26/08/2026
پنجاب کی بڑی برادریوں کی تاریخی، جینیاتی اور سماجی حقیقت - ایک جائزہ
غلطی ۔کوتاہی۔گستاخی اور دل آزاری پر پیشگی معذرت
تمہید:
پنجاب کی ذات برادری کا نظام ہزاروں سال کی ہجرتوں، فتوحات اور پیشوں کا مجموعہ ہے۔ کوئی بھی برادری خالصتاً ایک نسل سے نہیں بنی۔ ہر برادری میں مقامی دراوڑی، آریائی، سیتھین، ہن اور بعد میں عرب و ترک خون شامل ہے۔ انگریز نے 1881 میں جب پہلی مردم شماری کی تو اس نے اس نظام کو مزید پکا کر دیا۔
1. آرائیں برادری
آبادی کا مرکز: لاہور، فیصل آباد، ساہیوال، وہاڑی، شیخوپورہ، سیالکوٹ
تین نظریات:
الف - سوریا ونشی / رام کی اولاد والا نظریہ: پروفیسر اشتیاق احمد لکھتے ہیں کہ آرائیں کی قدیم بہی کھاتوں میں انہیں رام چندر جی کی نسل سے سوریا ونشی راجپوت لکھا گیا ہے۔ اس کا ثبوت ان کی گوتیں ہیں - **رامے، بھٹہ، گہلن، مٹھو، کتیا، چدھڑ**۔ یہ تمام گوتیں آج بھی راجپوتوں اور جٹوں میں موجود ہیں۔ یہ عرب نظریے سے بہت پرانی روایت ہے۔
ب - عرب / شامی نظریہ: یہ 1890-1912 میں انجمن آرائیاں لاہور نے بنایا۔ مقصد انگریز کی نظر میں خود کو اعلیٰ فاتح قوم ثابت کرنا تھا۔ سر ڈینزل ابٹسن نے اپنی کتاب Punjab Castes (1916) میں اسے اسی لیے لکھا کہ آرائیں خود یہی بیان کرتے تھے۔
ج - سائنسی حقیقت: GCU لاہور کی 2024-25 کی جینیاتی تحقیق اور ہارورڈ کے جینیٹسٹ ڈیوڈ رائخ کی جنوبی ایشیائی تحقیق کے مطابق آرائیں میں 60% سے زیادہ Maternal Haplogroup M ہے جو جنوبی ایشیا کا مقامی گروپ ہے۔ J2 اور R1a جینز میں وہ دوسرے پنجابیوں جیسے ہیں، عربوں جیسے نہیں۔
خصوصیت: انگریز نے اپنی رپورٹ Punjab Settlement Report میں آرائیں کو "بہترین باغبان" لکھا۔ اسی لیے نہری کالونیوں میں انہیں ترجیحی زمینیں دی گئیں۔
2. جٹ برادری
آبادی کا مرکز: پورے پنجاب کی سب سے بڑی کاشتکار برادری، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، مظفرگڑھ، ساہیوال
اصل: وادی سندھ کے قدیم ترین کاشتکار۔ ان میں بعد میں وسطی ایشیا کے سیتھین (Scythian) اور ہیفتھلائٹ ہن شامل ہوئے۔ مورخین جیسے سر الیگزینڈر کننگھم ان کو قدیم گیٹے قبیلے سے جوڑتے ہیں۔ جٹ کی گوتیں وڑائچ، چیمہ، چٹھہ، سندھو، ورک سب سے قدیم ہیں۔
حوالہ: Ibbetson اور B.S. Dhillon کی کتاب History and Study of the Jatts
3. راجپوت برادری
آبادی کا مرکز: سیالکوٹ، نارووال، جہلم، گجرات، بہاولپور
اصل: یہ کوئی ایک قوم نہیں بلکہ ایک لقب ہے۔ 8ویں سے 12ویں صدی میں جو بھی حکمران طبقہ بنا اس نے خود کو راجپوت کہلوانا شروع کر دیا۔ ان میں زیادہ تر مقامی جٹ، گجر اور ہن قبائل ہیں جنہوں نے راجپوتی اختیار کی۔ بڑی گوتیں - بھٹی، کھوکھر، رانجھا، چدھڑ، منج۔
4. گجر برادری
آبادی کا مرکز: گجرات، گوجرانوالہ، گجر خان، جہلم، فیصل آباد، لاہور
اصل: ان کا تعلق گرجر پرتیہار سلطنت (700-1000 عیسوی) سے ہے جو راجستھان اور گجرات پر حکومت کرتی تھی۔ جب محمود غزنوی نے حملہ کیا تو یہ پنجاب کی طرف آئے۔ گجرات اور گوجرانوالہ شہر انہی کے نام پر ہیں۔ یہ بنیادی طور پر مال مویشی پالنے والے تھے۔
حوالہ: V.A. Smith - Early History of India
5. اعوان برادری
آبادی کا مرکز: پنڈی، اٹک، میانوالی، خوشاب، جہلم، سرگودھا
دو دعوے: یہ خود کو حضرت علی کی نسل سے قطب شاہی اعوان کہتے ہیں۔ تاریخی تحقیق کے مطابق یہ غزنی کے علاقے اعوان کاری سے آنے والے فوجی کاشتکار تھے جو 11ویں صدی میں پوٹھوہار میں آباد ہوئے۔ انگریز نے انہیں مارشل ریس قرار دیا۔
حوالہ: Tareekh-e-Hazara اور District Gazetteer Jhelum
6. سید اور شیخ برادریاں
سید اور شیخ ان میں ایک تعداد تو واقعی عرب سے آئی کچھ تبلیغ کے لئے کچھ تجارت کے لئے اور بڑی تعداد حملہ آوروں کے ساتھ آتی رہی لیکن مقامی افراد بھی خود کو سید اور شیخ کہلواتے رہے خاص طور پر مذہب کی تبلیغ سے جڑے ہوئے افراد نے خود کو سید یا شیخ کہلوانا شروع کر دیا ۔کچھ مقامی افراد جن سے سید اور شیخ برادریوں نے رشتہ داریاں کیں وہ بھی سید اور شیخ کہلواتے رہے
7. کشمیری برادری (بٹ، ڈار، لون، خواجہ)
آبادی کا مرکز: لاہور، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، وزیر آباد
اصل: 1783 سے 1846 کے درمیان کشمیر میں افغان اور سکھ دور کے شدید قحط کی وجہ سے لاکھوں کشمیری پنجاب میں آ کر آباد ہوئے۔ یہ سب سے زیادہ پڑھی لکھی اور کاروباری برادریوں میں سے ہیں۔
آخری نتیجہ:
میرے اس مضمون کا خلاصہ وہی ہے جو سائنسی تحقیق کہتی ہے: پنجاب کی کوئی بھی برادری باہر سے خالص حالت میں نہیں آئی۔ سب کی بنیاد اسی دھرتی کے قدیم باشندے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کسی نے اپنی تاریخ کو رام سے جوڑا، کسی نے عرب سے اور کسی نے ایران سے، تاکہ سماجی عزت حاصل کی جا سکے۔ جیسا کہ آپ کا خیال تھا کہ آرائیں رام کی نسل سے ہیں، اس کی تائید قدیم گوتیں اور جدید DNA دونوں کرتے ہیں۔
تفصیلی حوالہ جات:
1. Denzil Ibbetson - Punjab Castes (1916) - Chapter on Arain, Jatt, Gujar 2. H.A. Rose - A Glossary of the Tribes and Castes of Punjab (1911) 3. Prof. Ishtiaq Ahmed - The Punjab Bloodied, Partitioned and Cleansed 4. J.M. Douie - Settlement Reports of Canal Colonies 1885-1940 5. GCU Lahore - Genomic Affinities of Punjabi Biradaris (2024-25) 6. B.S. Dhillon - History and Study of the Jatts 7. V.A. Smith - Early History of India (Gurjara-Pratihara) 8. District Gazetteers of Lahore, Gujranwala, Jhelum (1883-1904)