06/04/2026
اپنی نازک سی کلائی میں چڑھا لو مجھ کو
اک کھنکتا ہوا کنگن ہی بنا لو مجھ کو
درد فرقت نے برا حال بنا رکھا ہے
گر کسی روز ملے وقت بلا لو مجھ کو
دشت ہوں میں تو چھلکتا ہوا دریا ہو تم
مجھ میں گھل جاؤ کہ سینے سے لگا لو مجھ کو
میں کہ اجڑے ہوئے سنسان مکاں جیسا ہوں
اپنی یادوں سے ، محبت سے بسا لو مجھ کو
کل میں اس شہر کی گلیوں سے نکل جاؤں گا
آج کی رات یہاں ہوں تو ستا لو مجھ کو
اس قدر ہجر نے دیوانہ بنا رکھا ہے
میں ہوں سکتے میں مری جان سنبھا لو مجھ کو
میں کہ فردوس بنا دوں گا تمہاری دنیا
میری تنہائی کے دوزخ سے نکالو مجھ کو
ڈاکٹر ساحل سلہری
Awan-e-Adab