Urdu Waly

Urdu Waly Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Urdu Waly, Media/News Company, Sargodha.

25/01/2021

ریسٹورنٹ مالکن کی جانب سے منیجر کی انگریزی کا مذاق اڑانے کا معاملہ بادی النظر میں بہت آگے نکل چکا ہے۔ ہفتے کو رات گئے تک اسلام آباد میں کنولی کے باہر اردو مشاعرہ جاری رہا۔۔۔
https://enewsnetwork.net/820/

07/10/2020
آج میرے پسندیدہ ترین اداکار معین اختر کی تاریخ پیدائش ہے معین اختر پاکستان ٹیلیوژن، اسٹیج اور فلم کے ایک مزاحیہ اداکار ا...
24/12/2018

آج میرے پسندیدہ ترین اداکار معین اختر کی تاریخ پیدائش ہے
معین اختر پاکستان ٹیلیوژن، اسٹیج اور فلم کے ایک مزاحیہ اداکار اور میزبان تھے ۔ اس کے علاوہ وہ بطور فلم ہدایت کار، پروڈیوسر، گلوکار اور مصنف کام کر چکے ہیں
وہ 24 دسمبر 1950 کو کراچی میں پیدا ہوئے تھے
معین اختر جیسے فنکار روز روز پیدا نہیں ہوتے۔انھوں نے سولہ برس کی عمر میں سٹیج پر اپنی پہلی پرفارمنس دی اور حاضرین کے دل جیت لئے۔
ابھی کراچی میں ٹیلی ویژن شروع نہیں ہوا تھا اس لئے ریڈیو کے بعد سٹیج ہی فن کے اظہار کا ایک ذریعہ تھا۔
ٹیلی ویژن کی آمد کے ساتھ ہی معین اختر کا فن سٹیج کی تنگنائے سے نکل کر لوگوں کے ڈرائنگ روم تک پھیل گیا اور سنہ انیس سو ستر تک معین اختر پاکستانی ناظرین کا ایک جانا پہچانا چہرہ بن گئے۔
انیس سو ستر کے انتخابات کے دوران ٹیلی ویژن پر پیش کئے جانے والے خاکوں میں معین نے اپنے کئی نئے رنگ دکھائے اور یوں ستّر کی دہائی اُن کے بامِ عروج پر پہنچنے کا زمانہ ٹھہرا۔
شو بِز کی دنیا میں یہ بات محاورے کی طرح مشہور ہے کہ شہرت کی چوٹی پہ پہنچ جانا تو آسان ہے لیکن وہاں ٹِکے رہنا بہت مشکل ہے کیونکہ شہرت و مقبولیت ایک ہر جائی محبوبہ کی طرح کبھی ایک جگہ نہیں ٹھہرتی۔ معین اختر کے بارے میں یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ وہ اس ہرجائی محبوبہ کو رام کر چُکے تھے اور سن ساٹھ کی دہائی کے آخری برسوں میں کامیابی کا جو تاج معین اختر کے سر پہ سجا دیا گیا تھا اسے معین اختر نے آخری لمحے تک گِرنے نہیں دیا۔
معین اختر کی داستانِ حیات ایک طرح سے پاکستان ٹیلی ویژن کی اپنی جیون کتھا بھی ہے۔ دونوں ایک ساتھ منظرِ عام پر آئے۔ دونوں نے اکٹھے مقبولیت اور شہرت کا سفر کیا اور دونوں کا نام دنیا بھر میں آباد پاکستانیوں تک ایک ساتھ پہنچا اور پھر میڈیا کے بدلتے ہوئے عالمی منظر نے جو نئے چیلنج پیش کئے، اُن سے بھی دونوں ایک ساتھ نبرد آزما ہوئے۔
نقالی کی صلاحیت کو اداکاری کا سب سے پہلا مرحلہ سمجھا جاتا ہے لیکن یہ اداکاری کی معراج نہیں ہے۔ یہ سبق معین اختر نے اپنے کیرئر کی ابتداء ہی میں سیکھ لیا تھا۔ چنانچہ نقالی کے فن میں ید طولٰی حاصل کرنے کے باوجود اس نے خود کو اس مہارت تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس سے ایک قدم آگے جا کر اداکاری کے تخلیقی جوہر تک رسائی حاصل کی۔
مختلف ڈراموں میں منچلے نوجوان سے لیکر ایک سنکی بڈ ّھے تک کے جو کردار انھوں نے ادا کئے وہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت تھے کہ معین اختر کا فن ایک نقّال کی محدود چاردیواری توڑ کر فن کے وسیع و عریض میدان میں آنکلا ہے اور اس میدان میں مِس روزی کا کردار ایک ایسا چیلنج ثابت ہوا جسے قبول کر کے معین اختر نے دوستوں کے ساتھ ساتھ دشمنوں سے بھی داد وصول کر لی۔ جس کردار کو ڈسٹن ہاف مین جیسا نابغہء روزگار اداکار بڑی سکرین پر ادا کر چکا ہو، اور دنیا بھر سے اسکی داد بھی بٹور چکا ہو، اُسے پھر سے ٹیلی ویژن پر ادا کرنا ’ایں سعادت بزورِ بازو نیست‘
معین اختر نے اگرچہ کئی بار بھارت جا کر بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور اگر پاکستان اور بھارت کے تعلقات اچھے ہوتے تو شاید بمبئی کی تماشہ گاہ بھی معین اختر کے سِحر سے نہ بچ سکتی لیکن بھارتی فنکاروں پر دھاک بٹھانے کے لئے معین اختر کو پھر بھی ایک راستہ مل گیا، دوبئی کا راستہ۔
معین اختر نے مشرقِ وسطٰی میں کئی بار شو منعقد کئے اور برِصغیر کے سب سے بڑے ادا کار دلیپ کمار تک کو اپنا فین بنا لیا۔ دلیپ کمار نے فاطمی فاؤنڈیشن کے لئے جب بھی بین الاقوامی شو منعقد کئے، کمپئر کے طور پر معین اختر کو مدعو کیا اور معین کسی معاوضے کی پروا کئے بغیر خون کے عطیات جمع کرنے والی اس انجمن کا خیراتی کام پوری دلجمی سے کرتے رہے۔
اردو کے علاوہ انھیں پنجابی، پشتو، سندھی، گجراتی، بنگالی اور میمنی لہجوں پر بھی مکمل عبور حاصل تھا
اِن شوز کے دوران معین اختر نے جس انداز سے دلیپ کمار کو متعارف کرایا وہ اسی کا حصّہ تھا۔
اسی سلسلے کے ایک ابتدائی شو میں دلیپ کمار کے سٹیج پر آنے سے پہلے معین اختر نے مائیکرو فون منہ کے بالکل قریب لا کر دلیپ کمار کی آواز میں ان کی ایک فلم کے مکالمے بولنے شروع کر دیئے۔ حاضرین تو خیر حیران ہوئے ہی، خود دلیپ کمار بھی ششد رہ گئے اور پھر دونوں کی دوستی کا ایسا آغاز ہوا جو آخر تک جاری رہا۔
اُردو معین کی اپنی زبان تھی لیکن بنگالی، سندھی، میمنی اور گجراتی سے انھوں نے محض فنکارانہ ضرویات کے تحت شناسائی پیدا کی اور ان زبانوں کے لہجے اور تلفظ پر ایسا عبور حاصل کیا کہ اہلِ زبان کو بھی انگشت بدنداں کر دیا۔ بعد میں انھوں نے پشتو اور پنجابی کے لہجوں پر بھی کام کیا اور جب جب موقعہ مِلا اِن لہجوں میں بھی اپنی مہارت کا مظاہرہ بھی کیا۔
پاکستان ٹیلی ویژن کے بلیک اینڈ وائیٹ زمانے سے لیکر آج کی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی تک معین اختر ہر دور میں ٹی وی کے ساتھ رہے اور اگر آج اُن کے تمام کام کو زمانی ترتیب میں مُدّون کیا جائے تو خود پاکستان ٹیلی ویژن کی ایک تاریخ تیار ہو جائے گی۔
وہ 22 اپریل 2011 کو کراچی میں انتقال کر گئے۔
اللہ تعالیٰ اُن کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطاء فرمائے آمین
نئیر نور ۔

16/12/2018

سرِ عام تھوکنا، پھیل کر بیٹھنا، اونچی آواز میں قہقہہ لگانا، فحش گوئی کرنا اور گالیاں بکنا، ہتھیاروں کی سرِ عام نمائش، جگہ جگہ موتنا، جسم کے مخصوص حصوں کو کھلے عام کھجانا، قطعاً اچھی عادات نہیں ہیں۔ ایسا کرنے والے دیکھنے میں بے حد برے لگتے ہیں اور عورتوں پہ ہاتھ اٹھانے والے اور ان کو گالیاں دینے والے نہائت کمزور مرد ہوتے ہیں۔

اگر آپ کی امی نے آپ کو یہ باتیں کسی وجہ سے نہیں بتائی تھیں، یا بتائی تھیں اور آپ اپنے غبی پن کی وجہ سے بھول گئے تو دوبارہ یاد کر لیجیے۔

کہتے ہیں سیکھنے کی عمر کبھی نہیں گزرتی۔ آج بھی سیکھ لیں گے تو کچھ نہیں بگڑے گا سوائے اس کے کہ کل آپ کسی وائرل ویڈیو کا لعنتی کردار بننے سے بچ جائیں گے، شکریہ!

آمنہ مفتی

"مشتاق احمد یوسفی کے +50 وَن-لائنرز اور اقوال" 😍ترتیب و آرائش : مُسافرِشَب☔√ پاکستان کی افواہوں کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے...
21/06/2018

"مشتاق احمد یوسفی کے +50 وَن-لائنرز اور اقوال" 😍
ترتیب و آرائش : مُسافرِشَب☔

√ پاکستان کی افواہوں کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ سچ نکلتی ہیں۔

√ فرضی بیماریوں کے لیے یونانی دوائیں تیر بہدف ہوتی ہیں۔

√ کسی خوبصورت عورت کے متعلق سُنتا ہوں کہ وہ پارسا بھی ہے تو نہ جانے کیوں دل بیٹھ سا جاتا ہے۔

√ جب نورجہاں کے ہاتھ سے کبوتر اڑ گیا تو جہانگیر نے اسے پہلی بار خصم گیں نگاہوں سے دیکھا۔

√ آج اِس ہال میں میری موجودگی میں مجھ پر مقالے پڑھے گئے اور اظہارِ خیال کیا گیا۔ یہ کام مَیں کبھی نہیں ہونے دیتا کیونکہ مجھے اپنے بارے میں جتنا جھوٹ بولنا ہوتا ہے وہ مَیں خود بول لیتا ہوں۔

√ مرد کی آنکھ اور عورت کی زبان کا دم سب سے آخر میں نکلتا ہے۔

√ سردی زیادہ اور لحاف پتلا ہو تو غریب غربا منٹو کے افسانے پڑھ کر سو رہتے ہیں۔

√ بیوی سے عشق کرنا ایسے ہے جیسے جسم کے ایسے حصے پر خارش کی جائے جہاں نہ ہو رہی ہو۔

√ کچھ لوگ اتنے مذہبی ہوتے ہیں کہ جوتا پسند کرنے کے لیے بھی مسجد کا رخ کرتے ہیں۔

√ لفظوں کی جنگ میں فتح کسی بھی فریق کی ہو، شہید ہمیشہ سچائی ہوتی ہے۔

√ جو ملک جتنا غربت زدہ ہو گا، اتنا ہی آلو اور مذہب کا چلن زیادہ ہو گا۔

√ دنیا میں غالب واحد ایسا شاعر ہے جو سمجھ میں نہ آئے تو دگنا مزہ دیتا ہے۔

√ دشمنوں کے حسب عداوت تین درجے ہیں: دشمن، جانی دشمن اور رشتے دار۔

√ مسلمان کسی ایسے جانور کو محبت سے نہیں پالتے جسے ذبح کر کے کھا نہ سکیں۔

√ محبت اندھی ہوتی ہے، چنانچہ عورت کے لیے خوبصورت ہونا ضروری نہیں، بس مرد کا نابینا ہونا کافی ہوتا ہے۔

√ بڑھاپے کی شادی اور بینک کی چوکیداری میں ذرا فرق نہیں، سوتے میں بھی ایک آنکھ کھلی رکھنی پڑتی ہے۔

√ آدمی ایک بار پروفیسر ہو جائے تو عمر بھر پروفیسر ہی رہتا ہے، خواہ بعد میں سمجھداری کی باتیں ہی کیوں نہ کرنے لگے۔

√ مصائب تو مرد بھی جیسے تیسے برداشت کر لیتے ہیں مگر عورتیں اس لحاظ سے قابل ستائش ہیں کہ انھیں مصائب کے علاوہ مردوں کو بھی برداشت کرنا پڑتا ہے۔

√ حجام کی ضرورت ساری دنیا کو رہے گی تاوقتیکہ ساری دنیا سکھ مذہب اختیار نہ کر لے اور یہ سکھ کبھی ہونے نہیں دیں گے۔

√ امریکا کی ترقی کا سبب یہی ہے کہ اس کا کوئی ماضی نہیں۔

√ جب میرا جی عمدہ تحریر پڑھنے کو چاہتا ہے تو ایک کتاب لکھ ڈالتا ہوں۔

√ عالمِ اسلام میں ہم نے کسی بکرے کو طبعی موت مرتے نہیں دیکھا۔

√ مرض کا نام معلوم ہو جائے تو تکلیف تو دور نہیں ہوتی، الجھن دور ہوجاتی ہے۔

√ فقیر کے لیے آنکھیں نہ ہونا بڑی نعمت ہے۔

√ سود اور سرطان کو بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

√ اختصار ظرافت اور زنانہ لباس کی جان ہے۔

√ گالی، گنتی، سرگوشی اور گندہ لطیفہ اپنی مادری زبان ہی میں مزہ دیتا ہے۔

√ مَیں تو جب اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم کہتا ہوں تو یوں لگتا ہے جیسے رجیم سے یہی regime مراد ہے۔
(جنرل ضیاء کا دور)

√ بچپن ہی سے میری صحت خراب اور صحبت اچھی رہی ہے۔

√ آپ نے بعض میاں بیوی کو ہوا خوری کرتے دیکھا ہو گا۔ عورتوں کا انجام ہمیں نہیں معلوم لیکن یہ ضرور دیکھا ہے کہ بہت سے 'ہوا خور' رفتہ رفتہ 'حوا خور' ہو جاتے ہیں۔

√ مزاح، مذہب اور الکحل.. ہر چیز میں باآسانی حل ہو جاتے ہیں۔

√ ان کی بعض غلطیاں فاش ہی نہیں، فحش بھی تھیں۔

√ بدصورت انگریز عورت نایاب ہے، بڑی مشکل سے نظر آتی ہے، یعنی ہزار میں ایک۔ پاکستانی اور ہندوستانی اسی سے شادی کرتا ہے۔

√ ہم نے تو سوچا تھا کراچی چھوٹا سا جہنم ہے، جہنم تو بڑا سا کراچی نکلا۔

√ اپنے ہم عمر بڈھوں سے محض ہاتھ ملانے سے آدمی کی زندگی ہر مصافحے کے بعد ایک سال گھٹ جاتی ہے۔

√ آپ راشی، زانی اور شرابی کو ہمیشہ خوش اخلاق، ملنسار اور میٹھا پائیں گے کیونکہ وہ نخوت، سخت گیری اور بدمزاجی افورڈ ہی نہیں کر سکتا۔

√ گالی، گنتی، سرگوشی اور گندہ لطیفہ اپنی مادری زبان ہی میں مزہ دیتا ہے۔

√ ہارا ہوا مرغا کھانے سے آدمی اتنا بودا ہوجاتا ہے کہ حکومت کی ہر بات درست لگنے لگتی ہے۔

√ ہم نے باون گز گہرے ایسے اندھے کنویں دیکھے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ خود کو اوندھا دیں یعنی سر کے بل الٹے کھڑے ہو جائیں تو باون گز کے مینار بن جائیں گے۔

√ جس دن بچے کی جیب سے فضول چیزوں کے بجائے پیسے برآمد ہوں تو سمجھ لینا چاہیے کہ اب اسے بے فکری کی نیند کبھی نہیں نصیب ہو گی۔

√ انسان واحد حیوان ہے جو اپنا زہر دل میں رکھتا ہے۔

√ جب آدمی کو یہ معلوم نہ ہو کہ اس کی نال کہاں گڑی ہے اور پرکھوں کی ہڈیاں کہاں دفن ہیں تو وہ منی پلانٹ کی طرح ہو جاتا ہے جو مٹی کے بغیر صرف بوتلوں میں پھلتا پھولتا ہے۔

√ یہ بات ہم نے شیشم کی لکڑی، کانسی کی لٹیا، بالی عمریا اور چگی داڑھی میں ہی دیکھی کہ جتنا ہاتھ پھیرو، اتنا ہی چمکتی ہے۔

√ مرد عشق و عاشقی صرف ایک ہی مرتبہ کرتا ہے، دوسری مرتبہ عیاشی اور اس کے بعد نری بدمعاشی۔

√ آسمان کی چیل، چوکھٹ کی کیل اور کورٹ کے وکیل سے خدا بچائے، ننگا کر کے چھوڑتے ہیں۔

√ قبر کھودنے والا ہر میت پر آنسو بہانے بیٹھ جائے تو روتے روتے اندھا ہو جائے۔

√ خون، مُشک، عشق اور ناجائز دولت کی طرح عمر بھی چھپائے نہیں چُھپتی۔

√ تماشے میں جان تماشائی کی تالی سے پڑتی ہے، مداری کی ڈگڈگی سے نہیں۔

√ اگر یہ سطر پڑھ لیں تو کمنٹ میں لکھیں 'بارش ہو رہی ہے'۔ یہ سطر ایک آزمائش ہے کہ لوگ تحریر پڑھتے ہیں یا ایویں واہ جی واہ لکھ دیتے ہیں۔ یہی سطر واٹرمارک بھی ہے کہ اس تحریر کو مُسافرِشَب نے کمپوز کیا ہے، چالاکی ملاحظہ کی آپ نے۔

√ لذیذ غذا سے مرض کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ اور طاقت پیدا ہوتی ہے۔

√ نام میں کیا رکھا ہے، دوست کو کسی بھی نام سے پکاریں، خوشبو ہی آئے گی۔

√ جس بات کو کہنے والے اور سننے والے دونوں ہی جھوٹ سمجھیں اس کا گناہ نہیں ہوتا۔

√ مطلق العنانیت کی جڑیں دراصل مطلق الانانیت سے پیوست ہوتی ہیں۔

√ ادب اور صحافت میں ضمیر فروش سے بھی زیادہ مفید اور مطلوب ایک اور قبیلہ ہوتا ہے جسے مافی الضمیر فروش کہنا چاہیے۔

√ مختار مسعود اپنے دل پسند موضوعات پر گھنٹوں ہمارے آگے بین بجاتے اور مجبورا خود ہی جھومتے رہتے ہیں۔

√ جب چمڑے کی جھونپڑی میں آگ لگ رہی ہو تو کیا گرمی کیا سردی۔

√ یورپین فرنیچر صرف بیٹھنے کے لیے ہوتا ہے جبکہ ہم کسی ایسی چیز پر بیٹھتے ہی نہیں جس پر لیٹا نہ جا سکے۔

√ عمر کی اس منزل پر آ پہنچا ہوں کہ اگر کوئی سن ولادت پوچھ بیٹھے تو اسے فون نمبر بتا کر باتوں میں لگا لیتا ہوں۔

√ مجھے اس پر تعجب نہیں ہوتا کہ ہمارے ملک میں پڑھے لکھے افراد خونی پیچش کا علاج بھی تعویذ گنڈوں سے کرتے ہیں.. غصہ اس بات پر آتا ہے کہ وہ ٹھیک بھی ہو جاتے ہیں۔

√ بقول مرزا، دنیا میں جتنی بھی لذیذ چیزیں ہیں اُن میں سے آدھی تو مولوی صاحبان نے حرام کر دی ہیں اور بقیہ آدھی ڈاکٹر صاحبان نے۔

شکریہ عدلیہ!جس دن سے میں نے انکھیں کھولیں۔۔انصاف انصاف انصاف ہوگا۔یہ محمد قاسم ہیں۔سابق صدر پرویز مشرف کے پروٹوکول میں ا...
21/10/2017

شکریہ عدلیہ!
جس دن سے میں نے انکھیں کھولیں۔۔انصاف انصاف انصاف ہوگا۔
یہ محمد قاسم ہیں۔سابق صدر پرویز مشرف کے پروٹوکول میں اپنی موٹر سائکل لے کے گھس گئے تھے! گو مشرف صاحب کے قافلے کا دور دور تک نام و نشان تک نہ تھا۔ بہر حال قانونی طور پر آپ کسی وی ائی پی پروٹوکول میں نہیں گھس سکتے۔ ان کا جرم یہ تھا کہ ان کا کوئی عزیز اہسپتال میں تھا اور یہ اسے دیکھنےاپنے بھتیجے کے ہمراہ جا رہے تھے۔ یو ٹرن نہ ملنے پر یہ غلطی سے سنسان سڑک جو کے پروٹوکول کی وجہ سے بند تھے پر جا گھسے سنا ہے ان کی ٹکر سے ایک پولیس والے کو ہلکی چوٹیں بھی آئیں۔ یہ ایک ماہ جیل میں گزار چکے ہیں قریب دو سال تک ان کا مقدمہ عدالت میں چلا جس کا فیصلہ گذشتہ ہفتے سنایا گیا۔ سزا ہے کہ یہ عام آدمی قانون توڑنے پر ہر جمعہ ایک سگنل پر اسی طرح ایک گھنٹے بورڈ لے کر کھڑا ہو گا اور لوگوں کو قانون کے مطابق گاڑی چلانے کا درس دے گا۔سنا ہے چند ماہ قبل پنجاب میں کسی مقدمے میں ایک شخص کو اس طرح کی سزا سنائی گئی کہ وہ پانچ وقت مسجد کھولے گا اور صفائی کرے گا۔
بہر حال جو بھی ہو مجھے امید ہے کہ کسی دن کسی سگنل پر مجھے کوئی وزیر بھی اسی طرح بورڈ لیا کھڑا نظر آئے گا کے ٹریفک قوانین کیوں توڑے ہو سکتا ہے عدالت اسے بھی ایسے ہی سزا دے!۔۔۔قانون تو سب کے لیے برابر ہے ناں؟؟؟؟
منصور مانی۔میں عوام۔

Address

Sargodha
40100

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Urdu Waly posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share