Happy Desi family8

Happy Desi family8 permotions ka lia inbox ma msg kkra ♥️♥️

16/09/2026

ماں جنت اور باپ جنت کا دروازہایک چھوٹے سے گاؤں میں احمد نام کا ایک لڑکا اپنی ماں اور باپ کے ساتھ رہتا تھا۔ اس کا باپ بہت...
15/09/2026

ماں جنت اور باپ جنت کا دروازہ

ایک چھوٹے سے گاؤں میں احمد نام کا ایک لڑکا اپنی ماں اور باپ کے ساتھ رہتا تھا۔ اس کا باپ بہت محنتی کسان تھا، جبکہ اس کی ماں گھر کے کاموں کے ساتھ ساتھ کبھی کھیت میں بھی شوہر کا ہاتھ بٹاتی تھی۔

احمد کے والدین نے اپنی پوری زندگی اپنے بچوں کی پرورش میں گزار دی تھی۔ ان کی سب سے بڑی خواہش یہی تھی کہ ان کے بچے بڑے ہو کر اچھے انسان بنیں اور اپنے والدین کی عزت کریں۔

احمد بچپن میں بہت فرمانبردار تھا، لیکن جیسے جیسے بڑا ہوا، شہر کی چمک دمک نے اس کے دل کو بدلنا شروع کر دیا۔

وہ اکثر اپنے والد سے کہتا:

"ابا، آپ کب تک اسی چھوٹے سے گاؤں میں رہیں گے؟ میں شہر جا کر بڑا آدمی بننا چاہتا ہوں۔"

والد مسکرا کر کہتے:

"بیٹا، ضرور جاؤ، محنت کرو اور کامیاب ہو۔ بس ایک بات یاد رکھنا، کامیابی مل جائے تو اپنے ماں باپ کو کبھی مت بھولنا۔"

احمد شہر چلا گیا۔ وہاں اسے اچھی نوکری مل گئی۔ کچھ ہی عرصے میں اس کی آمدنی بھی اچھی ہو گئی۔ اب اسے اپنے پرانے گھر اور غریب والدین کی زندگی شرمندگی محسوس ہونے لگی۔

ایک دن اس کی ماں نے فون کیا۔

"بیٹا، کب آؤ گے؟ تمہارے ابا تمہیں بہت یاد کرتے ہیں۔"

احمد نے مصروفیت کا بہانہ بنا کر فون بند کر دیا۔

ماں نے فون رکھ کر اپنے شوہر سے کہا:

"ہمارا بیٹا بہت مصروف ہو گیا ہے، اللہ اسے ہمیشہ خوش رکھے۔"

باپ نے آہستہ سے جواب دیا:

"ماں کا دل ہے، بیٹا دور ہو تو بھی اس کی دعائیں اس کے ساتھ رہتی ہیں۔"

کچھ عرصے بعد احمد کی زندگی میں ایک مشکل وقت آیا۔ کاروبار میں نقصان ہوا، نوکری ختم ہو گئی اور جن دوستوں کو وہ اپنا سمجھتا تھا، سب آہستہ آہستہ اس سے دور ہو گئے۔

احمد کئی دن پریشان رہا۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کس کے پاس جائے۔

پھر اسے اپنی ماں یاد آئی۔

اس نے کئی مہینوں بعد گھر فون کیا۔

ماں نے فون اٹھایا تو بیٹے کی آواز سنتے ہی خوش ہو گئی۔

"بیٹا! تم ٹھیک ہو؟"

احمد کی آواز بھرا گئی۔

"امی… میں ٹھیک نہیں ہوں۔"

ماں نے ایک لمحہ بھی سوال نہیں کیا کہ کیا ہوا۔

بس بولی:

"بیٹا، گھر آ جاؤ۔ ماں کا گھر اپنے بچوں کے لیے ہمیشہ کھلا ہوتا ہے۔"

احمد اگلے ہی دن گاؤں پہنچ گیا۔

دروازے پر اس کا بوڑھا باپ چارپائی پر بیٹھا تھا۔ احمد کو دیکھتے ہی اٹھنے کی کوشش کی، مگر کمزوری کی وجہ سے لڑکھڑا گیا۔

احمد دوڑ کر باپ کے پاس گیا اور اسے گلے لگا لیا۔

اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

"ابا، مجھے معاف کر دیں۔"

باپ نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا:

"بیٹا، باپ اپنی اولاد سے بدلہ نہیں لیتا، دعا کرتا ہے۔"

احمد پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔

اسی رات ماں نے بیٹے کے لیے اس کی پسند کا کھانا بنایا۔ گھر میں زیادہ سامان نہیں تھا، مگر ماں نے اپنی استطاعت کے مطابق سب کچھ تیار کیا۔

کھانا کھاتے ہوئے احمد نے دیکھا کہ ماں خود بہت کم کھا رہی ہے۔

اس نے پوچھا:

"امی، آپ نے کھانا کیوں نہیں کھایا؟"

ماں مسکرا کر بولی:

"بیٹا، میرا پیٹ بھر گیا ہے۔ تم کھا لو۔"

احمد کو اچانک اپنا بچپن یاد آ گیا۔ اسے یاد آیا کہ بچپن میں بھی ماں اکثر یہی کہتی تھی کہ "میرا پیٹ بھر گیا ہے"، جبکہ حقیقت میں وہ اپنی اولاد کے لیے کھانا بچاتی تھی۔

احمد نے ماں کا ہاتھ پکڑ لیا۔

"امی، آپ نے پوری زندگی میرے لیے قربان کر دی، اور میں نے آپ کے لیے کیا کیا؟"

ماں کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

"بیٹا، اولاد اگر ماں باپ کی عزت کرے تو یہی ہماری سب سے بڑی دولت ہے۔"

اگلی صبح احمد نے فیصلہ کیا کہ وہ دوبارہ شہر نہیں جائے گا جب تک اپنے والدین کو اپنے ساتھ خوش نہ رکھے۔

اس نے اپنے والد کے ساتھ کھیت میں کام شروع کیا۔ کچھ عرصے بعد اس نے اپنی محنت سے چھوٹا سا کاروبار شروع کیا۔ اللہ نے اس کے رزق میں برکت دے دی۔

اب احمد کے پاس پیسہ بھی تھا اور عزت بھی، مگر سب سے بڑھ کر اسے اپنے والدین کی قدر آ گئی تھی۔

وہ ہر صبح ماں کے ہاتھ چومتا اور باپ کے قدموں میں بیٹھ کر ان کی باتیں سنتا۔

ایک دن احمد نے اپنے والد سے پوچھا:

"ابا، لوگ کہتے ہیں ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے، کیا یہ سچ ہے؟"

والد نے مسکرا کر کہا:

"بیٹا، ماں کی خدمت جنت کا راستہ ہے، اور باپ کی رضا بھی اللہ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ والدین کی خدمت کو کبھی بوجھ نہ سمجھنا۔"

احمد نے سر جھکا کر کہا:

"ابا، اب میں سمجھ گیا ہوں کہ دنیا کی دولت کتنی بھی مل جائے، ماں باپ کی محبت کے سامنے سب کچھ کم ہے۔"

سال گزرتے گئے۔ احمد نے اپنے بچوں کو بھی یہی تعلیم دی:

"اپنی ماں کی عزت کرنا، کیونکہ ماں محبت کا سمندر ہے۔ اپنے باپ کی عزت کرنا، کیونکہ باپ اپنی اولاد کے لیے خاموشی سے پوری زندگی محنت کرتا ہے۔"

اور یوں ایک ایسا بیٹا جو کبھی اپنے والدین سے دور ہو گیا تھا، آخرکار سمجھ گیا کہ دنیا میں کامیابی صرف دولت اور شہرت کا نام نہیں، بلکہ والدین کی دعائیں حاصل کرنا بھی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

سبق

ماں کی محبت بے مثال ہے اور باپ کی محنت بے شمار۔ والدین جب تک ہمارے ساتھ ہیں، ان کی قدر کریں، ان کے ساتھ نرمی سے بات کریں، ان کی ضروریات کا خیال رکھیں اور ان کے لیے دعا کریں۔

ماں کی خدمت جنت کا راستہ ہے، اور باپ کی عزت و خدمت بھی اللہ کی رضا کا ذریعہ ہے۔ والدین کی قدر آج کریں، کل صرف یادیں باقی نہ رہ جائیں۔

07/09/2026

ایک خوبصورت سے گاؤں میں زینب نام کی ایک نیک دل عورت رہتی تھی۔ اس کا ایک ہی بیٹا تھا، جس کا نام حمزہ تھا۔ زینب نے بڑی محنت اور محبت سے اپنے بیٹے کی پرورش کی تھی۔ حمزہ بھی اپنی ماں کا بہت خیال رکھتا تھا۔

کچھ عرصے بعد حمزہ کی شادی عائشہ نام کی ایک سمجھدار اور نرم مزاج لڑکی سے ہوگئی۔

شادی کے بعد عائشہ جب پہلی بار سسرال آئی تو زینب نے اسے گلے لگایا اور کہا:

“بیٹی! آج سے یہ گھر تمہارا بھی ہے۔ مجھ سے کبھی کوئی غلطی ہو جائے تو مجھے ماں سمجھ کر بتا دینا۔”

عائشہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اس نے کہا:

“امی! میں بھی آپ کو اپنی ماں ہی سمجھوں گی۔”

کچھ دن بہت خوشی سے گزرے۔ عائشہ گھر کے کاموں میں اپنی ساس کا ہاتھ بٹاتی اور زینب بھی بہو کو بیٹی کی طرح سمجھتی۔

لیکن ایک دن گھر میں ایک معمولی سی بات پر غلط فہمی پیدا ہوگئی۔

زینب نے دیکھا کہ اس کے کمرے میں رکھی ایک پرانی قیمتی چیز اپنی جگہ پر نہیں تھی۔ وہ پریشان ہوگئی۔ اسے کسی پر شک نہیں تھا، مگر گھر میں صرف عائشہ ہی نئی آئی تھی۔

زینب نے عائشہ سے پوچھا:

“بیٹی، کیا تم نے میرے کمرے سے وہ چیز دیکھی ہے؟”

عائشہ نے فوراً کہا:

“نہیں امی، میں نے تو اسے ہاتھ بھی نہیں لگایا۔”

زینب خاموش ہوگئی، مگر اس کے دل میں ایک چھوٹا سا شک پیدا ہوگیا۔

اسی دوران حمزہ گھر آیا۔ زینب نے اسے ساری بات بتائی۔ حمزہ نے اپنی بیوی سے پوچھا تو عائشہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔

وہ بولی:

“حمزہ! اگر امی کو مجھ پر شک ہے تو میں کیا کہہ سکتی ہوں؟ میں نے کچھ نہیں لیا۔”

حمزہ نے اپنی ماں سے کہا:

“امی، عائشہ ایسی لڑکی نہیں ہے۔ پہلے اچھی طرح تلاش کر لیتے ہیں۔”

اگلے دن زینب نے پورا گھر تلاش کیا، مگر وہ چیز کہیں نہ ملی۔

عائشہ نے ساس کی ناراضی محسوس کی تو اس نے گھر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔

وہ زینب کے پاس گئی اور بولی:

“امی، میں نہیں چاہتی کہ میری وجہ سے آپ اور حمزہ کے درمیان کوئی مسئلہ پیدا ہو۔ اگر میری موجودگی آپ کو تکلیف دے رہی ہے تو میں کچھ دن اپنے والدین کے گھر چلی جاتی ہوں۔”

زینب کو یہ بات سن کر بہت دکھ ہوا، مگر اس کا غصہ ابھی باقی تھا۔

عائشہ اپنا سامان تیار کرنے لگی۔ اچانک زینب کا پوتا بھاگتا ہوا آیا اور بولا:

“دادی! یہ چیز تو مجھے کل الماری کے نیچے ملی تھی!”

زینب نے چیز ہاتھ میں لی تو اسے یاد آیا کہ وہ خود صفائی کرتے وقت اسے وہاں رکھ کر بھول گئی تھی۔

زینب کے چہرے پر شرمندگی آگئی۔

وہ فوراً عائشہ کے پاس گئی، اس کا ہاتھ پکڑا اور بولی:

“بیٹی، مجھے معاف کر دو۔ میں نے تم پر شک کیا، حالانکہ تم بے قصور تھیں۔”

عائشہ کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے۔

اس نے اپنی ساس کو گلے لگا کر کہا:

“امی، ماں اور بیٹی کے رشتے میں معافی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بس آئندہ مجھ سے بات دل میں نہ رکھیے گا۔”

زینب نے کہا:

“اور تم بھی کبھی کوئی بات دل میں مت رکھنا۔ آج مجھے سمجھ آگئی ہے کہ ساس اور بہو دشمن نہیں ہوتیں، انہیں صرف ایک دوسرے کو سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔”

حمزہ یہ سب دیکھ رہا تھا۔ اس نے مسکرا کر کہا:

“آج میرے گھر کی سب سے بڑی غلط فہمی ختم ہوگئی۔”

اس دن کے بعد زینب اور عائشہ کا رشتہ پہلے سے بھی مضبوط ہوگیا۔ دونوں ایک دوسرے کا خیال رکھنے لگیں۔

سبق:
رشتے شک سے نہیں، اعتماد سے مضبوط ہوتے ہیں۔ ساس اگر بہو کو بیٹی سمجھے اور بہو ساس کو ماں کا احترام دے، تو ایک گھر جنت بن سکتا ہے۔ چھوٹی سی غلط فہمی کو انا نہ بنائیں، کیونکہ کبھی کبھی ایک سوال پورا رشتہ توڑ دیتا ہے اور ایک سچی بات پورا رشتہ بچا لیتی ہے۔

ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک غریب آدمی رہتا تھا۔ اس کا نام کریم تھا۔ وہ بہت محنتی اور نیک دل انسان تھا، لیکن غربت نے اس کی ...
05/09/2026

ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک غریب آدمی رہتا تھا۔ اس کا نام کریم تھا۔ وہ بہت محنتی اور نیک دل انسان تھا، لیکن غربت نے اس کی زندگی مشکل بنا رکھی تھی۔ گھر میں بوڑھی ماں، بیوی اور چھوٹے بچے تھے۔

ایک دن کریم روزگار کی تلاش میں دور شہر کی طرف جا رہا تھا۔ راستے میں اسے ایک بزرگ نظر آئے جو ایک درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے۔ بزرگ بہت سادہ لباس میں تھے اور چہرے پر سکون تھا۔

کریم نے سلام کیا اور ادب سے پوچھا:

"بابا جی! آپ یہاں اکیلے کیوں بیٹھے ہیں؟"

بزرگ نے مسکرا کر کہا:

"بیٹا، مسافر ہوں اور کچھ دیر آرام کر رہا ہوں۔"

کریم کے پاس خود کھانے کو بہت کم تھا، مگر اس نے اپنی روٹی کا آدھا حصہ بزرگ کو دے دیا۔

بزرگ نے دعا دیتے ہوئے کہا:

"بیٹا، تم نے اپنی ضرورت کے باوجود دوسرے کا خیال رکھا ہے۔ اللہ تمہیں کبھی محتاج نہ کرے۔"

کریم نے کہا:

"بابا جی، دعا ہی میرے لیے کافی ہے۔"

یہ کہہ کر دونوں اپنے اپنے راستے چل پڑے۔

چند دن بعد کریم کو شہر میں ایک اچھا کام مل گیا۔ اس نے محنت شروع کر دی۔ کچھ ہی عرصے میں اس کی حالت بہتر ہونے لگی۔ وہ ہر مہینے اپنی کمائی میں سے کچھ رقم غریبوں کے لیے نکالتا اور اپنی ماں کی خدمت کرتا۔

کئی سال بعد کریم دوبارہ اسی راستے سے گزرا۔ اس نے دیکھا کہ وہی بزرگ درخت کے نیچے بیٹھے ہیں۔ کریم فوراً ان کے پاس گیا اور سلام کیا۔

بزرگ نے اسے پہچان لیا اور کہا:

"کریم! تمہیں یاد ہے، ایک دن تم نے اپنی آدھی روٹی مجھے دی تھی؟"

کریم نے مسکرا کر کہا:

"بابا جی، وہ تو بہت معمولی سی بات تھی۔"

بزرگ نے جواب دیا:

"نہیں بیٹا، نیکی کبھی معمولی نہیں ہوتی۔ نیکی کا اصل صلہ اللہ کے پاس ہے۔"

کریم کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے بزرگ کا ہاتھ چومنے کی کوشش کی تو بزرگ نے اسے روک دیا اور کہا:

"اللہ کا شکر ادا کرو، اور ہمیشہ لوگوں کے کام آتے رہو۔"

کریم نے اسی دن عہد کیا کہ وہ اپنی زندگی میں کسی ضرورت مند کو خالی ہاتھ واپس نہیں کرے گا۔

وقت گزرتا گیا اور کریم اپنے گاؤں کے غریب لوگوں کی مدد کرنے لگا۔ اس نے ایک چھوٹا سا کنواں بنوایا، مسافروں کے لیے سایہ دار جگہ بنائی اور کئی غریب بچوں کی تعلیم کا انتظام کیا۔

ایک دن گاؤں کے لوگوں نے اس سے پوچھا:

"تم اتنی نیکی کیوں کرتے ہو؟"

کریم نے مسکرا کر کہا:

"کیونکہ ایک نیک بزرگ نے مجھے سکھایا تھا کہ انسان کے پاس اگر کچھ کم بھی ہو، تو وہ کسی کے ساتھ اپنی خوشی ضرور بانٹ سکتا ہے۔"

سبق

نیکی کبھی ضائع نہیں ہوتی۔ انسان کسی کی چھوٹی سی مدد بھی خلوص سے کرے تو وہ نیکی آگے چل کر بہت سے لوگوں کے لیے فائدہ بن سکتی ہے۔ اصل دولت دوسروں کے کام آنا اور اللہ کا شکر ادا کرنا ہے۔

Address

Sahiwa
Sahiwal

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Happy Desi family8 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share