Nida's TaleVerse

Nida's TaleVerse ​📜 Where human emotions meet the magic of ink.
✨ Exploring the depths of the mind through the beauty of words.
💜 Welcome to my universe of thoughts.

عنوان: ایمان دار چڑیالکھاری: ندا عنبرین ایک سرسبز جنگل میں ایک ننھی سی چڑیا رہتی تھی جس کا نام چنو تھا۔ چنو اگرچہ بہت چھ...
30/06/2026

عنوان: ایمان دار چڑیا
لکھاری: ندا عنبرین
ایک سرسبز جنگل میں ایک ننھی سی چڑیا رہتی تھی جس کا نام چنو تھا۔ چنو اگرچہ بہت چھوٹی تھی، مگر اس کا دل بہت بڑا اور صاف تھا۔ وہ ہمیشہ سچ بولتی، کسی کا حق نہیں مارتی اور ہر جانور کی مدد کرنے کی کوشش کرتی تھی۔ جنگل کے سب پرندے اس کی تعریف کرتے تھے، مگر کچھ جانور اس کی ایمانداری کو صرف ایک کمزوری سمجھتے تھے۔

ایک صبح چنو اپنے بچوں کے لیے دانے تلاش کرنے نکلی۔ وہ درختوں کے درمیان اڑتی ہوئی ایک بڑے برگد کے درخت کے پاس پہنچی۔ اچانک اس کی نظر ایک چمکتی ہوئی سونے کی تھیلی پر پڑی۔ اس نے حیرت سے تھیلی کو چونچ میں اٹھایا اور کھول کر دیکھا تو اس میں سونے کے سکے تھے۔

چنو نے سوچا، "اگر میں یہ تھیلی اپنے پاس رکھ لوں تو میرے بچوں کو کبھی کھانے کی کمی نہیں ہوگی۔" مگر اگلے ہی لمحے اس کے دل نے کہا، "یہ میری نہیں ہے۔ کسی نہ کسی کی امانت ہے، اور امانت میں خیانت کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔"

اس نے فیصلہ کیا کہ وہ تھیلی کے اصل مالک کو تلاش کرے گی۔

چنو پورے جنگل میں اڑتی رہی۔ وہ ہر جانور سے پوچھتی، "کیا کسی کی سونے کی تھیلی گم ہوئی ہے؟" مگر سب نے انکار کر دیا۔

کچھ دیر بعد لومڑی وہاں آئی۔ اس نے تھیلی دیکھی تو لالچ میں آ گئی۔ وہ بولی، "ارے چنو! یہ تھیلی میری ہے۔ صبح جلدی میں مجھ سے گر گئی تھی۔"

چنو نے نرمی سے پوچھا، "اگر یہ تمہاری ہے تو بتاؤ اس میں کتنے سکے ہیں؟"

لومڑی گھبرا گئی۔ اس نے اندازہ لگاتے ہوئے کہا، "شاید... پچاس ہوں گے۔"

چنو نے تھیلی کھول کر دیکھی۔ اس میں سو سکے تھے۔ وہ سمجھ گئی کہ لومڑی جھوٹ بول رہی ہے۔ اس نے تھیلی واپس بند کر دی اور کہا، "معاف کرنا، یہ تمہاری نہیں ہے۔"

لومڑی شرمندہ ہو کر وہاں سے چلی گئی۔

چند گھنٹے بعد ایک بوڑھا کبوتر پریشان حالت میں اڑتا ہوا آیا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ وہ ہر ایک سے پوچھ رہا تھا، "کیا کسی نے میری سونے کی تھیلی دیکھی ہے؟ وہ میرے پورے خاندان کی جمع پونجی تھی۔"

چنو فوراً اس کے پاس گئی اور محبت سے بولی، "اگر آپ بتا دیں کہ تھیلی میں کیا ہے، تو شاید میں آپ کی مدد کر سکوں۔"

بوڑھے کبوتر نے کہا، "اس میں سو سونے کے سکے ہیں اور ایک چھوٹا سا نیلا پر لگا ہوا ہے، جو میری مرحوم بیوی کی نشانی ہے۔"

چنو نے تھیلی کھولی تو واقعی اندر ایک نیلا پر بھی موجود تھا۔ اسے یقین ہو گیا کہ یہی اصل مالک ہے۔

چنو نے مسکراتے ہوئے تھیلی بوڑھے کبوتر کے حوالے کر دی۔

بوڑھا کبوتر خوشی سے رو پڑا۔ اس نے کہا، "بیٹی! تم چاہتیں تو یہ خزانہ اپنے پاس رکھ سکتی تھیں، مگر تم نے ایمانداری کو چنا۔ اللہ ایسے لوگوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔"

اس نے انعام کے طور پر چند سکے چنو کو دینے چاہے، مگر چنو نے ادب سے کہا، "میں نے یہ کام انعام کے لیے نہیں کیا۔ مجھے خوشی ہے کہ آپ کی امانت آپ کو واپس مل گئی۔"

کبوتر نے دعا دی، "اللہ تمہارے رزق میں ہمیشہ برکت دے اور تمہارے بچوں کو خوش رکھے۔"

یہ سب منظر جنگل کے بادشاہ شیر نے بھی دیکھا تھا۔ وہ چنو کی ایمانداری سے بہت متاثر ہوا۔ اس نے تمام جانوروں کو جمع کیا اور اعلان کیا، "آج سے چنو جنگل کی سب سے قابلِ اعتماد چڑیا ہوگی۔ اگر کسی کو اپنی کوئی قیمتی چیز محفوظ رکھنی ہو تو وہ چنو کے پاس امانت رکھ سکتا ہے، کیونکہ ایماندار انسان یا پرندہ سب سے بڑی دولت ہوتا ہے۔"

اس دن کے بعد جنگل کے تمام جانور چنو کی بہت عزت کرنے لگے۔ جو جانور پہلے اس کی ایمانداری کا مذاق اڑاتے تھے، وہ بھی اس سے معافی مانگنے آئے۔

چنو اپنے بچوں کو ہمیشہ ایک ہی نصیحت کرتی، "بیٹا! دولت، طاقت اور خوبصورتی ایک دن ختم ہو سکتی ہے، مگر ایمانداری وہ خزانہ ہے جو ہمیشہ انسان کو عزت دلاتا ہے".

عنوان : چالاک خرگوشلکھاری : ندا عنبرین ایک زمانے کی بات ہے، ایک سرسبز اور خوبصورت جنگل میں بہت سے جانور رہتے تھے۔ اسی جن...
29/06/2026

عنوان : چالاک خرگوش
لکھاری : ندا عنبرین
ایک زمانے کی بات ہے، ایک سرسبز اور خوبصورت جنگل میں بہت سے جانور رہتے تھے۔ اسی جنگل میں ایک ننھا خرگوش بھی رہتا تھا۔ وہ جسم سے کمزور تھا، مگر بے حد ذہین، حاضر دماغ اور سمجھدار تھا۔ جنگل کے سب جانور اس سے محبت کرتے تھے، کیونکہ وہ ہمیشہ دوسروں کی مدد کرتا اور کسی کو نقصان نہیں پہنچاتا تھا۔

اسی جنگل میں ایک خطرناک بھیڑیا بھی رہتا تھا۔ وہ اکثر چھوٹے جانوروں کا شکار کرتا اور اپنی طاقت پر بہت غرور کرتا تھا۔ ایک دن وہ کئی گھنٹوں سے بھوکا تھا اور شکار کی تلاش میں جنگل میں گھوم رہا تھا۔ اچانک اس کی نظر خرگوش پر پڑی۔ بھیڑیا خوش ہو گیا اور بولا، "آج تو میرا کھانا خود چل کر میرے پاس آ گیا ہے۔"

خرگوش نے بھیڑیے کو دیکھا تو ایک لمحے کے لیے گھبرا گیا، مگر اس نے ہمت نہیں ہاری۔ وہ جانتا تھا کہ اگر گھبراہٹ کا مظاہرہ کرے گا تو اس کی جان بچنا مشکل ہو جائے گا۔ اس نے فوراً ایک ترکیب سوچی اور ادب سے بولا، "بھیڑیا صاحب! اگر آپ مجھے کھانا ہی چاہتے ہیں تو ضرور کھا لیجیے، لیکن پہلے میری ایک بات سن لیں۔"

بھیڑیا حیران ہوا اور بولا، "جلدی بولو، میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔"

خرگوش نے کہا، "اس جنگل میں ایک اور خرگوش رہتا ہے جو مجھ سے کہیں زیادہ موٹا اور صحت مند ہے۔ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو اس کے پاس لے چلتا ہوں۔ پھر آپ کا پیٹ بھی اچھی طرح بھر جائے گا۔"

لالچی بھیڑیا فوراً اس کی بات مان گیا۔ خرگوش آہستہ آہستہ اسے جنگل کے ایک پرانے کنویں کے پاس لے گیا۔ کنواں بہت گہرا تھا اور اس میں صاف پانی بھرا ہوا تھا۔ خرگوش نے کنویں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، "وہ خرگوش اسی کے اندر چھپا ہوا ہے۔"
بھیڑیا غصے سے کنویں کے کنارے پہنچا اور اندر جھانکا۔ پانی میں اسے اپنی ہی پرچھائی دکھائی دی۔ اسے لگا کہ واقعی ایک دوسرا بھیڑیا اور خرگوش اندر موجود ہیں۔ اس نے زور سے غرایا تو آواز کی بازگشت واپس آئی۔ اب اسے یقین ہو گیا کہ اندر موجود جانور اسے للکار رہے ہیں۔

غصے میں اندھا ہو کر بھیڑیا زور سے کنویں میں کود پڑا۔ پانی بہت گہرا تھا۔ وہ باہر نکلنے کی کوشش کرتا رہا، مگر بار بار پھسل جاتا۔ بڑی مشکل سے وہ اپنی جان بچا سکا، لیکن وہ بری طرح تھک گیا اور شرمندہ بھی ہوا۔

ادھر خرگوش تیزی سے بھاگتا ہوا اپنے بل میں پہنچ گیا۔ اس کے دوست جانور اس کی خیریت دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ جب خرگوش نے سارا واقعہ سنایا تو سب نے اس کی عقل اور حاضر دماغی کی تعریف کی۔ اس دن کے بعد بھیڑیا بھی سمجھ گیا کہ صرف طاقت پر غرور کرنا دانشمندی نہیں، کیونکہ کبھی کبھی ایک چھوٹا سا جانور بھی اپنی عقل سے بڑے اور طاقتور دشمن کو شکست دے سکتا ہے۔

28/06/2026

کبھی کبھی خاموش رہ جانا ہار مان لینا نہیں ہوتا، بلکہ خود کو بچا لینا ہوتا ہے۔ ہر بات کا جواب لفظوں سے نہیں دیا جاتا, کچھ لوگ وقت سے سمجھتے ہیں اور کچھ کبھی سمجھتے ہی نہیں ۔ اس لیے یاد رکھیں کہ اپ کو اپنے دل کا سکون ہر بحث پہ قربان نہیں کرنا، کیونکہ سکون وہ نعمت ہے جو ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوتا ۔

کبھی غور کیا ہے۔۔۔؟کچھ لوگ ہماری زندگی میں صرف چند دن رہتے ہیں لیکن ہمیں برسوں کا سبق دے جاتے ہیں، شاید اسی لیے کہتے ہیں...
27/06/2026

کبھی غور کیا ہے۔۔۔؟
کچھ لوگ ہماری زندگی میں صرف چند دن رہتے ہیں لیکن ہمیں برسوں کا سبق دے جاتے ہیں، شاید اسی لیے کہتے ہیں کہ زندگی کا اصل استاد وقت اور تجربہ ہوتا ہے، کیونکہ یہ ہمیں وہ سکھا دیتا ہے جو کوئی کتاب نہیں سکھاتی
اورانہی تجربات کے درمیان کچھ لمحات ایسے بھی آتے ہیں جب ہم ٹوٹتے ہیں،
خاموش رہتے ہیں، خود سے لڑتے ہیں، پھر آہستہ آہستہ اپنے بکھرے ہوئے وجود کو سمیٹتے ہیں، یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جو ہمیں پہلے سے زیادہ سمجھدار بنا دیتے ہیں ہمیں مزید مضبوط بناتے ہیں،ہمیں زندگی میں آنے والی رکاوٹوں سے لڑنا سکھا دیتے ہیں۔
اس لیے اگلی بار اگر زندگی آپ سے کچھ چھین لے تو صرف نقصان مت دیکھیے بلکہ یہ دیکھیے کہ وہ آپ کو کیا سکھا کر جا رہی ہے؟
کیونکہ ہر ازمائش انسان کو کمزور کرنے نہیں، بلکہ پہلے سے زیادہ مضبوط بنانے اتی ہے۔

Address

Sheikhupura

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Nida's TaleVerse posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share