30/06/2026
عنوان: ایمان دار چڑیا
لکھاری: ندا عنبرین
ایک سرسبز جنگل میں ایک ننھی سی چڑیا رہتی تھی جس کا نام چنو تھا۔ چنو اگرچہ بہت چھوٹی تھی، مگر اس کا دل بہت بڑا اور صاف تھا۔ وہ ہمیشہ سچ بولتی، کسی کا حق نہیں مارتی اور ہر جانور کی مدد کرنے کی کوشش کرتی تھی۔ جنگل کے سب پرندے اس کی تعریف کرتے تھے، مگر کچھ جانور اس کی ایمانداری کو صرف ایک کمزوری سمجھتے تھے۔
ایک صبح چنو اپنے بچوں کے لیے دانے تلاش کرنے نکلی۔ وہ درختوں کے درمیان اڑتی ہوئی ایک بڑے برگد کے درخت کے پاس پہنچی۔ اچانک اس کی نظر ایک چمکتی ہوئی سونے کی تھیلی پر پڑی۔ اس نے حیرت سے تھیلی کو چونچ میں اٹھایا اور کھول کر دیکھا تو اس میں سونے کے سکے تھے۔
چنو نے سوچا، "اگر میں یہ تھیلی اپنے پاس رکھ لوں تو میرے بچوں کو کبھی کھانے کی کمی نہیں ہوگی۔" مگر اگلے ہی لمحے اس کے دل نے کہا، "یہ میری نہیں ہے۔ کسی نہ کسی کی امانت ہے، اور امانت میں خیانت کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔"
اس نے فیصلہ کیا کہ وہ تھیلی کے اصل مالک کو تلاش کرے گی۔
چنو پورے جنگل میں اڑتی رہی۔ وہ ہر جانور سے پوچھتی، "کیا کسی کی سونے کی تھیلی گم ہوئی ہے؟" مگر سب نے انکار کر دیا۔
کچھ دیر بعد لومڑی وہاں آئی۔ اس نے تھیلی دیکھی تو لالچ میں آ گئی۔ وہ بولی، "ارے چنو! یہ تھیلی میری ہے۔ صبح جلدی میں مجھ سے گر گئی تھی۔"
چنو نے نرمی سے پوچھا، "اگر یہ تمہاری ہے تو بتاؤ اس میں کتنے سکے ہیں؟"
لومڑی گھبرا گئی۔ اس نے اندازہ لگاتے ہوئے کہا، "شاید... پچاس ہوں گے۔"
چنو نے تھیلی کھول کر دیکھی۔ اس میں سو سکے تھے۔ وہ سمجھ گئی کہ لومڑی جھوٹ بول رہی ہے۔ اس نے تھیلی واپس بند کر دی اور کہا، "معاف کرنا، یہ تمہاری نہیں ہے۔"
لومڑی شرمندہ ہو کر وہاں سے چلی گئی۔
چند گھنٹے بعد ایک بوڑھا کبوتر پریشان حالت میں اڑتا ہوا آیا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ وہ ہر ایک سے پوچھ رہا تھا، "کیا کسی نے میری سونے کی تھیلی دیکھی ہے؟ وہ میرے پورے خاندان کی جمع پونجی تھی۔"
چنو فوراً اس کے پاس گئی اور محبت سے بولی، "اگر آپ بتا دیں کہ تھیلی میں کیا ہے، تو شاید میں آپ کی مدد کر سکوں۔"
بوڑھے کبوتر نے کہا، "اس میں سو سونے کے سکے ہیں اور ایک چھوٹا سا نیلا پر لگا ہوا ہے، جو میری مرحوم بیوی کی نشانی ہے۔"
چنو نے تھیلی کھولی تو واقعی اندر ایک نیلا پر بھی موجود تھا۔ اسے یقین ہو گیا کہ یہی اصل مالک ہے۔
چنو نے مسکراتے ہوئے تھیلی بوڑھے کبوتر کے حوالے کر دی۔
بوڑھا کبوتر خوشی سے رو پڑا۔ اس نے کہا، "بیٹی! تم چاہتیں تو یہ خزانہ اپنے پاس رکھ سکتی تھیں، مگر تم نے ایمانداری کو چنا۔ اللہ ایسے لوگوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔"
اس نے انعام کے طور پر چند سکے چنو کو دینے چاہے، مگر چنو نے ادب سے کہا، "میں نے یہ کام انعام کے لیے نہیں کیا۔ مجھے خوشی ہے کہ آپ کی امانت آپ کو واپس مل گئی۔"
کبوتر نے دعا دی، "اللہ تمہارے رزق میں ہمیشہ برکت دے اور تمہارے بچوں کو خوش رکھے۔"
یہ سب منظر جنگل کے بادشاہ شیر نے بھی دیکھا تھا۔ وہ چنو کی ایمانداری سے بہت متاثر ہوا۔ اس نے تمام جانوروں کو جمع کیا اور اعلان کیا، "آج سے چنو جنگل کی سب سے قابلِ اعتماد چڑیا ہوگی۔ اگر کسی کو اپنی کوئی قیمتی چیز محفوظ رکھنی ہو تو وہ چنو کے پاس امانت رکھ سکتا ہے، کیونکہ ایماندار انسان یا پرندہ سب سے بڑی دولت ہوتا ہے۔"
اس دن کے بعد جنگل کے تمام جانور چنو کی بہت عزت کرنے لگے۔ جو جانور پہلے اس کی ایمانداری کا مذاق اڑاتے تھے، وہ بھی اس سے معافی مانگنے آئے۔
چنو اپنے بچوں کو ہمیشہ ایک ہی نصیحت کرتی، "بیٹا! دولت، طاقت اور خوبصورتی ایک دن ختم ہو سکتی ہے، مگر ایمانداری وہ خزانہ ہے جو ہمیشہ انسان کو عزت دلاتا ہے".