Salem News

Salem News Pakistan's NO.1 & Credible News Channel. Keeps you abreast with latest News of Pakistan & Introduce https://youtube.com/channel/UCcoZdP0su948YxnGWZwyvAg

04/12/2025

ماڈل ٹاون ڈویژن لاہور:تھانے میں ایکٹنگ ٹک ٹاک بنانے پر سب کو ڈسمس فرام سروس کردیا گیا۔۔۔۔

آج کل پنجاب میں ہیلمٹ گردی ہے لیکن اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر آپ اس مہم کو ٹریفک قوانین کی ستائیسویں ترمیم ہی سمجھیں۔ہیلم...
01/12/2025

آج کل پنجاب میں ہیلمٹ گردی ہے لیکن اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر آپ اس مہم کو ٹریفک قوانین کی ستائیسویں ترمیم ہی سمجھیں۔
ہیلمٹ پہنیں کہ ہیلمٹ بہت ضروری ہے
لیکن پاکستان میں ایک عرصہ تک سوزکی کی اجارہ داری یوں رہی کہ لوگوں کے پاس اس کے علاوہ چھوٹی گاڑی خریدنے کا آپشن ہی نہ تھا۔ یعنی کمپنی نے حکومت کیساتھ مل کر مافیہ کا کام اسطرح کیا کہ ملک میں کسی اور کو چھوٹی گاڑی بنانے یا امپورٹ کا پرمٹ ہی نہ دیا گیا۔ اب بھی عوام کے پاس ایسا سستا آپشن کم ہے کہ ایسی محفوظ گاڑی خریدسکے جس میں ائربیگز اور معیاری سٹف کیساتھ سیفٹی فیچرز زیادہ ہوں۔ ابھی بھی کیری ڈبوں جیسی نئی گاڑیاں بک رہی ہیں جن میں ساتھ والی سیٹ پر ازرائیل صاحب سفر کرتے ہیں۔
یقین مانیں ٹویوٹا کی جن گاڑیوں کی پاکستان میں ہاٹ سیل ہے یوکے میں وہ ایک بھی نہیں ، کیونکہ روڈ سیفٹی ریکوائرمنٹ پر پورا نہیں اترتیں۔ تو آپ عوام کی حفاظت کیلیے ایسی تمام گاڑیوں کی مینوفیکچرنگ پر پابندی کیوں نہیں لگا دیتے ؟
ہم مانتے ہیں ہیلمٹ بہت ضروری ہے
لیکن وطن عزیز میں ایسا ہی موٹرسائیکل کی ایجاد کیساتھ ہے۔ کچھ کمپنیاں تو نئے موٹرسائیکل بھی سائیڈ مرر کے بغیر بیچتی ہیں اور ٹائر اتنے پتلے، کہ سوار گھوڑے کے گیلے سے پھسل جائے۔ پائیدان اتنے یونیک ہیں کہ پچھلا سوار پائوں پہیے میں دے بیٹھتاہے، خاص کر بچے اور بیٹیاں۔ چادر، دوپٹے پہیمے میں آنے سے کتنی اموات ہو چکی ہیں لیکن کسی نے ڈیزائن نہیں بدلوایا۔ کیا سرکار اس ڈیزائن کو امپروو نہیں کروا سکتی؟
ہم مانتے ہیں ہیلمٹ بہت ضروری ہے
لیکن پیدل سڑک کراس کرنے کو اووربرج نہیں ہیں اگر ہیں تو اتنے اونچے کہ ہمارے 50 سال سے اوپر والے بزرگ ہفتہ پائے کھائیں تو شاید پھر بھی برج چڑھتے پائے کام نہ کریں۔ تو اگر شاپنگ مالز میں الیکٹرک لفٹس لگ سکتی ہیں تو سرکار کیوں نہیں ایسا کرتی؟ کہ ایسے اووربرج بنائے جہاں بزرگوں اور مفلوج شہریوں کیلیے لفٹ کا آپشن الگ ہو، بٹن دبایااور سڑک کراس۔ بیشتر سڑکیں ساٹھ ساٹھ فٹ چوڑی ہیں، دوطرفہ ہیں لیکن نقشہ میں کہیں بھی روڈ کراسنگ کیوں نہیں کھینچتے۔ اگر برج نہیں بنانے تو آپ مہذب ممالک کی طرح روڈ کراسنگ کیلئے ایسا لائٹ سسٹم انسٹال کیوں نہیں کرتے؟کہ جدھر سڑک کنارے کھڑا شہری بٹن دبائے اور ٹریفک لائٹ ریڈ ہو ہونے پرآسانی سے سڑک کراس کر لے۔
ایک دفعہ آندھی سے ایکسپریس وے فیصل آباد پر گٹ والا کے قریب شام کو درخت گر گیا جس سے آدھی سڑک بند ہو گئی۔ ہم ذرا ریلیکس بیٹھے تھے۔ دوست نے ہم سے کہا آصف سدھو! ذرا واپڈا سٹی چلیں۔ تو گزرتے، وہ گرا ہوا درخت دیکھا۔ واپس آکر جاب سے فارغ ہو کر دوبارہ اسی رستے گھر جا رہے تھے۔ تب اندھیرا ہو چکاتھا۔ جب درخت کے پاس پہنچے تو 1122 والے دو جوانوں کی میت پر سفید چادریں ڈال رہے تھے اور لوگ جمع تھے۔ کہتے اندھیرے میں درخت دکھائی نہ دینے سے حادثہ ہو گیا ہے۔
تو بتانا یہ تھا کہ پی ایچ اے اور کارپوریشنز کا کونسا کوئی ایمرجنسی نمبر اور رسپانس ٹیمیں ہیں۔ سال میں آٹھ مہینے گرم ہیں اور آندھیاں چلتی ہیں۔ بل بورڈز گرتے ہیں، درخت ٹوٹتے ہیں، ٹریفک سائن بورڈ سڑک پر اکھڑ جاتے ہیں اور مسافروں کے پاس رابطے کا کوئی ذریعہ ہی نہیں۔ جو گزرتے ہوئے ہیلپ لائن پر متعلقہ ادارے سے رابطہ کریں اور رسپانس ٹیمیں کٹر اور لوڈر وغیرہ کیساتھ موقع پرپہنچ جائیں۔
ہم مانتے ہیں ہیلمٹ بہت ضروری ہے
لیکن سڑکوں پر جگہ جگہ غیر قانونی سائیڈ کٹ ہیں کوئی کسی صاحب کے پٹرول پمپ کیلیے، تو کوئی کسی کے شاپنگ مال کیلیے رشوت لیکر بنانا پڑا، ہمیں ایک دفعہ اس پر رپورٹنگ کرنے کو سوجھی تو اکیلے کینال روڈ فیصل آباد پر 19 غیرقانونی سائیڈ کٹ تھے۔
وہ اب بھی ہیں اور آپ کہتے ہیں شہری رانگ سائیڈ سے نہ آئیں۔ کمال کرتے ہیں! آپ نے خود مسافروں کا رائیٹ سائیڈ پر چلنا مشکل بنا رکھا ہے۔
چالان اس وقت ہوتے ہیں جب ٹریفک کی مکمل سہولیات فراہم کر دی جائیں۔ روڈ مارکنگ، لائننگ، جدید ٹریفک لائٹس، پارکنگ سپاٹس، کہاں موٹرسائیکلز رکیں گی اور کس طرف ہیوی ٹریفک، محفوظ فٹ پاتھ، ریفلیکٹرز، سڑک کناروں پر کیٹ آئیز وغیرہ کل ملا کرکوئی 70 ذمہ داریاں ہونگی جو لازم ہیں اور آپ نے ایک بھی مکمل نہیں کی۔ اورمسجدوں میں اعلان کروا کر مہم چلاتے پھر رہے ہیں۔ آپ نے قانون پر عمل کروانے کیلیے مہم کا کوئی قانونی طریقہ کیوں نہیں اپنایا ؟ مندرجہ بالا کام شروع کرواتے تو مہم کتنی اچھی ہوتی اور روڈ یوزرز آگاہ ہو جاتے۔ لیکن آپ نے اس کام کیلئے مسجدوں میں اعلان کروانے کاعجیب اچھوتاآئیڈیا پسند کیا۔ ہم نے وہ اعلان سنا اور عش عش کر اٹھے کہ چیف ٹریفک آفیسر بھی تو بیوروکریٹ ہی ہوتے ہیں۔
ہیلمٹ بہت ضروری ہے
لیکن سڑک پر جدھر مرضی ہیوی ٹرالر، ٹرک اور ڈمپر کھڑے ہوتے ہیں گاڑی ان میں ٹکراتی ہے اور پوری فیملی اللہ کی سپرد ہو جاتی ہے۔ ہر سال سردیوں اور دھند میں ایسے کتنے حادثات ہو رہے ہیں تو یہاں آپ کی ڈیوٹی صرف اتنا کہ دینا ہے کہ بیک پر ریفلیکٹر لگائیں؟
آپ کی سرکاری مشینری ادھر پہنچے اور آدھ گھنٹے میں پارک شدہ گاڑی اٹھا کر سڑک سے نیچے رکھے، اس کے گرد ریفلیکٹر پٹی لگائے اور جب تک سڑک کلئیر نہ ہو سرکاری گاڑی کے اوپر وارننگ لائٹس آن رہیں، کونز لگا کر متبادل راستہ بنائیں۔
ایسے حادثہ میں جانحق ہونیوالوں کا قاتل کون ہے؟
مس مریم! ایک آپ ہی تو پڑھے لکھے ہیں۔
ہم مانتے ہیں ہیلمٹ بہت ضروری ہے
لیکن کیا زندہ رہنے کو صرف ہیلمٹ ہی ضروری ہے؟؟

منقول

*عائشہ ثنا کی گمشدگی، حقیقت سامنے آگئی*وہ 5 سال سے زائد عرصے سے منظرعام سے غائب ہیںپی ٹی وی کے مارننگ شو کی میزبانی کے ب...
14/08/2025

*عائشہ ثنا کی گمشدگی، حقیقت سامنے آگئی*
وہ 5 سال سے زائد عرصے سے منظرعام سے غائب ہیں

پی ٹی وی کے مارننگ شو کی میزبانی کے باعث شہرت پانے والی ادا کارہ عائشہ ثنا ایک وقت میں خوبصورتی، وقار اور دلکش انداز کی پہچان سمجھی جاتی تھیں۔

انہوں نے کئی ٹی وی شوز اور لائیو ایونٹس کی میزبانی کی اور لوگ ان کی پیشکش کے انداز کو بے حد پسند کرتے تھے۔

کچھ سالوں پہلے عائشہ ثنا کا ایک ویڈیو منظرِ عام پر آیا جس میں وہ ”برائٹ کریں اسے“ کہتے ہوئے کیمرہ ٹیم پر چیخ رہی تھیں۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور یہ جملہ ان کی پہچان بن گیا۔ لوگ انہیں دیکھتے ہی یہی جملہ دہراتے تھے اس جملے کا انکی نجی زندگی پر شدید اثر پڑاتھا۔

حال ہی میں اداکارائیں حمیرا اصغر اور عائشہ خان کی المناک اموات کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین عائشہ ثنا کی گمشدگی پر بھی شبہ ظاہر کرنے لگےکہ وہ بھی اس دنیا سے رخصت ہوچکی ہیں۔ تاہم اب اس سلسلے میں ایک اہم انکشاف سامنے آیا ہے۔

عائشہ ثنا کے قریبی دوست ڈاکٹر عمر عادل نے انکشاف کیا ہے کہ وہ زندہ ہیں، لیکن کسی کو معلوم نہیں کہ وہ اس وقت کہاں ہیں۔

ان کے مطابق 2020 کے آس پاس عائشہ نے ایک سرمایہ کاری کی جس میں انہیں بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ وہ ایک بڑی رقم کی مقروض ہو گئیں اور قرض اتارنے کے لیے اپنے دوستوں سے پیسے لینا شروع کیے جن میں عمر عادل بذات خود اور مسرت مصباح شامل ہیں۔

تاہم کچھ وقت بعد عائشہ ثنا اچانک لاپتہ ہو گئیں اور اپنے دوستوں کی رقم تاحال واپس نہیں کی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ وہ مجموعی طور پر تقریباً 4 کروڑ روپے کی مقروض ہیں۔

ڈاکٹر عمر کا کہنا ہے کہ عائشہ کے دو بیٹے ہیں جو ان کے ساتھ ہیں۔ ان کی زندگی کو خطرات لاحق تھے، اسی لیے انہوں نے کبھی ان کے خلاف کوئی بات نہیں کی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ عائشہ ایک مضبوط مالی بیک گراونڈ رکھتی ہیں لیکن ان کے گھر والوں نے بھی اس مشکل وقت میں ان کی مدد نہیں کی۔عائشہ اکثر عمر عادل سے کہتی تھیں کہ کہ ان کی ایسے شخص سے شادی کروا دی جائے جو ان کا قرض ادا کر سکے۔

عائشہ ثنا اپنے مارننگ شو کے لیے پی ٹی وی سے ماہانہ 30 لاکھ روپے تنخواہ وصول کرتی تھیں، جبکہ پرائیویٹ اور کارپوریٹ ایونٹس سے بھی اچھی خاصی آمدنی حاصل کرتی تھیں۔ جب وہ لاپتہ ہوئیں، اس مہینے انہوں نے تقریباً 25 لاکھ روپے کمائے تھے، لیکن اس کے باوجود وہ مالی بحران اور قرضوں کی دلدل میں پھنس چکی تھیں۔
بشکریہ آئی بی سی اردو

14/08/2025
جناب آئ جی موٹر وے پولیس پاکستان ۔جناب عالی۔ گزارش ہے کہ میں اپنی کار رجسٹریشن نمبر AZF358 پر سوار اپنی بیوی اور دو بیٹی...
20/07/2025

جناب آئ جی موٹر وے پولیس پاکستان ۔
جناب عالی۔ گزارش ہے کہ میں اپنی کار رجسٹریشن نمبر AZF358 پر سوار اپنی بیوی اور دو بیٹیوں کے ساتھ 7.30pm پر کوٹ مومن انٹر چینج سے فیصل آباد کے لیے موٹر وے پر سفر کے لیے داخل ھوا،روانہ ھوا دوران سفر پنڈی بھٹیاں انٹر چینج سے صرف ایک کلومیٹر پہلے میں اپنی ایوریج سپیڈ سے درمیانی لائن پر گاڑی چلا رہا تھا یہ تصویر والی بس نے تقریباً 120 تا 130 کی تیز رفتاری سے مجھے فلش لائٹس مار کر کراس کیا اور اگلے لمحے چند سیکنڈ میں پنڈی بھٹیاں انٹرچینج موٹر وے کے اوپر سواری اتارتے ہوئے ، دس بارہ سیکنڈ کے اندر یہ بس والا دوبارہ میرے پیچھے درمیانی لائن میں آیا اور اس نے مجھے اپنی فلش لائٹس سے میری گاڑی کو پیچھے سے ہٹ کرنے کی کوشش کی اور خوف زدہ و پریشان کیا جبکہ میں اسوقت درمیانی لائن میں 115 تا 120 کی رفتار سے ڈرائیو کر رہا تھا وِد اِن سیکنڈ جونہی بائیں سائیڈ لائن خالی آئ اس بس ڈرائیور نے مجھے فل سپیڈ کراس کرتے ہوئے مجھے فل سائیڈ ماری اور میں اپنے آپ کو بچاتے ہوئے آدھا فاسٹ لائن کراسنگ میں کراس کر گیا اور پیچھے سے فاسٹ لائن کراسنگ سے لینڈ کروزر نے مجھے ہارن مارتے ھوئے تیزی سے کراس کیا اسوقت میری گاڑی اور لینڈ کروزر گاڑی آپس میں سائیڈ لگنے سے خطرناک حادثے کا شیکار ھونے والے تھے اسی دوران میری ہنستی مسکراتی پیجھے بیٹھی بیٹیاں اور آگے میں میری بیوی بال بال گاڑیوں کے ٹکرانے سے خوف زدہ ہو گئے مجھے اسوقت احساس ھوگیا کہ یہ انداز بس ڈرائیونگ ایک پٹھان کا ھو سکتا ہے میں نے سوچا کہ موٹر وے پولیس کو ہیلپ کال کروں اس دوران یہ بس ڈرائیور مجھ سے کافی آگے نکل گیا اور فیصل آباد موٹر وے پر ٹرن کر گیا تو میں نے بھی فیصل آباد جانا تھا مجھے پتہ تھا کہ یہ چند کلومیٹر آگے پرانے ٹول پلازہ پر موٹر وے پولیس پکٹ پر رُکے گا تو یہ بس وہاں رُکی ہوئی تھی ِاسوقت 8.06pm پر میں بھی وہاں پہنچ گیا اور میں نے اس بس کے آگے اپنی کار روک کر وہاں سائیڈ پر تشریف فرما موٹر وے پولیس والوں کو اس بس ڈرائیور کی حرکات کا بتایا تو وہاں پتہ چلا یہ بس پشاور سے آرہی ہے اور ڈرائیور پٹھان ہی ہے موٹر وے پولیس نے ڈرائیور کو بس سے نیچے بلایا کہ اس طرح کیوں کیا تو اس کا کہنہ تھا کہ مجھے کار نے رستہ نہیں دیا مجھے رستہ چاہیے تھا میری سپیڈ خراب ھوتی ہے میں اس وقت تھوڑا غصہ میں تھا کہ موٹر وے پولیس پر کہ وہ اس کو جرمانہ کرے کوئ سزا دے کیونکہ اس کی گھٹیا انداز ڈرائیونگ کی وجہ سے میں اپنی ساری فیملی سمیت حادثہ کا شکار ہونے لگا تھا اور یہ انداز بدمعاش طرز عمل میں بھی شمار ھوتا ہے وہاں ایک نوجوان ٹو سٹار اور دو اور اہلکار موٹر وے پولیس اہلکار ماجود تھے اس دوران چار سیکنڈ کی ویڈیو میرے بچوں نے اپنی کار سے بیٹھ کے بنائ جس میں،میں اور سفید شرٹ والا بدمعاش پٹھان بس ڈرائیور کھڑے ہوئے ہیں قانون صاحبان نے ہمیں کوئ رسپانس نہ دیا الٹا مجھے کہا کہ آپ غصے سے کیوں بول رہے ہیں آپ کے بچے ویڈیو کیوں بنا رہے ہیں آپ کا پروفیشن کیا ہے آپ کیا چاہتے ہیں کہ کیا ھم ان پر ایف آئ آر کردیں تالی دونوں ھاتھ سے بجتی ہے کچھ آپ کا بھی قصور ھوگا ،اس دوران کرپٹ رویہ قانون دیکھ کر میں نے کہا کہ آپ ان کو پیار کریں ان کو سلوٹ ماریں مجھ پر ایف آئی آر کردیں مجھے میری شکایت پر میں فری موٹر وے استعمال کرتا ھوں کیا۔میں جارہا ھوں انہوں نے کہا جاؤ جاؤ۔۔۔۔
مقصد کہنے کا یہ بھی ہے کہ موٹر وے پولیس کا طرز عمل عام تھانہ کلچر پولیس جیسا ہی ہے اور ان کا روزمرہ کی ٹرانسپورٹ سے تعلق جانبداری زیادہ خوش آئند ہے، سیلف پرسن سواری سے بِنا مطلب رویہ بھی بےرُخی والا کر لیتے ہیں جبکہ یہ اکثر ٹول پلازہ کے منہ پر کھڑے لفٹ کے لیے کار والوں کو بڑے ادب سے سلام کرتے ہیں کہتے ہیں سر کہاں تک جارہے ہیں ہمیں تو وہاں تک لیتے جائیں اُسوقت انہوں نے اپنا بدتمیز رویہ کیسے خوبصورت لبادہ کے ساتھ چھپایا ھوتا ہے،
اسوقت لاہور ٹو پشاور موٹر وے تین وے پر خاص طور پر کچھ اس طرح کی بس ڈرائیوروں نے انتہائی خطرناک ترین انداز میں اپنی بس کو چلانا معمول بنایا ھوا ہے،تیز رفتاری جلد بازی آگے نکلنے کے چکر میں اپنی لائن سے دوسری لائن میں ڈرائیو کررہے ھوتے ہیں اگر دوسری درمیانی فاسٹ لائن میں گاڑی چل رہی ھو تو پھر یہ بدمعاش ڈرائیور اپنی اتنی بڑی بس کو تیسری فاسٹ کراسنگ ڈیوائڈر کے ساتھ والی لائن میں ڈال لیتے ہیں شاید کیونکہ موٹر وے پولیس پیٹرولنگ تعلق دار مہربان ھوتی ہے روز مرہ کی وجہ سے۔۔
میں نے سوچا بڑھتے خطرناک موٹر وے حادثات اور لاپروا غیر زمہ دار موٹر وے پولیس اہلکاروں کے رویوں پر شاباش کی اطلاع لکھ دوں کیونکہ یہ ملک پہلے ہی کرپشن جزا سزا فرائض انجام دہی نہ ھونے کی وجہ سے ہی تباہ و برباد ھورہا ہے۔ بس یہ ملک اشرافیہ کا یا بدمعاشوں کا ہے
رائے طارق بشیر بھٹی فیصل آباد
بوقت 10.55pm
بتاریخ 18,07,25

Address

Salem Interchange M2
Sargodha
38000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Salem News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Salem News:

Share