15/07/2026
سابقہ پی آر او پولیس اور موجودہ پروفیسر ڈاکٹر عامر نظیر کہتے ہیں: “پولیس میں تھا تو دن کی تقریباً 250 کالز آتی تھیں۔ کوئی ‘سر’ کہہ رہا ہوتا، کوئی ‘بھائی’ اور کوئی ‘محترم’۔ مگر جب سے محکمہ چھوڑا ہے، پورے دن میں صرف 3 لوگوں کی کالز آتی ہیں۔ ایک بیوی کی، ایک بچوں کی، اور ایک اس بندے کی جسے ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ میں محکمہ چھوڑ چکا ہوں۔
وہ کال کر کے کہتا ہے: ‘سر، یہ کام کروا دیں۔’ جب میں بتاتا ہوں کہ میں محکمہ چھوڑ چکا ہوں تو وہ صرف ‘اوکے’ کہہ کر کال بند کر دیتا ہے۔ یہ بھی نہیں پوچھتا کہ اب کیا کر رہے ہو یا محکمہ کیوں چھوڑا۔”
ڈاکٹر عامر نظیر کہتے ہیں کہ اس تجربے نے انہیں ایک بڑی حقیقت سمجھا دی۔ زیادہ تر لوگ آپ کی عزت آپ کی ذات کی نہیں بلکہ آپ کے عہدے، اختیار اور اپنے کام کی وجہ سے کرتے ہیں۔ جب عہدہ ختم ہو جاتا ہے تو بہت سے تعلقات بھی خود بخود ختم ہو جاتے ہیں۔