23/02/2026
آج حاجی حکیم محمد شاکر صاحب اپنے پوتے محمد احمد کا داخلہ کروانے کے لیے گورنمنٹ اسلامیہ ہائی سکول دودہوچک گئے۔
دل میں تھوڑی سی فکر بھی تھی اور دعا بھی کہ اللہ خیر کرے۔
جب وہ سکول پہنچے تو سب سے پہلے ہیڈ ماسٹر صاحب سر رفاقت نے بڑے خوش اخلاقی سے استقبال کیا۔
ایسا نہیں لگا کہ ہم کسی دفتر میں آئے ہیں، بلکہ یوں محسوس ہوا جیسے اپنے ہی کسی جاننے والے سے مل رہے ہوں۔
سر رفاقت صاحب نے دفتر میں دوسرے اساتذہ سے بھی ملاقات کروائی۔ سب کے چہروں پر مسکراہٹ تھی۔ بات کرنے کا انداز نرم اور محبت بھرا تھا۔
پھر بچے کا ٹیسٹ لیا گیا۔
خود ہیڈ ماسٹر صاحب نے محمد احمد کی لکھائی دیکھی۔
بچہ کچھ گھبرا گیا تھا، آخر پہلی بار سکول کا ماحول دیکھ رہا تھا۔
لیکن اسی وقت سر رفاقت صاحب نے بڑے پیار سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا،
بیٹا ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔ آپ کے دادا ابو اور آپ کے پاپا بھی یہیں بیٹھے ہیں۔ ہم آپ کے استاد ہیں، آپ کے ساتھ ہیں۔
یہ سن کر بچے کا حوصلہ بڑھ گیا۔
جو سوال پوچھا گیا اس نے سکون سے لکھ دیا۔
اللہ کا شکر ہے کہ وہ ٹیسٹ میں کامیاب ہو گیا اور اس کا داخلہ ہو گیا۔
اب سکول کے ماحول کی بات بھی کر لوں۔
سچ کہوں تو یہ وہ پرانا تاثر والا سرکاری سکول نہیں رہا۔
سکول صاف ستھرا ہے۔
سٹاف خوش اخلاق اور سمجھدار ہے۔
بچوں پر توجہ دی جا رہی ہے۔
اگر آپ اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے بارے میں سوچ رہے ہیں تو گورنمنٹ اسلامیہ ہائی سکول دودہوچک ضرور دیکھیں۔
جو سہولتیں لوگ پرائیویٹ سکول میں تلاش کرتے ہیں، وہ اب یہاں بھی مل سکتی ہیں۔
میری نظر میں یہ ایک اچھا ادارہ ہے۔
آئیں، اپنے بچوں کو یہاں داخل کروائیں اور ان کے مستقبل کو مضبوط بنائیں۔