20/12/2025
حال ہی میں ایک 16 سالہ نوجوان کا انتقال ہوا۔ وہ اور اس کا بھائی ایک ہی کمرے میں سوتے تھے۔ رات گئے وہ جھٹکے سے اٹھا، اس کے بھائی نے کہا کہ اس نے اپنا ہاتھ اپنے منہ پر رکھا اور باتھ روم چلا گیا۔
قے کے بعد اس نے سانس لینے میں دشواری کی شکایت کی۔ بعد میں اس کی موت ہوگئی۔
ڈاکٹر نے کہا کہ اس نے اپنی الٹی کو اندر رکھا، جب تک کہ وہ باتھ روم نہ جائے تاکہ وہ بستر یا قالین کو گندا نہ کرے، جس کی وجہ سے وہ ڈوب گیا۔
قے براہ راست اس کے ایئر ویز میں چلی گئی...
بچوں کو جہاں چاہیں قے کرنے دیں۔ ہمیں انہیں کبھی بھی قے روکنے پر مجبور نہیں کرنا چاہئے جب تک کہ وہ باتھ روم نہ جائیں۔
قالین ہمیشہ دھویا جا سکتا ہے، لیکن ہم بچے کو واپس نہیں لا سکتے۔
اسی طرح پھٹے ہوئے غبارے کا چھوٹا ٹکڑا منہ میں دبا کے چوسنی کی طرح بنانے سے بھی ایک بچی کی موت کا واقعہ سننے میں آیا تھا کیونکہ غبارے کا وہ ٹکڑا سانس اندر کھینچنے سے سانس کی نالی میں پھنس گیا تھا ۔
یونہی ہنسی کے زور کے ساتھ کھانا یا پانی زبردستی نگلنے میں بھی احتیاط کریں ۔
شادی بیاہ کے موقع پہ ہنسی مذاق میں کسی کے منہ میں ثابت گلاب جامن رس گلا یا مٹھائی کوئی بڑا سا ٹکڑا زبردستی مت ٹھونسیں ایسے موقع پہ انسان شرمندگی سے بچنے کے لیے اگل نہیں سکتا تو جلدی سے نگلنے کی کوشش کرتا ہے ۔ کرنے والا نہیں جانتا یہ کتنا دل خراب کرنے والا کام ہے ۔
آج کل سٹریٹ فوڈ والے اپنی مشہوری کرنے کے لیے نام نہاد چلینجز دیتے ہیں کہ اتنے منٹ میں ایک بڑا سا پلیٹر کھا کے دکھائیں تو فری میں ملے گا اور لوگ فری کی چیز کے پیچھے جانوروں سے بدتر انداز میں کھاتے ہیں اور ویڈیوز اپلوڈ ہوتی ہیں ۔ اللہ نہ کرے ایسے کھاتے پھندا لگ جائے تو کون ذمہ دار ہو گا ؟
اللہ کا واسطہ ہے احتیاط کریں ۔
پیسے دے کے کم کھا لیں لیکن مہذب انداز میں کھائیں ۔
کپڑے یا قالین دھوئے جا سکتے ہیں۔
ہنسی کے دوران پانی اندر نہیں دھکیلا جا رہا تو پانی کے گلاس میں ہی کلی کر دیں بےشک۔
مٹھائی نہیں نگلی جاتی تو ٹشو یا ہاتھ ہی منہ پہ رکھ کے اگل دیں ۔
زندگی قیمتی ہے شرمندگی یا ڈانٹ نہیں ۔۔
یہ معلوماتی ہے اور زندگی بچا سکتا ہے۔
اللہ تعالی ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھیں آمین ثم آمین