20/07/2025
جناب آئ جی موٹر وے پولیس پاکستان ۔
جناب عالی۔ گزارش ہے کہ میں اپنی کار رجسٹریشن نمبر AZF358 پر سوار اپنی بیوی اور دو بیٹیوں کے ساتھ 7.30pm پر کوٹ مومن انٹر چینج سے فیصل آباد کے لیے موٹر وے پر سفر کے لیے داخل ھوا،روانہ ھوا دوران سفر پنڈی بھٹیاں انٹر چینج سے صرف ایک کلومیٹر پہلے میں اپنی ایوریج سپیڈ سے درمیانی لائن پر گاڑی چلا رہا تھا یہ تصویر والی بس نے تقریباً 120 تا 130 کی تیز رفتاری سے مجھے فلش لائٹس مار کر کراس کیا اور اگلے لمحے چند سیکنڈ میں پنڈی بھٹیاں انٹرچینج موٹر وے کے اوپر سواری اتارتے ہوئے ، دس بارہ سیکنڈ کے اندر یہ بس والا دوبارہ میرے پیچھے درمیانی لائن میں آیا اور اس نے مجھے اپنی فلش لائٹس سے میری گاڑی کو پیچھے سے ہٹ کرنے کی کوشش کی اور خوف زدہ و پریشان کیا جبکہ میں اسوقت درمیانی لائن میں 115 تا 120 کی رفتار سے ڈرائیو کر رہا تھا وِد اِن سیکنڈ جونہی بائیں سائیڈ لائن خالی آئ اس بس ڈرائیور نے مجھے فل سپیڈ کراس کرتے ہوئے مجھے فل سائیڈ ماری اور میں اپنے آپ کو بچاتے ہوئے آدھا فاسٹ لائن کراسنگ میں کراس کر گیا اور پیچھے سے فاسٹ لائن کراسنگ سے لینڈ کروزر نے مجھے ہارن مارتے ھوئے تیزی سے کراس کیا اسوقت میری گاڑی اور لینڈ کروزر گاڑی آپس میں سائیڈ لگنے سے خطرناک حادثے کا شیکار ھونے والے تھے اسی دوران میری ہنستی مسکراتی پیجھے بیٹھی بیٹیاں اور آگے میں میری بیوی بال بال گاڑیوں کے ٹکرانے سے خوف زدہ ہو گئے مجھے اسوقت احساس ھوگیا کہ یہ انداز بس ڈرائیونگ ایک پٹھان کا ھو سکتا ہے میں نے سوچا کہ موٹر وے پولیس کو ہیلپ کال کروں اس دوران یہ بس ڈرائیور مجھ سے کافی آگے نکل گیا اور فیصل آباد موٹر وے پر ٹرن کر گیا تو میں نے بھی فیصل آباد جانا تھا مجھے پتہ تھا کہ یہ چند کلومیٹر آگے پرانے ٹول پلازہ پر موٹر وے پولیس پکٹ پر رُکے گا تو یہ بس وہاں رُکی ہوئی تھی ِاسوقت 8.06pm پر میں بھی وہاں پہنچ گیا اور میں نے اس بس کے آگے اپنی کار روک کر وہاں سائیڈ پر تشریف فرما موٹر وے پولیس والوں کو اس بس ڈرائیور کی حرکات کا بتایا تو وہاں پتہ چلا یہ بس پشاور سے آرہی ہے اور ڈرائیور پٹھان ہی ہے موٹر وے پولیس نے ڈرائیور کو بس سے نیچے بلایا کہ اس طرح کیوں کیا تو اس کا کہنہ تھا کہ مجھے کار نے رستہ نہیں دیا مجھے رستہ چاہیے تھا میری سپیڈ خراب ھوتی ہے میں اس وقت تھوڑا غصہ میں تھا کہ موٹر وے پولیس پر کہ وہ اس کو جرمانہ کرے کوئ سزا دے کیونکہ اس کی گھٹیا انداز ڈرائیونگ کی وجہ سے میں اپنی ساری فیملی سمیت حادثہ کا شکار ہونے لگا تھا اور یہ انداز بدمعاش طرز عمل میں بھی شمار ھوتا ہے وہاں ایک نوجوان ٹو سٹار اور دو اور اہلکار موٹر وے پولیس اہلکار ماجود تھے اس دوران چار سیکنڈ کی ویڈیو میرے بچوں نے اپنی کار سے بیٹھ کے بنائ جس میں،میں اور سفید شرٹ والا بدمعاش پٹھان بس ڈرائیور کھڑے ہوئے ہیں قانون صاحبان نے ہمیں کوئ رسپانس نہ دیا الٹا مجھے کہا کہ آپ غصے سے کیوں بول رہے ہیں آپ کے بچے ویڈیو کیوں بنا رہے ہیں آپ کا پروفیشن کیا ہے آپ کیا چاہتے ہیں کہ کیا ھم ان پر ایف آئ آر کردیں تالی دونوں ھاتھ سے بجتی ہے کچھ آپ کا بھی قصور ھوگا ،اس دوران کرپٹ رویہ قانون دیکھ کر میں نے کہا کہ آپ ان کو پیار کریں ان کو سلوٹ ماریں مجھ پر ایف آئی آر کردیں مجھے میری شکایت پر میں فری موٹر وے استعمال کرتا ھوں کیا۔میں جارہا ھوں انہوں نے کہا جاؤ جاؤ۔۔۔۔
مقصد کہنے کا یہ بھی ہے کہ موٹر وے پولیس کا طرز عمل عام تھانہ کلچر پولیس جیسا ہی ہے اور ان کا روزمرہ کی ٹرانسپورٹ سے تعلق جانبداری زیادہ خوش آئند ہے، سیلف پرسن سواری سے بِنا مطلب رویہ بھی بےرُخی والا کر لیتے ہیں جبکہ یہ اکثر ٹول پلازہ کے منہ پر کھڑے لفٹ کے لیے کار والوں کو بڑے ادب سے سلام کرتے ہیں کہتے ہیں سر کہاں تک جارہے ہیں ہمیں تو وہاں تک لیتے جائیں اُسوقت انہوں نے اپنا بدتمیز رویہ کیسے خوبصورت لبادہ کے ساتھ چھپایا ھوتا ہے،
اسوقت لاہور ٹو پشاور موٹر وے تین وے پر خاص طور پر کچھ اس طرح کی بس ڈرائیوروں نے انتہائی خطرناک ترین انداز میں اپنی بس کو چلانا معمول بنایا ھوا ہے،تیز رفتاری جلد بازی آگے نکلنے کے چکر میں اپنی لائن سے دوسری لائن میں ڈرائیو کررہے ھوتے ہیں اگر دوسری درمیانی فاسٹ لائن میں گاڑی چل رہی ھو تو پھر یہ بدمعاش ڈرائیور اپنی اتنی بڑی بس کو تیسری فاسٹ کراسنگ ڈیوائڈر کے ساتھ والی لائن میں ڈال لیتے ہیں شاید کیونکہ موٹر وے پولیس پیٹرولنگ تعلق دار مہربان ھوتی ہے روز مرہ کی وجہ سے۔۔
میں نے سوچا بڑھتے خطرناک موٹر وے حادثات اور لاپروا غیر زمہ دار موٹر وے پولیس اہلکاروں کے رویوں پر شاباش کی اطلاع لکھ دوں کیونکہ یہ ملک پہلے ہی کرپشن جزا سزا فرائض انجام دہی نہ ھونے کی وجہ سے ہی تباہ و برباد ھورہا ہے۔ بس یہ ملک اشرافیہ کا یا بدمعاشوں کا ہے
رائے طارق بشیر بھٹی فیصل آباد
بوقت 10.55pm
بتاریخ 18,07,25