05/09/2026
رات دربارِ عالیہ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ پر حاضری کا شرف حاصل ہوا۔ وہاں کے روح پرور مناظر نے دل کو بے حد سکون عطا کیا۔
محکمہ اوقاف اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دربار پر کافی ترقیاتی کام کروائے گئے ہیں۔ مین گیٹ، سیڑھیاں، وضوخانہ، لنگرخانہ اور سولر سسٹم سمیت دیگر سہولیات یقیناً قابلِ تحسین ہیں اور جدید دور کی ضروریات کے مطابق بھی ہیں۔
تاہم ایک اہم اور مشکل کام ابھی باقی ہے، اور وہ ہے خواتین کے لیے علیحدہ داخلی راستے اور الگ انتظام۔
میری گزارش ہے کہ دربارِ عالیہ پر خواتین کی انٹری بھی داتا دربار کی طرز پر علیحدہ ہونی چاہیے۔ موجودہ صورتحال میں بعض اوقات نہ تو اطمینان سے نماز ادا ہو پاتی ہے اور نہ ہی سکون کے ساتھ فاتحہ خوانی کی جا سکتی ہے۔ رش کے دوران مرد و خواتین کا اختلاط، بلند آواز میں گفتگو اور ہنسی مذاق جیسے معاملات دربار کی روحانی فضا کے بھی شایانِ شان نہیں۔
اولیائے کرامؒ نے ہمیشہ ہمیں دینِ اسلام، ادب، احترام اور پاکیزگی کا درس دیا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان مقدس مقامات پر بھی ایسے انتظامات کیے جائیں جن سے خواتین اور مردوں کے لیے باوقار اور پُرسکون ماحول قائم ہو۔
لہٰذا میری دربار انتظامیہ، ضلعی انتظامیہ اور محکمہ اوقاف سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ اس اہم مسئلے پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے خواتین کے لیے علیحدہ انٹری اور مناسب انتظامات جلد از جلد کیے جائیں۔ اس اقدام سے نہ صرف زائرین کو سہولت ملے گی بلکہ دربار کی روحانی اور باوقار فضا بھی مزید بہتر ہوگی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اولیائے کرامؒ کی تعلیمات پر عمل کرنے اور ان مقدس مقامات کا ادب و احترام برقرار رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
والسلام