11/06/2026
“کئی دنوں سے سورج آگ برسا رہا تھا۔ زمین پیاسی تھی، درختوں کے پتے گرد میں لپٹے ہوئے تھے اور گرم، خشک ہوائیں ہر چہرے سے تازگی چھین رہی تھیں۔ لوگ شدید گرمی سے تنگ آ چکے تھے کہ اچانک افق پر کالے بادلوں کی گھٹائیں نمودار ہوئیں۔ ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا چلا اور یوں محسوس ہوا جیسے فطرت نے ایک لمحے میں سارا منظر بدل دیا ہو۔
بادل گرجے، بارش برسی، اور خشک زمین نے پانی کو اس طرح اپنے اندر سمو لیا جیسے برسوں سے اسی لمحے کی منتظر ہو۔ مٹی کی خوشبو فضا میں پھیل گئی، سوکھے کھیت ہرے ہونے لگے، درختوں نے نئی جان پکڑ لی اور ہر طرف تازگی بکھر گئی۔
پھر جب بارش تھمی تو سورج دوبارہ نکلا، مگر اس بار وہ گرمی کی سزا نہیں بلکہ روشنی کی نعمت لگ رہا تھا۔ بادلوں سے دھلا ہوا آسمان، بارش سے نکھری ہوئی زمین اور نرم دھوپ کا امتزاج ایسا منظر پیش کر رہا تھا جسے دیکھ کر کوئی بھی سورج سے نفرت نہیں کر سکتا تھا۔”
مختصر ادبی کیپشن:
“جب کالے بادل گرمی کی سلطنت پر حملہ کرتے ہیں، بارش زمین کو نئی زندگی دیتی ہے، اور پھر سورج بھی مسکرا کر نکلتا ہے۔ اس وقت دھوپ جلانے نہیں، دل کو سکون دینے آتی ہے۔