25/06/2026
نہرِ فرات کا بھی تو پانی رواں رہا
اور تشنہ لب وہاں پہ کوئی کارواں رہا
خیموں میں العطش کی صدائیں تو تھیں مگر
عزمِ خلیلِؑ عصر وہاں کامراں رہا
نیزے کی نوک پر جو تلاوت میں مست تھا
وہ سر کٹا کے دہر میں اک داستاں رہا
سجدے میں سر کٹا دیا ابنِ علیؑ نے یوں
سجدہ تو بچ گیا نہ کوئی سارباں رہا
عباسِؑ باوفا کی جو چمکی وہ تیغِ تیز
اعدا کے دل میں خوف کا اک سائباں رہا
لکھتا رہا جو خون سے تاریخِ کربلا
وہ تذکرہ ندیمؔ یہاں جاوداں رہا
بی. اے. ندیم