Abid Wasim

Abid Wasim Content creator and storytelling host with Ai cinematic documentary

Eid UL Adha Mubarak
27/05/2026

Eid UL Adha Mubarak

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Umar Wahid, Ijaz Ahmed, Kamran Kamran, MA Kareem, Sami Af...
19/05/2026

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Umar Wahid, Ijaz Ahmed, Kamran Kamran, MA Kareem, Sami Afridi, Tariq Mehmood Kahlo, Aliyu Alhafis, Hanif Urhman, Saleem Saleem, Ali Asghar, Fidha Ahmad, Gulamabbas Ahmed Merali, Shaikh Babar Iqbal, Muhammad Akther, Sanatan Deka, Daqqarama Ilmoo Fitina

14/05/2026

ریاست مدینہ ایک عالمی انقلاب قبل از اسلام کا سیاسی منظر نامہ پارٹ 7
゚viralシ

06/05/2026

الحمدللہ رب العالمین اے اللہ میرے بچوں کو لوگوں کی فلاح کا وسیلہ بنانا آمین یارب العالمین
゚viralシ

"سورہ الملک"سورہ الملک میں کہیں بھی قبر کا ذکر نہیں ہے۔پھر بھی نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ (سورت) آپ کو قبر کے عذاب سے بچ...
05/05/2026

"سورہ الملک"
سورہ الملک میں کہیں بھی قبر کا ذکر نہیں ہے۔
پھر بھی نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ (سورت) آپ کو قبر کے عذاب سے بچاتی ہے۔

کیونکہ قبر وہ جگہ نہیں ہے جہاں سوال و جواب شروع ہوتے ہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں دکھاوا اور بناوٹ ختم ہو جاتی ہے، اور سورہ الملک سطر بہ سطر انسان کے فریب کو پاش پاش کر دیتی ہے۔ سورہ الملک کا آغاز آپ سے آپ کی دنیا چھین کر ہوتا ہے، پھر آپ کا تحفظ، اور پھر آپ کے حواس۔

یہ سورت آپ کو ہر چیز سے اس طرح عاری کر دیتی ہے کہ قبر کے پاس کچلنے کے لیے کچھ باقی نہیں بچتا۔

"بڑی برکت والی ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں (کائنات کی) سلطنت ہے..." (67:1)

اس سے پہلے کہ (قبر میں) سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہو، یہ سورت صرف ایک سوال کرتی ہے:
حقیقت میں تمہارا مالک کون تھا؟ ہر آیت آپ کی انا (Ego) کو حکمت کے ساتھ پاش پاش کرنے کا ایک ذریعہ ہے:

کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کے پاس طاقت ہے؟ بادشاہی صرف اللہ کے پاس ہے۔

کیا آپ خود کو محفوظ سمجھتے ہیں؟ یہ زمین آپ کو نگل سکتی ہے۔

کیا آپ خود کو آزاد اور خودمختار سمجھتے ہیں؟ پرندے بھی فضاؤں میں اسی کے حکم سے تھمے ہوئے ہیں۔

قبر محض ان جھوٹوں کو بے نقاب کر دیتی ہے جن کے سہارے آپ زندگی گزارتے رہے۔

تمام ڈگریاں، تمام تر چالاکیاں، اور تمام تر عہدے و مقام—سب بے معنی ہیں اس تکرار اور مرکزی خیال پر غور کریں:

کیا تم دیکھتے نہیں؟ کیا تم سنتے نہیں؟
قبر کا عذاب ایک خاص پچھتاوے میں جڑا ہوا ہے:
"کاش ہم سنتے یا عقل سے کام لیتے..." (67:10)۔

بات یہ نہیں تھی کہ وہ سچائی نہیں جانتے تھے۔ بات یہ تھی کہ انہوں نے (اپنی زندگی پر) اپنے اختیار کے فریب کو چنا تھا۔ سورہ الملک ایک بچانے سورت اس لیے ہے کیونکہ یہ روزانہ آپ کی روح کا احتساب کرتی ہے۔
یہ آپ سے درج ذیل دھوکے چھین لیتی ہے:
• اپنے حالات پر اختیار رکھنے کا فریب۔
• ہمیشگی کا فریب۔
• یہ فریب کہ آپ کا مقام و مرتبہ، آپ کا جسم، یا آپ کی آواز کبھی آپ کی ملکیت تھے۔

جب تک آپ اس سورت کی تلاوت مکمل کرتے ہیں، آپ خود کو چھوٹا محسوس کرنے لگتے ہیں۔ آپ بے بس ہوتے ہیں۔ آپ کسی کی ملکیت ہوتے ہیں۔
اور یہی وہ اصل راز ہے۔ قبر تاریک، تنگ اور حتمی ہے۔
اگر آپ اپنی انا، اپنی بصیرت، اپنے تحفظ، اپنی عقل اور اپنے وسائل کے زعم میں بھرے ہوئے وہاں داخل ہوئے، تو وہ آپ کو کچل دے گی۔

لیکن اگر آپ سورہ الملک کے ذریعے خود کو (غرور سے) خالی کر کے اور اپنی انا کو پاش پاش کر کے وہاں پہنچے، تو قبر کے پاس بھینچنے کے لیے کچھ باقی نہیں بچے گا۔

قبر اپنوں سے باز پرس نہیں کرتی۔
وہاں تو صرف اس بندے کی پہچان ہوتی ہے جو آخر کار اپنے گھر لوٹ آیا ہے۔
"اور وہ زبردست (غالب) ہے، بڑا بخشنے والا ہے۔" (67:2) یہ سورہ آپ کو ہر چیز سے اس طرح عاری کر دیتی ہے کہ قبر کے پاس کچلنے کے لیے کچھ باقی نہیں بچتا۔
آج رات، اسے پڑھیں۔
نیند کی چھوٹی موت سے پہلے، چابیاں اصل مالک کے حوالے کر دیں۔

یہ سورت آپ کی حفاظت اس لیے کرتی ہے کیونکہ یہ آپ کو "مرنے سے پہلے مرنا" سکھاتی ہے۔ اگر اس تحریر نے آپ کے دل پر دستک دی ہو، تو اسے دوسروں سے شیئر کریں اور مزید اصلاحی مواد کے لیے فالو کریں

شیخ سعدی اپنی تحریروں میں بیان فرماتے ہیں میں اپنے والد صاحب کے ساتھ ایک سفر پر تھا ہمیں دوران سفر ایک سرائے میں ٹھہر نا...
04/05/2026

شیخ سعدی اپنی تحریروں میں بیان فرماتے ہیں میں اپنے والد صاحب کے ساتھ ایک سفر پر تھا ہمیں دوران سفر ایک سرائے میں ٹھہر نا پڑارات کے وقت میرے والد صاحب نے مجھ تہجد کی نماز کے لیے اٹھایا میں نے اٹھ کر وضو کیا اور اس کے بعد تہجد کی نماز ادا کی اب بعد نماز میرے والد تو اپنے ور دو ظائف میں مشغول ہو گئے اور میں فارغ تھا میرے دل میں سرائے میں سوئے ہوئے دوسرے مسافروں کے متعلق خیال پیدا ہوا یہ سارے لوگ کس قدر بے خبری کی نیند سوئے ہوئے ہیں ان کی حالت مردوں جیسی ہے اور اگر یہ اٹھ کر تہجد ہی اذا کر لیتے تو کیا حرج تھا میں نے اپنا یہ خیال والد صاحب پر ظاہر کر دیا۔

انہوں نے خشم گین نگاہوں سے میری طرف دیکھتے ہوئے فرمایا اگر تم بھی ان مسافروں کی طرح سوئے رہتے تو کتنا بہتر ہوتا کیونکہ یہ سوئے ہوئے مسافر تم سے کئی گنا زیادہ بہتر ہیں تم جاگ کر تہجد پڑھتے ہو مگر غیبت کر کے ان کا ثواب ضائع کر دیا جب کہ جن مسافروں کی تم نے غیبت کی ہے وہ تمہارے تجدوں کا ثواب بھی لے گئے

اور رات کا آرام بھی حاصل کرتے رہے اور تمہاری نیند بھی ر بھی گئی اور ثواب بھی۔“

04/05/2026

ریاست مدینہ ایک عالمی انقلاب
قبل از اسلام کا سیاسی منظر نامہ پارٹ 6

ابو لہب اور اس کی بیوی کی عبرت ناک موت ابو لہب کا اصل نام عبد العزیٰ بن عبدالمطلب اور کُنیت ابو عتبہ تھی۔ اپنے حُسن و جم...
03/05/2026

ابو لہب اور اس کی بیوی کی عبرت ناک موت ابو لہب کا اصل نام عبد العزیٰ بن عبدالمطلب اور کُنیت ابو عتبہ تھی۔ اپنے حُسن و جمال اور سُرخ چمکتے چہرے کی وجہ سے ابولہب یعنی’’ شعلۂ فروزاں‘‘ کہلاتا تھا۔ ویسے بھی اپنے انجام کے اعتبار سے اُسے جہنّم کی آگ کا ایندھن بننا تھا، اِس لیے قرآنِ کریم نے بھی اُسے اُس کے اصلی نام کی بجائے لہب، یعنی ’’شعلے‘‘ ہی سے پکارا ہے۔ قرآن پاک کے تیسویں پارے کی ’’سورۂ لہب ‘‘ میں اُس کے اور اُس کی بیوی، اُمّ ِ جمیل بنتِ عرب کے لیے سخت ترین سزا کی وعید ہے۔ یہ شخص، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حقیقی چچا تھا اور پڑوسی بھی۔ اسلام سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے رشتے داری پر فخر کرتا تھا، یہاں تک کہ اپنے دو بیٹوں، عتبہ اور عتیبہ کا نکاح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صاحب زادیوں، حضرت رقیہؓ اور حضرت اُمّ ِ کلثوم ؓ سے کیا، لیکن رخصتی نہیں ہوئی تھی، بعد میں اُس نے دونوں بیٹوں سے زبردستی طلاق دلوا دی۔ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خون کا پیاسا ہو گیا تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ خانوادۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے جاں نثاروں پر سب سے زیادہ تشدّد ابو لہب اور اُس کی بیوی نے کیا۔ ابو لہب اپنی بیماری یا کسی اور وجہ سے غزوۂ بدر میں شریک نہ ہو سکا تھا۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ قریش کے نام وَر اور تجربے کار جنگ جُو لڑائی سے ناآشنا انصار اور مُٹھی بھر مہاجرین سے ایسی عبرت ناک شکست کھائیں گے کہ عربوں کی تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملے گی۔ اس شرم ناک شکست کا صدمہ اُس کی برداشت سے باہر تھا۔ اُس نے ابو سفیان کے ذریعے اعلان کروا دیا کہ کسی بھی گھر سے رونے پیٹنے یا ماتم کی آواز نہ آئے۔ پورے جزیرۂ عرب میں قریش کی اس بدترین شکست سے ہونے والی بدنامی و بے عزّتی کو ابولہب برداشت نہ کر سکا۔ انتقام کے شعلوں نے اُس کے جسم میں طاعون کی گٹھلیوں کی شکل اختیار کر لی، جس سے اُٹھنے والی شدید بدبُو کے باعث سب نے اُسے تنہا کر دیا۔ بدر کی جنگ کو سات روز ہی ہوئے تھے کہ اسلام کا یہ دشمن اپنے انجام کو پہنچا۔ اُس کی بدبو دار لاش تین دن تک اُسی جگہ پڑی سڑتی رہی۔ بیٹوں اور عزیزوں میں سے کوئی بھی قریب جانے کو تیار نہ تھا کہ کہیں بیماری اُنہیں نہ لگ جائے۔ جب علاقے میں تعفّن پھیل گیا، تو لوگوں نے اُس کے بیٹوں کو بُرا بھلا کہنا شروع کردیا، جس پر اُنھوں نے چند حبشی مزدوروں سے اُجرت پر ایک گہرا گڑھا کھدوایا اور اُس میں لاش ڈال کر دور سے سے ہی پتھر برساتے رہے یہاں تک کہ وہ ان پتھروں کے نیچے دب گیا اُمِّ جمیل بنتِ حرب بن اُمیہ ابوسفیان کی بہن جو رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ سے نہایت عناد اورعداوت رکھتی تھی اور بہت دولتمند اور بڑے گھرانے کی عورت ہونے کے باوجود رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی عداوت میں اِس انتہا کو پہنچی ہوئی تھی کہ خود اپنے سر پر کانٹوں کا گٹھا لا کر رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کے راستہ میں ڈالتی تاکہ حضورپُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اورآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کے اَصحاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کو ایذا و تکلیف ہو اور حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی ایذا رسانی اس کو اتنی پیاری تھی کہ وہ اس کام میں کسی دوسرے سے مدد لینا بھی گوارا نہ کرتی تھی ۔( بیضاوی، المسد، تحت الآیۃ: ۴، ۵ / ۵۴۵، خازن، ابولہب، تحت الآیۃ: ۴، ۴ / ۴۲۵، ملتقطاً) {فِیْ جِیْدِهَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ: اس کے گلے میں کھجور کی چھال کی رسی ہے ۔ } اُمِّ جمیل کے گلے میں کھجور کی چھال سے بنی ہوئی رسی ہوتی جس سے وہ کانٹوں کا گٹھا باندھتی تھی ۔ ایک دن یہ بوجھ اٹھا کر لارہی تھی کہ تھک کر آرام لینے کے لئے ایک پتھر پر بیٹھ گئی ایک فرشتے نے اللّٰہ تعالیٰ کے حکم سے اس کے پیچھے سے اس گٹھے کو کھینچا ،وہ گرا اوراُمِّ جمیل کو رسی سے گلے میں پھانسی لگ گئی اور وہ مرگئی۔ (خازن، ابو لہب، تحت الآیۃ: ۵، ۴ / ۴۲۵) اِس گستاخ، خبیث نے دنیا میں بھی عذاب کا مزہ چکھا اور آخرت میں بھی عذاب میں جائے گی۔ آخرت میں آگ کی زنجیریں اس کے گلے میں ہوں گی اور جہنم کی لکڑیوں کا گٹھا اس کی پشت پر لدا ہوا ہوگا۔ دوستو آپ نے دیکھا کہ یہ دونوں گستاخ کس طرح عبرتناک موت مرے بد بخت چاہے اس دور کا ہو یا اس دور کا اس کا انجام یہی ہے وہ اسی طرح ذلیل ہو جائے گا۔ واللہ اعلم و رسُول اعلم ۔ میرے عزیزو اگر تحریر پڑھ لی ہے تو اس کو دوسروں تک پہنچا دیں تاکہ ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی شان ساری دنیا کو پتہ چل سکے اللہ شئیر کرنے والوں کو بہترین جزا عطا فرمائے آمین ❣️

بائیو کیمیکل ہیکنگ: شیطان، ہارمونز اور خون کا فساد۔۔۔( اسی کا شکار ابلیس بھی ہوا) قرآنِ کریم نے جب سود خوروں کی مثال دی ...
03/05/2026

بائیو کیمیکل ہیکنگ: شیطان، ہارمونز اور خون کا فساد۔۔۔( اسی کا شکار ابلیس بھی ہوا) قرآنِ کریم نے جب سود خوروں کی مثال دی تو ایک ایسی آفاقی حقیقت سے پردہ اٹھایا جس کی گہرائی تک پہنچنا انسانی عقل کے لیے ایک چیلنج تھا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ سود کھانے والے قیامت کے دن اس شخص کی طرح کھڑے ہوں گے جسے شیطان نے چھو کر باولا (مخبط) کر دیا ہو۔ یہاں "چھونے" اور "باولا" کرنے کی اصطلاح کوئی معمولی بات نہیں، بلکہ یہ انسانی وجود پر ایک ایسی بیرونی دسترس کا بیان ہے جو اسے ہوش و حواس سے بیگانہ کر دیتی ہے۔اسی طرح نبی کریمﷺ کا یہ فرمان کہ شیطان انسان کے خون میں اس طرح دوڑتا ہے جیسے گردشِ لہو، اس حقیقت پر مہر ثبت کرتا ہے کہ شیطان کا حملہ محض باہر سے نہیں بلکہ انسانی وجود کے اندرونی نظام تک رسائی رکھتا ہے۔ لیکن یہ شیطان ہے کیا؟ میرا فلسفہ یہ ہے کہ شیطان دراصل ایک آفاقی نفس (Universal Ego) کا نام ہے۔ یہ محض کسی مخصوص جن یا انسان کی ذات نہیں، بلکہ ایک ایسی سرکش توانائی ہے جس نے خود ابلیس کو بھی ابلیس بنایا۔جب یہ آفاقی نفس کسی وجود کو "چھوتا" ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس کے سوچنے سمجھنے کے تسلسل میں دست درازی کرتا ہے۔ قرآن میں جتنے بھی اخلاقی زوال کے واقعات ہیں، وہ دراصل اسی نفسانی کیفیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والا باولا پن ہے، جہاں انسان اپنی جبلتوں کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنی انسانیت کھو بیٹھتا ہے۔ آج کی جدید سائنس اس قرآنی اور نبوی حقیقت کو بائیو کیمیکل ہیکنگ کے طور پر دیکھتی ہے۔جب حدیث کہتی ہے کہ وہ خون میں دوڑتا ہے، تو اس سے مراد وہ کیمیکلز اور ہارمونز ہیں جو شیطان کے وسوسوں کے نتیجے میں ہمارے خون میں شامل ہوتے ہیں۔ جب ہم بے احتیاطی کرتے ہیں، طہارت کا لحاظ نہیں رکھتے یا ناپاکی میں رہتے ہیں، تو ہم اپنے حیاتیاتی نظام کی فائر وال کو گرا دیتے ہیں۔ مثلاً نہانے کی جگہ پیشاب کرنے جیسی بظاہر چھوٹی بے احتیاطی بھی وسوسوں کے لیے ایک بڑا دروازہ کھول دیتی ہے، جس سے شیطان کو ہمارے خون کی کیمسٹری میں مداخلت کا راستہ مل جاتا ہے۔شیطان (آفاقی نفس) مرد ہو یا عورت، اس کی اسی حس کو نشانہ بناتا ہے جو کمزور ہو۔ فحاشی اور پورن کی لت اسی ہیکنگ کی ایک بدترین شکل ہے۔ جب کوئی اس میں مبتلا ہوتا ہے، تو اس کے دماغ میں ڈوپامائن (Dopamine) کا سیلاب آ جاتا ہے جو اسے ایک باولا انسان بنا دیتا ہے۔ وہ اپنے ازواجی رشتوں اور پارٹنر کو دھوکہ دینے لگتا ہے کیونکہ اس کے ہارمونز کا توازن ہیک ہو چکا ہوتا ہے۔اسی طرح دولت کا لالچ خون میں کورٹیسول (Cortisol) اور ایڈرینلائن (Adrenaline) کی مقدار بڑھا دیتا ہے، جو انسان کو مستقل بے چینی اور مادی ہوس میں مبتلا رکھتا ہے۔ غیبت، تجسس اور شک کے پیچھے وہ انزائمز (MAO) ہوتے ہیں جو انسان کے اندر وہم پیدا کر کے اسے معاشرے کے لیے ایک مخبط شخص بنا دیتے ہیں۔چاہے اح**ام ہو، دولت جمع کرنے کی حرص ہو، شوقِ غیبت و بہتان ہو یا رشتوں میں تجسس سے دراڑیں ڈالنا اور شک پیدا کرنا ہو، دراصل ان سب کا اصل محرک خون ہے جس میں موجود کیمیائی عدم توازن انسان کو نارمل رویوں سے دور لے جاتا ہے۔ اسی لیے ان تمام برائیوں سے نجات کے لیے خون کی صفائی اور اس کے کیمیائی توازن کی بحالی ضروری ہے۔ سائنس ان نفسیاتی امراض کا علاج صرف ادویات میں ڈھونڈتی ہے، لیکن اصل علاج اس ہیکنگ کو ختم کرنے اور خون کی صفائی میں ہے۔جب تک خون کے اندر موجود وہ زہریلے کیمیکلز پاک نہیں ہوں گے، شیطان کی دسترس ختم نہیں ہوگی۔ اسی لیے جدید سائنس اب ان طریقوں کی طرف آ رہی ہے جو صدیوں سے مذہب کا حصہ رہے ہیں۔ آٹو فیجی (Autophagy): سائنسی طور پر جب انسان ایک طویل وقت تک بھوکا رہتا ہے، تو اس کے جسم کے خلیے اپنے اندر موجود زہریلے شیطانی مادوں اور ناکارہ پروٹین کو خود ہی ہضم کر کے خون کو صاف کر دیتے ہیں۔ تمام مذاہب میں اس عمل کو روزہ کہا جاتا ہے۔ہائیڈرو تھراپی (Hydrotherapy): پانی کے مالیکیولز جب جسم کے مخصوص اعصابی مراکز پر لگتے ہیں، تو وہ خون کے اندر موجود الیکٹرک چارج کو متوازن کر کے کورٹیسول کے لیول کو نیچے لاتے ہیں اور ہیک شدہ اعصاب کو ری سیٹ کر دیتے ہیں۔ اسلام میں اسے وضو اور غسل سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ نیورو پلاسٹی سٹی (Neuroplasticity): دماغ کے خلیوں میں پاکیزہ جملوں کی تکرار گناہ کے پرانے اعصابی راستوں کو بلاک کر کے سافٹ ویئر کو ری رائٹ کرتی ہے۔ اسے ہم ذکر اور تسبیح کہتے ہیں۔ الکلائن نیوٹریشن (Alkaline Nutrition): حلال اور طیب غذا خون کو تیزابیت سے پاک رکھتی ہے، جس میں شیطانی وائرس پرورش نہیں پا سکتے۔ سرکاڈین ردھم (Circadian Rhythm): انسانی جسم کے قدرتی کلاک کے مطابق صبح کی پہلی روشنی میں بیدار ہونا ہارمونز کے قدرتی کلاک کو بحال کرتا ہے۔ شریعت میں اسے نمازِ فجر اور سحر خیزی کہا جاتا ہے۔ اس پورے عمل کا مقصد انسان کو ایک متوازن انسان بنانا ہے، کیونکہ صاف خون ہی وہ مقام ہے جہاں الہامی سگنلز موصول ہوتے ہیں اور رحمانیت کا بسیرا ہوتا ہے۔ قرآن کی ابتدا میں انسان سورہ فاتحہ کے ذریعے اللہ سے گمراہ ہونے سے پناہ مانگتا ہے، اور اللہ قرآن کے بالکل آخر میں، آخری سورہ کی آخری آیت میں یہ حقیقت کھول دیتا ہے کہ یہ وسوسے جو خون میں شیطان کی وجہ سے اٹھتے ہیں—چاہے وہ جنات میں سے ہوں یا انسانوں میں سے—در حقیقت خون اور جذبات سے ہی وسواس پیدا کرتے ہیں۔ ان سے بچنے کے لیے انسان کو صرف "رب الناس، الہ الناس اور ملک الناس" سے اپنا تعلق جوڑنا ہوگا۔ اس ایک سرکش نفس سے بچنے کے لیے اللہ نے اپنی تین عظیم صفات کا تعارف اسی لیے کرایا کہ شیطان کو خون میں دوڑنے کی دسترس حاصل ہے اور وہ یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ انسان اپنے رب کا نافرمان اور ناشکرا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ جیسے اس کے شیطان نے اس سے سجدے کی طاقت چھین لی، اسی طرح وہ انسان کے خون میں شامل ہو کر سجدہ ندامت کی طاقت انسان سے بھی چھین لے۔ بس جب غلطی ہوا کرے تو کوشش کریں سر جھک جائے۔ واللہ و رسولہ اعلم بالصواب سلیم زمان خان مئی 2026ء




کیا آپ جانتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ اصل میں کس طرح استغفار فرمایا کرتے تھے؟بہت سے لوگ استغفار کو ایک لین دین (سودے بازی) کی ط...
02/05/2026

کیا آپ جانتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ اصل میں کس طرح استغفار فرمایا کرتے تھے؟

بہت سے لوگ استغفار کو ایک لین دین (سودے بازی) کی طرح لیتے ہیں۔

"میں نے اسے 100 بار پڑھا... تو اس کا نتیجہ کہاں ہے؟"

لیکن یہ نبویﷺ طرزِ فکر کبھی نہیں تھا۔
استغفار کوئی 'چیٹ کوڈ' (مختصر راستہ) نہیں تھا، بلکہ یہ ایک 'ری سیٹ کوڈ' (تجدید کا ذریعہ) تھا۔نبی کریم ﷺ نے سید الاستغفار (استغفار کی سب سے عظیم دعا) کی تعلیم دی، اس کی ساخت نہایت گہری اور پُر اثر ہے:

اللہ کی نعمتوں کا اعتراف کرنا

اپنی کوتاہیوں کو تسلیم کرنا

اس کی رحمت کی طلب کرنا

یہ عمل دل میں شکر گزاری، عاجزی اور سچائی پیدا کرتا ہے، اور ایسے ہی دلوں میں برکت بستی ہے۔ہم اللہ سے دروازے کھولنے کی دعا کرتے ہیں، جبکہ خود ان عادات کو اپنائے ہوئے ہیں جو ان دروازوں کو بند رکھتی ہیں۔

ہم رزق کی دعا کرتے ہیں، لیکن فجر ضائع کر دیتے ہیں۔

ہم سکون کی دعا کرتے ہیں، لیکن انتشار کو خود ہوا دیتے ہیں۔

ہم اضافے اور برکت کی دعا کرتے ہیں، لیکن غفلت کے ساتھ لاپرواہی سے زندگی گزارتے ہیںاصل فارمولا کچھ اس طرح ہے:

استغفار + نظم و ضبط
استغفار + بہترین کارکردگی (احسان)
استغفار + صبح خیزی
استغفار + دیانتدارانہ کوشش
استغفار + توکل

یہ طرزِ عمل ہر چیز بدل دیتا ہے، کیونکہ بہت سے لوگ زبان سے تو توبہ کر رہے ہوتے ہیں لیکن اپنے طرزِ زندگی میں تبدیلی لانے کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں۔استغفار صرف گناہوں کی معافی مانگنے کا نام نہیں ہے۔
یہ اپنے اس روپ (ورژن) سے معافی مانگنا ہے جو آپ کی اپنی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔

وہ آپ، جو سست ہے۔
وہ آپ، جو ذہن کی پراگندگی (توجہ کی کمی) کا شکار ہے۔
وہ آپ، جو لاپرواہ ہے۔
وہ آپ، جس کے کاموں میں تسلسل نہیں۔

نبی کریم ﷺ کثرت سے استغفار فرماتے تھے، اس کے باوجود آپ ﷺ تمام انسانوں میں سب سے زیادہ ذمہ دار اور مستعد شخصیت تھے۔جب ہم استغفار کو محض ایک رسم سمجھنے کے بجائے ایک اصلاحی نظام کے طور پر اپنانا شروع کریں گے، تو ہمارے رزق کی تنگی ختم ہونا شروع ہوگئی۔

بہتر عادات

دانشمندانہ فیصلے

پرسکون اخراجات

نئے مواقع

غیر متوقع آسانیآپ کو رزق کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ آپ کی راہ میں رکاوٹیں (بلاکیج) حائل ہیں؛ آج بھی استغفار جاری رکھیں۔

لیکن اس استغفار کو اپنے معمولات، اپنی گفتگو، اپنے نظم و ضبط اور اپنے دل کو بدلنے دیں۔ غور کریں کہ برکت کہاں سے ضائع ہو رہی ہے، اپنی عادت درست کریں، اور اللہ کی حکمت (ٹائمنگ) پر بھروسہ رکھیں۔

اور پھر دیکھیں کہ استغفار کیسے آپ کی زندگی کو بدل کر رکھ دیتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے سچ فرمایا۔

Address

Seni Gumbat
Siab

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Abid Wasim posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share