09/09/2024
ہم سمجھتے ہیں کہ وقت (Time) بس ایک سیدھی لکیر کی طرح چلتا ہے۔ صبح سے شام، کل سے آج اور آج سے کل اور (Space) ہمارے اردگرد ہر لمحہ قائم و دائم رہتا ہے۔ مگر یہ محض ایک نظر کا دھوکہ ہے، ایک فریب جسے آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت (Theory Of Relativity) نے اس قدر چاک کیا کہ کائنات کی بنیادوں میں دراڑیں پڑ گئیں۔ نظریہ اضافیت نے ہمیں بتایا کہ زماں و مکاں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ آپ چاہے کائنات کے کسی گوشے میں ہو، کسی ستارے کے گرد گھومتے کسی سیارے پر یا کسی کہکشاں کے کنارے پر، آپکا وجود سپیس ٹائم کے چادر میں قید ہوگا۔ سپیس ٹائم میں آپ حرکت کرینگے تو نہ صرف آپکی پوزیشن بدلے گی بلکہ آپکے لئے وقت کی رفتار بھی مختلف ہوگی۔ سپیس ٹائم کے چادر کو آپ لچکدار کہہ سکتے ہیں۔ جسطرح آپ پانی میں کوئی بھاری پتھر رکھتے ہیں اور پانی کی سطح پر لہریں پیدا ہوتی ہیں بلکل ویسے ہی بھاری جسم (سورج، زمین، بلیک ہولز وغیرہ) سپیس ٹائم کے اس flexible چادر میں خم پیدا کرتے ہیں۔ جتنا بھاری جسم ہوگا اتنا ہی زیادہ خم پیدا ہوگا اور یہی وہ خم ہے جسے ہم گراوٹی کہتے ہیں۔ وقت کی تعریف کیا ہے؟ وقت خود کیا ہے؟ اگرچہ وقت سب کیلئے ایک سیدھی اور نا رکنے والی ندی کی طرح ہے لیکن درحقیقت یہ بہاؤ ارگرد کی چیزوں پر منحصر ہوتا ہے۔ جتنا زیادہ کشش ثقل ہوگا اتنی ہی سست رفتاری سے وقت کا بہاؤ ہوگا۔ خلا میں بھاری اجسام جیسے بلیک ہولز جنکا ماس انتہائی زیادہ ہوتا ہے وہ سپیس ٹائم میں اتنا زیادہ خم پیدا کرتے ہیں کہ وہاں وقت کی رفتار انتہائی سست ہوتی ہے۔ وہاں گزارا ایک لمحہ زمین کے کئی گھنٹوں، مہینوں یا سالوں کے برابر ہو سکتا ہے۔ ہم جو کچھ بھی محسوس کرتے ہیں وہ سب کچھ اسی لامحدود کائناتی چادر سپیس ٹائم کے اندر ہونے والا ایک چھوٹا سا ارتعاش ہے جو بگ بینگ سے لیکر اب تک اس کائنات میں جاری ہے۔