FA Studio Gondal

FA Studio Gondal اس پیج پرآپکو گل سوئیٹ اڈا جیون گوندل کے بارے میں اور جیون گوندل کے بارے معلومات ملیں گی 03041148726

🇵🇰 جشنِ آزادی مبارک 🇵🇰گل سوئیٹ اڈا جیون گوندل کی فخریہ پیشکش!یومِ آزادی کے پُرمسرت موقع پر خصوصی پاکستان تھیم کیک تیار ک...
12/08/2026

🇵🇰 جشنِ آزادی مبارک 🇵🇰
گل سوئیٹ اڈا جیون گوندل کی فخریہ پیشکش!
یومِ آزادی کے پُرمسرت موقع پر خصوصی پاکستان تھیم کیک تیار کیے جا رہے ہیں۔ 🎂🇵🇰
آپ بھی اپنے جشنِ آزادی کو یادگار بنانے کے لیے اپنی پسند کا خوبصورت کیک پہلے سے آرڈر کروا سکتے ہیں۔
📞 رابطہ: خضر عباس
0305-3968400
14 اگست — پاکستان زندہ باد! 🇵🇰💚

🇵🇰 جشنِ آزادی مبارک 🇵🇰گل سوئیٹ اڈا جیون گوندل کی فخریہ پیشکش!یومِ آزادی کے پُرمسرت موقع پر خصوصی پاکستان تھیم کیک تیار ک...
12/08/2026

🇵🇰 جشنِ آزادی مبارک 🇵🇰

گل سوئیٹ اڈا جیون گوندل کی فخریہ پیشکش!
یومِ آزادی کے پُرمسرت موقع پر خصوصی پاکستان تھیم کیک تیار کیے جا رہے ہیں۔ 🎂🇵🇰

آپ بھی اپنے جشنِ آزادی کو یادگار بنانے کے لیے اپنی پسند کا خوبصورت کیک پہلے سے آرڈر کروا سکتے ہیں۔

📞 رابطہ: خضر عباس
0305-3968400

14 اگست — پاکستان زندہ باد! 🇵🇰💚

ہماری روایتوں کے امینچچا حاجی نواز نائی — مٹی کی خوشبو سے جڑا ایک زندہ کرداربعض شخصیات صرف انسان نہیں ہوتیں، وہ اپنے عہد...
06/08/2026

ہماری روایتوں کے امین
چچا حاجی نواز نائی — مٹی کی خوشبو سے جڑا ایک زندہ کردار
بعض شخصیات صرف انسان نہیں ہوتیں، وہ اپنے عہد کی چلتی پھرتی تاریخ ہوتی ہیں۔ ان کے چہرے پر وقت کی جھریاں نہیں بلکہ نسلوں کی کہانیاں لکھی ہوتی ہیں۔ ان کی گفتگو میں صرف الفاظ نہیں بلکہ تہذیب بولتی ہے، ان کے ہاتھوں میں صرف ہنر نہیں بلکہ محبت کی وراثت ہوتی ہے۔ افسوس کہ ترقی کے اس شور میں ایسے لوگ آہستہ آہستہ ہماری نگاہوں سے اوجھل ہوتے جا رہے ہیں، اور ان کے ساتھ ہی دیہات کی وہ سوندھی خوشبو، وہ اپنائیت، وہ سادگی اور وہ ثقافت بھی کہیں گم ہوتی جا رہی ہے۔

میرا گاؤں جیونڑ گوندل بھی کبھی انہی روایتوں سے آباد تھا۔ کچی گلیاں، پیپل اور بوہڑ کی چھاؤں، مٹی کے صحن، شام ڈھلے ڈیرے، کھیتوں سے واپس آتے کسان، بیلوں کی گھنٹیوں کی آواز، ٹیوب ویل کے پانی کی روانی، نہروں کے کنارے بیٹھے لوگ، اور انہی مناظر کے درمیان ایک مانوس چہرہ... چچا حاجی نواز نائی۔

شاید ہی جیونڑ گوندل یا اس کے گرد و نواح میں کوئی ایسا شخص ہو جس نے انہیں نہ دیکھا ہو۔ وہ صرف نائی نہیں تھے، وہ گاؤں کی دھڑکن تھے۔ ان کی چمڑے کی پرانی رچھانی، جس میں برسوں پرانی کینچی، استرا، بال تراشنے والی مشین، کنگھی اور دوسرے اوزار بڑے سلیقے سے رکھے ہوتے، گویا ان کی پوری دنیا وہی تھی۔

ان کی دکان چار دیواری میں قید نہیں تھی۔ جہاں رزق نے آواز دی، وہیں ان کی بیٹھک سج گئی۔ کبھی کھیت میں ہل چلاتے کسان کے پاس پہنچ گئے، کبھی نہر کے کنارے پانی لگانے والے زمیندار کے قریب بیٹھ گئے، کبھی ٹیوب ویل کے ڈیرے پر چارپائی بچھ گئی، کبھی کسی شیشم یا کیکر کے درخت کے نیچے، اور کبھی سڑک کنارے کسی اینٹ کو کرسی بنا کر۔ پھر وہ اپنے مخصوص انداز میں آواز دیتے: "آؤ بھئی، حجامت بنوا لو۔"

کپڑا لپیٹنے کا انداز بھی نرالا، باتیں کرنے کا سلیقہ بھی اپنا، اور استرے کا ہاتھ بھی ایسا کہ دیکھنے والا محو ہو جاتا۔ حجامت کے دوران گاؤں بھر کی خبریں، پرانے قصے، بزرگوں کی باتیں اور ہلکی پھلکی مزاحیہ گفتگو، یوں لگتا جیسے صرف بال نہیں تراشے جا رہے بلکہ دلوں کی تھکن بھی اتر رہی ہو۔

وہ زمانہ بھی کیا زمانہ تھا! نہ سیلونوں کی چمک دمک تھی، نہ جدید مشینوں کا شور۔ ایک نائی پورے گاؤں کی خوشیوں، غمیوں اور روزمرہ زندگی کا حصہ ہوتا تھا، اور چچا نواز نائی اس روایت کے خوبصورت امین تھے۔

حجامت ان کا پیشہ ضرور تھا، مگر ان کی شناخت اس سے کہیں بڑی تھی۔ شادی بیاہ کی تقریبات ہوں یا کسی گھر میں غم کا سماں، دیگوں کی ذمہ داری اکثر انہی کے سپرد ہوتی۔ بڑے گوشت کی دیگ، نمکین چاول، میٹھے چاول اور خاص طور پر ان کی دال... آج بھی بزرگ اس ذائقے کو یاد کر کے بے اختیار مسکرا دیتے ہیں۔ اکثر لوگ پہلا لقمہ کھاتے ہی کہہ اٹھتے، "یہ دیگ تو چچا نواز نائی کے ہاتھ کی لگتی ہے۔"

اور پھر ربیع الاول شریف کی وہ بابرکت راتیں... جب پورا گاؤں عشقِ رسول ﷺ کی خوشبو میں مہک اٹھتا۔ چچا حاجی نواز نائی ہر سال بلا ناغہ اپنے ہاتھوں سے دس پندرہ بڑے کڑاہوں میں حلوہ تیار کرتے۔ کڑاہوں سے اٹھتی خوشبو، بچوں کی چہکار، بزرگوں کی دعائیں، نوجوانوں کی خدمت اور پھر ہر گھر تک حلوہ پہنچانے کا منظر... یوں محسوس ہوتا جیسے صرف حلوہ نہیں، محبت، عقیدت اور اپنائیت تقسیم کی جا رہی ہو۔

کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ ایک ماہر ختنہ اسپیشلسٹ بھی رہے ہیں۔ اس پورے علاقے میں نہ جانے کتنے بچوں کا ختنہ انہوں نے اپنے تجربے سے کیا۔ والدین ان پر جس اعتماد سے اپنے بچوں کو سونپتے تھے، وہ اعتماد برسوں کی دیانت، مہارت اور خدمت کا حاصل تھا۔

وہ سائیکل بھی کیا خوب تھی، جس پر بیٹھ کر انہوں نے زندگی کے کئی عشرے گزار دیے۔ کبھی کسی خوشی کی خبر لے کر، کبھی کسی غم میں شریک ہونے، کبھی دعوت پہنچانے، کبھی کسی کی خیریت سنانے، اور کبھی صرف کسی بزرگ کی حجامت بنانے۔ ان کی سائیکل کے پہیوں نے شاید اس گاؤں کی ہر گلی، ہر پگڈنڈی اور ہر کھیت کا راستہ دیکھا ہوگا۔

میرے والدِ محترم کے ساتھ ان کا بے حد محبت بھرا تعلق ہے، جبکہ میرے دادا مرحوم کے ساتھ ان کی رفاقت آج بھی گھر کی یادوں کا حصہ ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جب بھی وہ کسی دروازے پر پہنچتے ہیں تو لوگ انہیں مہمان نہیں سمجھتے بلکہ اپنے ہی خاندان کے بزرگ کی طرح عزت سے اندر بٹھاتے ہیں۔

آج کے بچے شاید کبھی سمجھ نہ سکیں کہ ایک وقت تھا جب گاؤں کی شناخت اس کے سکول، سڑک یا عمارتوں سے نہیں بلکہ ایسے کرداروں سے ہوتی تھی۔ نائی، لوہار، کمہار، ترکھان، درزی اور دوسرے ہنرمند صرف پیشہ ور نہیں بلکہ ہماری تہذیب اور ثقافت کے ستون تھے۔ چچا حاجی نواز نائی انہی ستونوں میں سے ایک ہیں، جو آج بھی خاموشی سے ہمیں اپنی جڑوں سے جوڑے ہوئے ہیں۔

وقت کا پہیہ آگے بڑھتا رہے گا، نئی نسلیں آئیں گی، نئے انداز اپنائے جائیں گے، مگر میری دعا ہے کہ ہماری دھرتی ایسے کرداروں سے کبھی خالی نہ ہو۔ کیونکہ جب یہ لوگ رخصت ہوتے ہیں تو صرف ایک انسان نہیں جاتا، اس کے ساتھ ایک پورا زمانہ، ایک تہذیب، ایک ثقافت اور دیہات کی مٹی کی وہ سوندھی خوشبو بھی رخصت ہو جاتی ہے جسے دوبارہ واپس لانا ممکن نہیں ہوتا۔

اللہ تعالیٰ چچا حاجی نواز نائی کو صحت، عافیت، درازیٔ عمر اور اپنی خاص رحمتوں سے نوازے، اور ہمیں اپنی تہذیب، اپنی ثقافت اور اپنی روایات کے ان اصل امینوں کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

✍️ تحریر: عمر دراز عطاری

Address

Gondal
Sargodha

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when FA Studio Gondal posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to FA Studio Gondal:

Shortcuts

Share