Apna Fm Network.

Apna Fm Network. Cable network. Fm radio publicity. News. Internet services. Company name sms publicity. Web designin

05/04/2026

**عنوان: ایٹمی طاقت — کیا اسرائیل کو بھی جوابدہ ہونا چاہیے؟**

دنیا ایک عجیب تضاد کا شکار ہے۔ ایک طرف ایٹمی ہتھیاروں کو انسانیت کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا جاتا ہے، اور دوسری طرف کچھ ممالک کو ان ہتھیاروں کے ساتھ مکمل آزادی حاصل ہے۔ Israel اس بحث کا سب سے نمایاں کردار بن چکا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل ایک ایٹمی طاقت سمجھا جاتا ہے، مگر اس نے نہ تو کھل کر اس کا اعتراف کیا ہے اور نہ ہی عالمی معاہدوں کے تحت خود کو مکمل طور پر جوابدہ بنایا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سوال جنم لیتا ہے: کیا قانون سب کے لیے برابر نہیں ہونا چاہیے؟

اگر Iran یا کوئی اور ملک ایٹمی پروگرام کی بات کرے تو عالمی سطح پر شور مچ جاتا ہے، پابندیاں لگ جاتی ہیں، اور اسے خطرہ قرار دیا جاتا ہے۔ مگر جب بات اسرائیل کی آتی ہے تو دنیا کی بڑی طاقتیں خاموش دکھائی دیتی ہیں۔ یہ خاموشی صرف سیاسی نہیں بلکہ ایک خطرناک مثال بھی ہے۔

ایٹمی ہتھیار صرف ایک ملک کا مسئلہ نہیں ہوتے، یہ پوری دنیا کی سلامتی سے جڑے ہوتے ہیں۔ اگر ایک ملک کے پاس یہ طاقت ہو اور وہ کسی عالمی چیک اینڈ بیلنس کے بغیر ہو، تو یہ توازن بگڑنے کا سبب بنتا ہے۔ یہی عدم توازن دوسروں کو بھی اسی راستے پر چلنے کی ترغیب دیتا ہے، اور یوں دنیا ایک خطرناک “ایٹمی دوڑ” میں داخل ہو جاتی ہے۔

سوال یہ نہیں کہ اسرائیل دشمن ہے یا دوست۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایک اصول سب پر لاگو ہونا چاہیے یا نہیں؟ اگر دنیا واقعی امن چاہتی ہے تو پھر ہر ایٹمی طاقت کو، چاہے وہ کوئی بھی ہو، ایک ہی معیار کے تحت لانا ہوگا۔ شفافیت، جوابدہی اور عالمی نگرانی — یہ وہ اصول ہیں جو کسی ایک ملک نہیں بلکہ پوری انسانیت کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی ادارے اور بڑی طاقتیں اپنے دوہرے معیار کو ختم کریں۔ کیونکہ انصاف جب یکساں نہ ہو تو وہ انصاف نہیں رہتا، بلکہ طاقت کا کھیل بن جاتا ہے۔

اگر دنیا کو محفوظ بنانا ہے تو پھر اصول بھی ایک ہونے چاہئیں — اور چیک اینڈ بیلنس بھی سب کے لیے برابر۔

M Asim Siddiqui.
Apna fm network Multan. Sargodha satellite town.
Whatsapp:
0321-6317088.
E-mail:
[email protected]

📡 کیا ٹیلی کام کمپنیاں عوام کو لوٹ رہی ہیں؟ — ایک حقیقت پسندانہ جائزہپاکستان میں ٹیلی کام سیکٹر ایک بار پھر بڑی تبدیلیوں...
25/03/2026

📡 کیا ٹیلی کام کمپنیاں عوام کو لوٹ رہی ہیں؟ — ایک حقیقت پسندانہ جائزہ
پاکستان میں ٹیلی کام سیکٹر ایک بار پھر بڑی تبدیلیوں کے دور سے گزر رہا ہے۔ پہلے Warid اور Jazz کا انضمام ہوا، اور اب Telenor Pakistan اور Ufone کے درمیان مرجر کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ ایسے میں عام صارف کے ذہن میں ایک ہی سوال جنم لیتا ہے: کیا یہ سب کچھ عوام کے فائدے کے لیے ہو رہا ہے یا نقصان کے لیے؟
حقیقت یہ ہے کہ جب مارکیٹ میں کمپنیوں کی تعداد کم ہوتی ہے تو مقابلہ (competition) بھی کم ہو جاتا ہے۔ پہلے پاکستان میں چار بڑی موبائل کمپنیاں سرگرم تھیں، اب اگر یہ تعداد کم ہو کر تین رہ جائے تو لازمی طور پر قیمتوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ کم مقابلے کا مطلب ہے کہ کمپنیوں کے پاس قیمتیں بڑھانے یا سہولیات محدود کرنے کا زیادہ موقع ہوتا ہے۔
لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے۔ Pakistan Telecommunication Authority (PTA) ایک ریگولیٹری ادارہ ہے جس کا کام ان کمپنیوں کی نگرانی کرنا اور صارف کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ PTA خود PTCL کا حصہ ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ PTA ایک الگ ادارہ ہے، جبکہ PTCL ایک سروس فراہم کرنے والی کمپنی ہے، جس کے تحت Ufone کام کرتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا PTA واقعی عوام کے مفاد کا تحفظ کرتا ہے؟ اس کا جواب سادہ بھی ہے اور پیچیدہ بھی۔ اصولی طور پر PTA کو صارف کے حق میں کھڑا ہونا چاہیے، مگر عملی طور پر بعض اوقات عوام کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ کمپنیاں زیادہ طاقتور ہیں اور ریگولیٹری نظام کمزور دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مہنگے پیکجز اور کم سہولیات پر شکایات عام ہیں۔
دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ ٹیلی کام سیکٹر میں سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی اور بہتر سروس کے لیے کمپنیوں کو منافع کمانا ضروری ہوتا ہے۔ اگر کمپنیاں نقصان میں جائیں تو نہ صرف سروس کا معیار گرتا ہے بلکہ نئی ٹیکنالوجی کی آمد بھی رک جاتی ہے۔
لہٰذا اصل مسئلہ “لوٹ مار” سے زیادہ “بیلنس” کا ہے۔ ایک طرف کمپنیاں ہیں جو منافع چاہتی ہیں، اور دوسری طرف صارف ہے جو سستی اور بہتر سروس چاہتا ہے۔ اس بیلنس کو برقرار رکھنا ہی PTA کی اصل ذمہ داری ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ عوام کو بھی باخبر رہنا ہوگا۔ اپنی آواز اٹھانا، شکایات درج کروانا اور بہتر سروس کا مطالبہ کرنا ہی وہ طریقہ ہے جس سے اس نظام کو متوازن رکھا جا سکتا ہے۔ کیونکہ اگر صارف خاموش رہے گا، تو مارکیٹ ہمیشہ طاقتور کے حق میں جھک جائے گی۔
تحریر کا خلاصہ:
ٹیلی کام کمپنیوں کا انضمام ایک حقیقت ہے، اس کے فائدے بھی ہیں اور نقصانات بھی۔ لیکن اصل طاقت اب بھی صارف کے پاس ہے—بشرطیکہ وہ اپنے حق کے لیے آواز بلند کرے۔
محمد عاصم صدیقی ۔ ملتان پاکستان ۔

24/03/2026

Address

Sargodha

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Apna Fm Network. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Apna Fm Network.:

Share