25/07/2026
لوگوں کو صرف خوبصورت خواب نہ دکھائیں... حقیقت بھی بتائیں۔
آج کل سوشل میڈیا پر ہر دوسری ویڈیو میں یہی کہا جاتا ہے...
30 ہزار لگائیں، اپنا برانڈ شروع کریں اور اچھی اِنکم کمائیں۔
لیکن کوئی یہ نہیں بتاتا کہ پاکستان میں آن لائن اسٹاک بزنس صرف پروڈکٹ خریدنے کا نام نہیں ہے۔ اصل چیلنج تو اس کے بعد شروع ہوتا ہے۔
اگر آپ نیا برانڈ لانچ کر رہے ہیں تو پہلے لوگ آپ کو جانتے ہی نہیں۔ آرگینک ریچ بننے میں وقت لگتا ہے، لوگوں کا اعتماد حاصل کرنے میں وقت لگتا ہے، آڈینس بنانے میں وقت لگتا ہے، اور ایک مضبوط برانڈ کھڑا کرنے میں تو کئی مہینے، بلکہ بعض اوقات سال بھی لگ جاتے ہیں۔پھر اگر آپ میٹا ایڈز چلائیں تو اس کے لیے بھی الگ بجٹ چاہیے۔ ہر ایڈ پہلے دن سے منافع نہیں دیتی۔ کبھی ایک کریئیٹو نہیں چلتا، کبھی دوسری آڈینس ٹیسٹ کرنی پڑتی ہے، کبھی پروڈکٹ بدلنی پڑتی ہے۔ یہ سب کچھ ٹیسٹنگ کا حصہ ہے، اور ٹیسٹنگ میں پیسہ بھی لگتا ہے۔
اور پاکستان کی مارکیٹ میں ایک اور حقیقت بھی ہے...
اگر آپ کو 10 آرڈرز ملیں اور ان میں سے صرف 2 یا 4 آرڈرز بھی ریٹرن آ جائیں تو کئی دفعہ آپ صرف کورئیر اور ڈیلیوری چارجز ہی پورے کرتے رہ جاتے ہیں۔ نہ منافع بچتا ہے، نہ وہ تصویر بنتی ہے جو سوشل میڈیا پر دکھائی جاتی ہے۔
اسی لیے میں ہمیشہ کہتی ہوں کہ اپنا پورا بجٹ صرف اسٹاک پر کبھی مت لگائیں۔ آپ کے پاس بیک اپ فنڈ بھی ہونا چاہیے، تاکہ اگر ابتدائی مہینوں میں سیلز کم آئیں، ایڈز سے فوراً رزلٹ نہ ملے یا ریٹرنز زیادہ ہو جائیں، تو آپ کا بزنس بند نہ ہو۔
میں یہ نہیں کہہ رہی کہ کم پیسوں سے بزنس شروع نہیں ہو سکتا۔ ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ کہنا کہ "30 ہزار لگائیں اور چند مہینوں میں اچھی کمائی شروع ہو جائے گی" ہر ایک کے لیے حقیقت نہیں ہے۔
سوشل میڈیا پر صرف کامیابی کی کہانیاں دکھانے کے بجائے، لوگوں کو یہ بھی بتائیں کہ ایک برانڈ بنانے میں کتنی محنت، کتنا صبر، کتنی کنسسٹنسی اور کتنا سرمایہ لگتا ہے۔
کیونکہ خواب دکھانا آسان ہے...
لیکن حقیقت بتانا ذمہ داری ہے۔
اگر آپ کسی نئے شخص کو بزنس کا مشورہ دیں، تو کیا آپ صرف کامیابی دکھائیں گے یا اس کے ساتھ اصل چیلنجز بھی بتائیں گے؟
copied