Mian Ehtesham Haider

Mian Ehtesham Haider Digital Media Manager | Content, Video Creator | Editor

News of the SoulDo you even know — or do you feel at all —how deeply unaware you truly are?Only those words hold weight ...
27/02/2026

News of the Soul

Do you even know — or do you feel at all —
how deeply unaware you truly are?

Only those words hold weight and worth
that echo praise and gratitude.

Have you ever asked yourself
what purpose this life carries —
or are you still oblivious to its call?

Listen, O traveler of hatred,
you are in truth a citizen of the city of love.

Keep before your eyes only the Best of Mankind,
for all else is fleeting —
mere rise and fall,
nothing more than upside and down.

LIKE | SHARE | COMMENT
27/02/2026

LIKE | SHARE | COMMENT

23/02/2026

Address by Hafiz Naeem ur Rehman

16/02/2026

Ameer Jamaat-e-Islami Pakistan, Hafiz Naeem-ur-Rehman, Addressing the Bano Qabil Aptitude Test in Hyderabad

14/02/2026

Important Media Talk in Islamabad 🎙️🇵🇰 | Hafiz Naeem ur Rehman Speaks After Meeting with Fazlur Rehman

13/02/2026

U-Turn Level: Expert 😄🔄

شہرِ اقبال اور علم کا نوحہ ! 200 ایکڑ زمین سے 140 ایکڑ تک کی کہانی !نصر اللہ گورائیہنائب امیر جماعت اسلامی پنجابسیالکوٹ ...
07/02/2026

شہرِ اقبال اور علم کا نوحہ ! 200 ایکڑ زمین سے 140 ایکڑ تک کی کہانی !
نصر اللہ گورائیہ
نائب امیر جماعت اسلامی پنجاب
سیالکوٹ پاکستان کے قدیم ترین اضلاع میں شمار ہوتا ہے۔ جغرافیائی محلِ وقوع کے اعتبار سے اس کی اسٹریٹیجک اہمیت غیر معمولی ہے۔ جموں کی سمت سے بھارت کی سرحد کے ساتھ پھیلی طویل سرحدی پٹی، دونوں اطراف لہلہاتے کھیت، خوبصورت نہری نظام اور بارشوں کی رحمت اس خطے کو پنجاب کی زرخیز ترین سرزمینوں میں شامل کرتے ہیں۔ یہاں کا خوشبودار چاول، معیاری گندم، تازہ سبزیاں اور پھل نہ صرف مقامی معیشت بلکہ قومی معیشت کو بھی سہارا دیتے ہیں لیکن سیالکوٹ کی اصل پہچان اس کی زمین نہیں ، اس کے اذہان ہیں۔ یہی وہ دھرتی ہے جس نے علامہ محمد اقبالؒ جیسے مفکر کو جنم دیا، فیض احمد فیض جیسے شاعرِ انقلاب کو دنیا سے متعارف کروایا، طالب ہاشمی اور “پاکستان کا مطلب کیا؟ لاالہ الا اللہ” کا نعرہ دینے والے پروفیسر اصغر سودائی جیسے کردار پیدا کیے۔ یہ وہ سرزمین ہے جس نے چونڈہ کے محاذ پر 1965ء کی جنگ میں تاریخ رقم کی اور دشمن کے ٹینکوں کو خاک میں ملا دیا.معاشی میدان میں بھی سیالکوٹ کی حیثیت منفرد ہے۔ فٹ بال، اسپورٹس گڈز، آلاتِ جراحی، میوزیکل آلات اور لیدر مصنوعات کی بدولت یہ شہر عالمی سطح پر پہچانا جاتا ہے۔ سالانہ اربوں ڈالر کی برآمدات قومی خزانے میں شامل ہوتی ہیں۔ سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ جو عوام اور صنعتکاروں کی اپنی جمع پونجی سے تعمیر ہوا ،اس شہر کی خودداری اور وژن کا زندہ ثبوت ہےلیکن آج اسی شہرِ اقبال میں ایک ایسا معاملہ زیرِ بحث ہے جس نے شہریوں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ 2013ء میں تقریباً 200 ایکڑ زمین پر قائم خواتین یونیورسٹی جو علامہ محمد اقبال کی والدہ کریم بی بی کے نام سے منسوب ہے ۔اس کی زمین کے بارے میں یہ تجویز سامنے آئی ہے کہ 200 ایکڑ میں سے 140 ایکڑ زمین لے کر ایک وسیع و عریض ڈسٹرکٹ کمپلیکس تعمیر کیا جائے اور یونیورسٹی کو محض 60 ایکڑ تک محدود کر دیا جائے۔یہ یونیورسٹی گوجرانوالہ ڈویژن کی واحد خواتین یونیورسٹی ہے جہاں ہزاروں بیٹیاں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ شہریوں، اساتذہ اور تعلیم دوست حلقوں کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں کی زمین کم کرنا ترقی نہیں بلکہ مستقبل کی نسلوں کے مواقع محدود کرنا ہے۔سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر سخت تنقید سامنے آ رہی ہے۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ سیالکوٹ کی سیاست پر طویل عرصے سے مسلم لیگ (ن) کا اثر رہا ہے اور صوبائی حکومت و مقامی سیاست دان ایسے فیصلے کر رہے ہیں جو عوامی جذبات سے متصادم ہیں۔ خواجہ آصف اور دیگر سیاسی شخصیات کے نام اس بحث میں زیرِ گفتگو ہیں اور شہری سوال کر رہے ہیں کہ کیا تعلیم کے نام پر قائم اداروں کی زمین کم کرنا ہی ترقی ہے؟یہاں تک کہ طنزیہ انداز میں لوگ یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ اگر یہی ترقی ہے تو پھر کیوں نہ علامہ اقبال کا آبائی گھر بھی کسی ایس ایچ او کو دے دیا جائے، اور سیالکوٹ کے تاریخی قلعے میں چند عدالتیں قائم کر دی جائیں کیونکہ جب علم کی زمین ہی محفوظ نہ رہے تو پھر تاریخی ورثہ اور تعلیمی ادارے کس حد تک محفوظ رہیں گے؟

📢 واضح مطالبات :شہرِ اقبال کے باسیوں کی آواز،سیالکوٹ کے شہریوں کا مؤقف بالکل واضح ہے:
• 200 ایکڑ میں سے 140 ایکڑ زمین لینے کے منصوبے کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔
• کریم بی بی کے نام سے منسوب خواتین یونیورسٹی کو محدود نہیں بلکہ مزید زمین اور وسائل فراہم کیے جائیں۔
• سیالکوٹ میں نئے تعلیمی ادارے، جامعات اور تحقیقی مراکز قائم کیے جائیں تاکہ شہر کی علمی روایت مضبوط ہو۔
• اگر ڈسٹرکٹ کمپلیکس ناگزیر ہے تو اسے خواجہ ہاؤس یا دیگر مناسب سرکاری اراضی پر منتقل کیا جائے۔
• تعلیمی اداروں کی زمین پر فیصلے بند کمروں میں نہیں بلکہ عوامی مفاد اور شفافیت کے ساتھ کیے جائیں۔
🧭 اصل سوال ترقی یا تعلیمی زوال؟
قومیں عدالتوں کی عمارتوں سے نہیں بلکہ درسگاہوں سے بنتی ہیں۔ اگر یونیورسٹیوں کو محدود کیا جائے گا تو علم کی جگہ اینٹ اور پتھر لے لیں گے۔ سیالکوٹ نے پاکستان کو نظریہ دیا، دفاع دیا، معیشت دی ۔ اب وقت ہے کہ اس شہر کی علمی روح کا بھی احترام کیا جائے۔یہ صرف زمین کا مسئلہ نہیں…یہ بیٹیوں کے مستقبل، شہرِ اقبال کی علمی روایت اور آنے والی نسلوں کے خوابوں کا سوال ہے۔کاش فیصلے سیاست سے بالاتر ہو کر کیے جائیں…کاش کوئی شہرِ اقبال کی روح کو سمجھے۔اور کاش اس دھرتی پر علم کا چراغ بجھنے نہ دیا جائے۔

04/02/2026

Hafiz Naeem U Rehman

22/12/2025

داغ دار اجالا
ہوس کا نوالا
تن بھی کالا من بھی کالا
ناظم اسلامی جمعیت طلبہ سیالکوٹ برادر عطا الرحمن سلہری
۔
۔
۔
۔
۔

‏میں حق پرستوں کی ایک قبیل  سے ہوں۔۔۔۔‏جو حق پر ڈٹ گیا اس لشکر قلیل سے ہوں۔۔۔‏میں یوں ہی دست و گریباں نہیں زمانے سے۔۔۔‏م...
14/12/2025

‏میں حق پرستوں کی ایک قبیل سے ہوں۔۔۔۔
‏جو حق پر ڈٹ گیا اس لشکر قلیل سے ہوں۔۔۔
‏میں یوں ہی دست و گریباں نہیں زمانے سے۔۔۔
‏میں جس جگہ کھڑا ہوں کسی دلیل سے ہو۔۔۔۔

13/12/2025

12/12/2025

Siraj ul Haq | Nishtar Hall Peshawar |

Address

Model Town
Sialkot

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mian Ehtesham Haider posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share