Khursheed iqbal

Khursheed iqbal بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
ہمارے دلوں میں ایک اللہ تعال?

26/12/2025

یقیناً زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر انسان اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ انسانوں سے متاثر ہونا خود کو تکلیف دینے کے مترادف ہے۔ ہم اکثر چہروں، باتوں، مسکراہٹوں اور ظاہری شائستگی سے اندازے لگا لیتے ہیں، مگر وقت ثابت کر دیتا ہے کہ اکثر انسان وہ نہیں ہوتا جو سامنے نظر آتا ہے۔
دنیا میں بہت سے لوگ الفاظ کے ہنر مند ہوتے ہیں۔ ان کی باتوں میں مٹھاس، لہجے میں نرمی اور رویے میں اپنائیت ہوتی ہے، مگر دل میں حسد، مفاد اور خود غرضی چھپی ہوتی ہے۔ جب تک ضرورت رہتی ہے، تعلق نبھایا جاتا ہے، جیسے ہی مقصد پورا ہوتا ہے، چہرہ بدل جاتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں انسان ٹوٹتا نہیں بلکہ سمجھدار ہو جاتا ہے۔
ہم نے یہ سیکھ لیا ہے کہ تعریفوں سے، وعدوں سے اور ظاہری خلوص سے متاثر ہونا دانشمندی نہیں۔ اصل پہچان وقت کرتا ہے، حالات کرتے ہیں اور آزمائشیں کرتی ہیں۔ جو انسان مشکل میں ساتھ دے، خاموشی میں بھی خیر خواہ رہے اور فائدے کے بغیر بھی مخلص ہو، وہی قابلِ قدر ہوتا ہے، باقی سب محض کردار ہوتے ہیں جو موقع کے مطابق بدل جاتے ہیں۔
اب انسانوں کے بجائے اصولوں سے متاثر ہونا بہتر لگتا ہے۔ سچائی، دیانت، وفاداری اور خودداری — یہ وہ صفات ہیں جو کبھی دھوکہ نہیں دیتیں۔ انسان بدل جاتے ہیں، رویے پل میں تبدیل ہو جاتے ہیں، مگر اصول ہمیشہ انسان کو مضبوط بناتے ہیں۔
انسانوں سے متاثر ہونا چھوڑ دینا بدگمانی نہیں، بلکہ زندگی کا شعور ہے۔ یہ دل کو سخت نہیں بلکہ محفوظ بناتا ہے۔ توقعات کم ہوں تو دکھ بھی کم ہوتے ہیں، اور سکون زیادہ ملتا ہے۔ اب نہ ہر مسکراہٹ پر اعتبار ہے، نہ ہر وعدے پر یقین — بس خاموش مشاہدہ ہے اور محتاط فاصلہ۔
کیونکہ ہم جان چکے ہیں
اکثر انسان وہ نہیں ہوتا جو سامنے ہوتا ہے۔
خورشید اقبال شانگلہ
#حقیقت


#تجربہ
#خودداری

#خاموشی

#سچائی
#زندگی

یقیناً یہ محبت، اعتماد اور حوصلہ افزائی ہی اصل سرمایہ ہوتی ہے۔آپ سب فالورز کا دل کی گہرائیوں سے شکرگزار ہوں جن کی دعاؤں،...
24/12/2025

یقیناً یہ محبت، اعتماد اور حوصلہ افزائی ہی اصل سرمایہ ہوتی ہے۔
آپ سب فالورز کا دل کی گہرائیوں سے شکرگزار ہوں جن کی دعاؤں، خلوص اور مسلسل سپورٹ نے مجھے یہ حوصلہ دیا کہ میں حق، سچ اور مثبت پیغام کے ساتھ جڑا رہوں۔
آپ کی ہر پسند، ہر تبصرہ اور ہر شیئر میرے لیے اعزاز بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔
اللہ تعالیٰ آپ سب کو سلامت رکھے، خوش رکھے اور ہماری یہ خوبصورت وابستگی ہمیشہ قائم رکھے۔ آمین 🤍
ہیش ٹیگز:
#شکرگزاری



#اعتماد
#محبت
#سپورٹ

Muhammad Niqab, Bakht Afsar, Muhammad Rauf Rauf, Ijaz Ahmad, M Subhan Shangla, Hammyiu Saeed, S Sajid Ali, Aman Ullah Khan, Qadar Mand, Fakhrul Aman, Bashir Ullah Lohar, Sher Ali Yousafzai, Syed Zakir Ullah Hassani

سچائی اور اچھائی کی تلاشسچائی اور اچھائی وہ قیمتی خزانے ہیں جن کی تلاش میں انسان پوری دنیا چھان مارتا ہے۔ کوئی کتابوں می...
18/12/2025

سچائی اور اچھائی کی تلاش
سچائی اور اچھائی وہ قیمتی خزانے ہیں جن کی تلاش میں انسان پوری دنیا چھان مارتا ہے۔ کوئی کتابوں میں ڈھونڈتا ہے، کوئی فلسفوں میں، کوئی لوگوں کے رویّوں میں اور کوئی دور دراز ملکوں کے سفر میں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اگر سچائی اور اچھائی انسان کے اپنے اندر موجود نہ ہوں تو دنیا کے کسی کونے میں بھی نہیں ملتیں۔
انسان اکثر یہ سمجھتا ہے کہ شاید فلاں جگہ، فلاں شخص یا فلاں نظام اسے وہ سچ اور بھلائی دے دے گا جس کی اسے تلاش ہے۔ لیکن وہ یہ بھول جاتا ہے کہ آنکھیں صرف وہی دیکھتی ہیں جو دل ماننے پر تیار ہو۔ جب دل تعصب، خودغرضی، حسد اور نفرت سے بھرا ہو تو سامنے کھڑی سچائی بھی دھندلی نظر آتی ہے۔
سچائی کا آغاز خود احتسابی سے ہوتا ہے۔ جب انسان اپنے آپ سے سچ بولنا سیکھ لیتا ہے تو پھر اسے دوسروں سے جھوٹ بولنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ اچھائی بھی اسی طرح دل کی زمین میں اُگتی ہے۔ اگر دل میں رحم، انصاف، اخلاص اور خوفِ خدا موجود ہو تو انسان کا ہر عمل اچھائی کی خوشبو بکھیرنے لگتا ہے۔
دنیا کو بدلنے سے پہلے خود کو بدلنا سب سے مشکل مگر سب سے مؤثر کام ہے۔ جو شخص اپنے اندر سچائی پیدا کر لیتا ہے، وہ جہاں بھی جاتا ہے وہاں اچھائی کا چراغ جلا دیتا ہے۔ اور جو اپنے باطن کو نظرانداز کر دے، وہ ساری دنیا گھوم کر بھی خالی ہاتھ لوٹتا ہے۔
لہٰذا سچائی اور اچھائی کی تلاش میں باہر بھٹکنے کے بجائے اپنے دل میں جھانکیں۔ اگر وہاں اخلاص، دیانت اور نیکی موجود ہے تو سمجھ لیں کہ آپ کو وہ سب کچھ مل چکا ہے جس کی تلاش میں لوگ عمر گزار دیتے ہیں۔

خورشید اقبال
#سچائی
#اچھائی
#خوداحتسابی

#اخلاص
#نیکی

اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اعترافاللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، جن کا شمار ممکن نہیں۔ قرآنِ مجید میں ...
17/12/2025

اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا اعتراف
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، جن کا شمار ممکن نہیں۔ قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
“اور اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو شمار نہ کر سکو گے” (سورۃ ابراہیم: 34)
زندگی، صحت، ایمان، عقل، اولاد، رزق، امن، وقت اور ہدایت—یہ سب اللہ کی وہ عظیم نعمتیں ہیں جن پر انسان اکثر توجہ نہیں دیتا۔ ہم سانس لیتے ہیں تو یہ بھی نعمت ہے، آنکھیں دیکھتی ہیں تو یہ بھی عطا ہے، دل دھڑکتا ہے تو یہ بھی رب کی رحمت ہے۔ مگر افسوس! انسان ان نعمتوں کو اپنا حق سمجھ بیٹھتا ہے اور دینے والے کو بھول جاتا ہے۔
نعمتوں کا اعتراف صرف زبان سے “الحمدللہ” کہہ دینا نہیں، بلکہ دل سے ماننا، عمل سے ثابت کرنا اور ان نعمتوں کو اللہ کی رضا کے مطابق استعمال کرنا بھی شکر میں شامل ہے۔ صحت ملی ہے تو گناہوں میں نہیں بلکہ نیکی میں لگائیں، مال ملا ہے تو فخر نہیں بلکہ محتاجوں کی مدد کریں، علم ملا ہے تو تکبر نہیں بلکہ ہدایت پھیلائیں۔
اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے:
“اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا” (سورۃ ابراہیم: 7)
یہ وعدہ صرف رزق کی زیادتی کا نہیں بلکہ سکونِ قلب، برکت، اطمینان اور خیر کی کثرت کا بھی ہے۔
جو قومیں اور افراد نعمتوں کا اعتراف نہیں کرتے، وہ رفتہ رفتہ زوال کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اور جو ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں، وہ تنگی میں بھی مطمئن اور آسانی میں بھی عاجز رہتے ہیں۔
آئیے! ہم اپنی زندگی کا محاسبہ کریں، اللہ کی عطا کردہ ہر چھوٹی بڑی نعمت کو پہچانیں، دل سے اس کا اعتراف کریں اور شکر گزار بندے بن جائیں، کیونکہ شکر ہی نعمتوں کی حفاظت اور اضافہ کا ذریعہ ہے۔
خورشید اقبال

#شکر
#الحمدللہ

#ایمان
#قرآن

#نعمت

#اسلام

عبرت کا آئینہ اور اصل عزتدنیا میں انسان کو جو کچھ ملتا ہے—عہدہ، دولت، طاقت یا نسب—یہ سب آزمائش ہیں، فضیلت نہیں۔ تاریخ گو...
16/12/2025

عبرت کا آئینہ اور اصل عزت
دنیا میں انسان کو جو کچھ ملتا ہے—عہدہ، دولت، طاقت یا نسب—یہ سب آزمائش ہیں، فضیلت نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب انسان ان نعمتوں کو اپنی بڑائی کا سبب بنا لیتا ہے تو وہ انجامِ بد سے نہیں بچ پاتا۔ قرآن ہمیں ایسے کردار دکھاتا ہے جو ہر دور کے انسان کے لیے کھلا سبق ہیں۔
جو اپنے عہدے اور اقتدار پر فخر کرتے ہیں، وہ فرعون کو دیکھیں۔ اس نے کہا: “میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں”۔ طاقت، لشکر اور حکومت کے نشے نے اسے اندھا کر دیا، حتیٰ کہ سمندر اس کی قبر بن گیا۔ اقتدار اگر تقویٰ سے خالی ہو تو ہلاکت بن جاتا ہے۔
جو اپنے مال و دولت پر غرور کرتے ہیں، وہ قارون کو دیکھیں۔ خزانے اتنے کہ چابیاں بھی بوجھ بن جائیں، مگر دل شکر سے خالی۔ اس نے دولت کو اپنی محنت کا کمال سمجھا اور رب کی نسبت بھلا دی، نتیجہ یہ کہ زمین نے اسے اس کے خزانوں سمیت نگل لیا۔
جو اپنے نسب اور خاندانی تعلق پر ناز کرتے ہیں، وہ ابو لہب کو دیکھیں۔ رسولِ اکرم ﷺ کا چچا ہونا بھی اسے نہ بچا سکا، کیونکہ ایمان اور عمل نہ تھے۔ نسب تبھی کام آتا ہے جب کردار اس کی گواہی دے۔
یہ تینوں مثالیں ہمیں بتاتی ہیں کہ عزت عہدے میں نہیں، دولت میں نہیں، نسب میں نہیں—عزت صرف اور صرف تقویٰ میں ہے۔ تقویٰ وہ روشنی ہے جو انسان کو جھکنا سکھاتی ہے، شکر اور عدل سکھاتی ہے، اور غرور سے بچاتی ہے۔ اللہ کے نزدیک وہی معتبر ہے جو زیادہ متقی ہے، نہ کہ وہ جو زیادہ طاقتور یا امیر ہے۔
آج اگر ہمارے پاس کوئی مقام ہے تو یہ امانت ہے، دولت ہے تو آزمائش ہے، نسب ہے تو ذمہ داری ہے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ ان سب کے ساتھ تواضع، شکر اور خوفِ خدا کو تھامے رکھا جائے۔ کیونکہ جو تقویٰ کے راستے پر ہے، وہی واقعی باعزت ہے—دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
میاں خورشید اقبال شانگلہ
#تقویٰ #فرعون #قارون #تواضع #شکر

میرا گاؤں میرا جنت
27/07/2022

میرا گاؤں میرا جنت

20/03/2022
My village my heart
28/10/2021

My village my heart

Address

Shangla

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Khursheed iqbal posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share