Munir Jafri

Munir Jafri Follow my page please

12/10/2025
01/10/2025

غزل

شور کرتی ہوئی تاخیر بلانے آئی
وقت پر ورنہ کہاں عقل ٹھکانے آئی

میں نے ساحل پہ مصافحہ کیا ملاحوں سے
ایک کشتی مجھے سینے سے لگانے آئی

سرد خانے پہ لگا قفل نہ کھل پایا کبھی
زندگی جب بھی میری لاش اٹھانے آئی

شاخ ہمسائی محبت کا سندیسہ لے کر
میری دیوار پہ کچھ پھول کھلانے آئی

گھاس ہی گھاس تھی دیوار و در و دنیا پر
جب وہ شہزادی مرے گھر کو سجانے آئی

ہر عمل اپنے مکافات کے ساتھ آتا ہے
شام آئی تو اداسی مجھے کھانے آئی

دل ہے تڑکے ہوئے شیشے کا چمکدان منیر
ایک بے چہرہ پری جس کو چرانے آئی

منیر جعفری

اکادمی ادبیات پاکستان میں اردو ادب کا ایک معتبر ادارہ ہے۔ جو زبان و ادب کی ترویج میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ادبیات کے ت...
27/11/2023

اکادمی ادبیات پاکستان میں اردو ادب کا ایک معتبر ادارہ ہے۔ جو زبان و ادب کی ترویج میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ادبیات کے تازہ شمارے میں ناچیز کی ایک غزل شائع ہوئی ہے۔ملاحظہ کیجیے
بشکریہ
Zahid Khan

غزل

اس قدر شور ہے اس شہر کی شریانوں میں
خامشی کانپنے لگ جاتی ہے ویرانوں میں

دل کے بغداد میں تہذیب کا چالیسواں ہے
مسخ تاریخ کی چیخیں ہیں مرے کانوں میں

ذکر آتا ہے رہائی کا ترے ہونٹوں پر
جنگ چھڑ جاتی ہے اس بات پہ زندانوں میں

رسم پڑ جائے گی دنیا میں مرے گریہ کی
اتنا روؤں گا میں ہنستے ہوئے انسانوں میں

جس کا کھاتے ہیں اسی شخص کے گن گاتے ہیں
اتنی تہذیب تو رکھی گئی حیوانوں میں

ملنے آئے ہیں کئی ذخم پرانے مجھ کو
آج مصروف رہوں گا انھی مہمانوں میں

اتنی پہچان بھی کافی ہے مرے ہونے کو
نام آجاتا ہے اس شخص کے دیوانوں میں

شہر میں جھوٹ سے گھبرا کے سرشام منیر
لوگ سچ بولنے آ جاتے ہیں میخانوں میں
منیر جعفری

26/11/2023

گفتگو بعد میں کر لینا عزاداری پر
پہلے بتلاؤ محبت کی زباں جانتے ہو؟
منیر جعفری

زندگی تو نے بہت دیر میں سمجھایا ہے بیل دیوار سے ہٹ کر بھی نمو کرتی ہے منیر جعفری
23/11/2023

زندگی تو نے بہت دیر میں سمجھایا ہے
بیل دیوار سے ہٹ کر بھی نمو کرتی ہے
منیر جعفری

21/11/2023

ہم کو وقت اکٹھا کرتے عمریں لگتی ہیں
وہ صدیوں کو لمحوں میں روزانہ بانٹتی ہے
منیر جعفری

20/11/2023

میرے بس میں ہو تجھے عمر لگا دوں اپنی
اور اس طرح تری ذات کا حصہ بن جاؤں

منیر جعفری

20/11/2023

میرا بکھراؤ بتائے گا مرا ذوقِ جنوں
میرا اندازا لگانا مرے شیرازے سے
منیر جعفری

میں دریا ہونے سے پہلے پتھر تھا اک درویش نے مجھ کو ٹھوکر ماری تھیمنیر جعفری
19/11/2023

میں دریا ہونے سے پہلے پتھر تھا
اک درویش نے مجھ کو ٹھوکر ماری تھی
منیر جعفری

نور کے ہاتھ پہ بیعت ہے مری آنکھوں کیاب اندھیروں کی طرف دیکھنا غداری ہےمنیر جعفری
18/11/2023

نور کے ہاتھ پہ بیعت ہے مری آنکھوں کی
اب اندھیروں کی طرف دیکھنا غداری ہے
منیر جعفری

16/11/2023

دل پر پہن لیا ہے وہ گجرے کے جیسا شخص
لیکن گلے کا ہار نہیں کر رہا ہوں میں
منیر جعفری

15/11/2023

زمیں کی سالگرہ پر میں خاک بانٹتا ہوں
کسی کو ورنہ میں اپنی کمائی دیتا نہیں
منیر جعفری

Address

Sargodha

Telephone

+923037325672

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Munir Jafri posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Munir Jafri:

Share