Shaidu Rights

Shaidu Rights Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Shaidu Rights, Media/News Company, Shaidu.

15/05/2026

📢 *اہم پیغام برائے اہلِ علاقہ و ذمہ داران.
Shaidu کے بچوں کے مستقبل کے لیے جو مڈل اسکول کا کام شروع کیا گیا تھا، وہ کئی مہینوں سے رکا ہوا ہے۔ تقریباً چار سے پانچ ماہ گزر چکے ہیں مگر ابھی تک دوبارہ کام شروع نہیں ہو سکا۔ 🏫

یہ صرف ایک عمارت نہیں، بلکہ ہمارے بچوں کے خواب، اُن کی تعلیم اور ہمارے علاقے کا مستقبل ہے۔ ✨
اگر آج ہم خاموش رہے تو آنے والی نسلیں بھی مشکلات کا شکار رہیں گی۔

ہم تمام ذمہ داران اور اہلِ علاقہ سے اپیل کرتے ہیں کہ ذاتی اختلافات اور مفادات سے بالاتر ہو کر اس نیک کام کو دوبارہ شروع کروائیں تاکہ ہمارے بچے بہتر تعلیم حاصل کر سکیں۔ 📚🌱

یاد رکھیں:
“جو قوم اپنے بچوں کی تعلیم پر توجہ دیتی ہے، وہی ترقی اور عزت حاصل کرتی ہے۔” 💫

مہربانی کرکے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیا جائے اور جلد از جلد عملی اقدامات کیے جائیں۔ 🤝

جھانگیرہ میں ایک سنگین مسئلہ سامنے آ رہا ہے، خاص طور پر رکشہ سروس سے متعلق۔ زیادہ تر رکشہ ڈرائیورز دن کے اوقات میں LPG ا...
14/05/2026

جھانگیرہ میں ایک سنگین مسئلہ سامنے آ رہا ہے، خاص طور پر رکشہ سروس سے متعلق۔ زیادہ تر رکشہ ڈرائیورز دن کے اوقات میں LPG اور رات کے وقت CNG استعمال کر رہے ہیں تاکہ ایندھن کی لاگت کم کی جا سکے۔ لیکن اس کے باوجود مسافروں سے کرایہ پٹرول کی قیمت کے حساب سے وصول کیا جا رہا ہے۔
یہ صورتحال عوام کے ساتھ واضح ناانصافی کو ظاہر کرتی ہے۔ جب گاڑی چلانے کی لاگت کم ہو رہی ہے (کیونکہ LPG اور CNG پٹرول کے مقابلے میں سستے ایندھن ہیں) تو پھر کرایہ بھی اسی حساب سے کم ہونا چاہیے۔ مگر اس کے برعکس مسافروں سے مہنگا کرایہ لینا ایک غیر منصفانہ رویہ ہے۔
اس مسئلے کے کچھ اہم پہلو یہ ہیں:
پہلا پہلو یہ ہے کہ مسافروں پر اضافی مالی بوجھ ڈالا جا رہا ہے، جو پہلے ہی مہنگائی سے متاثر ہیں۔
دوسرا پہلو شفافیت کی کمی ہے، کیونکہ اکثر مسافروں کو یہ علم ہی نہیں ہوتا کہ گاڑی کس ایندھن پر چل رہی ہے اور اصل لاگت کتنی ہے۔
تیسرا پہلو یہ ہے کہ اس طرح کا عمل ٹرانسپورٹ نظام میں بداعتمادی پیدا کرتا ہے، جس سے عوام اور ڈرائیورز کے درمیان مسائل بڑھتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ مقامی سطح پر ٹرانسپورٹ کے کرایوں کی نگرانی کی جائے اور ایک واضح نظام بنایا جائے تاکہ نہ ڈرائیورز کو نقصان ہو اور نہ ہی عوام کو غیر ضروری بوجھ اٹھانا پڑے۔

14/05/2026

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

اہلِ علاقہ کے اہم مسائل کی طرف توجہ دلانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اسی سلسلے میں دو اہم مسائل آپ سب کے سامنے رکھنا چاہتے ہیں:

🔹 پہلا مسئلہ: نیشنل بینک میں شدید رش

ہمارے علاقے کے نیشنل بینک میں روزانہ بہت زیادہ رش ہوتا ہے، خاص طور پر تنخواہ دار طبقہ اور پنشنرز کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چونکہ بینک میں اے ٹی ایم کی سہولت موجود نہیں، اس لیے زیادہ تر لوگ چیک بک کے ذریعے رقم نکلوانے پر مجبور ہیں، جس کی وجہ سے لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں اور بزرگ افراد کو بھی سخت پریشانی اٹھانی پڑتی ہے۔

اگر یہاں ایک اے ٹی ایم مشین نصب کر دی جائے تو عوام کو بڑی سہولت ملے گی، رش میں واضح کمی آئے گی اور لوگوں کا قیمتی وقت بھی بچے گا۔ متعلقہ حکام سے گزارش ہے کہ اس مسئلے پر فوری توجہ دی جائے۔

🔹 دوسرا مسئلہ: پانی کی فراہمی

ہمارے علاقے میں سرکاری لائن کا پانی دن میں صرف ایک مرتبہ آتا ہے، جبکہ پار جہانگیرہ میں یہی پانی دن میں دو مرتبہ فراہم کیا جاتا ہے۔ گرمیوں کے موسم میں ایک وقت پانی آنا عوام کے لیے کافی نہیں ہوتا اور گھریلو ضروریات پوری کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

ہم متعلقہ اداروں سے ادب کے ساتھ درخواست کرتے ہیں کہ ہمارے علاقے میں بھی پانی کی فراہمی دن میں دو مرتبہ کی جائے تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کم ہو سکیں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے علاقے کی بہتری کے لیے مل کر کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

13/05/2026

شیدو مین اسٹاپ اور بازار کے قریب روڈ پر نصب لائٹس کئی سالوں سے موجود ہیں، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان لائٹس نے صرف ابتدائی دنوں میں تقریباً ایک مہینہ روشنی دی، اس کے بعد آج تک انہیں بجلی فراہم نہیں کی جا رہی۔ رات کے وقت پورا علاقہ اندھیرے میں ڈوبا رہتا ہے، جبکہ عوام کو سہولت دینے کے نام پر لگائی گئی یہ لائٹس صرف نمائشی منصوبہ بن کر رہ گئی ہیں۔

انتہائی شرم کی بات یہ ہے کہ ایک لائٹ گزشتہ ایک ماہ سے زمین پر گری ہوئی پڑی ہے، لیکن نہ متعلقہ اداروں نے اس کی مرمت کی اور نہ ہی کسی ذمہ دار نمائندے نے اس پر توجہ دی۔ اگر عوام کو بجلی کی سہولت سے محروم رکھا گیا ہے تو کم از کم عوام کے پیسوں سے لگائی گئی ان لائٹس کی حفاظت تو کی جا سکتی تھی۔

ایم پی اے ادریس خٹک، متعلقہ بلدیاتی اداروں، واپڈا حکام اور دیگر ذمہ دار انتظامیہ سے سوال ہے کہ آخر عوامی منصوبوں کا احتساب کون کرے گا؟ عوام کے ٹیکس اور پیسوں سے لگائی گئی سہولیات کو اس طرح تباہ حال چھوڑ دینا کھلی نااہلی اور غفلت ہے۔

Address

Shaidu

Telephone

+923139025043

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Shaidu Rights posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share