Apni_Awaz

Apni_Awaz یہ پیج پنجابی زبان، کلچر، تفریع کے لیے بنایا گیا ہے، دھ�

10/01/2026

جیل ،سکول، ہسپتال، پا گل خانہ اور بیرک ایک ہی جیسی نفسیاتی ساخت رکھتی ہے
مشیل فوکو

وقت کی تقسیم عام لوگوں اور کامیاب لوگوں میں ایک بنیادی فرق یہ بھی وہ وقت کو تقسیم کرنا یا ایسے کہا جائے انہیں یہ خوبی عط...
08/11/2025

وقت کی تقسیم

عام لوگوں اور کامیاب لوگوں میں ایک بنیادی فرق یہ بھی وہ وقت کو تقسیم کرنا یا ایسے کہا جائے انہیں یہ خوبی عطا ہوتی ۔
وقت بہت رشتے کھو دیتا بات گلہ شکایت سے تکرار اور نہ جانے کہاں آن ٹھہرتی سوال کرنے والا حق بجانب جواب دینے والا لاجواب ٹھہرتا ، لاجواب کیا دل کی تسلی کو لکھا ۔
وقت بچاتے زندگیاں کھوتے دیکھا کوئی کوئی غلط موڑ کوئی شارٹ کٹ اپنے ذہن سے فیصلہ قوانین کو نظر انداز ایک ریاست کے قوانین ایک زندگی کے دونوں کی نظر اندازی نُقصان کا تخمینہ نھی لگتا سب کھو جائے زندگی کیا ۔
وقت کی تقسیم کے مسئلہ میں اُلجھا ابھی تک سیکھنے کی درخواست ڈالی سکھانے والے رضامند نھی ہوئے موڑ زیادہ دور زندگی کی وفا پر ٹھہرا جب تک آن ملوں لگتا رفاقتیں لوگ دور نکل جائیں سر پٹ ڈوروں ایک مبہم سی امید پر چاہے سانس ٹوٹ جائے کوشش کروں گا ۔

بس کوئی ایسی کمی سارے سفر میں رہ گئی
جیسے کوئی چیز چلتے وقت گھر میں رہ گئی

کون یہ چلتا ہے میرے ساتھ بے جسم و صدا
چاپ یہ کس کی میری ہر رہگزر میں رہ گئی

گونجتے رہتے ہیں تنہائی میں بھی دیوار و در
کیا صدا اس نے مجھے دی تھی کہ گھر میں رہ گئی

آ رہی ہے اب بھی دروازے سے ان ہاتھوں کی مہک
جذب ہو کر جن کی ہر دستک ہی در میں رہ گئی

دل کھنچا رہتا ہے کیوں اس شہر کی جانب
جانے کیا شے اس کی گلیوں کے سفر میں رہ گئی

مارگلہ پر سورج تیس سال پہلے جب اس شہر میں قدم رکھے ایسے ہی نکلتا تھا آج چھت پر ایسا نھی لگا نزدیک لوگ ابھی ایک دن کی دوری پر مسافتیں زیادہ لیکن رشتہ مضبوط بندھے چھوڑ کر جاؤں گا واپسی میں آسانی رہے ورنہ دور گئے لوٹنے میں دیر کرتے وعدہ ایفا ہوتے چاندی اُتر آتی بالوں میں لہجہ برف مجھے یہ قبول نھیں ہر گز ہر گز نھی ۔

چوھدری فراز گوجر

‎پتوں کو چھوڑ دیتا ہے اکثر خزاں کے وقت‎خود غرضی ہی کچھ ایسی یہاں ہر شجر میں ہے
01/11/2025

‎پتوں کو چھوڑ دیتا ہے اکثر خزاں کے وقت
‎خود غرضی ہی کچھ ایسی یہاں ہر شجر میں ہے

دیس پر دیس میں پنجاب رؤف خالد  پنجاب کی ماؤں نے ہمیشہ ایسے بہادر بیٹے جنم دیے ہیں جن کی جرات، اصول پسندی اور دلیری کی خو...
21/09/2025

دیس پر دیس میں پنجاب

رؤف خالد
پنجاب کی ماؤں نے ہمیشہ ایسے بہادر بیٹے جنم دیے ہیں
جن کی جرات، اصول پسندی اور دلیری کی خوشبو آج بھی پنجاب کی مٹی سے محسوس کی جا سکتی ہے۔ یہی جوان اپنی جوانی کا قیمتی سرمایہ کبھی دیس کی سرحدوں پر وطن کے دفاع کے لیے وقف کرتے ہیں اور کبھی روزگار کی تلاش میں پردیس جا کر اپنی محنت کا لوہا منواتے ہیں۔

دنیا بھر کے اندرونی و بیرونی دفاعی اداروں میں آج بھی پنجابی جوان اپنی بہادری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے باعث نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ پنجاب کی ماؤں نے یا تو اپنے بیٹے پردیس کو دیے یا پھر دیس کے تحفظ کے لیے قربان کیے۔

تاہم، یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ پنجاب کے بہت سے نوجوان دشمنی، مکاری، حسد اور انتشار کی بھینٹ چڑھ گئے، جس سے معاشرتی ترقی اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچا۔

تخمینہ،،،،  کوئی آفت کوئی مُصیبت  کوئی قہر نازل ہو فرد واحد پر ، خاندان، قبیلہ قوم یا مُلک پر ہم نقصان کا تخمینہ لگاتے، ...
08/09/2025

تخمینہ،،،،

کوئی آفت کوئی مُصیبت کوئی قہر نازل ہو فرد واحد پر ، خاندان، قبیلہ قوم یا مُلک پر ہم نقصان کا تخمینہ لگاتے، ایک معیار ہوتا جیسے کتنی مالیت کا نقصان، سامان کیا کیا گیا، پھر اُسکے تدارک کا دیکھا جاتا پھر دوبارہ نہ ہونے کے بارے غور و فِکر سر جوڑے جاتے مُمالک اِن کاموں کے لیئے “تھنک ٹینک “ کی ایک اصطلاح ، وہ حل بتاتے ایک سوچ ہوتی اُس پر عمل کا طریقہ کار وضع کرتے ، ایک عام بات کرتا امریکہ میں یا ترقی یافتہ ممالک میں ، بڑی ہائی وے کے ساتھ ایک دیوار بنائی جاتی متصل آبادیاں روشنی سے ٹائروں کی چرچراہٹ سے لوگوں کے شب وروز مُتاثر نہ ہوں،
پاکستان اور انڈیا شدید سیلاب اور بارشوں کی زد میں بارشیں بھی زیادہ ہوئیں ، قلمکار، ماہرین موسم کی تبدیلی یا ایک اختراع، Climate change استعمال کرتے cloud brust بھی، مگر کافی عرصہ سے شور کِیا کیا گیا سوال یہ، جواب کا نہ کسی کے پاس وقت وقت کیا ہے نھیں دینا کیا۔
یہاں بھی آتے آفات قہر ٹوٹتے ابھی چند مہینہ پہلے کیلیفورنیا آگ کی لپٹ میں تھا ، حکومت نے ریاست نے اداروں نے کیا انتظام کیا ہو گا، کسی کو یاد نھیں، اتنی آفت میں چند لوگ بھی جان کی بازی ہار گئے۔
مگر ہم نے تو لوگوں کو مٹی کے بندھ کی جگہ انسانوں کے پشتے باندھے، ڈھور ڈنگروں کے، مکانوں کے اور جیسے جان بوجھ کر دریا بُرد کیا جاتا ہاتھ پاؤں باندھ کر بہایا جاتا ساتھ وزن باندھ کر، دیکھا جاتا تسلی کی جاتی ڈوب جائے لاش تیرنے نہ پائے۔
اب تو لکھتے بھی دل بھر آتا، غلطی سے لکھا گیا بھر آتا گھبراتا کہیں ناگوار گزرے کسی کو ہم دھرے جائیں، تاوان دیں کسی کا دکھ لکھنے پر، بیان بازی تک تو ٹھیک کہیں دل کی بات سوچ پر کسی دیوانی مقدمہ کا حصہ بنیں پشتیں بھگتیں،
میں یہاں خُوش، چاند راتیں حسیں شامیں کھلتے پھولوں، میں، اپنی مرضی کے موسم میں لکھنے میں، پسندیدہ لوگوں سے باتیں، بارش قوس قزح بنتی ، درختوں پر گرتی بوندیں دیکھوں، ملنگ بنا گھوموں، مگر لوگ آپ کو سوچ کو تبدیل کرتے، درختوں، پھولوں بادل بارش کے ساتھ انسانوں زندہ انسانوں سے محبت کرنا سکھاتے میں سیکھنے پر آمادگی کے ساتھ یہ اسرار و رموز سیکھ رہا، ابھی رنگوں کے نام باتیں سیکھنی اور بہت کچھ۔

سانوں سپ سمے دا ڈنگدا سانوں پل پل چڑھدا زہر
ساڈے اندر بیلے خوف دے ساڈے بیلے بنڑ گئے شہر
اساں شوہ غماں وچ ڈب گئے ساڈی رڑ گئ نو پتوار
ساڈے بولنڑ تے پابندیاں ساڈے سر لٹکے تلوار
اساں نیناں دے کھوہ گیڑ کے کیتی وتر دل دی پاؤں
اے بنجر رئ نمانڑی سانوں سجنڑ تیری سوہنہ
اساں اتوں شانت جاپدے ساڈے اندر لگی جنگ
سانوں چپ چپیتا ویکھ کے پئے آکھنڑ لوک ملنگ

تخمینہ مالی نھی صرف، سب بہا لے گیا نقصان کسی معیار سے ماپنے میں نھیں، بیان کرنے لکھنے میں نھیں، جان تو ایک کا دکھ برداشت نھیں یہاں اجاڑے پڑے بسنے بسانے میں وقت لگے گا اگر موسمیاتی تبدیلیاں زیادہ آئیں تو دہائیاں لگیں۔

چوھدری فراز گوجر

13/08/2025

ازادی — ہماری تاریخ، ہماری پہچان 🇵🇰

14 اگست 1947 کو برصغیر کے مسلمانوں کی دہائیوں کی قربانیوں، جدوجہد اور دعاؤں کا ثمر پاکستان کی صورت میں ملا۔ یہ صرف ایک تاریخ نہیں بلکہ ایک داستانِ حریت ہے، جو تحریکِ پاکستان کے ہر کردار کی قربانیوں سے لکھی گئی۔

قائداعظم محمد علی جناحؒ، علامہ اقبالؒ اور اُن ہزاروں بے نام مجاہدینِ آزادی نے ایک خواب دیکھا — ایک ایسی سرزمین جہاں مسلمان اپنی دینی، ثقافتی اور سماجی اقدار کے مطابق آزاد زندگی گزار سکیں۔ تحریکِ پاکستان کے دوران لاکھوں افراد نے اپنا گھر، زمین، کاروبار اور یہاں تک کہ اپنی جان تک قربان کر دی، مگر آزادی کا خواب ماند نہ پڑا۔

آزادی کی یہ نعمت ہمیں تحفے میں نہیں ملی، یہ خون اور قربانی کی قیمت پر حاصل ہوئی۔ آج ہم جس آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں، اس کے پیچھے نسلوں کی قربانی اور محنت ہے۔

آئیے اس یومِ آزادی پر ہم سب یہ عہد کریں کہ:
💚 اپنے ملک کی عزت و وقار کی حفاظت کریں گے۔
💚 اتحاد، ایمان اور قربانی کے جذبے کو زندہ رکھیں گے۔
💚 پاکستان کو ایک ترقی یافتہ، خوشحال اور مضبوط ریاست بنائیں گے۔

پاکستان زندہ باد — پائندہ باد!

#قربانی #14اگست

13/08/2025

🇵🇰 یومِ آزادی مبارک 🇵🇰

آج کا دن ہمیں اُن قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جو ہمارے بزرگوں نے ایک آزاد وطن کے لیے دیں۔
یہ سبز ہلالی پرچم صرف کپڑا نہیں، یہ ہماری پہچان، ہماری عزت اور ہماری آزادی کی علامت ہے۔

آئیے آج کے دن ہم یہ عہد کریں کہ ہم اپنی دھرتی کی حفاظت کریں گے، اس کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں گے، اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان چھوڑیں گے۔

💚 پاکستان زندہ باد!
💚 آزادی پائندہ باد!

#14اگست #پاکستان #آزادی

"دی سیکرٹ ہسٹری" (The Secret History) ایک مشہور انگریزی ناول ہے جو 1992 میں ڈونا ٹارٹ (Donna Tartt) نے لکھا۔ یہ ناول ایک...
31/07/2025

"دی سیکرٹ ہسٹری" (The Secret History) ایک مشہور انگریزی ناول ہے جو 1992 میں ڈونا ٹارٹ (Donna Tartt) نے لکھا۔ یہ ناول ایک نوجوان طالبعلم رچرڈ پاپن (Richard Papen) کی زبانی سنایا گیا ہے جو ایک پراسرار اور پرتعیش دُنیا میں داخل ہو جاتا ہے، جہاں علم، خوبصورتی، قتل اور اخلاقیات کی حدیں دھندلا جاتی ہیں۔
رچرڈ پاپن ایک عام سا نوجوان ہے جو کیلیفورنیا کے ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ ایک نئی زندگی کی تلاش میں ورمونٹ کی ایک ایلیٹ یونیورسٹی (Hampden College) میں آتا ہے۔ وہاں وہ قدیم یونانی زبان کا مطالعہ شروع کرتا ہے اور ایک منفرد، ذہین مگر پراسرار گروہ کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہ گروہ صرف پانچ طلبا پر مشتمل ہوتا ہے اور ان کا استاد، جولیان، ایک کرشماتی مگر الگ تھلگ شخص ہے۔

یہ طلبہ – ہنری، بونی، فرانسس، کیمل، اور چارلس – ظاہری طور پر نفیس اور ذہین دکھائی دیتے ہیں، لیکن اندر سے ان کی دُنیا میں گہرے راز اور اخلاقی زوال چھپا ہوتا ہے۔ وہ سب مل کر ایک "یونانی تقریب" (Bacchanal ritual) کرتے ہیں جس کا مقصد یونانی دیوتاؤں سے روحانی قرب حاصل کرنا ہوتا ہے، مگر یہ تجربہ ایک عام انسان (ایک کسان) کے قتل پر ختم ہوتا ہے۔

یہ قتل راز میں رکھا جاتا ہے، لیکن جب گروہ کا رکن بنی (Bunny) اس راز کو جان لیتا ہے اور باقیوں کو بلیک میل کرنا شروع کر دیتا ہے، تو باقی دوست اُسے قتل کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ رچرڈ بھی اس قتل میں شریک ہوتا ہے۔ اس کے بعد کہانی ایک نفسیاتی سفر میں تبدیل ہو جاتی ہے جہاں ہر کردار کا ضمیر، ذہنی توازن اور وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے۔

قتل کے بعد یہ گروہ آہستہ آہستہ بکھرنے لگتا ہے۔ شرم، خوف، جرم اور پچھتاوے کی کیفیت ہر ایک کو توڑ دیتی ہے۔ کچھ کردار نشے اور ذہنی بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں، کچھ خودکشی کے قریب پہنچ جاتے ہیں۔

یہ کہانی نہ صرف ایک قتل کی داستان ہے، بلکہ انسانی نفس، احساس جرم اور اخلاقی شکست کی گہرائیوں میں جھانکنے کا ایک موقع ہے۔ رچرڈ آخر میں بچ تو جاتا ہے، لیکن زندگی بھر وہ ایک جذباتی اور اخلاقی بوجھ کے ساتھ زندہ رہتا ہے۔

31/07/2025

ڈپٹی کمشنر مظفر گڑھ محترم جناب Usman TahirJappa صاحب
سر آپ کا پڑھا ہوا یہ کلام اور انداز بیاں ۔۔ کیا کہنے

جتنی بار بندا سنے اتنی بار فریش🥰

14/07/2025

📝 سرائیکی اور پنجابی: زبان کی تقسیم یا سیاسی چال؟

آج کل کچھ حلقے یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ سرائیکی زبان پنجابی سے الگ ایک مکمل زبان ہے۔ لیکن اگر ہم تاریخ، زبان، ادب، اور جغرافیہ کا بغور جائزہ لیں، تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ سرائیکی، دراصل پنجابی کی ایک مقامی بولی ہے — نہ کہ کوئی الگ زبان۔

✅ 1. لفظیات اور جملوں کی ساخت
سرگودھا، جھنگ، خوشاب، بھکر، ملتان، اور بہاولپور کے لوگ آج بھی ایک جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں جیسے:

"کدھے وینڑے پئے او؟"
"کِتھوں آئے او؟"
"کی حال وینڑے پئے او؟"
یہی الفاظ صرف لہجے (tone) میں مختلف ہیں، مفہوم اور جملے کی ساخت ایک جیسی ہے۔ کیا صرف لہجے کے فرق سے ایک نئی زبان بن جاتی ہے؟

📚 2. خدا بخشے خواجہ غلام فریدؒ
خواجہ غلام فریدؒ، جو جنوبی پنجاب کے سب سے بڑے صوفی شاعر مانے جاتے ہیں، اپنی زبان کو پنجابی ہی کہتے تھے۔ انہوں نے کبھی "سرائیکی" کو ایک الگ زبان کے طور پر پیش نہیں کیا۔ بلکہ وہ پنجاب اور پنجابی ثقافت کو فروغ دیتے رہے۔

🕰️ 3. سرائیکی نام کب آیا؟
"سرائیکی" کا لفظ 1960 کی دہائی میں سیاسی طور پر متعارف کروایا گیا، تاکہ جنوبی پنجاب کے لوگوں کو ایک الگ شناخت دی جا سکے۔ اس سے پہلے یہی زبانیں ملتانی، ریاستی، یا جھنگوی کہلاتی تھیں — اور ان سب کو پنجابی ہی تصور کیا جاتا تھا۔

🧠 4. زبان ہر چند میل بعد بدلتی ہے
یہ قدرتی بات ہے کہ ہر زبان ہر 4–5 میل پر تھوڑا بدلتی ہے — یہ لہجہ اور لہجوں کی خوبصورتی ہے، نہ کہ نئی زبان کی تخلیق۔ جیسے لاہور کی پنجابی اور گوجرانوالہ کی پنجابی مختلف لہجے میں بولی جاتی ہے، ویسے ہی ملتان یا سرگودھا کی پنجابی۔

🟥 5. زبان کا الگ ہونا یا سیاست کا ہتھکنڈہ؟
جب 1981 کی مردم شماری میں پہلی بار "سرائیکی" کو الگ زبان کے طور پر شامل کیا گیا، تو کئی ماہرین لسانیات (linguists) نے اس پر سوال اٹھایا۔ اس تبدیلی کا مقصد شاید پنجاب کی وحدت کو توڑنا اور جنوبی پنجاب میں سیاسی اثرورسوخ بنانا تھا۔

✅ نتیجہ
"سرائیکی" دراصل پنجابی کی ایک علاقائی بولی ہے، جیسے جھنگوی، شاہ پوری، یا پوٹھوہاری۔ اس کو الگ زبان کہنا لسانی نہیں بلکہ سیاسی فیصلہ ہے۔

📣 اختتامی جملہ
"زبانیں جوڑنے کا ذریعہ ہوتی ہیں، توڑنے کا نہیں۔ سرائیکی اور پنجابی کے بیچ لکیر کھینچنا ایک ثقافتی ورثے کی تقسیم ہے، اور اس تقسیم کا مقصد صرف سیاست ہے، حقیقت نہیں۔"

06/07/2025

جے کر دین علم وچ ہوندا فیر سر نیزے کیوں چڑھادے ھو

Address

Sargodha District
Sargodha
40100

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Apni_Awaz posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Apni_Awaz:

Share