15/09/2026
ماں جنت اور باپ جنت کا دروازہ
ایک چھوٹے سے گاؤں میں احمد نام کا ایک لڑکا اپنی ماں اور باپ کے ساتھ رہتا تھا۔ اس کا باپ بہت محنتی کسان تھا، جبکہ اس کی ماں گھر کے کاموں کے ساتھ ساتھ کبھی کھیت میں بھی شوہر کا ہاتھ بٹاتی تھی۔
احمد کے والدین نے اپنی پوری زندگی اپنے بچوں کی پرورش میں گزار دی تھی۔ ان کی سب سے بڑی خواہش یہی تھی کہ ان کے بچے بڑے ہو کر اچھے انسان بنیں اور اپنے والدین کی عزت کریں۔
احمد بچپن میں بہت فرمانبردار تھا، لیکن جیسے جیسے بڑا ہوا، شہر کی چمک دمک نے اس کے دل کو بدلنا شروع کر دیا۔
وہ اکثر اپنے والد سے کہتا:
"ابا، آپ کب تک اسی چھوٹے سے گاؤں میں رہیں گے؟ میں شہر جا کر بڑا آدمی بننا چاہتا ہوں۔"
والد مسکرا کر کہتے:
"بیٹا، ضرور جاؤ، محنت کرو اور کامیاب ہو۔ بس ایک بات یاد رکھنا، کامیابی مل جائے تو اپنے ماں باپ کو کبھی مت بھولنا۔"
احمد شہر چلا گیا۔ وہاں اسے اچھی نوکری مل گئی۔ کچھ ہی عرصے میں اس کی آمدنی بھی اچھی ہو گئی۔ اب اسے اپنے پرانے گھر اور غریب والدین کی زندگی شرمندگی محسوس ہونے لگی۔
ایک دن اس کی ماں نے فون کیا۔
"بیٹا، کب آؤ گے؟ تمہارے ابا تمہیں بہت یاد کرتے ہیں۔"
احمد نے مصروفیت کا بہانہ بنا کر فون بند کر دیا۔
ماں نے فون رکھ کر اپنے شوہر سے کہا:
"ہمارا بیٹا بہت مصروف ہو گیا ہے، اللہ اسے ہمیشہ خوش رکھے۔"
باپ نے آہستہ سے جواب دیا:
"ماں کا دل ہے، بیٹا دور ہو تو بھی اس کی دعائیں اس کے ساتھ رہتی ہیں۔"
کچھ عرصے بعد احمد کی زندگی میں ایک مشکل وقت آیا۔ کاروبار میں نقصان ہوا، نوکری ختم ہو گئی اور جن دوستوں کو وہ اپنا سمجھتا تھا، سب آہستہ آہستہ اس سے دور ہو گئے۔
احمد کئی دن پریشان رہا۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کس کے پاس جائے۔
پھر اسے اپنی ماں یاد آئی۔
اس نے کئی مہینوں بعد گھر فون کیا۔
ماں نے فون اٹھایا تو بیٹے کی آواز سنتے ہی خوش ہو گئی۔
"بیٹا! تم ٹھیک ہو؟"
احمد کی آواز بھرا گئی۔
"امی… میں ٹھیک نہیں ہوں۔"
ماں نے ایک لمحہ بھی سوال نہیں کیا کہ کیا ہوا۔
بس بولی:
"بیٹا، گھر آ جاؤ۔ ماں کا گھر اپنے بچوں کے لیے ہمیشہ کھلا ہوتا ہے۔"
احمد اگلے ہی دن گاؤں پہنچ گیا۔
دروازے پر اس کا بوڑھا باپ چارپائی پر بیٹھا تھا۔ احمد کو دیکھتے ہی اٹھنے کی کوشش کی، مگر کمزوری کی وجہ سے لڑکھڑا گیا۔
احمد دوڑ کر باپ کے پاس گیا اور اسے گلے لگا لیا۔
اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
"ابا، مجھے معاف کر دیں۔"
باپ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا:
"بیٹا، باپ اپنی اولاد سے بدلہ نہیں لیتا، دعا کرتا ہے۔"
احمد پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔
اسی رات ماں نے بیٹے کے لیے اس کی پسند کا کھانا بنایا۔ گھر میں زیادہ سامان نہیں تھا، مگر ماں نے اپنی استطاعت کے مطابق سب کچھ تیار کیا۔
کھانا کھاتے ہوئے احمد نے دیکھا کہ ماں خود بہت کم کھا رہی ہے۔
اس نے پوچھا:
"امی، آپ نے کھانا کیوں نہیں کھایا؟"
ماں مسکرا کر بولی:
"بیٹا، میرا پیٹ بھر گیا ہے۔ تم کھا لو۔"
احمد کو اچانک اپنا بچپن یاد آ گیا۔ اسے یاد آیا کہ بچپن میں بھی ماں اکثر یہی کہتی تھی کہ "میرا پیٹ بھر گیا ہے"، جبکہ حقیقت میں وہ اپنی اولاد کے لیے کھانا بچاتی تھی۔
احمد نے ماں کا ہاتھ پکڑ لیا۔
"امی، آپ نے پوری زندگی میرے لیے قربان کر دی، اور میں نے آپ کے لیے کیا کیا؟"
ماں کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
"بیٹا، اولاد اگر ماں باپ کی عزت کرے تو یہی ہماری سب سے بڑی دولت ہے۔"
اگلی صبح احمد نے فیصلہ کیا کہ وہ دوبارہ شہر نہیں جائے گا جب تک اپنے والدین کو اپنے ساتھ خوش نہ رکھے۔
اس نے اپنے والد کے ساتھ کھیت میں کام شروع کیا۔ کچھ عرصے بعد اس نے اپنی محنت سے چھوٹا سا کاروبار شروع کیا۔ اللہ نے اس کے رزق میں برکت دے دی۔
اب احمد کے پاس پیسہ بھی تھا اور عزت بھی، مگر سب سے بڑھ کر اسے اپنے والدین کی قدر آ گئی تھی۔
وہ ہر صبح ماں کے ہاتھ چومتا اور باپ کے قدموں میں بیٹھ کر ان کی باتیں سنتا۔
ایک دن احمد نے اپنے والد سے پوچھا:
"ابا، لوگ کہتے ہیں ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے، کیا یہ سچ ہے؟"
والد نے مسکرا کر کہا:
"بیٹا، ماں کی خدمت جنت کا راستہ ہے، اور باپ کی رضا بھی اللہ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ والدین کی خدمت کو کبھی بوجھ نہ سمجھنا۔"
احمد نے سر جھکا کر کہا:
"ابا، اب میں سمجھ گیا ہوں کہ دنیا کی دولت کتنی بھی مل جائے، ماں باپ کی محبت کے سامنے سب کچھ کم ہے۔"
سال گزرتے گئے۔ احمد نے اپنے بچوں کو بھی یہی تعلیم دی:
"اپنی ماں کی عزت کرنا، کیونکہ ماں محبت کا سمندر ہے۔ اپنے باپ کی عزت کرنا، کیونکہ باپ اپنی اولاد کے لیے خاموشی سے پوری زندگی محنت کرتا ہے۔"
اور یوں ایک ایسا بیٹا جو کبھی اپنے والدین سے دور ہو گیا تھا، آخرکار سمجھ گیا کہ دنیا میں کامیابی صرف دولت اور شہرت کا نام نہیں، بلکہ والدین کی دعائیں حاصل کرنا بھی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
سبق
ماں کی محبت بے مثال ہے اور باپ کی محنت بے شمار۔ والدین جب تک ہمارے ساتھ ہیں، ان کی قدر کریں، ان کے ساتھ نرمی سے بات کریں، ان کی ضروریات کا خیال رکھیں اور ان کے لیے دعا کریں۔
ماں کی خدمت جنت کا راستہ ہے، اور باپ کی عزت و خدمت بھی اللہ کی رضا کا ذریعہ ہے۔ والدین کی قدر آج کریں، کل صرف یادیں باقی نہ رہ جائیں۔