20/08/2026
لو جی جھنگ تک سرائیکی آ گئی ہے،بس چینیوٹ اور ہھر سرگودھا بھی سرائیکی ہوجائے گا۔
جھنگ باسی ،لوک گیتوں کے فنکار اور شعراء خود کو پنجابی کہتے ہیں اور لاہور والے انہیں سرائیکی کہتے ہیں۔لاہور والوں کی بھی موجیں ہیں،لاہوڑی لہجے سے ہٹ کے جس نے پنجابی بولی وہ سرائیکی ہوا۔پراں مگروں لہو۔۔۔
معاملہ کچھ یوں ہوا کہ کسی پروگرام میں میزبان خاتون نے پنجابی سنگر مجاہد منصور ملنگی سے پوچھا کہ اس کی زبان کون سی ہے،ملنگی نے جواب دیا “پنجابی جھنگوچی”۔
اس پہ یوٹیوب کے تھم نیل سے زبانوں کا علم حاصل کرنے والے نو وارد دانشور ،سرائیکی مجاہدین اور لاہوری زبان دان نارض ہو گئے ہیں۔وہ کہتے ہیں مجاہد سرائیکی ہے۔یہ غالباً دنیا کی واحد شناخت ہے کہ ایک بشر کہتا ہے میں نہیں ہوں،عوام کہتے ہیں تم ہو۔جھنگ سارا خود کو پنجابی کہتا ہے،اور لاہور والے انہیں سرائیکی کہتے ہیں۔
پچھلے دِنوں وکی سنگھ سے امریکہ بات ہو رہی تھی۔اسے بتایا کہ مکھن جو شناخت تیرا ٹبر ناں نال لکھدا اودا ناں بدل گیا اے۔ وکی سنگھ ملتانی،کہندا میں پنجابی ملتانی بولداں جہڑی دادے دی زبان اے۔میں اوس نوں دسیا کہ او ونڈ مگروں ملتانی نہیں رہی،او سرائیکی ہو گئی اے۔اگو کہندا دُھر کھلا نا۔
ریاست کنفیوژ ہے،یا شاید سوچ سمجھ کے تقسیم در تقسیم پہ راضی رہتی ہے،باقی کسر یوٹیوب اور ٹک ٹاک کے تھم نیل نے نکال دی۔ ہر وہ لہجہ جو لاہوری نہیں،اسے سرائیکی لکھ دو۔
پنجابی کے جتنے لوک فنکار ہیں،ان کی ویڈیو اُٹھا دیکھیں،”سرائیکی گانا”۔ ابے لکھنے والے نے پنجابی لکھا ہے،گانے والے نے پنجابی گایا ہے،تمہیں کیا کیڑا کاٹتا ہے؟ٹک ٹاکیے دماغ میں شاید پنجابی کا مطلب دلجیت دوسانج اور کرن اوجلا ہی ہیں،ان کو کون بتائے عطا اللہ کی کیسٹوں پہ کل تک پنجابی ہی لکھا ہوتا تھا۔جھنگ کا مان طالب درد پنجابی گاتا تھا،الطاف بھروانا پنجابی لکھتا ہے۔
وارث شاہ نے ہیر وارث شاہ پنجابی میں لکھی اور قصہ جھنگ اور سرگودھا کا ہے۔اس علاقے کے لیے لفظ “وطن پنجاب” استعمال کیا۔اب کوئی جھنگ والوں کو آ کے انکی شناخت بتائے تو بتائے۔
بس جن کو نئی نئی شناخت کا بخار ہے وہ جھنگ تک واردات ڈال لیں،جھنگ جانیں اور اس کے کام۔چناب ٹاپ کے سرگودھے نہیں آنا۔ہم وارث شاہ کے وطن پنجاب کے پنجابی ہیں۔
واسلام