15/07/2026
🚨 سرگودھا: 50 سال بعد ملنے والے 14 ارب روپے کے میگا سیوریج منصوبے کا مستقبل داؤ پر؟ شہریوں میں شدید تشویش
سرگودھا کو نصف صدی بعد سیوریج نظام کی بہتری کے لیے ملنے والے 14 ارب روپے کے میگا منصوبے پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ جس منصوبے سے شہر کی قسمت بدلنے کی امید تھی، وہ اگر اسی رفتار اور معیار کے ساتھ جاری رہا تو یہ عوام کے ٹیکس سے حاصل ہونے والا اربوں روپے کا سرمایہ ضائع ہونے کا خدشہ پیدا کر دے گا۔
متعدد علاقوں سے شہری ناقص تعمیر، غیر معیاری میٹریل اور کام کے معیار پر اعتراضات اٹھا رہے ہیں۔ عوام کا مؤقف ہے کہ اگر ان شکایات کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات نہ ہوئیں تو آنے والی نسلیں بھی ٹوٹی سڑکوں، ابلتے گٹروں اور تباہ حال سیوریج نظام کا خمیازہ بھگتیں گی۔
شہری سوال اٹھا رہے ہیں کہ 14 ارب روپے خرچ ہونے کے باوجود آخر شہر کو مل کیا رہا ہے؟ اگر اربوں روپے کی لاگت کے باوجود نکاسی آب کا نظام بہتر نہیں ہوتا تو پھر اس منصوبے کا فائدہ کس کو پہنچ رہا ہے؟
افسوسناک امر یہ ہے کہ شہریوں کی مسلسل شکایات کے باوجود متعلقہ اداروں کی خاموشی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر بروقت سخت نگرانی، تکنیکی آڈٹ اور شفاف احتساب نہ کیا گیا تو یہ منصوبہ سرگودھا کی تاریخ کے مہنگے ترین مگر متنازع منصوبوں میں شمار ہو سکتا ہے۔
شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری، اینٹی کرپشن، کمشنر سرگودھا اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ منصوبے کا فوری تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے، استعمال ہونے والے میٹریل اور تعمیراتی معیار کی جانچ کی جائے، اور اگر کسی بھی سطح پر بے ضابطگی یا بدعنوانی ثابت ہو تو ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے۔ عوام کا کہنا ہے کہ 14 ارب روپے کسی کی جاگیر نہیں بلکہ عوام کی امانت ہیں، اور اس امانت کا ایک ایک روپیہ عوام کی فلاح پر خرچ ہونا چاہیے، نہ کہ مبینہ غفلت یا بدانتظامی کی نذر۔
#سرگودھا #واسا #احتساب #شفافیت
Chief Minister Complaint Cell Commissioner Sargodha Division WASA Sargodha Deputy Commissioner Sargodha Maryam Nawaz Sharif Anti-Corruption Unit