Islam The Truth

Islam The Truth The truth is glaring. Its night is as bright as its day. Yet, many people would not follow it.

19/05/2026

I love 😍 it alot.

'A'isha (Allah be pleased with her) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:There is no day when God sets free more ser...
19/05/2026

'A'isha (Allah be pleased with her) reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:

There is no day when God sets free more servants from Hell than the Day of 'Arafa. He draws near, then praises them to the angels, saying: What do these want?

ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"یومِ عرفہ (عرفات کے دن) کے علاوہ کوئی دن ایسا نہیں جس میں اللہ تعالیٰ اتنی کثرت سے بندوں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہو جتنا اس دن (عرفہ) میں فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قریب ہوتا ہے اور پھر فرشتوں کے سامنے ان (حاجیوں) پر فخر فرماتا ہے اور پوچھتا ہے: 'یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟"

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ يُوسُفَ، يَقُولُ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَا مِنْ يَوْمٍ أَكْثَرَ مِنْ أَنْ يُعْتِقَ اللَّهُ فِيهِ عَبْدًا مِنَ النَّارِ مِنْ يَوْمِ عَرَفَةَ وَإِنَّهُ لَيَدْنُو ثُمَّ يُبَاهِي بِهِمُ الْمَلاَئِكَةَ فَيَقُولُ مَا أَرَادَ هَؤُلاَءِ ‏"‏‏.‏
Reference : Sahih Muslim 1348

Abu Qatada al-Ansari (Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) was asked about his fasting. T...
19/05/2026

Abu Qatada al-Ansari (Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah (ﷺ) was asked about his fasting. The Messenger of Allah (ﷺ) felt annoyed. Thereupon 'Umar (Allah be pleased with him) said:

We are pleased with Allah as the Lord, with Islam as our Code of Life, with Muhammad as the Messenger and with our pledge (to you for willing and cheerful submission) as a (sacred) commitment. He was then asked about perpetual fasting, whereupon he said: He neither fasted nor did he break it, or he did not fast and he did not break it. He was then asked about fasting for two days and breaking one day. He (the Holy Prophet) said: And who has strength enough to do it? He was asked about fasting for a day and breaking for two days, whereupon he said: May Allah bestow upon us strength to do it. He was then asked about fasting for a day and breaking on the other, whereupon he said: That is the fasting of my brother David (peace be upon him). He was then asked about fasting on Monday, whereupon he said: It was the day on which I was born. on which I was commissioned with prophethood or revelation was sent to me, (and he further) said: Three days' fasting every month and of the whole of Ramadan every year is a perpetual fast. He was asked about fasting on the day of 'Arafa (9th of Dhu'I-Hijja), whereupon he said: It expiates the sins of the preceding year and the coming year. He was asked about fasting on the day of 'Ashura (10th of Muharram), whereupon be said: It expiates the sins of the preceding year. (Imam Muslim said that in this hadith there is a) narration of Imam Shu'ba that he was asked about fasting on Monday and Thursday, but we (Imam Muslim) did not mention Thursday for we found it as an error (in reporting).

حماد نے غیلان سے، انھوں نے عبداللہ بن معبد زمانی سے اور انھوں نے حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا: آپ کس طرح روزے رکھتے ہیں؟ اس کی بات سے رسول اللہ ﷺ غصے میں آ گئے، جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ ﷺ کا غصہ دیکھا تو کہنے لگے: ہم اللہ کے رب ہونے،اسلام کے دین ہونے اور محمد ﷺ کے رسول ہونے پر راضی ہیں، ہم اللہ کے غصے سے اور اس کے رسول ﷺ کے غصے سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بار بار ان کلمات کو دہرانے لگے حتیٰ کہ رسول اللہ ﷺ کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا، تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول ﷺ اس شخص کا کیا حکم ہے جو سال بھر (مسلسل) روزہ رکھتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’نہ اس نے روزہ رکھا نہ اس نے افطارکیا۔‘‘ یا فرمایا۔ ’’اس نے روزہ نہیں رکھا اس نے افطار نہیں کیا۔‘‘ کہا: اس کا کیا حکم ہے جو دو دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن افطار کرتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’کیا کوئی اس کی طاقت رکھتا ہے؟‘‘ پوچھا: اس کا کیا حکم ہے جو ایک دن روزہ رکھتا ہے اور ایک دن افطار کرتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’یہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے۔‘‘ پوچھا: اس کا کیا حکم ہے جو ایک دن روزہ رکھتا ہے اور دو دن افطار کرتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’مجھے پسند ہے کہ مجھے اس کی طاقت مل جاتی۔‘‘ پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ہر مہینے کے تین روزے اور ایک رمضان (کے روزوں) سے (لے کردوسرے) رمضان (کے روزے) یہ (عمل) سارے سال کے روزوں (کے برابر) ہے۔ اور عرفہ کے دن کا روزہ میں اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ پچھلے سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا اور اگلے سال کے گناہوں کا بھی اور یوم عاشورہ کا روزہ،میں اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ پچھلے سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔‘‘

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ غَيْلاَنَ بْنِ جَرِيرٍ، سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيَّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الأَنْصَارِيِّ، رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنْ صَوْمِهِ قَالَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ عُمَرُ رضى الله عنه رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالإِسْلاَمِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولاً وَبِبَيْعَتِنَا بَيْعَةً ‏.‏ قَالَ فَسُئِلَ عَنْ صِيَامِ الدَّهْرِ فَقَالَ ‏"‏ لاَ صَامَ وَلاَ أَفْطَرَ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ ‏"‏ مَا صَامَ وَمَا أَفْطَرَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمَيْنِ وَإِفْطَارِ يَوْمٍ قَالَ ‏"‏ وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمٍ وَإِفْطَارِ يَوْمَيْنِ قَالَ ‏"‏ لَيْتَ أَنَّ اللَّهَ قَوَّانَا لِذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمٍ وَإِفْطَارِ يَوْمٍ قَالَ ‏"‏ ذَاكَ صَوْمُ أَخِي دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الاِثْنَيْنِ قَالَ ‏"‏ ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ وَيَوْمٌ بُعِثْتُ أَوْ أُنْزِلَ عَلَىَّ فِيهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَقَالَ ‏"‏ صَوْمُ ثَلاَثَةٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَرَمَضَانَ إِلَى رَمَضَانَ صَوْمُ الدَّهْرِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ فَقَالَ ‏"‏ يُكَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ وَالْبَاقِيَةَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ فَقَالَ ‏"‏ يُكَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ ‏"‏ ‏.‏ وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ مِنْ رِوَايَةِ شُعْبَةَ قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الاِثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ فَسَكَتْنَا عَنْ ذِكْرِ الْخَمِيسِ لَمَّا نَرَاهُ وَهْمًا ‏.‏
Reference : Sahih Muslim 1162b
In-book reference : Book 13, Hadith 253

Hani' the freed slave of 'Uthman said:When 'Uthman would stop at a grave he would cry until his beard was soaked (in tea...
19/05/2026

Hani' the freed slave of 'Uthman said:
When 'Uthman would stop at a grave he would cry until his beard was soaked (in tears). It was said to him: 'The Paradise and the Fire were mentioned and you did not cry, yet you cry because of this?' So he said: 'Indeed the Messenger of Allah said: "Indeed the grave is the first stage among the stages of the Hereafter. So if one is saved from it, then what comes after it is easier than it. And if one is not saved from it, then what comes after it is worse than it." And the Messenger of Allah said: "I have not seen any sight except that the grave is more horrible than it."

ہانی مولی عثمان کہتے ہیں کہ عثمان رضی الله عنہ جب کسی قبرستان پر ٹھہرتے تو اتنا روتے کہ آپ کی داڑھی تر ہو جاتی، ان سے کسی نے کہا کہ جب آپ کے سامنے جنت و جہنم کا ذکر کیا جاتا ہے تو نہیں روتے ہیں اور قبر کو دیکھ کر اس قدر رو رہے ہیں؟ تو کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”آخرت کے منازل میں سے قبر پہلی منزل ہے، سو اگر کسی نے قبر کے عذاب سے نجات پائی تو اس کے بعد کے مراحل آسان ہوں گے اور اگر جسے عذاب قبر سے نجات نہ مل سکی تو اس کے بعد کے منازل سخت تر ہوں گے“، عثمان رضی الله عنہ نے مزید کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”گھبراہٹ اور سختی کے اعتبار سے قبر کی طرح کسی اور منظر کو نہیں دیکھا“ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، اسے ہم صرف ہشام بن یوسف کی روایت سے جانتے ہیں۔

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَحِيرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ هَانِئًا، مَوْلَى عُثْمَانَ قَالَ كَانَ عُثْمَانُ إِذَا وَقَفَ عَلَى قَبْرٍ بَكَى حَتَّى يَبُلَّ لِحْيَتَهُ فَقِيلَ لَهُ تُذْكَرُ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ فَلاَ تَبْكِي وَتَبْكِي مِنْ هَذَا فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِنَّ الْقَبْرَ أَوَّلُ مَنَازِلِ الآخِرَةِ فَإِنْ نَجَا مِنْهُ فَمَا بَعْدَهُ أَيْسَرُ مِنْهُ وَإِنْ لَمْ يَنْجُ مِنْهُ فَمَا بَعْدَهُ أَشَدُّ مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَا رَأَيْتُ مَنْظَرًا قَطُّ إِلاَّ وَالْقَبْرُ أَفْظَعُ مِنْهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ يُوسُفَ ‏.‏

Grade: Hasan
Reference : Jami` at-Tirmidhi 2308
In-book reference : Book 36, Hadith 5

19/05/2026

Narrated Abu Huraira:

Allah's Messenger (ﷺ) said, "(The performance of) `Umra is an expiation for the sins committed (between it and the previous one). And the reward of Hajj Mabrur (the one accepted by Allah) is nothing except Paradise."

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں ابوبکر بن عبدالرحمٰن کے غلام سمی نے خبر دی ، انہیں ابوصالح سمان نے خبر دی اور انہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک عمرہ کے بعد دوسرا عمرہ دونوں کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور کی جزا جنت کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ سُمَىٍّ، مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا، وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلاَّ الْجَنَّةُ ‏"‏‏.‏

Reference : Sahih al-Bukhari 1773

19/05/2026

Narrated `Aisha:

(That she said), "O Allah's Messenger (ﷺ)! We consider Jihad as the best deed. Should we not fight in Allah's Cause?" He said, "The best Jihad (for women) is Hajj-Mabrur (i.e. Hajj which is done according to the Prophet's tradition and is accepted by Allah).

ہم سے مسدد نے بیان کیا‘کہا ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حبیب بن ابی عمرہ نے بیان کیا عائشہ بنت طلحہ سے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا ( ام المؤمنین ) نے کہ انہوں پوچھا یا رسول اللہ ! ہم سمجھتے ہیں کہ جہاد افضل اعمال میں سے ہے پھر ہم ( عورتیں ) بھی کیوں نہ جہاد کریں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن( عورتوں کےلیے) سب سے افضل جہاد مقبول حج ہے جس میں گناہ نہ ہوں ۔

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُرَى الْجِهَادَ أَفْضَلَ الْعَمَلِ، أَفَلاَ نُجَاهِدُ قَالَ ‏"‏ لَكِنَّ أَفْضَلَ الْجِهَادِ حَجٌّ مَبْرُورٌ ‏"‏‏.‏
Reference : Sahih al-Bukhari 2784

Narrated Anas:The Prophet (ﷺ) used to offer as sacrifices, two horned rams, black and white in color, and used to put hi...
18/05/2026

Narrated Anas:

The Prophet (ﷺ) used to offer as sacrifices, two horned rams, black and white in color, and used to put his foot on their sides and slaughter them with his own hands.

ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے ، انہوں نے کہا کہ ہم سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سینگ والے دو چتکبرے مینڈھوں کی قربانی کیا کرتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنا پاؤں ان کی گردنوں کے اوپررکھتے اور انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے ۔

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ، وَوَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى صَفْحَتِهِمَا، وَيَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ‏.‏

Reference : Sahih al-Bukhari 5564
In-book reference : Book 73, Hadith 20

18/05/2026
Nubaisha al-Hudhali reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:The days of Tashriq are the days of eating and drinking.وَح...
18/05/2026

Nubaisha al-Hudhali reported Allah's Messenger (ﷺ) as saying:
The days of Tashriq are the days of eating and drinking.

وَحَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ نُبَيْشَةَ، الْهُذَلِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَيَّامُ التَّشْرِيقِ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ ‏"‏ ‏.‏

Reference : Sahih Muslim 1141a

Narrated Ibn `Abbas:The Prophet (ﷺ) said, "No good deeds done on other days are superior to those done on these (first t...
15/05/2026

Narrated Ibn `Abbas:

The Prophet (ﷺ) said, "No good deeds done on other days are superior to those done on these (first ten days of Dhul Hijja)." Then some companions of the Prophet (ﷺ) said, "Not even Jihad?" He replied, "Not even Jihad, except that of a man who does it by putting himself and his property in danger (for Allah's sake) and does not return with any of those things."

ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے سلیمان کے واسطے سے بیان کیا ، ان سے مسلم بطین نے ، ان سے سعید بن جبیر نے ، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان دنوں کے عمل سے زیادہ کسی دن کے عمل میں فضیلت نہیں ۔ لوگوں نے پوچھا اور جہاد میں بھی نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں جہاد میں بھی نہیں سوا اس شخص کے جو اپنی جان و مال خطرہ میں ڈال کر نکلا اور واپس آیا تو ساتھ کچھ بھی نہ لایا ( سب کچھ اللہ کی راہ میں قربان کر دیا ) ۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ مَا الْعَمَلُ فِي أَيَّامِ الْعَشْرِ أَفْضَلَ مِنَ الْعَمَلِ فِي هَذِهِ ‏"‏‏.‏ قَالُوا وَلاَ الْجِهَادُ قَالَ ‏"‏ وَلاَ الْجِهَادُ، إِلاَّ رَجُلٌ خَرَجَ يُخَاطِرُ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ بِشَىْءٍ ‏"‏‏.‏

Reference : Sahih al-Bukhari 969
In-book reference : Book 13, Hadith 18

Address

Sargodha

Telephone

+923327300115

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islam The Truth posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share