرورد رحمۃ اللہ علیہ کا فیض ملے گا۔ وہ فیض دراصل دستِ غوثیتِ مآب کا فیض ہے۔ وہ حضور غوثِ پاک کا فیض ہے اور اسی طرح سب ان کے مرید ہو گئے۔ گویا سلسلہ سہروردیہ بھی شجرِ غوثیت کی باثمر شاخ ہے۔

سلسلہ نقشبندیہ اور فیضان غوث الاعظم رضی اللہ عنہ​

تیسرا سلسلہ نقشبندیہ ہے جس کے بانی حضرت خواجہ شاہ بہاء الدین نقشبند رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔ صاحب قلائد الجواہر نے لکھا ہے۔ حضور غوثِ پاک رضی اللہ عنہ ایک سفر کے دوران شہر بخارا کے قریب سے گزرے تو اِس طرف چہرۂ مبارک کیا اور کھڑے ہو کے فرمایا میرے بعد شہر بخارا میں میرا بیٹا بہاء الدین پیدا ہو گا جو میرے فیض کا امین ہوگا۔ شاہِ نقشبند رضی اللہ عنہ 157 سال بعد آئے اور حضور غوثِ پاک کے فیض سے مامور ہوئے۔ گویا سلسلۂ نقشبندیہ میں بھی حضور غوث پاک کا فیض ہے اور یہ سلسلہ نقشبندیہ بھی حضور غوثِ پاک کے شجرِ ولایت کی سرسبز شاخ ہے۔ اس لئے کیوں نہ کہیں ’’پکارو ہر گھڑی یا غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ‘‘۔

حضرت شیخ مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللہ علیہ جو سلسلہ نقشبندیہ کے امام ہیں۔ مکتوبات شریف میں فرماتے ہیں کہ طریقہ ولایت پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمت میں حضور سیدنا مولا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو اﷲ نے پوری ولایت کا منبع اور فاتح بنایا۔ حضرت سیدۂ کائنات خاتونِ جنت ولایت کا منبع ہوئیں۔ حسنین کریمین رضی اللہ عنہ ہوئے۔ بعد ازاں زین العابدین رضی اللہ عنہ، امام محمد باقر رضی اللہ عنہ، جعفر صادق، امام موسیٰ کاظم اور یکے بعد دیگرے گیارہ امام آئے۔ اِن کے ہاں سے ولایتِ عظمیٰ کا فیض آتا رہا اور جب حضور سیدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کی باری آئی تب سے لے کر آج تک اور امام مہدی رضی اللہ عنہ کی آمد تک اب ہر ولی غوث پاک کا محتاج ہے۔ اب سب کو غوثِ پاک کے فیض کی ضرورت ہے۔

حضرت شاہ ولی اﷲ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے پوتے شاہ اسماعیل دہلوی لکھتے ہیں کوئی ولی اس وقت تک ولی نہیں بن سکتا جب تک دفتر رسالت میں اس کی ولایت پر حضور سیدنا غوث الاعظم اور حضرت مولا علی شیر خدا مہر نہ لگا دیں۔ گویا سب ولیوں کا مرجع غوث پاک ہوئے۔

سلسلہ شاذلیہ اور فیضان حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ ​

عالم عرب میں اور مشہور سلسلے بھی ہیں، ان میں سے ایک سلسلہ شاذلیہ ہے ان کے امام حضرت امام ابوالحسن شاذلی ہیں جن کا وظیفہ حزب البحر کا بڑا اہم مقام ہے اور بڑے بڑے اولیاء و عرفاء پڑھتے ہیں۔ حضرت امام ابوالحسن شاذلی رضی اللہ عنہ مغرب میں ہوئے ہیں ان کا مزار مبارک مصر میں ہے، ان کے شیخ ابو مدین غوث المغربی ہیں۔ ابو مدین غوث المغربی ملک مغرب کے گاؤں فاس میں اپنے منصب پر بیٹھے تھے جب حضور غوث پاک نے قدمی ھذہ علی رقبۃ کل ولی اللہ کا اعلان فرمایا ادھر بغداد میں اعلان ہوا، غوث المغربی نے وہیں گردن کو جھکادیا اور اطاعت غوث میں آگئے۔ پس سلسلہ شاذلیہ بھی حضور غوث پاک کے فیض کا ایک طریق ہے۔

سلسلہ رفاعیہ اور فیضان حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ​

اسی طرح سلسلہ رفاعیہ بھی حضور غوث پاک کے فیض کا سرچشمہ ہے۔ اس سلسلہ کے بانی شیخ السید احمد الرفاعی ہیں آپ مصر میں ایک سفر پر تھے کہ اچانک ایک مقام آیا کہ آپ نے گردن زمین تک جھکالی اور کہا بل علی راسی وعینی میرے سر اور آنکھوں پر بھی ہے۔ سب نے پوچھا حضور یہ ماجرا کیا ہے فرمایا تمہیں کیا خبر آج بغداد کے منبر پر حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ نے یہ فرمان جاری کیا ہے۔ ہر ولی کی گردن پر میرا قدم ہے۔ میں نے گردن جھکائی ہے تاکہ ولایت رہ جائے۔ ولایت غوث پاک کے قدموں کی محتاج ہے پس سلسلہ رفاعیہ بھی شجر ولایت غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کے فیض کی شاخ ہے۔

مرتبہ نبوت ہو تو ہر طرف فیض رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اور مرتبہ ولایت ہو تو ہر طرف فیض غوث العالمین کا ہے۔ لوگ تو فقط غوث الثقلین کہتے ہیں، میں کہتا ہوں وہ تو سب جہانوں کے غوث ہیں، جن و انس کے غوث ہیں، سب ولیوں کے غوث ہیں، تمام انسانوں کے غوث ہیں کیونکہ ان کا فیض حقیقت میں فیض رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ ۔ ۔ بات تو ساری حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان کی ہے۔ جب کل عالم میں حضور غوث پاک کا فیض ہے پھر کیوں نہ کہیں غوث پاک مرتبہ ولایت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے بڑی شان ہیں۔ اللہ نے حبیب کو رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنایا اور رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد میں سے اِس بیٹے کو کائنات ولایت میں غوث العالمین بنایا۔

بعض اولیاء اللہ نے تو یہاں تک لکھا ہے جب کسی کے لئے ولایت کا فیصلہ ہونے لگتا ہے تو سب سے پہلے اس کی فائل بارگاہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں پیش کی جاتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں میرے بیٹے عبدالقادر کے پاس لے جاؤ جس منزل پہ چاہے گا فائز کردے گا۔ حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کے دستخط سے ولی ہوتا ہے اور توثیق کے لئے پھر فائل بارگاہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں جاتی ہے، حضور غوث پاک کے دستخطوں کو دیکھ کر آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دستخط ثبت ہوتے ہیں۔
اللہ تبارک وتعالیٰ ان کے دامن سے وابستگی، ان کی نوکری اور ان کی خیرات پر پلتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔
سیدنا
حضور غوث الاعظم، آئمہ محدثین و فقہاء کی نظر میں:

حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کے مقام و مرتبہ کا ایک عظیم اظہار ’’علم‘‘ کے باب میں بھی ہمیں نظر آتا ہے۔ عِلمِ شریعت کے باب میں ان سے متعلقہ بہت سے اقوال صوفیاء و اولیاء کی کتابوں میں ہیں اور ہم لوگ بیان کرتے رہتے ہیں مگر اس موقع پر میں سیدنا غوث الاعظم کا مقامِ علم صرف آئمہ محدثین اور فقہاء کی زبان سے بیان کروں گا کہ آئمہ علم حدیث و فقہ نے ان کے بارے کیا فرمایا ہے، تاکہ کوئی رد نہ کر سکے۔ اس سے یہ امر واضح ہوجائے گا کہ کیا صرف عقیدت مندوں نے ہی آپ کا یہ مقام بنا رکھا ہے یا جلیل القدر آئمہ علم، آئمہ تفسیر، آئمہ حدیث نے بھی ان کے حوالے سے یہ سب بیان کیا ہے؟
-
یہ بات ذہن نشین رہے کہ حضور غوث الاعظم نہ صرف ولایت میں غوث الاعظم تھے بلکہ آپ علم میں بھی غوث الاعظم تھے۔ اگر آپ کے علمی مقام کے پیش نظر آپ کو لقب دینا چاہیں تو آپ امام اکبر تھے۔ آپ جلیل القدر مفسر اور امامِ فقہ بھی تھے۔ اپنے دور کے جلیل القدر آئمہ آپ کے تلامذہ تھے جنہوں نے آپ سے علم الحدیث، علم التفسیر، علم العقیدہ، علم الفقہ، تصوف، معرفت، فنی علوم، فتویٰ اور دیگر علوم پڑھے۔ حضور غوث الاعظم ہر روز اپنے درس میں تیرہ علوم کا درس دیتے تھے اور 90 سال کی عمر تک یعنی زندگی کے آخری لمحہ تک طلبہ کو پڑھاتے رہے۔ قرآن مجید کی مذکورہ آیتِ مبارکہ (الکہف:18) میں بیان کردہ علم لدنی کا اظہار آپ کی ذات مبارکہ میں بدرجہ اتم نظر آتا ہے۔ بغداد میں موجود آپ کا دارالعلوم حضرت شیخ حماد کا قائم کردہ تھا، جو انہوں نے آپ کو منتقل کیا۔ آپ کے مدرسہ میں سے ہر سال 3000 طلبہ جید عالم اور محدث بن کر فارغ التحصیل ہوتے تھے۔ میں آج آپ کے متعلقہ وہ باتیں اور میادین بیان کروں گا جو آپ نے پہلے نہیں سنے اور جو بیان بھی نہیں کئے جاتے۔
-
سلطان صلاح الدین ایوبی کی فتوحات کا راز:

بہت عجیب تر بات جس کا نہایت قلیل لوگوں کو علم ہوگا اور کثیر لوگوں کے علم میں شاید پہلی بار آئے کہ سلطان صلاح الدین ایوبی نے جب القدس فتح کیا تو جس لشکر (Army) کے ذریعے بیت المقدس فتح کیا، اس آرمی میں شامل لوگوں کی بھاری اکثریت حضور غوث الاعظم کے تلامذہ کی تھی۔ گویا آپ کے مدرسہ سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ صرف متہجد ہی نہیں تھے بلکہ عظیم مجاہد بھی تھے۔
-
سلطان صلاح الدین ایوبی کی آدھی سے زائد فوج حضور غوث الاعظم کے عظیم مدرسہ کے طلبہ اور کچھ فیصد لوگ فوج میں وہ تھے جو امام غزالی کے مدرسہ نظامیہ کے فارغ التحصیل طلبہ تھے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی کے چیف ایڈوائزر امام ابن قدامہ المقدسی الحنبلی حضور سیدنا غوث الاعظم کے شاگرد اور خلیفہ ہیں۔ آپ براہِ راست حضور غوث پاک کے شاگرد، آپ کے مرید اور خلیفہ ہیں۔ گویا تاریخ کا یہ سنہرا باب جو سلطان صلاح الدین ایوبی نے رقم کیا وہ سیدنا غوث الاعظم کا فیض تھا۔
-
امام ابن قدامہ المقدسی رحمۃ اللہ علیہ:
-
امام ابن قدامہ المقدسی الحنبلی اور ان کے کزن امام عبد الغنی المقدسی الحنبلی دونوں حضور غوث الاعظم کے تلامذہ میں سے ہیں۔ یہ دونوں فقہ حنبلی کے جلیل القدر امام اور تاریخ اسلام کے جلیل القدر محدث ہیں۔
-
امام ابن قدامہ مقدسی کہتے ہیں کہ جب میں اور میرے کزن (امام عبدالغنی المقدسی) حضور غوث الاعظم کی بارگاہ میں کسبِ علم و فیض کے لئے پہنچے تو افسوس کہ ہمیں زیادہ مدت آپ کی خدمت میں رہنے کا موقع نہ ملا۔ اس وقت آپ رضی اللہ عنہ کی عمر 90 برس تھی، یہ آپ کی حیات ظاہری کا آخری سال تھا۔ اسی سال ہم آپ کی خدمت میں رہے، تلمذ کیا، حدیث پڑھی، فقہ حنبلی پڑھی، آپ سے اکتساب فیض کیا اور خرقہ خلافت و مریدی پہنا۔
-
امام الذہبی نے سیر اعلام النبلاء میں لکھا ہے کہ امام ابن قدامہ الحنبلی المکی المقدسی فرماتے ہیں:
سیدنا غوث الاعظم کی کرامات جتنی تواتر سے ہم تک پہنچی ہیں اور جتنی متواتر النقل ہیں، ہم نے پہلے اور بعد میں آج تک روئے زمین کے کسی ولی اللہ کی کرامتوں کا اتنا تواتر نہیں سنا۔ ہم آپ کے شاگرد تھے اور آپ کے مدرسہ کے حجرہ میں رہتے تھے۔ سیدنا غوث الاعظم اپنے بیٹے یحییٰ بن عبد القادر کو بھیجتے اور وہ ہمارے چراغ جلا جاتا تھا۔ یہ تواضع، انکساری، ادب، خلق تھا کہ بیٹا چراغ جلا جاتا اور گھر سے درویشوں کے لیے کھانا پکا کر بھیجتے تھے۔ نماز ہمارے ساتھ آ کر پڑھتے اور ہم آپ سے اسباق پڑھتے تھے۔
-
علامہ ابن تیمیہ بارے ایک غلط فہمی کا ازالہ:

امام ابن قدامہ المقدسی ایک واسطہ سے علامہ ابن تیمیہ کے دادا شیح ہیں۔ علامہ ابن تیمیہ کے عقائد کے بعض معاملات میں بعد میں انتہاء پسندی آگئی۔ مجموعی طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ منکرِ تصوف تھے، حالانکہ یہ بات غلط ہے۔ ان کے بعض معاملات میں، تشریحات و توضیحات میں انتہاء پسندی تھی، جن سے ہمیں اختلاف ہے مگر مجموعی طور پہ وہ منکرِ تصوف نہیں تھے، وہ تصوف کے قائل تھے، تصوف پر ان کا عقیدہ تھا، اولیاء، صوفیاء کے عقیدتمند تھے اور طریقہ قادریہ میں بیعت تھے۔
-
علامہ ابن تیمیہ کے شیح کا نام الشیخ عزالدین عبداللہ بن احمد بن عمر الفاروثی ہے۔ بغداد میں انہوں نے سیدنا شیح شہاب الدین عمر سہروردی رحمۃ اللہ علیہ سے خلافت کا خرقہ پہنا۔ گویا ایک طریق سے ان کا سلسلۂ طریقت سہروردیہ ہو گیا۔ شیخ عزالدین الفاروثی، امام موفق الدین ابی محمد بن قدامہ المقدسی کے خلیفہ اور مرید بھی ہیں اور ابن قدامہ المقدسی، سیدنا غوث الاعظم کے خلیفہ اور شاگرد ہیں۔ جنہوں نے طریقہ قادریہ میں خود غوث الاعظم سے خرقہ پہنا۔
-
آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ علامہ ابن تیمیہ کو ان کی وصیت کے مطابق دمشق میں صوفیاء کے لئے وقف قبرستان مقابرالصوفیہ میں دفنایا گیا۔ اس کو امام ابن کثیر نے ’’البدایہ والنہایہ‘‘، امام ابن حجر عسقلانی نے ’’الدرر الکاملہ‘‘، امام ذہبی نے ’’العبر‘‘ اور کل محدثین جنہوں نے علامہ ابن تیمیہ کے احوال لکھے، تمام نے بلا اختلاف اس کو بیان کیا ہے۔ یہ قبرستان صرف صوفیائے کرام کے لئے وقف تھا، وہاں دیگر علماء کی تدفین نہیں ہوتی تھی۔ آج کے دن تک علامہ ابن تیمیہ کی قبر مقابر صوفیا میں ہے۔ بعد ازاں ان کے بیٹے کی وفات ہوئی تو وہ بھی مقابر صوفیا میں دفن ہوئے۔
-
علامہ ابن تیمیہ کا حضور غوث الاعظم رضی اللہ عنہ سے اظہار عقیدت:

علامہ ابن تیمیہ کے شیح، امام ابن قدامہ کے شاگرد تھے اور امام ابن قدامہ، حضور غوث الاعظم کے مرید تھے۔ علامہ ابن تیمیہ سیدنا غوث الاعظم کے عظیم عقیدت مندوں میں سے تھے۔ علامہ ابن تیمیہ کی کتاب الاستقامۃ دو جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس کتاب میں اولیاء و صوفیاء میں سے سب سے زیادہ محبت و عقیدت سے جس شخصیت کا نام علامہ ابن تیمیہ نے لیا وہ حضور سیدنا غوث الاعظم ہیں۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ غوث، قطب، ابدال کے ٹائٹل ہمارے من گھڑت ہیں اور اکابر علماء، محدثین ان کو مانتے نہیں تھے۔ سن لیں! علامہ ابن تیمیہ، غوث الاعظم شیح عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا ذکر کرتے ہوئے ان کا نام اس طرح لکھتے ہیں:

قطب العارفين ابا محمد بن عبد القادر بن عبد اﷲ الجيلی.
-
’’قطب العارفین (سارے عارفوں کے اولیاء کے قطب) سیدنا شیح عبد القادر الجیلانی‘‘۔
-
یعنی وہ حضور غوث الاعظم کے نام کو اس طرح القاب کے ساتھ ذکر کرتے ہیں جبکہ باقی کسی صوفی اور اولیاء میں سے کسی کا نام اس کے ٹائٹل کے ساتھ بیان نہیں کرتے۔ جس کا بھی ذکر کریں گے تو صرف اس صوفی یا ولی کا نام لکھ کر ان کی کسی بات کو نقل کریں گے۔ مثلاً:
-
نقل الشيح شهاب الدين ابو حفص عمر بن محمد السهروردي... نقل ابو القاسم القشيري... نقل ابو عبد الرحمن السلمي... نقل بشر الحافي... قال الحارث المحاسبي... قال الجنيد البغدادي...
-
مگر سیدنا غوث الاعظم کی بات آئے تو ’’الشیح‘‘ لکھیں گے یا ’’قطب العارفین‘‘ لکھیں گے یعنی ٹائٹیل کے ساتھ نام لکھیں گے۔
-
سیدنا غوث الاعظم کا ایک کشف اور کرامت علامہ ابن تیمیہ الاستقامۃ کے صفحہ 78 پر بیان کرتے ہوئے ایک واقعہ لکھتے ہیں کہ:
-
شیخ شہاب الدین عمر سہروردی رحمۃ اللہ علیہ نے بیان کیا کہ اوائل عمر میں ہی علوم کی کتب پڑھ لینے کے بعد میں علم الکلام، فلسفہ، منطق وغیرہ پڑھنا چاہتا تھا۔ اس حوالے سے میں متردد تھا کہ کس کتاب سے آغاز کروں؟ امام الحرمین الجوینی کی کتاب ’’الارشاد‘‘ پڑھوں یا امام شھرستانی کی کتاب ’’نہایۃ الاقدام‘‘ پڑھوں؟ یا اپنے شیخ ابو نجیب سہروردی (اپنے وقت کے کامل اقطاب اور اولیاء میں سے تھے، یہ ان کے چچا بھی تھے اور شیخ بھی تھے) کی کتاب پڑھوں؟ میری یہ متردد صورتِ حال دیکھ کر میرے شیخ امام نجیب الدین سہروردی مجھے شیح عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں لے کر حاضر ہوئے۔ میرے شیخ حضرت ابو نجیب سہروردی، حضور غوث پاک کی بارگاہ میں جا کر ان کی اقتداء میں نماز ادا کرتے۔ خیال تھا کہ نماز سے فارغ ہو کر جب مجلس ہوگی تو ہم حضور غوث الاعظم سے عرض کریں گے اور رہنمائی لیں گے اور پھر آپ جو فرمائیں گے وہ کتاب میں شروع کروں گا۔ ابھی ہم حاضر ہی ہوئے تھے، نماز بھی نہ ہوئی تھی اور مجلس بھی نہ ہوئی تھی، صرف خیال دل میں تھا۔ فرماتے ہیں کہ مجھے دیکھتے ہی غوث الاعظم میری طرف متوجہ ہوئے اور مجھے فرمایا:
-
يا عمر ما هو من زاد القبر ما هو من زاد القبر.
-
جو کتابیں تم پڑھنے کا ارادہ رکھتے ہو کیا یہ قبر میں بھی کام نہیں آئیں گی۔ یعنی جو علم الکلام، منطق، فلسفہ، کلام کی کتابیں تم پڑھنے کا ارادہ رکھتے ہو اور تم پوچھنے آئے ہو، یہ قبر میں کام نہیں آئیں گی۔
-
شيخ سہروردی فرماتے ہيں:
-
فرجعت عن ذالک.
-
میں سمجھ گیا کہ حضور غوث الاعظم کو کشف ہوگیا ہے اور میرے قلب کا حال جان کر تصحیح کر دی۔ پھر میں نے اس علم کے حصول سے توبہ کرلی۔
-
اس واقعہ کو روایت کرنے کے بعد علامہ ابن تیمیہ لکھتے ہیں:
-
ان الشيخ کاشفه بما کان فی قلبه.
-
’’جو ان کے دل میں تھا، شیخ عبد القادر جیلانی کو اس کا کشف ہوگیا‘‘۔
-
امام ابنِ جوزی رحمۃ اللہ علیہ:

محدثین اور آئمہ سیدنا غوث اعظم کی مجلس میں بیٹھ کر آپ سے تلمذ کرتے۔ ستر ہزار حاضرین ایک وقت میں آپ کی مجلس میں بیٹھتے۔ امام ابن حجر عسقلانی نے ’مناقب شیخ عبدالقادر جیلانی میں لکھا ہے کہ ستر ہزار کا مجمع ہوتا، (اس زمانے میں (لاؤڈ سپیکر نہیں تھے) جو آواز ستر ہزار کے اجتماع میں پہلی صف کے لوگ سنتے اتنی آواز ستر ہزار کے اجتماع کی آخری صف کے لوگ بھی سنتے۔ اس مجلس میں امام ابن جوزی (صاحبِ صفۃ الصفوہ اور اصول حدیث کے امام) جیسے ہزارہا محدثین، آئمہ فقہ، متکلم، نحوی، فلسفی، مفسر بیٹھتے اور اکتسابِ فیض کرتے تھے۔
-
سیدنا غوث الاعظم ایک مجلس میں قرآن مجید کی کسی آیت کی تفسیر فرمارہے تھے۔ امام ابن جوزی بھی اس محفل میں موجود تھے۔ اس آیت کی گیارہ تفاسیر تک تو امام ابن جوزی اثبات میں جواب دیتے رہے کہ مجھے یہ تفاسیر معلوم ہیں۔ حضور غوث الاعظم نے اس آیت کی چالیس تفسیریں الگ الگ بیان کیں۔ امام ابن جوزی گیارہ تفاسیر کے بعد چالیس تفسیروں تک ’’نہ‘‘ ہی کہتے رہے یعنی پہلی گیارہ کے سوا باقی انتیس تفسیریں مجھے معلوم نہ تھیں۔ امام ابن جوزی کا شمار صوفیاء میں نہیں ہے بلکہ آپ جلیل القدر محدث ہیں، اسماء الرجال، فن اسانید پر بہت بڑے امام اور اتھارٹی ہیں۔ سیدنا غوث الاعظم چالیس تفسیریں بیان کر چکے تو فرمایا:
-
الآن نرجع من القال إلی الحال.

’’اب ہم قال کو چھوڑ کر حال کی تفسیروں کی طرف آتے ہیں۔‘‘
-
جب حال کی پہلی تفسیر بیان کی تو پورا مجمع تڑپ اٹھا، چیخ و پکار کی آوازیں بلند ہوئیں۔ امام ابن جوزی بھی تڑپ اٹھے۔ محدث زماں نے اپنے کپڑے پکڑ کر پرزے پرزے کر دیئے اور وجد کے عالم میں تڑپتی ہوئی مچھلی کی طرح تڑپتے ہوئے نیچے گر پڑے۔ یہ امام ابن جوزی کا حال ہے۔
-
امام یافعی رحمۃ اللہ علیہ:

امام یافعی (جن کی کتاب کی امام ابن حجر عسقلانی نے التلخیص الخبیر کے نام سے تلخیص کی) فرماتے ہیں:
-
اجتمع عنده من العلماء والفقهاء والصلحا جماعة کثيرون انتفعوا بکلامه وصحبته ومجالسته وخدمته وقاصد إليه من طلب العلم من الآفاق.

شرق تا غرب پوری دنیا سے علماء، فقہاء، محدثین، صلحا اور اہل علم کی کثیر جماعت اطراف و اکناف سے چل کر آتی اورآپ کی مجلس میں زندگی بھر رہتے، علم حاصل کرتے۔ حدیث لیتے، سماع کرتے اور دور دراز تک علم کا فیض پہنچتا۔
-
امام یافعی فرماتے ہیں کہ سیدنا غوث الاعظم کا قبول عام اتنا وسیع تھا اور آپ کی کراماتِ ظاہرہ اتنی تھیں کہ اول سے آخر کسی ولی اللہ کی کرامات اس مقام تک نہیں پہنچیں۔

امام یافعی شعر میں اس انداز میں حضور غوث پاک کی بارگاہ میں ہدیہ عقیدت پیش کرتے ہیں کہ
-
غوث الوراء، غيث النداء نور الهدی
بدر الدجی شمس الضحی بل الانور

(يافعی، مرأة الجنان، 3: 349)

بعض لوگ نادانی میں کہتے ہیں کہ آپ شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کو غوث الاعظم کہتے ہیں، یہ ناجائز ہے۔ غوث، اللہ کے سوا کوئی نہیں ہوتا۔ غور کریں کہ امام، محدث اور امام فقہ ان کو غوث کہتے تھے۔ غوث الوریٰ کا مطلب ہے ساری خلق کے غوث۔ اسی طرح غیث النداء، نور الہدیٰ بدر الدجیٰ، شمس الضحیٰ یہ تمام الفاظ ان آئمہ کی حضور غوث الاعظم سے عقیدت کا مظہر ہیں۔
-
حافظ ابنِ کثیر رحمۃ اللہ علیہ:

علامہ ابن تیمیہ کے شاگرد، حافظ ابن کثیر اپنی کتاب البدایہ والنہایہ جلد 12 ص 252 پر کہتے ہیں کہ حضور غوث اعظم سے خلقِ خدا نے اتنا کثیر نفع پایا جو ذکر سے باہر ہے۔ پھر فرماتے ہیں کہ آپ کے احوال صالحہ تھے اور مکاشفات و کرامات کثیرہ تھیں۔
-
امام ابنِ رجب حنبلی رحمۃ اللہ علیہ:

امام ابن قدامہ اور ابن رجب حنبلی وہ علماء ہیں جو علامہ ابن تیمیہ اور علامہ ابن القیم کے اساتذہ ہیں اور ان کو سلفی شمار کیا جاتا ہے۔ یہ سلفی نہیں بلکہ غوث پاک کے مرید ہیں۔ لوگوں کے مطالعہ کی کمی ہے جس کی وجہ سے یہ غلط مباحث جنم لیتی ہیں۔ امام ابن رجب الحنبلی کو بھی پوری سلفیہ لائن کا امام سمجھا جاتا ہے۔ آپ نے زیل الطبقات الحنابلہ میں سیدنا غوث اعظم کے حوالے سے بیان کیا کہ:
-
کان هو زاهد شيخ العصر وقدوة العارفين وسلطان المشائخ وسيد اهل الطريقه محی الدين ابو محمد صاحب المقامات والکرامات والعلوم والمعارف والاحوال المشهوره.

(ابن رجب الحنبلي، زيل الطبقات الحنابله، 2: 188)
-
یہ صرف نام کے القاب نہیں بلکہ یہ حضور غوث الاعظم کا مقام ہے جسے امام ابن رجب حنبلی نے بیان کیا ہے۔
-
امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ:

امام ذہبی (جلیل القدر محدث) سیر اعلام النبلاء میں بیان کرتے ہیں کہ:

ليس في کبائر المشائخ من له احوال وکرامات اکثر من الشيخ عبد القادر الجيلانی.

’’کبائر مشائخ اور اولیاء میں اول تا آخر کوئی شخص ایسا نہیں ہوا جس کی کرامتیں شیخ عبد القادر جیلانی سے بڑھ کر ہوں‘‘۔
-
امام العز بن عبدالسلام رحمۃ اللہ علیہ:

شافعی مذہب میں امام العز بن عبد السلام بہت بڑے امام اور اتھارٹی ہیں۔ سعودی عرب میں بھی ان کا نام حجت مانا جاتا ہے۔ یہ وہ نام ہیں جن کو رد کرنے کی کوئی جرأت نہیں کرسکتا۔ امام العز بن عبد السلام کا قول امام ذہبی نے سیر اعلام النبلاء میں بیان کیا کہ وہ فرماتے ہیں:

ما نقلت إلينا کرامات أحد بالتواتر إلا شيخ عبد القادر الجيلانی.

’’آج تک اولیاء کرام کی پوری صف میں کسی ولی کی کرامتیں تواتر کے ساتھ اتنی منقول نہیں ہوئیں جتنی شیخ عبد القادر الجیلانی کی ہیں اور اس پر اتفاق ہے‘‘۔

امام یحییٰ بن نجاح الادیب رحمۃ اللہ علیہ:

جلیل القدر علماء آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر تائب ہوتے۔ ابو البقا بیان کرتے ہیں کہ میں نے نحو، شعر، بلاغت اور ادب میں اپنے وقت کے امام یحییٰ بن نجاح الادیب سے سنا کہ میں حضرت شیخ عبد القادر جیلانی کی مجلس میں گیا، ہر کوئی اپنے ذوق کے مطابق جاتا تھا، میں گیا اور میں نے چاہا کہ میں دیکھوں کہ غوث الاعظم اپنی گفتگو میں کتنے شعر سناتے ہیں۔ وہ چونکہ خود ادیب تھے لہذا اپنے ذوق کے مطابق انہوں نے اس امر کا ارادہ کیا۔ صاف ظاہر ہے حضور غوث الاعظم اپنے درس کے دوران جو اشعار پڑھتے تھے وہ اپنے بیان کردہ علم کی کسی نہ کسی شق کی تائید میں پڑھتے تھے۔ درس کے دوران اکابر، اجلاء، ادبا اور شعراء کو پڑھنے سے مقصود بطور اتھارٹی ان کو بیان کرنا تھا تاکہ نحو دین، فقہ، بلاغت، لغت، معانی کا مسئلہ دور جاہلیت کے شعراء کے شعر سے ثابت ہو، یہ بہت بڑا کام ہے۔

امام النحو والادب یحییٰ بن نجاح الادیب بیان کرتے ہیں کہ میں آپ کی مجلس میں گیا اور سوچا کہ آج ان کے بیان کردہ اشعار کو گنتا ہوں۔ کہتے ہیں کہ میں دھاگہ ساتھ لے گیا کہ ہاتھ پر گنتے گنتے بھول جاؤں گا۔ جب آپ ایک شعر پڑھتے تو میں دھاگہ پر ایک گانٹھ دے دیتا تاکہ آخر پر گنتی کر لوں۔ جب آپ اگلا شعر پڑھتے تو پھر دھاگہ پر گانٹھ دے لیتا۔ اس طرح میں آپ کے شعروں پر دھاگہ پر گانٹھ دیتا رہا۔ اپنے کپڑوں کے نیچے میں نے دھاگہ چھپا کر رکھا ہوا تھا۔ جب میں نے دھاگہ پر کافی گانٹھیں دے دیں تو سیدنا غوث اعظم ستر ہزار کے اجتماع میں میری طرف متوجہ ہوئے اور مجھے دیکھ کر فرمایا:

انا احل و انت تاکد.

’’میں گانٹھیں کھولتا ہوں اور تم گانٹھیں باندھتے ہو‘‘۔

(ذهبی، سير اعلام النبلاء، 20: 448)

یعنی میں الجھے ہوئے مسائل سلجھا رہا ہوں اور تم گانٹھیں باندھنے کے لیے بیٹھے ہو۔ کہتے ہیں کہ میں نے اسی وقت کھڑے ہو کر توبہ کر لی۔ اندازہ لگائیں یہ آپ رضی اللہ عنہ کی مجلس میں آئمہ کا حال تھا۔
-
امام ابو محمد خشاب نحوی رحمۃ اللہ علیہ:

امام الحافظ عبد الغنی المقدسی بیان کرتے ہیں کہ میں نے اس دور کے بغداد کے نحو کے امام ابو محمد خشاب نحوی سے کہتے ہوئے سنا کہ میں نحو کا امام تھا، غوث اعظم کی بڑی تعریف سنتا تھا مگر کبھی ان کی مجلس میں نہیں گیا تھا۔ یہ نحوی لوگ تھے، اپنے کام میں لگے رہتے تھے۔ ضرب یضرب میں لگے رہتے ہیں، انہیں ایک ہی ضرب آتی ہے، دوسری ضرب یعنی ضرب قلب سے دلچسپی نہیں ہوتی۔ کہتے ہیں کہ ایک دن خیال آیا آج جاؤں اور سنوں تو سہی شیخ عبد القادر جیلانی کیا کہتے ہیں؟میں گیا اور ان کی مجلس میں بیٹھ کر انہیں سننے لگا۔
-
میں نحوی تھا، اپنے گھمنڈ میں تھا لہذا مجھے ان کا کلام کوئی بہت زیادہ شاندار نہ لگا۔ میں نے دل میں کہا:

’’آج کا دن میں نے ضائع کر دیا‘‘۔

بس اتنا خیال دل میں آنا تھا کہ منبر پر دوران خطاب سیدنا غوث الاعظم مجھے مخاطب ہو کر بولے:

اے محمد بن خشاب نحوی! تم اپنی نحو کو خدا کے ذکر کی مجلسوں پر ترجیح دیتے ہو۔ یعنی جس سیبویہ (امام النحو، نحو کے موضوع پر ’’الکتاب‘‘ کے مصنف) کے پیچھے تم پھرتے ہو، ہم نے وہ سارے گزارے ہوئے ہیں۔ آؤ ہمارے قدموں میں بیٹھو تمہیں نحو بھی سکھا دیں گے۔ امام محمد بن خشاب نحوی کہتے ہیں کہ میں اسی وقت تائب ہو گیا۔ آپ کی مجلس میں گیا اور سالہا سال گزارے۔ خدا کی قسم ان کی صحبت اور مجلس سے اکتساب کے بعد نحو میں وہ ملکہ نصیب ہوا جو بڑے بڑے آئمہ نحو کی کتابوں سے نہ مل سکا تھا۔

ان حوالہ جات کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ پتہ چلے کہ آئمہ حدیث و فقہ نے حضور غوث الاعظم کے علمی مقام و مرتبہ کو نہ صرف بیان کیا بلکہ آپ کو علم میں اتھارٹی تسلیم کیا ہے۔ مذکورہ جملہ بیان سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کل امام کرامتوں کو ماننے والے تھے، اولیاء کو ماننے والے تھے اور سیدنا غوث الاعظم کے عقیدت مند تھے۔ یہ کہنا کہ حضور غوث الاعظم کے مقام و مرتبہ اور ان کے القابات کو اعلیٰ حضرت نے یا ہم نے گڑھ لیا ہے، نہیں، ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ حدیث، فقہ، تفسیر اور عقیدہ کے کل آئمہ نو سو سال سے ان کی شان اسی طرح بیان کرتے چلے آئے ہیں۔

Address

Sahiwal

Telephone

+923124627141

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sahiwal Spiritual-News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category