Sillanwali Ki Awaz

Sillanwali Ki Awaz information about sillanwali

13/05/2026

سلانوالی تین کروڑ 35 لاکھ روپے کے دو چیک بینکوں سے اونر ہونے پر سلانوالی پولیس نے ایک شخص کے خلاف زیر دفعہ 489/F کے تحت مقدمہ درج کر لیا تفصیلات کے مطابق محلہ نون کالونی سلانوالی کے رہائشی محمد فیصل حیات ولد محمد حیات قوم ڈھڈی نے چوک بلاک نمبر 3 سلانوالی میں مقام ابوا کے نام سے ٹریول ایجنسی بنائی ہوئی ہے کہ محلہ بستی مائی ہیر جھنگ کے رہائشی محمد وقاص ولد محمد کھراج قوم وینس نے میری ٹریول ایجنسی کے ذریعے کئی عمرہ زائرین کے لیے بکنگ کرائی ہوئی تھی جن کے اخراجات کے سلسلہ میں تین کروڑ 35 لاکھ روپے محمد وقاص کے ذمہ واجب الادا تھے محمد وقاص نے مذکورہ رقم کی ادائیگی کے سلسلہ میں دو مختلف بینکوں کے چیک دیے ہوئے تھے جو کہ دونوں چیک ڈس اونر ہو گئے اور تھانہ سلانوالی پولیس نے متاثرہ شخص محمد فیصل حیات کی درخواست پر محمد وقاص کے خلاف زیر دفعہ 489/F کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔

26/04/2026
22/04/2026
      Maryam Nawaz Sharif Mian Shehbaz Sharif Asif Ali Zardari ARY News Geo News Urdu BOL
18/04/2026






Maryam Nawaz Sharif
Mian Shehbaz Sharif
Asif Ali Zardari
ARY News
Geo News Urdu
BOL

Mian Shehbaz Sharif PML(N) Maryam Nawaz Sharif Hamza Shahbaz Sharif ARY News Samaa TV Geo News Urdu Independent Urdu Dun...
17/04/2026

Mian Shehbaz Sharif
PML(N)
Maryam Nawaz Sharif
Hamza Shahbaz Sharif

ARY News
Samaa TV
Geo News Urdu
Independent Urdu
Dunya News

سیکریٹری ریجن سرگودھا ٹرانسپورٹ نے کرایہ نامہ جاری کردیا---💥ٹرانسپورٹ کرایوں میں 40 فیصد تک کا اضافہ-
06/04/2026

سیکریٹری ریجن سرگودھا ٹرانسپورٹ نے کرایہ نامہ جاری کردیا---💥

ٹرانسپورٹ کرایوں میں 40 فیصد تک کا اضافہ-

04/03/2026

سلانوالی ضیاء شہید روڈ پر راتوں رات ناقص کارپٹ بچھا کر روڈ کا کام مگروں لگایا جا رہا ہے---

ٹھیکیدار بنا روڈ پر لک ڈالے اور واٹر باؤنڈگ کیے اور پتلی کارپٹ بچھا رہا ہے---

ایم این اے اور ایم پی اے صاحب فٹے منہ ایسے ترقیاتی کام پر جو اتنا زائد وقت لینے کے باوجود گھٹیا معیار کا کام ہو--

سلانوالی شہریوں نے اس ناقص کام کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ محکمہ ہائی وے سمیت ٹھیکیدار کے خلاف کارروائی کرے--

28/02/2026

فیصل شفقت بھٹی کون تھا؟ نواز فقیر کی 3 مرلہ زمین اس کے بھیانک انجام کی وجہ کیسے بنی؟
تحریر: ظاہر محمود

گلے اور ہاتھوں میں سونے کے بڑے بڑے کینٹھے، اُنگلیوں میں بھاری بھرکم مُندریاں، کالے چشمے اور لمبے بالوں سے پہچانے جانے والے فیصل شفقت بھٹی سرگودھا میں د ہ ش ت کی علامت بن چکے تھے مگر کیوں؟

یہ قصہ شروع ہوا 1997ء میں جب سرگودھا کی کلیار فیملی کے ساتھ جائیداد کے تنازع پر فیصل شفقت بھٹی کے والد کو ق ت ل کر دیا گیا- فیصل شفقت بھٹی نے اس ایک ق ت ل کے بدلے میں کلیار فیملی کے 7 بندے ق ت ل کر دئیے- صرف یہی نہیں، اس وقوعے کے بعد کلیار فیملی کو گھٹنے ٹیک کر معافی بھی منگوائی اور انھیں عدالتوں میں کیس کی پیروی سے بھی دستبردار کروا دیا-

اس وقوعے کے بعد سرگودھا بھر میں فیصل شفقت بھٹی کی د ہ ش ت بیٹھ گئی، وہ پہلے سے زیادہ شیر ہو گیا، لوگوں کی زمینوں پر قبضے، چوری ڈکیتیاں اور غریبوں کی عزتیں لوٹنا شروع کر دیں- وہ وہاں کا بڑا ڈان بن گیا جس کا اظہار اُس نے اپنے حلیے اور لائف سٹائل سے کرنا شروع کر دیا-

بڑے لوگوں سے اثرورسوخ بنا کر علاقہ مکینوں پر زمین تنگ کرنے لگا یہاں تک کہ فروری 2024ء آ گیا- اُس کا سامنا حجام کی دکان پر کام کرنے والے نواز فقیر سے پڑا جو شاعر تھا اور مسکین غریب آدمی تھا، وہ شاعر ہونے کی وجہ سے فقیر تخلص کرتا تھا-

نواز فقیر کے پاس 3 مرلے زمین تھی جہاں وہ رہائش پذیر تھا، زمین بھی ایسی کہ جیسے دیہاتوں میں رُوڑی کی زمین ہوتی ہے جس کی اتنی وقعت نہیں ہوتی-

فیصل شفقت بھٹی نے نواز فقیر سے وہ زمین خریدنا چاہی جسے نواز فقیر نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ "جناب! آپ مربعوں کے مالک ہیں، اس 3 مرلہ زمین کی آپ کے جاہ و جلال کے سامنے کیا وقعت ہے؟ مگر یہ میری کُل کائنات ہے-"

فیصل شفقت بھٹی کو یہ انکار بہت بُرا لگا، اُس نے اپنے مُشٹنڈوں کے ذریعے نواز فقیر کو ڈرانا دھمکا نا شروع کر دیا- اس صعوبت سے تنگ آ کر نواز فقیر نے فیصل شفقت بھٹی کے خلاف ایک نظم لکھ دی-

26 فروری، 2024ء کو فیصل شفقت بھٹی اپنی فیملی سمیت باہر چلا گیا، مگر نواز فقیر کی وہ نظم نہیں بھولا تھا-

اس ایک نظم کا جواب فیصل شفقت بھٹی نے نواز فقیر کے 6 لوگ ق ت ل کر کے دیا- سب سے پہلے 28 فروری، 2024ء کو نواز فقیر کے 12 سالہ کم سن بیٹے کو گو لیو ں سے بھون ڈالا گیا- 12 سالہ بچہ۔۔۔ یہ سب سوچ کر روح کانپ اُٹھتی ہے، مگر اُس رذیل کو ذرا ترس نہ آیا-

پھر نواز فقیر کے 80 سالہ بھائی نذر کو اسی طرح بربریت سے ما*ر ڈالا، بعد ازاں نذر کے دو بیٹوں اعظم اور قیصر کو بھی ق ت ل کروا دیا- یہ سب وہ محض نواز فقیر کی کی گئی ایک "نہ" اور لکھی گئی ایک نظم کے جواب میں کر رہا تھا-

بات یہیں نہیں رُکی بلکہ نومبر 2024ء میں فیصل شفقت بھٹی کے کارندوں نے بالآخر نواز فقیر اور اس کے ساتھ موجود ایک دوست کو بھی بھون ڈالا- وجہ کیا تھی؟ محض 3 مرلہ زمین اور نواز فقیر کی لکھی ایک نظم۔۔۔

قصہ یہاں بھی ختم نہیں ہوا، جب نواز فقیر کی جواں سال بیٹی اور بیٹے نے اپنے والد اور خاندان پر ڈھائے گئے ظ ل م و ستم کے خلاف ریاست کا دروازہ کھٹکھٹایا تو فیصل شفقت بھٹی کے بے شمار لوگ اُن کے گھر پہنچ گئے اور کہا کہ 50 لاکھ لے کر صلح کر لو وگرنہ تم دونوں کو بھی نہیں چھوڑیں گے-

اس کیس کی مدعی نواز فقیر کی باہمت بیٹی تھی، نجانے اس میں اتنا حوصلہ اور بہادری کہاں سے آئی کہ وہ ا س ل ح ے سے لیس اَن گنت غنڈوں سے بالکل بھی نہیں گھبرائی اور کہا کہ چاہے ہمیں ما ر دو مگر ہم اس کیس کی پیروی سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے-

اس وقوعے کے بعد وہ دونوں بہن بھائی بمع فیملی کے باقی ماندہ افراد سرگودھا سے بھاگ کر لاہور منتقل ہو گئے، مگر ساتھ ساتھ کیس کی پیروی کرتے رہے- لہذا فیصل شفقت بھٹی عدالتوں اور پولیس کو ہمیشہ مطلوب رہا-

آپ اندازہ لگائیے کہ 1997ء میں اپنے والد کے ق ت ل کے بدلے کلیار فیملی کے 7 بندے ما*ر دیے اور پھر محض "نہ" کرنے اور نظم لکھنے پر غریب مسکین نواز فقیر کا سارا کنبہ اجاڑ دیا اور ایک نظم کا جواب 6 ق ت ل کر کے دیا-

اتنا سب کچھ کرنے کے بعد فیصل شفقت بھٹی اُسی طرح سونے کے کینٹھوں سے لدا اور رعونت سے بھرے انداز میں ویڈیوز بناتا پاکستان کی جانب گامزن ہوا تو ائیرپورٹ پر سینکڑوں اس ل حہ بردار لینڈ کروزروں پر اس کا استقبال کرنے پہنچے تا کہ پولیس اسے چُھو نہ سکے-

سرگودھا میں سی سی ڈی کے ایس ایس پی آفتاب پھلرواں صاحب نے نواز فقیر کے ان دونوں بیٹا بیٹی کے ہمراہ فیصل شفقت بھٹی کے کارناموں پر ایک پریس کانفرنس کی جسے سُن کر بلاشبہ آپ کی آنکھیں بھیگ جائیں گے-

اُنھوں نے بتایا کہ کیسے سی سی ڈی نے ریاست کو چیلنج کرنے اور غریبوں مسکینوں کی زندگی کو دو زخ بنانے والے فیصل شفقت بھٹی کو اپنے منطقی انجام تک پہنچایا، کیونکہ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو وہ پیسے کے اندھادھند استعمال یا اثرورسوخ سے بچ جاتا-

آفتاب پھلرواں صاحب کے بعد جب مائیک نواز فقیر کی جرات مند بیٹی اور بیٹے کی طرف کیا گیا جن کی عمریں لگ بھگ 20 برس ہوں گی تو ان کی آنکھوں میں دِکھنے والی چمک اور آواز سے محسوس ہونے والی گرج سے ریاست کی فتح کے شادیانے بجتے سنائی دے رہے تھے-

یہ وہ بہن بھائی تھے، جنھوں نے فقط ایک جملہءِ حق ادا کرنے اور ظ ا ل م کے سامنے ڈٹ جانے پر نہ صرف اپنا باپ کھویا بلکہ 12 سالہ چاند سا چھوٹا بھائی، چاچو، اُن کے بیٹے اور اپنے باپ کا دوست بھی کھو دیا تھا- اُن کے پاس جینے کی کوئی وجہ باقی نہیں تھی، تبھی جب بے شمار لوگ رعب و دبدبے سے اُنھیں م ق د م ے سے دستبردار ہونے پر راضی کرنے آئے تو اُنھوں نے اپنی جان کی بازی بھی لگا دی-

مگر اس سب کے باوجود ریاست نے اُن م ظ لو م بچوں کو بے یارومددگار نہیں چھوڑا، ریاست فیصل شفقت بھٹی کی دولت سے مرعوب ہوئی نہ اس کے اثرورسوخ سے اور آن کی آن انصاف کا گھنٹہ ایسا بجایا کہ چار دانگِ عالم میں اس گھنٹے کی گونج تادیر سنائی دیتی رہے گی-

سی سی ڈی اس شاندار کارروائی پر فقید المثال خراجِ تحسین کے لائق ہے- گو کہ کچھ مسائل اور قانونی موشگافیوں کا سامنا ہے مگر امید ہے کہ سہیل ظفر چٹھہ صاحب اپنی بے مثال ذہانت اور وطن کی مٹی کے قرض کو چکانے کی تگ و دو میں اُن موشگافیوں پر بھی کنٹرول حاصل کر لیں گے-

مجھے آج رات بہت پرسکون نیند آئے گی کیونکہ نواز فقیر کے 12 سالہ معصوم بچے، 80 سالہ بھائی، اُس کے بیٹوں، نواز فقیر بقلم خود اور اس کے دوست کے ساتھ ساتھ بے بس کلیار فیملی کے 7 ناحق ما ر ے گئے لوگوں کی ارواح آج چین محسوس کر رہی ہوں گی اور اس لیے بھی پرسکون نیند آئے گی کیونکہ نواز فقیر کی باہمت بیٹی اور نڈر بیٹے کی نہ ختم ہونے والی تھکان اب اتر چکی ہے، اُن کی پیشانیاں اب روشن ہیں، اور سب سے بڑھ کر انھیں یہ احساسِ کامل ہے کہ ریاست ظ ل۔م کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنتی جا رہی ہے-

Address

Sillanwali Sargodha
Sargodha
40010

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sillanwali Ki Awaz posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share