25/01/2025
تحریر: محسن شاد
پولیس کے کرائم فائٹر افسران جرائم پیشہ مافیا کے نشانے پر۔
شیخوپورہ پولیس میں کرائم فائٹر آفیسران جن میں چند گنے چنے نام ہیں جنہوں نے منشیات فروشوں اور رسہ گیروں، کو لگام ڈالنے میں اہم کردار ادا کیا اور جس پولیس اسٹیشن میں بھی تعینات ہوئے ہر سفارش کو بالائے طاق رکھ کر ان سماج دشمن عناصر کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری رکھیں یہی وجہ ہے کہ ہزاروں نوجوان منشیات جیسی لعنت سے محفوظ رہے جب یہ مافیا ہر حربے میں ناکام رہا تو انہوں نے احساس اداروں میں بیٹھی کالی بھیڑوں سے مبینہ طور پر ساز باز ہو کر ان آفیسر جن میں تھانہ مانانوالہ کے ایس ایچ او شہباز نجمی سمیت چار اور تھانوں میں تعینات آفیسران کے خلاف جھوٹ پر مبنی رپورٹس مرتب کروائی اور وہ ان کے اعلی افسران تک پہنچانے میں بھی اپنا اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے بہت بڑے پیمانے پر ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نا اٹھا رکھی ہے اور حساس ادارے کی کالی بھیڑیں کرپٹ ایس ایچ اوز سے منتھلی لیکر ان کی سب اچھا کی رپورٹ دیتی ھیں ۔مگر اس کے باجود شہباز نجمی بختیار بھٹی اور دیگر افسران ان سماج دشمن عناصر اور منشیات فروشی کا دھندہ کرنے والے بااثر کالی بھیڑوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں آر پی او شیخوپورہ اور ڈی پی او شیخوپورہ بلال ظفر شیخ سے میری گزارش ہے کہ ایسے افراد جن کا گھناؤنا دھندہ بند ہوچکا ہے ان کی طرف سے مبینہ طور پر ساز باز ہو کر بنوائی گئیں رپورٹس کا مکمل اور حقائق پر مبنی جائزہ لے کر ایسے کالی بھیڑوں کی سازشوں کو ناکام بنائیں اور حساس اداروں میں چھپے مکروہ چہروں کو بھی سامنے لایئں تاکہ شیخوپورہ پولیس کے یہ افسران اپنے ڈیوٹیاں مزید مضبوط عزم کے ساتھ ادا کر سکیں بصورت دیگر یہ کالی بھیڑیں محکمہ پولیس کے افسران کو ایسے ہی بلیک میل کرتے رہیں گے اور پولیس نا تو منشیات فروشوں کے خلاف کارروائی کر سکے گی اور ناہی جرائم پیشہ عناصر کو لگام ڈالے گی کیونکہ جس کا جب دل چاہے گا ایسی ہے جھوٹی اور من گھڑت کہانیوں پر مبنی رپورٹس بنوا کر پولیس کو بلیک میل کرتا رہے گا اور شہر شیخوپورہ میں لا اینڈ آرڈر کی صورت حال بدتر سے بدتر ہوتی جائے گی۔