Real Islamic Scholars

Real Islamic Scholars It's all about Daily funny and Inspiration videos and motivation to the People. its also have Islamic videos and famous Personalities

10/11/2025
Please it's humble request to all member follow this channel it's my friend
07/09/2025

Please it's humble request to all member follow this channel it's my friend

یہ ویڈیو تمام والدین کو ضرور دیکھنی چاہیے ۔ یہ بہت بڑی نصحیت ہے ۔
07/09/2025

یہ ویڈیو تمام والدین کو ضرور دیکھنی چاہیے ۔ یہ بہت بڑی نصحیت ہے ۔

30/08/2025

کسی نے کہا
“بارش یا سیلاب کا پانی مسجد اور مزار دونوں میں داخل ہوتا ہے لیکن اس سے خدا کا انکار نہیں ہوتا اور نہ اولیاء کرام کا نقصان ہوتا ہے۔ لہٰذا ہوش کے ناخن رکھیں اور فضول باتوں سے بچیں۔”

---

میرا جواب:

"معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ…"

یہ معاملہ خدا کے انکار یا اقرار کا نہیں۔ جو خدا کا انکار کرتا ہے وہ تو صریح ملحد ہے اور اس کا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ہم نے خود انسانوں کو طرح طرح کے القابات اور خطابات سے نواز دیا ہے؛ کبھی کسی کو غوث کہا، کبھی قطب، کبھی داتا اور کبھی فیض بانٹنے والا۔ حالانکہ قرآنِ حکیم نے نہ کسی کو یہ مراتب عطا کیے اور نہ ہی ایسے ناموں کا ذکر کیا۔ یہ سب محض انسانی ایجادات ہیں، ورنہ اللہ تعالیٰ کی ذات ان سب سے بالا و برتر ہے۔

اللہ نے انسان کو عقل و شعور دیا ہے تاکہ وہ اپنی زندگی کے مسائل حل کرے۔ مگر ہم نے اپنی کوتاہیوں اور ناقص انتظامات کو چھپانے کے لیے ہر بات کو کبھی "آزمائش" اور کبھی "بابوں پیروں" کے کھاتے میں ڈال دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ مرنے والا نہ کسی کا بھلا کرسکتا ہے اور نہ برا۔ جو دنیا سے جا چکا وہ اپنی ہی ایجاد کو حرکت نہیں دے سکتا، دوسروں کے حالات کیا بدلائے گا؟

اور یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر آج مزارات یا بابوں پر تنقید ہو رہی ہے تو اس کے ذمہ دار وہی مولوی، صوفی اور پیر ہیں جنہوں نے صدیوں تک جھوٹے قصے کہانیوں سے عوام کو بہکایا اور اپنے کاروبار چمکائے۔ کبھی غوث پاک کے دھوبی کی حکایت، کبھی لوٹے کا معجزہ، کبھی پوری بارات کو زندہ کرنا، کبھی دریا کے پانی کو روکنا، کبھی ہوا میں اڑنا، کبھی قبر میں جا کر منکر نکیر کو جواب دینا، کبھی ڈوبی کشتی نکال دینا۔۔۔ ایسی ہزاروں باتیں سنائی گئیں جن کا قرآن و سنت میں کہیں ذکر نہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ عوام عقل و تدبیر چھوڑ کر ان کہانیوں پر ایمان لے آئے اور اپنی ذمہ داریاں بھلا بیٹھے۔

اصل سنتِ الٰہی یہی ہے کہ کامیابی اور خوشحالی انہیں ملتی ہے جو محنت کرتے ہیں، عقل و تدبیر سے کام لیتے ہیں اور معاملات کو درست طریقے سے منظم کرتے ہیں۔ اللہ بھی اپنی نعمتیں ان ہی پر نچھاور کرتا ہے جو جستجو کرتے ہیں، نہ کہ ان پر جو ہاتھ پر ہاتھ رکھے اولیاء اور مزارات سے امید لگائے بیٹھے رہیں۔

اگر ہم نے اپنے معاملات کو بروقت اور بہتر طریقے سے منظم کیا ہوتا تو نہ مسجدوں اور مزارات میں پانی جاتا، نہ بستیاں برباد ہوتیں۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم حقیقت کو تسلیم کریں، اپنی ذمہ داریوں کو پہچانیں اور عقل و شعور کو بروئے کار لائیں، بجائے اس کے کہ جھوٹی حکایات اور مذہبی پردوں کے پیچھے اپنی ناکامیوں کو چھپاتے رہیں۔

---

🔥 کرارا نکتہ آخر میں:
“بابے اور قبریں کچھ نہیں سنوار سکتیں، اصل سنوارنے والا صرف انسان کی اپنی محنت اور تدبیر ہے۔”

جب میرا انتقال ہو تو میرے جنازے پر بھی یہ اعلان کر دینا کہ میں کسی کلمہ گو کی تکفیر کا قائل نہیں اور نہ ہی کسی مسلمان کو...
29/08/2025

جب میرا انتقال ہو تو میرے جنازے پر بھی یہ اعلان کر دینا کہ میں کسی کلمہ گو کی تکفیر کا قائل نہیں اور نہ ہی کسی مسلمان کو کافر قرار دیتا ہوں
میرے نزدیک ان کے یہ کفر کے فتوے ہوا میں اڑتے ہوئے ردی کے کاغذ کی مانند ہیں اور ہم تم سب مسلمان ہیں۔

مولانا اسحاق رحمتہ اللہ علیہ
(یوم وفات 28 اگست 2013)

28اگست 2013 کادن،غم وافسردگی کادن۔کون بھلاسکتا ہے؟اسی دن حضرت مولانا محمد اسحق رح جہان فانی سے کوچ فرماگئے۔انبیاء علیھم ...
28/08/2025

28اگست 2013 کادن،غم وافسردگی کادن۔کون بھلاسکتا ہے؟اسی دن حضرت مولانا محمد اسحق رح جہان فانی سے کوچ فرماگئے۔انبیاء علیھم السلام کے وارث اور دین متین کے امین دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی دلوں سے بھلا کب جاتے ہیں۔وہ تویادوں میں رچ بس جاتے ہیں۔وہ آنکھوں سے اوجھل ہوتے ہیں،مگربصیرت کی روشنی پھیلاتے ہوئے ہماری آنکھوں کانور بن جاتے ہیں۔ہمارے دکھ سکھ میں رہنمابن جاتے ہیں۔یہ موت سے ہمکنار ہونے کے بعد حیات جاوداں کو پالیتے ہیں۔آج جہاں جہاں اذان ہوتی ہے،لوگ مولانا کے نام اور کام سے بخوبی آگاہ ہیں۔نیکی اپنا دائرہ وسیع سے وسیع تر کرتی چلی جاتی ہے۔کسی عالم کی یہ خوش قسمتی کیا کم ہے کہ اس کے جانے کے بعد بھی اس کی زبان وقلم کا خیرجاری رہے۔انسان فانی ہے مگراس کاعمل باقی ہے۔آج پورے عالم سلام میں مولانا محمد اسحق رح کوبڑے شوق اور یقین و اعتماد سے سنا اور پڑھاجارہا ہے۔اللہ سبحان وتعالی نے ان سے بھرپور کام لیا اور وہ اپنے حصہ کا بہترین کام کرکے دنیا سے رخصت ہوئے۔دعا ہے کہ مولانا مرحوم کو رضائے الہی کی بہشت جاوید میں درجات عالیات نصیب ہوں۔آمین
اللھم اغفرلہ وارحمہ وعافہ واعف عنہ وادخلہ الجنۃ

25/08/2025

Hi everyone! 🌟 You can support me by sending Stars - they help me earn money to keep making content you love.

Whenever you see the Stars icon, you can send me Stars!

Address

UAE
Sialkot

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Real Islamic Scholars posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category