09/10/2026
منصف حق ہمیں کس بات پہ تعزیر ملی
ہم کو منصب ہی ملا نہ کوئی جاگیر ملی
اس قدر دل میں بسیرا ہے تری یادوں کا
جیسے خوشبو کی گلستان سے تقدیر ملی
ہم نے مٹی کو بھی انسان کی عظمت سمجھا
ہم اگر خاک ہوئے خاک کو توقیر ملی
میں نے لفظوں سے کئی زخم چھپائے لیکن
پھر بھی رسوا میں ہوا، درد کو تشہیر ملی
میں نے ہاتھوں سے جلائے تھے محبت کے چراغ
نفرتوں کو، یوں مرے عزم سے تسخیر ملی
ظلمتِ شب سے کبھی ہار نہیں مانی ہے
رات کے بعد ہمیں صبح کی تنویر ملی
ایک چپ تھی کہ کئی عہد سناتی تھی ہمیں
ایک آواز اٹھی، شہر کو تدبیر ملی
جس نے آزاد سمجھ رکھا تھا خود کو برسوں
آج بولا تو اسے پیر پہ زنجیر ملی
ساحل اس دور میں پہچان بہت مشکل ہے
جس کو آئینہ سمجھ بیٹھے وہ تصویر ملی
(ڈاکٹر ساحل سلہری)
Awan-e-Adab