26/12/2025
یقیناً زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر انسان اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ انسانوں سے متاثر ہونا خود کو تکلیف دینے کے مترادف ہے۔ ہم اکثر چہروں، باتوں، مسکراہٹوں اور ظاہری شائستگی سے اندازے لگا لیتے ہیں، مگر وقت ثابت کر دیتا ہے کہ اکثر انسان وہ نہیں ہوتا جو سامنے نظر آتا ہے۔
دنیا میں بہت سے لوگ الفاظ کے ہنر مند ہوتے ہیں۔ ان کی باتوں میں مٹھاس، لہجے میں نرمی اور رویے میں اپنائیت ہوتی ہے، مگر دل میں حسد، مفاد اور خود غرضی چھپی ہوتی ہے۔ جب تک ضرورت رہتی ہے، تعلق نبھایا جاتا ہے، جیسے ہی مقصد پورا ہوتا ہے، چہرہ بدل جاتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں انسان ٹوٹتا نہیں بلکہ سمجھدار ہو جاتا ہے۔
ہم نے یہ سیکھ لیا ہے کہ تعریفوں سے، وعدوں سے اور ظاہری خلوص سے متاثر ہونا دانشمندی نہیں۔ اصل پہچان وقت کرتا ہے، حالات کرتے ہیں اور آزمائشیں کرتی ہیں۔ جو انسان مشکل میں ساتھ دے، خاموشی میں بھی خیر خواہ رہے اور فائدے کے بغیر بھی مخلص ہو، وہی قابلِ قدر ہوتا ہے، باقی سب محض کردار ہوتے ہیں جو موقع کے مطابق بدل جاتے ہیں۔
اب انسانوں کے بجائے اصولوں سے متاثر ہونا بہتر لگتا ہے۔ سچائی، دیانت، وفاداری اور خودداری — یہ وہ صفات ہیں جو کبھی دھوکہ نہیں دیتیں۔ انسان بدل جاتے ہیں، رویے پل میں تبدیل ہو جاتے ہیں، مگر اصول ہمیشہ انسان کو مضبوط بناتے ہیں۔
انسانوں سے متاثر ہونا چھوڑ دینا بدگمانی نہیں، بلکہ زندگی کا شعور ہے۔ یہ دل کو سخت نہیں بلکہ محفوظ بناتا ہے۔ توقعات کم ہوں تو دکھ بھی کم ہوتے ہیں، اور سکون زیادہ ملتا ہے۔ اب نہ ہر مسکراہٹ پر اعتبار ہے، نہ ہر وعدے پر یقین — بس خاموش مشاہدہ ہے اور محتاط فاصلہ۔
کیونکہ ہم جان چکے ہیں
اکثر انسان وہ نہیں ہوتا جو سامنے ہوتا ہے۔
خورشید اقبال شانگلہ
#حقیقت
#تجربہ
#خودداری
#خاموشی
#سچائی
#زندگی