Aftab Butt

Aftab Butt A Learner "Welcome to my page! "As a writer and online skills trainer, I'm here to help you take your creativity and digital savvy to the next level.
(1)

I'm a writer My Book Name is (Just 15 minutes) and I am also a online skills trainer passionate My Online Training Name is (Just 15 Hours) about helping others achieve their goals. Whether you're looking to improve your writing, hone your digital marketing skills, or anything in between, you've come to the right place." Join me for tips, tricks, and insights on everything from crafting compelling

content to mastering the latest social media platforms." "Looking to up your writing game and sharpen your online skills? Look no further than this page! As a writer and trainer, I've got the expertise and experience to help you reach your full potential. Let's get started!"

Choose the one that fits your style and goals best, or use them as inspiration to create your own unique description. Good luck with your page!

حال ہی میں ایک 16 سالہ نوجوان کا انتقال ہوا۔ وہ اور اس کا بھائی ایک ہی کمرے میں سوتے تھے۔ رات گئے وہ جھٹکے سے اٹھا، اس ک...
20/12/2025

حال ہی میں ایک 16 سالہ نوجوان کا انتقال ہوا۔ وہ اور اس کا بھائی ایک ہی کمرے میں سوتے تھے۔ رات گئے وہ جھٹکے سے اٹھا، اس کے بھائی نے کہا کہ اس نے اپنا ہاتھ اپنے منہ پر رکھا اور باتھ روم چلا گیا۔

قے کے بعد اس نے سانس لینے میں دشواری کی شکایت کی۔ بعد میں اس کی موت ہوگئی۔

ڈاکٹر نے کہا کہ اس نے اپنی الٹی کو اندر رکھا، جب تک کہ وہ باتھ روم نہ جائے تاکہ وہ بستر یا قالین کو گندا نہ کرے، جس کی وجہ سے وہ ڈوب گیا۔

قے براہ راست اس کے ایئر ویز میں چلی گئی...

بچوں کو جہاں چاہیں قے کرنے دیں۔ ہمیں انہیں کبھی بھی قے روکنے پر مجبور نہیں کرنا چاہئے جب تک کہ وہ باتھ روم نہ جائیں۔

قالین ہمیشہ دھویا جا سکتا ہے، لیکن ہم بچے کو واپس نہیں لا سکتے۔

اسی طرح پھٹے ہوئے غبارے کا چھوٹا ٹکڑا منہ میں دبا کے چوسنی کی طرح بنانے سے بھی ایک بچی کی موت کا واقعہ سننے میں آیا تھا کیونکہ غبارے کا وہ ٹکڑا سانس اندر کھینچنے سے سانس کی نالی میں پھنس گیا تھا ۔

یونہی ہنسی کے زور کے ساتھ کھانا یا پانی زبردستی نگلنے میں بھی احتیاط کریں ۔

شادی بیاہ کے موقع پہ ہنسی مذاق میں کسی کے منہ میں ثابت گلاب جامن رس گلا یا مٹھائی کوئی بڑا سا ٹکڑا زبردستی مت ٹھونسیں ایسے موقع پہ انسان شرمندگی سے بچنے کے لیے اگل نہیں سکتا تو جلدی سے نگلنے کی کوشش کرتا ہے ۔ کرنے والا نہیں جانتا یہ کتنا دل خراب کرنے والا کام ہے ۔

آج کل سٹریٹ فوڈ والے اپنی مشہوری کرنے کے لیے نام نہاد چلینجز دیتے ہیں کہ اتنے منٹ میں ایک بڑا سا پلیٹر کھا کے دکھائیں تو فری میں ملے گا اور لوگ فری کی چیز کے پیچھے جانوروں سے بدتر انداز میں کھاتے ہیں اور ویڈیوز اپلوڈ ہوتی ہیں ۔ اللہ نہ کرے ایسے کھاتے پھندا لگ جائے تو کون ذمہ دار ہو گا ؟

اللہ کا واسطہ ہے احتیاط کریں ۔
پیسے دے کے کم کھا لیں لیکن مہذب انداز میں کھائیں ۔
کپڑے یا قالین دھوئے جا سکتے ہیں۔
ہنسی کے دوران پانی اندر نہیں دھکیلا جا رہا تو پانی کے گلاس میں ہی کلی کر دیں بےشک۔
مٹھائی نہیں نگلی جاتی تو ٹشو یا ہاتھ ہی منہ پہ رکھ کے اگل دیں ۔
زندگی قیمتی ہے شرمندگی یا ڈانٹ نہیں ۔۔

یہ معلوماتی ہے اور زندگی بچا سکتا ہے۔

اللہ تعالی ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھیں آمین ثم آمین

‏یہ سخت سردی میں اپنے حق کیلیے نہیں بلکہ ایک ٹک ٹاکر کے ڈیرے پہ دو موٹرسائیکلوں کی قرعہ اندازی جیتنے کیلیے تشریف لائے ہی...
19/12/2025

‏یہ سخت سردی میں اپنے حق کیلیے نہیں بلکہ ایک ٹک ٹاکر کے ڈیرے پہ دو موٹرسائیکلوں کی قرعہ اندازی جیتنے کیلیے تشریف لائے ہیں

اگر روٹی کے ٹکڑے راستے میں گرے ہوئے ہوں تو انہیں ایک طرف رکھ دو ۔ یہ ٹھیک بات ہے ۔ دیوار کے ساتھ رکھ دو، کسی قبرستان میں...
19/12/2025

اگر روٹی کے ٹکڑے راستے میں گرے ہوئے ہوں تو انہیں ایک طرف رکھ دو ۔ یہ ٹھیک بات ہے ۔ دیوار کے ساتھ رکھ دو، کسی قبرستان میں پھینک دو، کسی اور جگہ پھینک دو، اس سے رزق میں یوں اضافہ ہو گا کہ اسے پرنده کھا جائے گا یا چیونٹی کھا جائے گی ۔

پرنده اور چیونٹی جب رزق کھا جائیں تو وہ دعا کرتے ہیں کہ یا اللّٰہ جس نے ہمیں کھلایا اس کے رزق میں اضافہ کر ۔ بات سمجھ آئی آپ کو ؟

اس لیے جب رزق میں کمی آ جائے تو دانہ چیونٹیوں کے بلوں میں لے جاؤ ۔ صبح صبح کبھی باغ میں جاؤ تو دیکھو گے کہ کچھ لوگ دانہ لے کے آتے ہیں اور گلہریوں کو ڈالتے ہیں ، چڑیوں کو ڈالتے ہیں ، پھر چڑیاں ، چیونٹیاں اور گلہریاں وہ کھا جائیں گے ، تو وہ دعا کرتے ہیں ۔

—- حضرت واصف علی واصف رح

———————————-

( کتاب ؛ گفتگو 26)

📕

18/12/2025

51000 پاکستانیوں کو ائرپورٹ پر آف لوڈ کیا گیا
پاکستانی بیرونِ ملک جا بھیک مانگتے ہیں
بھیک مانگنے والے ممالک میں
سعودی عرب ، یو اے ای اور آزربائیجان شامل ہیں بھکاریوں کو حکمرانوں کی تقلید سے باز آنا چاہیئے

پاکستان میں افسر اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنے ہاتھ سے کوئی کام نہ کرے صرف اشارے سے بتائے حالانکہ دنیا میں ایسا شخص "معذور"...
17/12/2025

پاکستان میں افسر اس شخص کو کہتے ہیں
جو اپنے ہاتھ سے کوئی کام نہ کرے صرف اشارے سے بتائے حالانکہ دنیا میں ایسا شخص "معذور" کہلاتا ہے
😁😀😆

🏠 بغیر اطلاع کے آنے کا غیر اخلاقی رواج‏ہماری ثقافت میں سب سے زیادہ غیر اخلاقی اور تکلیف دہ عادتوں میں سے ایک یہ خیال ہے ...
15/12/2025

🏠 بغیر اطلاع کے آنے کا غیر اخلاقی رواج
‏ہماری ثقافت میں سب سے زیادہ غیر اخلاقی اور تکلیف دہ عادتوں میں سے ایک یہ خیال ہے کہ کسی کے گھر بغیر اطلاع دیے، اچانک "آ ٹپکنا" بالکل درست ہے۔ کوئی کال نہیں، کوئی میسج نہیں، کوئی تصدیق نہیں...
‏بس گھنٹی بجا دینا اور یہ توقع کرنا کہ آپ کو فوراً گرم جوشی سے خوش آمدید کہا جائے گا، تازہ چائے ملے گی، اور بھرپور مہمان نوازی کی جائے گی...
‏بظاہر تو یہ بے ضرر لگتا ہے، لیکن درحقیقت یہ دوسرے شخص کے وقت، جگہ (Space)، اور ذہنی حالت سے شدید لاپرواہی ہے۔
‏آپ کو کوئی اندازہ نہیں کہ اس دروازے کے پیچھے کیا ہو رہا ہے...
‏• ہو سکتا ہے گھر میں صفائی نہ ہو...
‏• ہو سکتا ہے کوئی بیمار ہو...
‏• ہو سکتا ہے بچے ابھی ایک بھرپور "جنگ کے میدان" کے بعد سوئے ہوں...
‏• ہو سکتا ہے میزبان تھکا ہوا ہو، پریشان ہو، یا کسی کے لیے بھی "سماجی طور پر پیش ہونے" کے موڈ میں نہ ہو...
‏• ہو سکتا ہے ان کے کوئی منصوبے ہوں، کام کی ڈیڈلائن ہو، کوئی میٹنگ ہو، فیملی ٹائم طے ہو، کسی دوسرے مہمان کا انتظار ہو، یا وہ آخر کار سکون کے چند لمحے گزار رہے ہوں...
‏مگر آپ کا یہ 'اچانک' دورہ سب کچھ درہم برہم کر دیتا ہے!
‏حدود کا احترام کرنا کوئی عیاشی نہیں، یہ بنیادی انسانی تہذیب ہے۔
‏ایک سادہ سا میسج، ایک چھوٹی سی کال، ایک "ارے، اگر میں کل یا کچھ گھنٹوں بعد آؤں تو کیا آپ فارغ ہیں؟" پوچھنا مشکل نہیں، یہ ذمہ داری ہے۔
‏صرف چند گھنٹوں کی اطلاع بھی لوگوں کو تیاری کا موقع دیتی ہے اور انہیں ہاں یا نہ کہنے کا اختیار دیتی ہے، تاکہ وہ دباؤ کے بجائے سکون سے آپ کی میزبانی کر سکیں۔
‏لہٰذا، یہ بات واضح ہو:
‏بغیر بتائے اچانک آ جانا نہ تو اچھا لگتا ہے، نہ ہی یہ کوئی روایتی طریقہ ہے اور نہ ہی یہ محبت کا اظہار ہے... یہ سراسر بے احترامی ہے!
‏یہ اصول طے ہونا چاہیے:
‏آپ اجازت کے بغیر کسی کے گھر نہیں پہنچتے۔ آپ پوچھتے ہیں، آپ تصدیق کرتے ہیں، اور پھر آپ ملاقات کے لیے جاتے ہیں، تاکہ آپ کی موجودگی ایک تکلیف نہیں بلکہ ایک خوشی کا احساس دلائے...

12/12/2025

”ہمدردی مانگنا چھوڑ دیں۔ یہ بھیک کی ایک جدید شکل ہے۔ کمزور لوگ ’سہارے‘ تلاش کرتے ہیں، طاقتور لوگ ’راستے‘ بناتے ہیں۔“

11/12/2025

لیوریج کا مطلب ،کم کوشش سے زیادہ نتائج کا جادو
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ایک دبلا پتلا مکینک ایک چھوٹے سے ”جیک“ (Jack) کی مدد سے ٹنوں وزنی گاڑی کیسے اٹھا لیتا ہے؟ وہ اپنی طاقت استعمال نہیں کرتا، وہ ایک آلے یعنی ”لیوریج“ کا استعمال کرتا ہے۔
کاروبار اور زندگی میں بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔
لیوریج کیا ہے؟
لیوریج کا سادہ مطلب ہے: ”کم سے کم محنت اور وقت لگا کر زیادہ سے زیادہ نتائج حاصل کرنا۔“
ایک عام آدمی صرف اپنی ذاتی محنت (ہاتھوں) سے کماتا ہے، جبکہ ایک کامیاب آدمی لیوریج (آلات/وسائل) سے کماتا ہے۔
لیوریج کی تین اقسام ہیں
1. لوگوں کا لیوریج (OPQ - Other People's Time)
اگر آپ اکیلے کام کریں گے تو دن میں صرف ۸ گھنٹے کام کر سکیں گے۔ اگر آپ ۱۰ لوگوں کو ملازم رکھ لیں گے، تو آپ ایک دن میں ۸۰ گھنٹوں کا کام سمیٹ لیں گے۔ یہ ٹائم لیوریج ہے۔
2. پیسے کا لیوریج (OPM - Other People's Money)
اپنے ۱۰ لاکھ سے کاروبار کرنا سست عمل ہے۔ بینک یا انویسٹر کے ۱۰ کروڑ سے کاروبار کرنا ”فنانشل لیوریج“ ہے۔ امیر لوگ اپنے پیسے سے نہیں، دوسروں کے پیسے سے رسک لیتے ہیں۔
3. ٹیکنالوجی کا لیوریج (The New Leverage)
یہ دورِ حاضر کا سب سے طاقتور لیوریج ہے۔ ایک سافٹ ویئر بنا دیں یا ایک یوٹیوب ویڈیو ریکارڈ کر دیں۔ اب آپ سو رہے ہوں گے، لیکن وہ کوڈ یا وہ ویڈیو لاکھوں لوگوں تک پہنچ کر آپ کے لیے کما رہی ہوگی۔ اس میں آپ کو نہ ملازم چاہیے، نہ انویسٹر۔

غریب انسان صرف ”سخت محنت“ (Hard Work) کرتا ہے، امیر انسان ”لیوریج“ ڈھونڈتا ہے۔
اگر آپ اپنی آمدنی کو اپنی جسمانی محنت اور وقت کی قید سے آزاد کرنا چاہتے ہیں، تو لیوریج استعمال کرنا سیکھیں۔ ورنہ آپ کو اس وقت تک کام کرنا پڑے گا جب تک آپ قبر میں نہیں چلے جاتے۔

Jay M Temuri

“جاپان کے علاقے پلانیٹ جاپان میںہر سال 30 ہزار سے زیادہ بوڑھے لوگگھر میں اکیلے مر جاتے ہیںاور ان کی لاشیں مہینوں تک گلتی...
09/12/2025

“جاپان کے علاقے پلانیٹ جاپان میں
ہر سال 30 ہزار سے زیادہ بوڑھے لوگ
گھر میں اکیلے مر جاتے ہیں
اور ان کی لاشیں مہینوں تک گلتی سڑتی رہتی ہیں
اس سے پہلے کہ کسی کو ان کی موت کا پتا چلے!!

یہ بوڑھے لوگ مر تو جاتے ہیں لیکن تنہائی میں،
نہ کوئی خاندان والا ہوتا ہے
نہ کوئی پوچھنے والا۔
اس دردناک صورتِ حال کو ‘کودوکوشی’ (Kodokushi) کہا جاتا ہے۔

ایک افسوسناک واقعہ یہ ہے:
اوساکا کے 91 سالہ شخص کو فالج تھا۔
ان کی بیوی جو ان کی دیکھ بھال کرتی تھی، وہ پہلے مر گئی۔
پھر وہ خود بھوک سے مر گئے اور دونوں کی لاشیں سڑنے لگیں۔
ہفتوں بعد جا کر ان کی موت کا پتا چلا۔
ان کا بیٹا جو بہت پہلے یوکوہاما چلا گیا تھا،
اس نے کبھی فون تک نہیں کیا
اور نہ ہی اپنے والدین اسکے مرنے بعد رسم و رواج میں شریک ہوا…”

کیا اب آپ سمجھتے ہیں
کہ رحم (رشتہ داری) کے رشتے کیوں ٹوٹ رہے ہیں؟

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“تو کیا تم یہ چاہتے ہو کہ زمین میں فساد پھیلاؤ
اور رشتوں کو کاٹو؟
یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی،
ان کو بہرا اور ان کی آنکھوں کو اندھا کر دیا…اسلام کی نعمت پر اللہ کا شکر ادا کیا کریں جس کو بھی اللہ اپنے بندوں کو ایمان اسلام کے نعمت سے نواز ہو۔ 💖💖

چک فینی امریکا کے انتہائی کنجوس لوگوں میں شمار ہوتا ہے، یہ بچپن سے کنجوس تھا، آپ اس کی کنجوسی ملاحظہ کیجیے، یہ امریکا کے...
07/12/2025

چک فینی امریکا کے انتہائی کنجوس لوگوں میں شمار ہوتا ہے، یہ بچپن سے کنجوس تھا، آپ اس کی کنجوسی ملاحظہ کیجیے، یہ امریکا کے ارب پتیوں میں شمار ہوتا ہے، یہ اس وقت بھی اربوں ڈالرز کے شیئرز کا مالک ہے لیکن یہ آج سان فرانسسکو میں کرائے کے فلیٹ میں رہتا ہے، یہ 75 سال سے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کر رہا ہے، یہ چھوٹے ہٹس ریستورانوں میں جاتا ہے اور دو اڑھائی ڈالر کا برگر لے کر کھا لیتا ہے، منرل واٹر نہیں خریدتا، ٹونٹی کا پانی پی لیتا ہے، یہ ان ایک فیصد امریکیوں میں بھی شامل ہے جو تلوے گھس جانے کے بعد جوتوں کے سول تبدیل کراتے ہیں، چک فینی کے پاس صرف تین سوٹ ہیں، یہ شرٹس، پتلون اور جرابیں بھی دو دو سال چلاتا ہے، یہ شراب خانوں، مہنگی کافی شاپس اور برانڈڈ شاپنگ سینٹرز میں بھی نہیں جاتا۔ یہ ہوائی سفر کے دوران ہمیشہ اکانومی کلاس میں سفر کرتا ہے، چنانچہ یہ ہر طرف سے امریکا کا کنجوس ترین ارب پتی ہے۔ لیکن یہ اس اذیت ناک کنجوسی کے باوجود بل گیٹس اور وارن بفٹ جیسے لوگوں کا ہیرو کہلاتا ہے، یہ لوگ ہمیشہ اٹھ کر اس کا استقبال کرتے ہیں اور اپنی ہر تقریر میں اس کا حوالہ دیتے ہیں، یہ لوگ چک فینی کو اپنا ہیرو کیوں سمجھتے ہیں؟
یہ ایک اور دلچسپ داستان ہے۔
1996 میں فرانس کے ایک گروپ نے چک فینی کی کمپنی کے شیئرز خرید لیے، شیئرز کا سودا ہوگیا تو پتہ چلا چک فینی نے اپنے 37 اعشاریہ 75 فیصد شیئرز خیرات کر دیئے ہیں، یہ رقم اس وقت پونے دو ارب ڈالر بنتی تھی اور یہ اس وقت امریکا کی سب سے بڑی خیرات تھی، کمپنی نے جب تحقیق کی تو معلوم ہوا چک فینی کا بزنس جب ترقی کرنے لگا تھا تو اس نے 1982 میں "اٹلانٹک فلنتھراپیز" کے نام سے ایک خیراتی ادارہ بنایا اور نہایت خاموشی سے اپنی کمپنی کے پونے 38 فیصد شیئرز اس ادارے کو دے دیئے۔
چک فینی کی اس خدمت کی 1996 تک کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی، یہ راز مزید بھی راز رہ سکتا تھا اگر فرنچ کمپنی ڈی ایف ایس کے شیئرز نہ خریدتی، دنیا کو اس ڈیل کے دوران پتہ چلا وہ جس شخص کو امریکا کا کنجوس ترین شخص سمجھتی ہے وہ دنیا کا سخی ترین شخص ہے، اس نے اپنی دولت دکھی اور بے بس انسانیت کے لیے وقف کر رکھی ہے، بل گیٹس اور وارن بفٹ نے 2010 میں دی گیونگ پلیج (The Giving Pledge) کی تحریک شروع کی، یہ لوگ اس تحریک کے ذریعے دنیا کے امیر ترین لوگوں، صنعت کاروں، تاجروں، سرمایہ کاروں اور ارب پتی شہزادوں سے وعدہ لیتے ہیں۔ یہ دنیا سے رخصت ہونے سے پہلے اپنی دولت کا بڑا حصہ انسانی فلاح کے لیے وقف کر دیں گے، چک فینی بھی 2011ء میں دی گیونگ پلیج کا حصہ بن گیا اور یہ اپنی دولت کا خطیرحصہ وقف کر چکا ہے، وارن بفٹ اسے اپنا اور بل گیٹس کا ہیرو قرار دے چکا ہے، اس کا کہنا ہے ہم سب لوگ بتا کر اللہ کے نام پر خیرات کرتے رہے لیکن چک فینی نے اپنا سب کچھ انسانیت کے لیے وقف کر دیا اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی، یہ ہم سے بہت آگے، بہت بہتر ہے۔
چک فینی کا خود کہنا ہے "میں نے زندگی میں بے شمار خیالات، بے شمار آئیڈیاز تبدیل کیے لیکن میرا ایک آئیڈیا مستقل تھا اور مستقل رہے گا اور وہ آئیڈیا اپنی دولت کو دوسرے لوگوں کی فلاح کے لیے خرچ کرنا ہے" اس کا کہنا ہے، وہ لوگ بدنصیب ہوتے ہیں جو یہ سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں ان کی دولت کسی شخص کا دکھ، کسی کا درد بھی کم کر سکتی ہے، اس کا کہنا ہے، لوگ مجھ سے سوال کرتے ہیں تمہاری نظر میں خوشی کیا ہے تو میں ان کو جواب دیتا ہوں، میں اگر کوئی کام کر رہا ہوں اور میرے اس کام سے دوسرے لوگوں کی مدد ہو رہی ہے، ان کی زندگی تبدیل ہو رہی ہے تو میں خود کو خوش اور خوش نصیب سمجھنے لگتا ہوں لیکن اگر میرے کام سے لوگوں کو کچھ حاصل نہیں ہو رہا، ان کی لائف میں کسی چیز کا اضافہ نہیں ہو رہا تو پھر میں اداس ہو جاتا ہوں چنانچہ لوگ میری خوشی ہیں۔
یہ اس شخص کے لیے سیونگ کرتا ہے جسے یہ جانتا ہے اور نہ اسے جاننے کی خواہش رکھتا ہے، اس کا موٹو ہے اس کی کمائی ہوئی رقم کسی بے بس کا تن ڈھانپ سکے، کسی بیمار کی شفاء کا ذریعہ بن سکے، یا کسی کی جہالت کو علم کی روشنی میں بدل سکے۔
"چک فینی کی کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ دولت وقتی ہے، لیکن ٹیلنٹ اور خدمت مستقل ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی کامیابی دیرپا ہو، تو اپنے ٹیلنٹ کو پہچانیں، اسے نکھاریں، اور اسے دوسروں کی بھلائی کے ساتھ جوڑیں۔
یاد رکھیں، دنیا آپ کو اس وقت یاد رکھتی ہے جب آپ کے ہنر سے دوسروں کی زندگی بدلتی ہے۔"

07/12/2025

"کاروبار میں جذبات کا کوئی کام نہیں۔ اگر گھوڑا مر جائے تو اس سے اتر جائیں، اسے گھسیٹیں نہیں۔ (یعنی جو پروڈکٹ یا حکمت عملی ناکام ہو جائے اسے فوراً چھوڑ دیں)۔"

ڈپریشن آپ کو بٹھائے گا لیکن آپ نے اٹھ کر مقابلہ کرنا ہے۔ زندگی حرکت کا نام ہے۔ 100 سالہ خاتون ریس لگاتے ہوئے ثابت کرتی ہ...
07/12/2025

ڈپریشن آپ کو بٹھائے گا لیکن آپ نے اٹھ کر مقابلہ کرنا ہے۔ زندگی حرکت کا نام ہے۔

100 سالہ خاتون ریس لگاتے ہوئے ثابت کرتی ہیں کہ عمر محض نمبر ہیں ❤️

Address

Sialkot
Sialkot
51010

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Aftab Butt posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Aftab Butt:

Share