31/07/2026
آج میرا دل بہت غمگین ہے۔ ہمارے شانگلہ کے بے شمار نوجوان اور بزرگ صرف اپنے بچوں کے لیے رزق کمانے کی خاطر کوئلہ کانوں میں اترتے ہیں۔ افسوس کہ کئی بار وہ شام کو اپنے گھروں کی طرف واپس نہیں لوٹتے۔ کہیں ایک گھر کا واحد سہارا چلا جاتا ہے، کہیں دو بھائی، کہیں تین بھائی، اور کہیں ایک ہی خاندان کے کئی افراد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جاتے ہیں۔
ہمیں خود سے ایک سوال ضرور پوچھنا چاہیے: آخر کب تک؟
کیا شانگلہ کے لوگوں کی قسمت صرف خطرناک کانوں میں کام کرنا ہے؟ ہرگز نہیں۔
ہمارے علاقے میں صلاحیتوں کی کمی نہیں، مواقع کی کمی ہے۔ اگر حکومت، منتخب نمائندے اور متعلقہ ادارے سنجیدگی سے کام کریں تو حالات بدل سکتے ہیں۔
سب سے پہلے کوئلہ کانوں میں جدید حفاظتی نظام، گیس ڈیٹیکٹر، بہتر وینٹیلیشن، حفاظتی تربیت اور سخت نگرانی لازمی ہونی چاہیے تاکہ کسی ماں کی گود اجڑنے سے بچ سکے۔
لیکن صرف حفاظت کافی نہیں۔ ہمیں شانگلہ میں نئے روزگار بھی پیدا کرنے ہوں گے۔ سیاحت کو فروغ دیا جائے، زراعت اور باغبانی کو جدید بنایا جائے، نوجوانوں کو فنی تعلیم دی جائے، چھوٹی صنعتیں قائم کی جائیں، اور تعلیم و انٹرنیٹ کے ذریعے آن لائن روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں۔ جب اپنے علاقے میں باعزت روزگار ہوگا تو لوگ مجبوری میں اپنی جان خطرے میں ڈالنے پر مجبور نہیں ہوں گے۔
یہ کسی ایک سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں، یہ انسانی جانوں کا مسئلہ ہے۔ ہر منتخب نمائندے، ہر سرکاری ادارے اور ہر کان کے مالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ محنت کشوں کی حفاظت کو اولین ترجیح دے۔
آئیے، ہم نفرت نہیں بلکہ اتحاد کے ساتھ یہ مطالبہ کریں کہ شانگلہ کے لوگوں کو محفوظ روزگار، بہتر تعلیم، ترقی اور ایک روشن مستقبل دیا جائے۔
اللہ تعالیٰ تمام مرحومین کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، ان کے اہلِ خانہ کو صبر عطا فرمائے، اور ہمارے محنت کش بھائیوں کو اپنی حفاظت میں رکھے۔
آمین۔