06/05/2026
عوامی عدالت میں ایک دردناک پکار: سوار گلی بوئی روڈ یا نااہلی کا شاہکار؟
"دنیا مریخ پر پہنچ گئی، اور ہم آج بھی گڑھوں میں زندگی تلاش کر رہے ہیں!"
آج بہت دکھ اور کرب کے ساتھ یہ تصاویر آپ سب کے سامنے رکھ رہا ہوں۔ یہ ہے وہ سوار گلی بوئی روڈ جس پر چلتے ہوئے اب انسانوں کو تو چھوڑیں، جانوروں کو بھی تکلیف ہوتی ہے۔ ہم 21ویں صدی میں جی رہے ہیں، جہاں دنیا مصنوعی ذہانت، جدید یونیورسٹیز، آئی ٹی سٹی اور مریخ پر انسانی بستیوں کی باتیں کر رہی ہے، لیکن افسوس کہ ہمارے علاقے کے لوگ آج بھی سڑک، بجلی اور پانی جیسے بنیادی انسانی حقوق کے لیے ترس رہے ہیں۔
کیا ہم صرف ووٹ بینک ہیں؟
ہمارے منتخب ایم این اے (MNA) اور ایم پی اے (MPA) صاحبان کو شاید الیکشن کے بعد عوام کی چیخیں سنائی نہیں دیتیں۔ ان کے گرد گھومنے والا 'خوشامدی ٹولہ' صرف چمچاگيری اور سوشل میڈیا پر جھوٹی سیلفیاں اپ لوڈ کرنے میں مصروف ہے، جبکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ یہ سڑک اب ایک خونی حادثے کا انتظار کر رہی ہے۔
شرم کا مقام ہے! جس عوام نے آپ کو عزت دی، آپ کو ایوانوں تک پہنچایا، آج وہی عوام کیچڑ اور پتھروں والے راستوں پر ذلیل ہو رہی ہے۔ اگر آپ ایک سڑک نہیں بنا سکتے تو آپ کو ترقی کے دعوے کرنے کا کوئی حق نہیں۔ یاد رکھیں، یہ وہی عوام ہے جو آپ کو کرسی پر بٹھانا جانتی ہے تو کرسی سے اتارنا بھی جانتی ہے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس سڑک کی فوری تعمیر کا کام شروع کیا جائے، ورنہ ہمارا احتجاج اب صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں رہے گا۔
👤 مہتاب تماس عباسی
📢 پلک کی آواز
(حلقہ: سوار گلی بوئی روڈ)