Awan-e-Adab

Awan-e-Adab Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Awan-e-Adab, Magazine, Kingra, Sialkot.

اپنی نازک سی کلائی میں چڑھا لو مجھ کو اک کھنکتا ہوا کنگن ہی بنا لو مجھ کو درد فرقت نے برا حال بنا رکھا ہے گر کسی روز ملے...
06/04/2026

اپنی نازک سی کلائی میں چڑھا لو مجھ کو
اک کھنکتا ہوا کنگن ہی بنا لو مجھ کو

درد فرقت نے برا حال بنا رکھا ہے
گر کسی روز ملے وقت بلا لو مجھ کو

دشت ہوں میں تو چھلکتا ہوا دریا ہو تم
مجھ میں گھل جاؤ کہ سینے سے لگا لو مجھ کو

میں کہ اجڑے ہوئے سنسان مکاں جیسا ہوں
اپنی یادوں سے ، محبت سے بسا لو مجھ کو

کل میں اس شہر کی گلیوں سے نکل جاؤں گا
آج کی رات یہاں ہوں تو ستا لو مجھ کو

اس قدر ہجر نے دیوانہ بنا رکھا ہے
میں ہوں سکتے میں مری جان سنبھا لو مجھ کو

میں کہ فردوس بنا دوں گا تمہاری دنیا
میری تنہائی کے دوزخ سے نکالو مجھ کو

ڈاکٹر ساحل سلہری

Awan-e-Adab

23/03/2026

تیرگی میں وہ روشنی کی طرح
مجھ کو لگتا ہے زندگی کی طرح

مجھ سے ملتا نہیں کسی کا مزاج
اپنے گھر میں ہوں اجنبی کی طرح

میری بھرپور زندگانی میں
آج بھی تو ہے اک کمی کی طرح

میں ترے ساتھ کتنا مخلص ہوں
مجھ کو پہچان جوہری کی طرح

میں نے جاناں سنبھال رکھے ہیں
تیرے غم بھی تری خوشی کی طرح

پھر محبت جنوں بنے ساحل
پہلے ہوتی ہے دل لگی کی طرح

ڈاکٹر ساحل سلہری

ڈاکٹر ساحل سلہری 7مارچ 2026ء/سیالکوٹافتخار شاہد کی غزل   کا فکری وفنی تجزیہغزل اردو شاعری کی مقبول صنف ہے کسی بھی دور می...
11/03/2026

ڈاکٹر ساحل سلہری
7مارچ 2026ء/سیالکوٹ
افتخار شاہد کی غزل کا فکری وفنی تجزیہ
غزل اردو شاعری کی مقبول صنف ہے کسی بھی دور میں اس کی مقبولیت میں کمی نہ آئی۔ نظم کے متعددادوار گزرے ہیں۔ نظم تحریک کی صورت میں بھی تخلیق ہوئی۔ ترقی پسند شعرا نے نظم کو زیادہ فروغ دیا۔ حلقہ ارباب ذوق سے انسلاک رکھنے والے شعرا نے بھی زیادہ تر نظم ہی کو وسیلہء اظہار بنایا۔اس سے قبل دیکھیں تو اقبال کے زمانے میں بھی نظم کی روایت کو تقویت ملی۔ اقبال نظم کے بڑے شاعر تھے اس کے باوجود غزل کی مقبولیت کم نہ ہوئی۔ موجودہ دور میں آزاد نظم بلکہ نثری نظم کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے ایسے وقت میں افتخار شاہد کا شعری مجموعہ" بامِ غزل" غزل گوئی کی صف میں ایک اہم اضافہ ہے۔ مجموعے کا عنوان دراصل ایک علامت ہے۔ یہ ایک استعارہ ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ اب غزل اپنے معیاراور اعتبار کے حوالے سے اتنی richہو چکی ہے کہ بام پر چاند کی صورت چڑھ آئی ہے۔ مطلب یہ کہ اردو غزل دلی دکنی سے لے کر میروسودا تک ،پھر غالب ومومن سے لے کرداغ وحسرت تک، اقبال وفیض ،ناصر وظفر اقبال سے ہوتی ہوئی عباس تابش تک اور اب افتخار شاہد تک زینہ زینہ چڑھ کر بام پر پہنچی ہے۔
افتخار شاہد کا شعری مجموعہ "بام غزل" منظر عام پر آنے کے بعد یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ افتخار شاہد موجودہ دور میں تخلیق پانے والی غزل کی روایت میں غزل پڑھنے ، غزل سنانے والا ایسا منفرد شاعر ہے جو غزل میں نئی گرہ لگاتا ہے۔ یہ غزل کہنے والا ،غزل تصنیف کرنے والا بے باک اور ہنر مند شاعر ہے۔ ان کے ہاں شعریت کا حسن ، غزل کا انداز ،غزلیت بدرجہ اتم موجود ہے۔ افتخار شاہد انسان اور انسانیت سے محبت کرنے والا شاعر ہے۔ حیاتِ انسانی کے متعدد پہلو ان کی شاعری میں عیاں ہوتے ہیں۔ وہ معاصر حالات اور روزمرہ کی زندگی سے جڑا ہوالگتا ہے۔ اس نے معاشی اور معاشرتی ناہمواری کی بات کی ہے۔ عدل وانصاف ان کی شاعری کا محبوب موضوع ہے۔ انھوں نے سماجی مسائل کو حتی الامکان اجاگر کیا ہے۔ کہیں وہ علامتی انداز میں اربابِ اختیار کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہیں۔ وہ اپنے سماج میں جو کچھ دیکھتے ہیں من وعن بیان کر دیتے ہیں۔
افتخار شاہد کی غزلوں میں محبت اور حقیقت ہم آمیز دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے شعروں میں کہیں خوشی اور غم بغل گیر ہوتے نظر آتے ہیں کہیں زندگی اور موت کا فلسفہ ملتا ہے۔ ان کے ہاں وصال اور فراق کے معانی بدلے ہوئے ملتے ہیں۔ ان کی شاعری آفاقی نوعیت کی ہے اس میں ہر کسی کو اپنے احساسات کا عکس اور اپنی یادوں کی مہک محسوس ہوتی ہے ۔زندگی کی تلخیاں، محرومیاں ، مایوسیاں ، اداسیاں اور ناکامیاں بھی ملتی ہیں۔ نارسائی ان کی شاعری کا ایک اہم استعارہ ہے۔ فنی اعتبار سے افتخار شاہد بہت پختہ شاعر ہیں ان کے ہاں تراکیب ، تشبیہات اور استعاروں کا استعمال بہت خوبصورت ہے۔ وہ خواب کی سیڑھی بناتے ہیں، اشک کو آنکھ کی کھڑکی سے گراتے ہیں۔ شاخِ وصال کا پہلا بور جیسے استعارے استعمال کرتے ہیں۔ ان کے ہاں زبان وبیان کااستعمال مناسب اور محتاط ہے یہ شعر دیکھیے:
ہم کسی دشت میں کر لیں گے بسیرا لیکن
آپ لگتے ہیں سمجھدار کہاں جائیں گے

افتخا شاہد کی چھوٹی اور بڑی دونوں بحر کی غزلوں میں مکمل ہنر مندی نظر آتی ہے۔ وہ غزل کے وقار اور موضوع کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
بامِ غزل پہ خواب کی دلہن اتاریے
حرفِ سخن کو یار کے ہونٹوں سے واریے

ترا جمال کسی روز دن میں دیکھوں گا
ابھی تو رات ہے اور تو دیا بنا ہوا ہے

افتخار شاہد کی ہوئی بات کو اس طرح گرہ لگاتے ہیں کہ وہ ایک دم نئی لگنے لگتی ہے۔
لذتِ وصل سے انکار بھی ہوسکتا ہے
دل ترے ہجر سے سرشار بھی ہو سکتا ہے

افتخار شاہد تخریبی عمل اور تخریب کاری کی مذمت کرتے ہیں۔ وہ تعمیر وترقی اور معاشرے میں مثبت رویوں کوفروغ دینےکی بات کرتے ہیں۔ وہ ایک مہذب معاشرے کا خواب دیکھتے ہیں جہاں امن ،سکون اور خوشحالی ہو۔ ہر شے اپنے اپنے دائرے میں بہہ رہی ہو۔ وہ زندگی میں ایک خاص ترتیب وتوازن چاہتے ہیں۔ وہ انسانی عزت واحترام کو مقدم جانتے ہیں۔
تخریب کے کالے ملبے سے
تعمیر اٹھا کچھ بات بنے

ان کے ہاں آنکھ کی کھڑکی ، خواب کی سیڑھی ، احتیاط کی ٹہنی ، آسماں کی ہتھیلی ، نصب کی تھالی، ریشمی جھولی ، یاد کی گٹھڑی اور شعر ڈالی جیسی خوبصورت علامتیں ملتی ہیں:
پھر یوں ہوا کہ جھیل نے آغوش کھول دی
اک چاند آسماں کی ہتھیلی سے گر پڑا

افتخار شاہد کی غزل میں شعریت کا ایک نمونہ ملاحظہ کیجیے:
رات بھر آنکھ میں خوابوں کا دھواں ہوتا ہے
پھر کہیں جا کے مرا اشک رواں ہوتا ہے

بات کرنے کے لیے لفظ ضروری تو نہیں
حال آنکھوں کی زبانی بھی بیاں ہوتا ہے

تری صورت سے بھی دلکش ہے تکلم تیرا
مجھ کو ہر لحظہ محبت کا گماں ہوتا ہے۔

افتخا ر شاہد خزاؤں میں ہرےمیں ہرے والے اور محبت کا گماں رکھنے والے شیریں زباں شاعر ہیں۔ آدمی کو مشکل حالات میں بھی آسانی سے جینا چاہیئے کیوں کہ زندگی خدا کی عطا کی ہے۔ اس سے کنارہ کشی اختیار کرنا ممکن نہیں۔ نہ ہی اپنی اداسی، نارسائی، ناکامی اور محرومی پر کسی کو موردالزام ٹھہرائیں:
ایسی مشکل ہے کی گزارا بھی نہیں کر سکتے
زندگی تجھ سے کنارا بھی نہیں کر سکتے

لوگ تو پوچھتے رہتے ہیں اداسی کا سبب
ہم تری سمت اشارہ بھی نہیں کر سکتے

افتخارشاہد کی شاعری میں محبت ، انسان دوستی، احساسات اور جذبے کی مہک ملتی ہے۔ وہ عصری شعور اور زندگی کی متنوع جہتیں رکھنے والے شاعر ہیں۔ افتخار شاہد نئے زاویے سے غزل کی نمائندگی کرتے ہیں۔ محبت اور حقیقت ان کی غزل کا بنیادی حوالہ ہیں۔ ان کی غزل قاری کو نئے دریچوں تک لے جاتی ہے۔ ان کی غزل میں متعدد جمالیاتی اور فکری پہلو دکھائی دیتے ہیں۔

معروف علمی وادبی تنظیم شفق سیالکوٹ کے زیر اہتمام تقریب پزیرائی و مشاعرہ سیاسی و سماجی شخصیت سابق وائس چیئرمین عامر مختار...
10/03/2026

معروف علمی وادبی تنظیم شفق سیالکوٹ کے زیر اہتمام تقریب پزیرائی و مشاعرہ سیاسی و سماجی شخصیت سابق وائس چیئرمین عامر مختار بھٹی کے ڈیرہ دریا پور ہاؤس دریا پور منعقد ہوا ۔ پروگرام کے پہلے حصے میں افتخار شاہد کے شعری مجموعے "بام غزل" کی پزیرائی کی گئی ۔پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا جس کی سعادت داؤد راج کوملی ۔نعت شریف سنی راجپوت نے پیش کی اس کے بعد بام غزل پر تنقیدی مضمون ڈاکٹر ساحل سلہری نے پیش کیا ۔ اس ضمن میں انھوں نے افتخار شاہد کی شاعری کا فکری و فنی تجزیہ کیا ۔ ازاں بعد صاحب کتاب افتخار شاہد نے حاضرین کو اپنا کلام سنایا اور بے پناہ داد سمیٹی ۔ معروف شاعر محبوب صابر کی صدارت میں مشاعرہ برپا ہوا ۔ شفق مشاعرہ میں اسامہ صحرا ،داود راج ،نثار سلہری ،مبشر میو ، صدق فقر ، رانا عثمان احامر ،زاہد علی سلطان ، بشیر کمال،عدنان قلزم رانجھا ، ثوبیہ راجپوت ، سمیرا ساجد ناز ، رضا المصطفیٰ، ارشاد نیازی ،ڈاکٹر ساحل سلہری ، تنویر احمد تنویر ، افتخار شاہد اور محبوب صابر نے اپنا کلام سنایا اور بے حد داد سمیٹی ۔ ہمیشہ کی طرح یہ شفق مشاعرہ بھی کامیاب رہا ۔ عامر مختار بھٹی نے کمال کی میزبانی کی ان کا خاندان علاقے میں سماجی خدمات کے لیے جانا جاتا ہے ۔ مشاعرہ میں رانا غلام عباس ایڈووکیٹ ، اسلم ندار سلہری ، نفیس صاحب سمیت سامعین کی اچھی خاصی تعداد نے شرکت کی اور پروگرام کو یادگار بنا دیا ۔

Address

Kingra
Sialkot
51451

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Awan-e-Adab posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category