Apna Sargodha

Apna Sargodha Your hub for Sargodha’s culture, updates & stories. A project of The Sargodha Voice. 🦅🍊

25/03/2026

حکومت توانائی کی بچت کے لیے لاک ڈاؤن لگائے یا جو مرضی کرے
لیکن خدا کے لیے تعلیم کا نقصان نہ کرے۔۔

24/03/2026

تازہ ترین 🚨
وزارت خزانہ میں ہونے والی میٹنگ میں فیول راشننگ کو جنگ رکنے (عارضی طور پر ) اور بدلتے ہوئے ڈائنمکس کے پیش نظر فی الحال موخر کر دیا گیا!

24/03/2026

بریکنگ 🚨
وزارت خزانہ میں اس وقت ایک اہم میٹنگ جاری ھے جس میں فیول راشننگ یعنی محدود پٹرول استعمال کرنے کے حوالے سے ڈسکشن کا امکان ھے۔

سرگودھا کے دیہاتوں کی ایک خوبصورت اور روایتی جھلک! 🌾جب شوگر ملیں کرشنگ سیزن جلد ختم کرنے لگیں اور کسان کو اس کی محنت کا ...
24/03/2026

سرگودھا کے دیہاتوں کی ایک خوبصورت اور روایتی جھلک! 🌾

جب شوگر ملیں کرشنگ سیزن جلد ختم کرنے لگیں اور کسان کو اس کی محنت کا پورا صلہ نہ ملے، تو ہمارے محنتی زمیندار اپنی کھڑی فصل کو کوڑیوں کے بھاؤ بکنے اور ضائع ہونے سے بچانے کے لیے اپنے روایتی طریقوں کی طرف لوٹ آتے ہیں۔

ان تصاویر میں گاؤں کے مقامی بیلنے پر تازہ اور خالص گڑ تیار کیا جا رہا ہے۔ کڑاہوں میں ابلتا ہوا گنے کا رس اور اس سے بننے والی میٹھی پنڈیاں نہ صرف ہماری ثقافت کا حصہ ہیں بلکہ کسانوں کی ان تھک محنت اور جدوجہد کا ثبوت بھی ہیں۔ ایک طرف ملوں کی بندش کی پریشانی ہے تو دوسری طرف دیسی گڑ کی وہ سوندھی خوشبو ہے جو پورے گاؤں کو مہکا دیتی ہے۔

کیا آپ نے اس سیزن گاؤں جا کر بیلنے کا تازہ اور گرم گڑ کھایا ہے؟ کمنٹس میں اپنی یادیں ضرور شیئر کریں! 👇

23/03/2026

پنجاب بھر میں سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کردیا گیا ہے۔
پنجاب بھر میں مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور دکانیں رات 10 بجے بند کرنے کا فیصلہ۔

عالمی سیاست کا ہماری مقامی زراعت اور معیشت پر کیا اثر پڑنے والا ہے؟ 🌍🌾کیا مشرق وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی ہماری فصلوں کی بوا...
23/03/2026

عالمی سیاست کا ہماری مقامی زراعت اور معیشت پر کیا اثر پڑنے والا ہے؟ 🌍🌾

کیا مشرق وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی ہماری فصلوں کی بوائی اور کھاد کی فراہمی کو متاثر کر سکتی ہے؟ معروف عالمی تجزیہ کار شناکا پریرا کا موجودہ صورتحال پر ایک چشم کشا تجزیہ جس میں بتایا گیا ہے کہ کیسے امریکہ، ایران اور حوثیوں کے درمیان جاری حالیہ تناؤ کی وجہ سے دنیا کا 30 فیصد تیل اور عالمی سپلائی چین شدید خطرے میں ہے۔
یہ صرف بین الاقوامی خبر نہیں، بلکہ اس کا براہ راست اثر ہمارے کسانوں اور مارکیٹ پر بھی پڑ سکتا ہے۔ تفصیلی تجزیہ نیچے پڑھیں:
👇

صدر ٹرمپ نے کہا "نتیجہ خیز بات چیت۔" ایران نے کہا "کوئی براہ راست یا بالواسطہ رابطہ نہیں ہوا۔" ان میں سے ایک جھوٹ بول رہا ہے۔ یا دونوں سچ کا وہ رخ پیش کر رہے ہیں جسے دوسرا تسلیم کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
ٹرمپ کے اس اعلان کے چند گھنٹوں کے اندر کہ وہ "بہت اچھی اور نتیجہ خیز بات چیت" کی بنیاد پر پاور پلانٹس پر حملے پانچ دن کے لیے ملتوی کر رہے ہیں، ایران نے تین الگ الگ ذرائع سے ہم آہنگ تردید جاری کر دی۔ اول، سرکاری میڈیا نے واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی رابطے کی تردید کی۔ دوم، وزارت خارجہ نے باضابطہ طور پر کہا کہ کوئی مذاکرات نہیں ہوئے اور ٹرمپ پر الزام لگایا کہ وہ اپنے فوجی منصوبوں کے لیے "وقت حاصل کر رہے ہیں" اور توانائی کی قیمتیں کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سوم، ایک ایرانی رکن پارلیمنٹ نے اعلان کیا کہ "جنگ جاری ہے" اور ٹرمپ کے اس وقفے کو "امریکہ کی ایک اور شکست" قرار دیا۔
ان تینوں تردیدی بیانات کو ایک مربوط حکمت عملی کے طور پر دیکھیں، محض بیانات کے طور پر نہیں۔ ایران عوامی سطح پر اس ملک کے ساتھ بات چیت کا اعتراف نہیں کر سکتا جو اس پر بمباری کر رہا ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای 23 دن سے منظر عام پر نہیں آئے۔ ان کے زندہ ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔ ایران کے اندر کا سیاسی ماحول، جیسا کہ رپورٹس میں واضح کیا گیا ہے، "موجودہ صورتحال کو مذاکرات یا سمجھوتے کا رنگ دینے کے سخت خلاف ہے۔" واشنگٹن کے ساتھ رابطے میں نظر آنے والا کوئی بھی ایرانی اہلکار سیاسی طور پر تباہ ہو جائے گا۔ یہ تردیدیں رابطے کے نہ ہونے کا ثبوت نہیں ہیں۔ یہ ایک ایسے سیاسی نظام کا ثبوت ہیں جو رابطے کے تاثر کے ساتھ زندہ نہیں رہ سکتا۔
اب ان شواہد پر نظر ڈالیں جو رابطے کی تصدیق کرتے ہیں۔ ایکسیوس (Axios) نے پچھلے ہفتے رپورٹ دی کہ ایرانی وزیر خارجہ عراقچی اور امریکی ایلچی اسٹیو وٹکاف کے درمیان ٹیکسٹ پیغامات کا تبادلہ ہوا۔ اشاعت کے بعد عراقچی نے اس کی تردید کی۔ امریکی اہلکار نے دعویٰ کیا کہ رابطے کا آغاز عراقچی نے کیا تھا۔ عراقچی نے کہا کہ "مسٹر وٹکاف کے ساتھ ان کا آخری رابطہ ان کے باس (ٹرمپ) کے ایک اور غیر قانونی فوجی حملے کے ذریعے سفارت کاری کو قتل کرنے کے فیصلے سے پہلے ہوا تھا۔" دونوں فریق اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ایک چینل موجود تھا۔ ان کا اختلاف صرف اس بات پر ہے کہ اسے کس نے اور کب استعمال کیا۔ سی این این نے 4 مارچ کو رپورٹ دی کہ ایرانی انٹیلی جنس نے ایک تیسرے ملک کے ذریعے سی آئی اے کو پیغام بھیجا کہ وہ جنگ کے خاتمے پر مذاکرات شروع کرنے کے لیے تیار ہو سکتی ہے۔ چینل حقیقی ہے۔ عوامی تردید محض ایک ڈرامہ ہے۔
لیکن بات چیت کے حقیقی ہونے یا نہ ہونے سے زیادہ اہم بات یہ ہے۔
ٹرمپ نے بات چیت کی وجہ سے وقفہ نہیں لیا۔ ٹرمپ نے اس لیے وقفہ لیا کیونکہ چھ بڑے عوامل ان کی میز پر جمع ہو چکے تھے اور ان میں سے کوئی بھی 48 گھنٹے انتظار نہیں کر سکتا تھا۔ 200 ارب ڈالر کا جنگی بل۔ ایران انرجی شاک کی وجہ سے فیڈرل ریزرو کا مہنگائی کی شرح کو 2.7 فیصد تک لے جانا۔ آبنائے ہرمز پر بائیس اتحادی ممالک کی کوآرڈینیشن جبکہ حالتِ جنگ میں وہاں ایک بھی جنگی جہاز موجود نہیں۔ تائیوان سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کمپنی (TSMC) کے پاس ایل این جی (LNG) کے ذخائر کا صرف چند دنوں تک محدود رہ جانا جبکہ ہیلیم گیس آبنائے کے پیچھے پھنسی ہوئی ہے۔ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (IEA) کا اسے 1970 کی دہائی کے بعد توانائی کا بدترین بحران قرار دینا جس میں نو ممالک میں 40 اثاثے تباہ ہو چکے ہیں۔ اور مڈٹرم الیکشن کے سال میں 66 فیصد امریکیوں کا اسے ایک غیر ضروری جنگ قرار دینا جبکہ پیٹرول کی قیمت میں 93 سینٹ فی گیلن کا اضافہ ہو چکا ہے۔
ایران کی تردید ان چھ عوامل میں کوئی تبدیلی نہیں لاتی۔ عراقچی نے وٹکاف کو ٹیکسٹ کیا ہو یا نہیں، 200 ارب ڈالر کا بل آ چکا ہے۔ عمان کے ذریعے بیک چینل موجود ہو یا نہیں، 2.7 فیصد مہنگائی کی شرح ریکارڈ ہو چکی ہے۔ ان حقائق اور اعداد و شمار نے اس وقفے پر مجبور کیا ہے۔ "نتیجہ خیز بات چیت" تو محض ایک بہانہ ہے جو ایک صدر کو "تباہ کر دینے" کی دھمکی سے پیچھے ہٹنے کا موقع دیتا ہے، وہ بھی "پسپائی" کا لفظ کہے بغیر۔
اس اعلان پر مارکیٹس میں تیزی آ گئی۔ گفٹ نفٹی (Gift Nifty) میں 1,000 پوائنٹس کا اچھال آیا۔ تیل کی قیمتوں میں کمی آئی۔ لیکن ایران کی تردید اب حقیقی وقت میں اس تیزی کی بنیادوں کو منظم طریقے سے گرا رہی ہے۔ وقفہ حقیقی ہے۔ ہو سکتا ہے مذاکرات نہ ہوں۔ مگر حالات کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ آبنائے اب بھی بند ہے۔ کھاد کی سپلائی تاحال رکی ہوئی ہے۔ فصلوں کی بوائی کا وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ اور پانچ دن کی الٹی گنتی اس ڈیڈ لائن کی طرف بڑھ رہی ہے جسے تسلیم کرنے سے دونوں فریق اعلانیہ انکار کر رہے ہیں۔

تجزیہ و تحریر: شناکا اینسلیم پریرا (Shanaka Anslem Perera)، معروف بین الاقوامی اسٹریٹجک تجزیہ کار و مصنف

22/03/2026

ہائی اوکٹین پٹرول پر پٹرولیم لیوی 100 روپے سے بڑھا کر 300 روپے کر دی گئی۔

🚨 فخرِ سرگودھا، فخرِ پاکستان! مشرقِ وسطیٰ کے کشیدہ ترین حالات میں پاک بحریہ کا شاندار کارنامہ 🚨​مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے س...
18/03/2026

🚨 فخرِ سرگودھا، فخرِ پاکستان! مشرقِ وسطیٰ کے کشیدہ ترین حالات میں پاک بحریہ کا شاندار کارنامہ 🚨

​مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے سائے اور آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد جہاں دنیا بھر کے بحری جہازوں کے لیے خطرات بڑھ چکے ہیں، وہیں پاک بحریہ نے ایک بار پھر اپنی طاقت اور پیشہ ورانہ مہارت کا لوہا منوا لیا ہے۔ 🌊🚢

​اس سیٹلائٹ امیجری میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ پاکستان نیوی کا جنگی جہاز 'ذوالفقار کلاس فریگیٹ' (Zulfiquar-class frigate) مکمل سکیورٹی اور پہرے میں پاکستان کے دو بڑے آئل ٹینکرز "سرگودھا" اور "کراچی" کو بحفاظت خلیج عمان اور آبنائے ہرمز کے خطرناک پانیوں سے نکال کر لا رہا ہے۔ 🇵🇰⚓

​عالمی کشیدگی کے دوران اپنے شہر "سرگودھا" کے نام سے منسوب اس عظیم الشان بحری جہاز کو پاک بحریہ کی سکیورٹی میں لہروں کا سینہ چیرتے دیکھنا ہر محبِ وطن اور بالخصوص سرگودھا کے شہریوں کے لیے باعثِ فخر ہے۔

​پاکستان ہمیشہ زندہ باد ! پاک بحریہ پائندہ باد! 💚

09/03/2026

🚨 ایران پر زمینی حملے کا امکان؟
واشنگٹن پوسٹ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، امریکی فوج کی ایک ایلیٹ پیراٹروپر یونٹ (82nd Airborne Division) کی ایک اہم ٹریننگ اچانک منسوخ کر دی گئی ہے اور انہیں الرٹ پر رکھا گیا ہے۔

🚨 بریکنگ نیوز: عوام پر پٹرول بم گر گیا! 🚨​سرگودھا والو! مہنگائی کا ایک اور بڑا طوفان آ گیا۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں...
07/03/2026

🚨 بریکنگ نیوز: عوام پر پٹرول بم گر گیا! 🚨

​سرگودھا والو! مہنگائی کا ایک اور بڑا طوفان آ گیا۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں یکمشت 55 روپے کا بڑا اضافہ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد قیمتیں ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔

​نئی قیمتوں کی تفصیلات:
​پٹرول کی نئی قیمت: 321.17 روپے فی لیٹر
​ڈیزل کی نئی قیمت: 335.86 روپے فی لیٹر
​اضافہ: فی لیٹر 55 روپے کا ہوشربا اضافہ

​اس فیصلے سے مہنگائی کا نیا سیلاب آنے کا خدشہ ہے۔ ٹرانسپورٹ کے کرائے اور روزمرہ اشیاء کی قیمتیں بھی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔

​💬 آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا یہ اضافہ جائز ہے؟ اس فیصلے سے آپ کی زندگی پر کیا اثر پڑے گا؟ کمنٹس میں اپنی رائے دیں اور اس خبر کو شیئر کر کے دوسروں کو بھی آگاہ کریں۔

🚨 سرگودھا میں پیٹرول کا ممکنہ بحران؟ پمپس پر شہریوں کا شدید رش! 🚨​سرگودھا اور خوشاب میں پیٹرول کی ممکنہ قلت کی خبروں کے ...
06/03/2026

🚨 سرگودھا میں پیٹرول کا ممکنہ بحران؟ پمپس پر شہریوں کا شدید رش! 🚨

​سرگودھا اور خوشاب میں پیٹرول کی ممکنہ قلت کی خبروں کے بعد شہریوں کی جانب سے 'پینک بائنگ' (Panic Buying) کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
​تصاویر میں راؤ پیٹرولیم اور PSO گل والا چوک پر گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا سکتی ہیں۔

⚠️ اہم اپڈیٹ: رش اور ممکنہ شارٹیج کے پیشِ نظر راؤ پیٹرولیم اور شیل پمپ سیٹلائیٹ ٹاؤن (نزد مبارک ہسپتال) پر کاروں کے لیے زیادہ سے زیادہ 5,000 روپے تک کے پیٹرول کی حد مقرر کر دی گئی ہے!

​آپ اس وقت کہاں ہیں؟ کیا آپ کے قریبی پیٹرول پمپ پر پیٹرول آسانی سے مل رہا ہے یا وہاں بھی رش ہے؟ کمنٹس میں اپنے علاقے کی تازہ ترین صورتحال بتائیں تاکہ باقی شہریوں کی بھی رہنمائی ہو سکے۔ 👇

Address

Sargodha

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Apna Sargodha posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share