30/08/2025
کسی نے کہا
“بارش یا سیلاب کا پانی مسجد اور مزار دونوں میں داخل ہوتا ہے لیکن اس سے خدا کا انکار نہیں ہوتا اور نہ اولیاء کرام کا نقصان ہوتا ہے۔ لہٰذا ہوش کے ناخن رکھیں اور فضول باتوں سے بچیں۔”
---
میرا جواب:
"معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ…"
یہ معاملہ خدا کے انکار یا اقرار کا نہیں۔ جو خدا کا انکار کرتا ہے وہ تو صریح ملحد ہے اور اس کا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ہم نے خود انسانوں کو طرح طرح کے القابات اور خطابات سے نواز دیا ہے؛ کبھی کسی کو غوث کہا، کبھی قطب، کبھی داتا اور کبھی فیض بانٹنے والا۔ حالانکہ قرآنِ حکیم نے نہ کسی کو یہ مراتب عطا کیے اور نہ ہی ایسے ناموں کا ذکر کیا۔ یہ سب محض انسانی ایجادات ہیں، ورنہ اللہ تعالیٰ کی ذات ان سب سے بالا و برتر ہے۔
اللہ نے انسان کو عقل و شعور دیا ہے تاکہ وہ اپنی زندگی کے مسائل حل کرے۔ مگر ہم نے اپنی کوتاہیوں اور ناقص انتظامات کو چھپانے کے لیے ہر بات کو کبھی "آزمائش" اور کبھی "بابوں پیروں" کے کھاتے میں ڈال دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ مرنے والا نہ کسی کا بھلا کرسکتا ہے اور نہ برا۔ جو دنیا سے جا چکا وہ اپنی ہی ایجاد کو حرکت نہیں دے سکتا، دوسروں کے حالات کیا بدلائے گا؟
اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر آج مزارات یا بابوں پر تنقید ہو رہی ہے تو اس کے ذمہ دار وہی مولوی، صوفی اور پیر ہیں جنہوں نے صدیوں تک جھوٹے قصے کہانیوں سے عوام کو بہکایا اور اپنے کاروبار چمکائے۔ کبھی غوث پاک کے دھوبی کی حکایت، کبھی لوٹے کا معجزہ، کبھی پوری بارات کو زندہ کرنا، کبھی دریا کے پانی کو روکنا، کبھی ہوا میں اڑنا، کبھی قبر میں جا کر منکر نکیر کو جواب دینا، کبھی ڈوبی کشتی نکال دینا۔۔۔ ایسی ہزاروں باتیں سنائی گئیں جن کا قرآن و سنت میں کہیں ذکر نہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ عوام عقل و تدبیر چھوڑ کر ان کہانیوں پر ایمان لے آئے اور اپنی ذمہ داریاں بھلا بیٹھے۔
اصل سنتِ الٰہی یہی ہے کہ کامیابی اور خوشحالی انہیں ملتی ہے جو محنت کرتے ہیں، عقل و تدبیر سے کام لیتے ہیں اور معاملات کو درست طریقے سے منظم کرتے ہیں۔ اللہ بھی اپنی نعمتیں ان ہی پر نچھاور کرتا ہے جو جستجو کرتے ہیں، نہ کہ ان پر جو ہاتھ پر ہاتھ رکھے اولیاء اور مزارات سے امید لگائے بیٹھے رہیں۔
اگر ہم نے اپنے معاملات کو بروقت اور بہتر طریقے سے منظم کیا ہوتا تو نہ مسجدوں اور مزارات میں پانی جاتا، نہ بستیاں برباد ہوتیں۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم حقیقت کو تسلیم کریں، اپنی ذمہ داریوں کو پہچانیں اور عقل و شعور کو بروئے کار لائیں، بجائے اس کے کہ جھوٹی حکایات اور مذہبی پردوں کے پیچھے اپنی ناکامیوں کو چھپاتے رہیں۔
---
🔥 کرارا نکتہ آخر میں:
“بابے اور قبریں کچھ نہیں سنوار سکتیں، اصل سنوارنے والا صرف انسان کی اپنی محنت اور تدبیر ہے۔”