01/08/2026
نیکی کی راہ پر، ساتھ چلیں! فالو کریں
یہ حدیث نبوی ﷺ نے امامت کے مستحقین کا درجہ بندی کے ساتھ تعین فرمایا ہے۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ:
امامت کا زیادہ حق قرآن کو زیادہ پڑھنے والے کو ہے
اگر قرأت میں برابر ہوں تو سنت کا زیادہ علم رکھنے والا
پھر پہلے ہجرت کرنے والا
پھر بڑی عمر والا
کسی کی امامت اس کے گھر، اس کی حکومت اور اس کی عزت کی جگہ پر بغیر اجازت نہ کی جائے
امام خطابی رحمہ اللہ:
"اس حدیث میں امامت کے مستحقین کی ترجیح بیان کی گئی ہے۔ پہلے قرآن کا زیادہ عالم، پھر سنت کا زیادہ جاننے والا، پھر ہجرت میں سبقت، پھر عمر۔"
امام ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ:
"اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ امامت کا حق قرآن اور سنت کے علم کو مقدم رکھتا ہے، پھر ہجرت، پھر عمر۔
امام نووی رحمہ اللہ:
"اس حدیث میں امامت کے حقوق کا بیان ہے۔ کسی کی امامت اس کے گھر اور اس کی حکومت میں نہیں کی جائے گی، مگر اس کی اجازت سے۔"
ملا علی قاری رحمہ اللہ:
"اس حدیث میں 'تکرمہ' سے مراد مسند، بستر یا کوئی ایسی چیز ہے جو اس کی عزت کی علامت ہو۔"
#اسلام