Neutral Craft

Neutral Craft interesting creative design & many more 🌟

10/01/2025

Hindi dubbed suqid game 2 explained

ہم سمجھتے ہیں کہ وقت (Time) بس ایک سیدھی لکیر کی طرح چلتا ہے۔ صبح سے شام، کل سے آج اور آج سے کل اور (Space) ہمارے اردگرد...
09/09/2024

ہم سمجھتے ہیں کہ وقت (Time) بس ایک سیدھی لکیر کی طرح چلتا ہے۔ صبح سے شام، کل سے آج اور آج سے کل اور (Space) ہمارے اردگرد ہر لمحہ قائم و دائم رہتا ہے۔ مگر یہ محض ایک نظر کا دھوکہ ہے، ایک فریب جسے آئن سٹائن کے نظریہ اضافیت (Theory Of Relativity) نے اس قدر چاک کیا کہ کائنات کی بنیادوں میں دراڑیں پڑ گئیں۔ نظریہ اضافیت نے ہمیں بتایا کہ زماں و مکاں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ آپ چاہے کائنات کے کسی گوشے میں ہو، کسی ستارے کے گرد گھومتے کسی سیارے پر یا کسی کہکشاں کے کنارے پر، آپکا وجود سپیس ٹائم کے چادر میں قید ہوگا۔ سپیس ٹائم میں آپ حرکت کرینگے تو نہ صرف آپکی پوزیشن بدلے گی بلکہ آپکے لئے وقت کی رفتار بھی مختلف ہوگی۔ سپیس ٹائم کے چادر کو آپ لچکدار کہہ سکتے ہیں۔ جسطرح آپ پانی میں کوئی بھاری پتھر رکھتے ہیں اور پانی کی سطح پر لہریں پیدا ہوتی ہیں بلکل ویسے ہی بھاری جسم (سورج، زمین، بلیک ہولز وغیرہ) سپیس ٹائم کے اس flexible چادر میں خم پیدا کرتے ہیں۔ جتنا بھاری جسم ہوگا اتنا ہی زیادہ خم پیدا ہوگا اور یہی وہ خم ہے جسے ہم گراوٹی کہتے ہیں۔ وقت کی تعریف کیا ہے؟ وقت خود کیا ہے؟ اگرچہ وقت سب کیلئے ایک سیدھی اور نا رکنے والی ندی کی طرح ہے لیکن درحقیقت یہ بہاؤ ارگرد کی چیزوں پر منحصر ہوتا ہے۔ جتنا زیادہ کشش ثقل ہوگا اتنی ہی سست رفتاری سے وقت کا بہاؤ ہوگا۔ خلا میں بھاری اجسام جیسے بلیک ہولز جنکا ماس انتہائی زیادہ ہوتا ہے وہ سپیس ٹائم میں اتنا زیادہ خم پیدا کرتے ہیں کہ وہاں وقت کی رفتار انتہائی سست ہوتی ہے۔ وہاں گزارا ایک لمحہ زمین کے کئی گھنٹوں، مہینوں یا سالوں کے برابر ہو سکتا ہے۔ ہم جو کچھ بھی محسوس کرتے ہیں وہ سب کچھ اسی لامحدود کائناتی چادر سپیس ٹائم کے اندر ہونے والا ایک چھوٹا سا ارتعاش ہے جو بگ بینگ سے لیکر اب تک اس کائنات میں جاری ہے۔

انویٹ (Inuit) قوم کے قدیم برفانی "چشمے" - برف کی چمک سے بچاؤ کی قدیم تکنیکقطب شمالی کے منجمد علاقوں میں رہنے والی انویٹ ...
07/09/2024

انویٹ (Inuit) قوم کے قدیم برفانی "چشمے" - برف کی چمک سے بچاؤ کی قدیم تکنیک

قطب شمالی کے منجمد علاقوں میں رہنے والی انویٹ قوم نے اپنی بقا کے لیے قدرت کے ساتھ ہم آہنگی کے اصولوں پر مبنی بہت سی تخلیقی ایجادات کیں۔ ان میں سے ایک نمایاں ایجاد ان کے قدیم برفانی "چشمے" تھے۔ یہ چشمے نہ صرف سادہ اور کارآمد تھے بلکہ انویٹ لوگوں کی فطرت کی گہری سمجھ اور سخت حالات میں زندگی گزارنے کی صلاحیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

برفانی اندھے پن کا مسئلہ اور اس کا حل

انویٹ قوم کو اکثر شدید روشنی کے انعکاس کا سامنا کرنا پڑتا تھا جو کہ برف کے وسیع میدانوں میں سورج کی کرنوں سے پیدا ہوتا تھا۔ اس روشنی کی شدت سے "برفانی اندھا پن" (Snow Blindness) کا خطرہ بڑھ جاتا تھا، جس سے آنکھیں متاثر ہو سکتی تھیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے انویٹ لوگوں نے برفانی چشمے ایجاد کیے۔

چشموں کا منفرد ڈیزائن

یہ چشمے عام طور پر ہڈی، خاص طور پر وہیل یا ہرن کی ہڈی، یا پھر سمندری جانوروں کی کھال سے تیار کیے جاتے تھے۔ ان چشموں کا ڈیزائن نہایت سادہ لیکن مؤثر تھا۔ چشمے کی پتلی پٹیوں میں باریک، لمبے اور افقی سوراخ کیے جاتے تھے۔ یہ سوراخ اتنے چھوٹے ہوتے تھے کہ صرف روشنی کی ایک محدود مقدار ہی آنکھوں تک پہنچتی تھی، اور یوں برف کی سطح سے منعکس ہونے والی شدید روشنی سے آنکھوں کو بچایا جا سکتا تھا۔

انویٹ لوگ ان چشموں کو اپنی آنکھوں پر فٹ کر کے باندھ لیتے تھے۔ ان کے باریک سوراخ روشنی کو صرف ایک مخصوص زاویے سے داخل ہونے دیتے تھے، جس سے نہ صرف ان کی نظر بہتر رہتی تھی بلکہ آنکھوں پر پڑنے والے روشنی کے دباؤ کو بھی کم کیا جا سکتا تھا۔ یہ چشمے دیکھنے میں بہت سادہ لگتے تھے لیکن ان کا ڈیزائن انتہائی کارآمد تھا۔

چشموں کی تیاری میں فطرت کے وسائل کا استعمال

انویٹ برفانی چشمے تیار کرنے کے لیے وہی مواد استعمال کرتے تھے جو ان کے اردگرد کی فطرت میں موجود ہوتا تھا۔ مثال کے طور پر، ہرن کی ہڈی یا سمندری جانوروں کی کھال استعمال کی جاتی تھی۔ یہ چشمے نہ صرف انویٹ لوگوں کی فطرت سے ہم آہنگی کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ ان کی تخلیقی صلاحیت اور محنت کی بھی عکاسی کرتے ہیں۔

آج کے دور میں قدیم برفانی چشمے

اگرچہ آج جدید دور میں سائنسی ترقی نے ہمیں زیادہ بہتر اور مؤثر چشمے فراہم کیے ہیں، مگر انویٹ قوم کے قدیم برفانی چشمے ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ کیسے انسان نے اپنے ماحول سے ہم آہنگ ہو کر مشکلات کا سامنا کیا اور اپنی بقا کے لیے تخلیقی طریقے اپنائے۔ یہ چشمے آج بھی ہماری تہذیب کی ایک اہم علامت ہیں اور ہمیں ماضی کے انسانوں کی ذہانت اور فطرت کے ساتھ ان کی ہم آہنگی کی یاد دلاتے ہیں۔

ٹیکنالوجی کی ترقی کا سفر جاری👣دنیا بھر میں طبعی اموات سے زیادہ شرح حادثوں کی اموات کی ہے، اسی کے پیش نظر " سام سنگ " نے ...
06/09/2024

ٹیکنالوجی کی ترقی کا سفر جاری👣

دنیا بھر میں طبعی اموات سے زیادہ شرح حادثوں کی اموات کی ہے، اسی کے پیش نظر " سام سنگ " نے سڑکوں پر حادثات کو روکنے کے لیے ایک نئی ٹیکنالوجی تیار کی ہے جسے سیفٹی ٹرک کہا جاتا ہے۔

یہ ٹیکنالوجی ٹرک کے اگلے حصے سے منسلک ایک وائرلیس کیمرہ اور پچھلے حصے میں چار بیرونی مانیٹر کا استعمال کرتی ہے۔

مانیٹر آگے کی سڑک کا لائیو منظر دکھاتے ہیں، جس سے ٹرک کے پیچھے ڈرائیوروں کو یہ دیکھنے کی اجازت ملتی ہے کہ کیا ہو رہا ہے اور اوور ٹیک کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں بہتر فیصلے کر سکتے ہیں۔

یہ ٹیکنالوجی دو لین والی سڑکوں پر حادثات کو روکنے میں مدد کر سکتی ہے، کیونکہ یہ ٹرک کے پیچھے ڈرائیوروں کو ٹرک کے آگے کی سڑک کو بہتر طور پر دیکھنے کی اجازت دیتی ہے اور اوور ٹیک کرنے کے خطرات کو کم کرتی ہے۔

‏"دنیا میں ایک ایسا مرد بھی گزرا ہے جو اپنی زندگی میں کسی بھی عورت کو دیکھے بغیر مر گیا۔"مہیلو ٹولوٹوس (Mihailo Tolotos)...
05/09/2024

‏"دنیا میں ایک ایسا مرد بھی گزرا ہے جو اپنی زندگی میں کسی بھی عورت کو دیکھے بغیر مر گیا۔"

مہیلو ٹولوٹوس (Mihailo Tolotos) 1858ء میں پیدا ہوا ۔ پیدائش کے کچھ گھنٹوں بعد ہی اس کی والدہ کا انتقال ہو گیا اور اسے کوہ ایتھوز پر قائم خانقاہ کی سیڑھیوں پر لاوارث چھوڑ دیا گیا تھا۔
مہیلو ٹولوٹوس کو خانقاہ کے راہبوں نے اٹھا لیا اور گود لے لیا ۔
یہ جگہ سخت روایات کے لئے جانی جاتی تھی۔
اس άβατον (Avaton) کا انوکھا اصول، جو 10ویں صدی میں قائم ہوا، عورتوں کا اس علاقے میں داخل ہونا سختی سے منع تھا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ راہب خود کو مکمل طور پر روحانی روشن خیالی کے لیے وقف کر سکتے ہیں۔ اس دیرینہ اصول، جس کا مقصد راہبوں کے برہمی طرز زندگی کو برقرار رکھنا تھا ، انہیں بیرونی دنیا کی تیز رفتار تبدیلیوں سے بھی بچانا تھا ۔ اس طرح وہ ، کبھی بھی کسی عورت کا سامنا کیے بغیر، کار، ہوائی جہاز، یا یہاں تک کہ ایک فلم دیکھے بغیر پروان چڑھا۔
1938 میں، 82 سال کی عمر میں، ٹولوٹوس کا انتقال ہو گیا، وہ کبھی بھی اپنے خانقاہی پناہ گاہ کی حدود سے باہر نہیں نکلا۔ اس کی زندگی، جو تنہائی اور روحانی حصول کا ایک قابل ذکر عہد نامہ ہے، کو ماؤنٹ ایتھوس کے راہبوں کی طرف سے منعقدہ ایک خصوصی تدفین کی تقریب کے ساتھ یادگار بنایا گیا۔
ان کا ماننا تھا کہ مہیلو ٹولوٹوس (Mihailo Tolotos) واحد مرد ہے جو کسی عورت کو دیکھے بغیر زندہ رہا اور مر گیا۔

یہ اُرگا (موجودہ اولانباتر)، منگولیا میں واقع جیل کی ایک خوفناک داستان ہے جو تاریخ کی سب سے خوفناک جیلوں میں شمار ہوتی ہ...
05/09/2024

یہ اُرگا (موجودہ اولانباتر)، منگولیا میں واقع جیل کی ایک خوفناک داستان ہے جو تاریخ کی سب سے خوفناک جیلوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس جیل میں قیدیوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا وہ انتہائی وحشیانہ اور غیر انسانی تھا۔

رائے چیپ مین اینڈریوز، جو امریکن میوزیم آف نیچرل ہسٹری کے مستقبل کے ڈائریکٹر بنے، نے 1918 میں منگولیا کا دورہ کیا اور اُرگا جیل کا معائنہ کیا۔ وہاں انہوں نے ایک ایسی حقیقت دیکھی جو انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کی تھی۔ قیدیوں کو چار فٹ بائی تین فٹ کے چھوٹے چھوٹے ڈبوں میں رکھا جاتا تھا جو تابوتوں کی مانند تھے۔ یہ ڈبے اتنے تنگ تھے کہ قیدی نہ تو صحیح سے بیٹھ سکتے تھے اور نہ ہی لیٹ سکتے تھے۔

ان ڈبوں میں ایک چھوٹا سا سوراخ ہوتا تھا جس سے قیدیوں کو خوراک دی جاتی تھی اور وہ اپنی ضروریات پوری کرتے تھے۔ قیدیوں کے اعضاء حرکت نہ ہونے کی وجہ سے اکڑ جاتے تھے اور وہ شدید اذیت میں مبتلا ہو جاتے تھے۔ جیل کے حالات اتنے بدتر تھے کہ قیدی اکثر موت کی سزا کے بجائے تابوتوں میں ہی مر جاتے تھے۔

اُرگا جیل میں قیدیوں کو جانوروں سے بھی بدتر سلوک کا سامنا کرنا پڑتا تھا، اور یہ جیل ایک عبرت کا نشان بن گئی تھی۔ اس جیل کا نام تاریخ میں ہمیشہ ایک خوفناک یادگار کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

اگر آپ ڈبہ پیک موبائل لینا چاہتے ہیں تو ،آپ کا حق ہے کہ نان ایکٹو موبائل لیں ۔۔نان ایکٹو کا مطلب ہے کہ وہ موبائل پہلے کس...
04/09/2024

اگر آپ ڈبہ پیک موبائل لینا چاہتے ہیں تو ،
آپ کا حق ہے کہ نان ایکٹو موبائل لیں ۔۔

نان ایکٹو کا مطلب ہے کہ وہ موبائل پہلے کسی کے استعمال
میں نہ آیا ہو ۔۔

جی ہاں ! ڈبہ پیک موبائل بھی دو صورتوں میں ایکٹو Active ہو سکتے ہیں ۔

1 : ۔ کبھی کبھی موبائل کمپنی کی طرف سے دکانداروں
کو آفر دی جاتی ہے کہ ، مقررہ مدت میں ، مقررہ تعداد سیل کریں
تو بونس دیا جائے گا ۔
پھر دکاندار ڈبہ کھول کر موبائل ایکٹو کر کے دوبارہ پیک کر دیتے ہیں ۔۔
اس صورت میں کسٹمر کیلئے کوئی خاص خطرہ نہیں ہے ۔

2 : دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ کوئی کسٹمر ڈبہ پیک موبائل لے کر گیا دو چار دن چلا کر واپس آیا اور کسی وجہ سے موبائل سیل کر دیا ۔۔
دکاندار موبائل کی اچھی کنڈیشن دیکھ کر ، اس موبائل کو بھی دوبارہ پیک
کر دیتے ہیں ۔۔
ایسا موبائل کسٹمر کیلئے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے ،
کیونکہ ممکن ہے کہ یوزر نے اس موبائل میں ایسی سم SIM استعمال کی ہو جو کسی غلط واردات میں استعمال ہو چکی ہو ۔

( چند ایک دکاندار یہ کام کرتے ہیں ، اکثریت Genuine
کام کر رہے ہیں ) ۔۔

حل : ۔۔

آپ ڈبہ پیک موبائل لے رہے تو بالخصوص ۔۔ یوز میں / سیکنڈ ہینڈ
موبائل لے رہے ہیں تو بھی آپ کے پاس
یہ ایپ ہونا ضروری ہے ۔۔
گوگل پلے اسٹور سے ڈاؤن لوڈ کر لیں ۔۔
Is Original ۔

اس ایپ میں موبائل کی IMEI نمبر ڈالیں ۔۔ وارنٹی
کی Expiry date آ جائے گی ۔۔ عموماً موبائل کی ایک سال کی وارنٹی ہوتی ہے تو ۔۔ اس سے آپ چیک کر سکتے ہیں
کو موبائل ایکٹو تو نہیں ۔۔

اور اپنے کسی بھی موبائل کی IMEI نمبر گوگل پر سرچ کریں ۔۔ گوگل پر لکھیں IMEI.info ۔۔ جو پہلی
ویب سائٹ اوپن ہو ۔۔ وہاں اپنے موبائل کی IMEI ڈال دیں ۔۔
آپ کے موبائل کے متعلق ساری تفصیل سامنے آ جائے گی ۔

یہ IMEI نمبر موبائل کے ڈبہ پر بھی لکھا ہوتا ہے ۔۔
اور موبائل سے #06 #* ڈائل کر کے بھی آپ چیک کر سکتے ہیں ۔ IMEI .. یہ 15 ہندسوں پر مشتمل ہوتا ہے ۔

یہ IMEI کا تعلق ، زیادہ تر سم چلانے سے متعلق ہوتا ہے ۔

ایک سم والے موبائل میں ایک IMEI ہوتی ہے ، دو سم والے میں دو IMEI ۔

یہ IMEI ہی PTA ( پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی )
سے ، ٹیکس ادا کر کے اپروو ہوتی ہے ۔۔ ڈبہ پیک موبائل میں یہ کام کسمٹر کا نہیں ۔۔ موبائل کمپنیاں ہی IMEI ، ۔۔ PTA ۔۔ سے
اپروو کرا کر دیتی ہیں ۔۔

غیر ملک سے لائے گئے موبائل کو بھی پی ٹی اے
سے ٹیکس ادا کر کے اپروو کرانا پڑتا ہے ۔۔

اگر کسی نے مثال کے طور پر سعودیہ / دبئی سے موبائل منگوایا ہے تو ۔۔ وہ پاکستان میں اگر اس موبائل پر SIM
چلانا چاہتا ہے تو پہلے PTA کو ٹیکس ادا کرے ۔۔
کیونکہ اس موبائل کی IMEI ، پی ٹی اے میں پاکستانی نیٹورک پر رجسٹر نہیں ہے ۔

کچھ عرصہ قبل پی ٹی اے نے کہا تھا کہ غیر ملکی موبائل ، پاکستانی نیٹورک پر 4 ماہ بغیر ٹیکس کے چلا سکتے ہیں ۔۔
اور حال ہی میں ، ایسے موبائل پر ٹیکس بالکل ختم کرنے
کی افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں ۔

بہ ہر حال ۔۔

یہ لیگل طریقہ ہے پاکستانی نیٹورک پر سم چلانے کا ۔۔
اس کے علاوہ دو چیزیں اور بھی ہوتی ہیں ۔

بعض اوقات کچھ ایسے موبائل جن کے اگر PTA ٹیکس
چیک کریں تو موبائل کی کل قیمت سے بھی ڈبل ہوتا ہے ۔۔
( پچھلے دنوں ہمارے پاس کینیڈین شہریت رکھنے والے
دوست کا موبائل آیا ۔۔ جس کا ٹیکس 43000 تھا ، جبکہ موبائل بمشکل 18/20 ہزار کا ہوگا ۔ )

ایسے میں پاکستانی لوگ جگاڑ لگانے لگے ۔۔
۔
۔

1 : ۔ پیچ ۔۔ Patch.

کسی پرانے موبائل یا کی پیڈ والے موبائل کی IMEI
غیر رجسٹرڈ موبائل پر لگا دیتے ہیں ۔۔ چونکہ پرانے / کی پیڈ
موبائل کی IMEI رجسٹر ہوتی ہے ، تو یہ موبائل بھی
پاکستانی نیٹورک پر سم چلانے کے قابل ہو جاتا ہے ۔۔

اس صورت میں موبائل کو reset کرنے سے IMEI ختم بھی ہو سکتی ہے ۔
یہ کام ہزار ، پندرہ سو میں بھی ہو جاتا ہے ۔

یہاں بہت بڑی گیمیں ڈالی جاتی ہے ۔۔ چند ماہ قبل
پی ٹی اے نے ہزاروں کی تعداد میں ایسے موبائل کی IMEI بلاک کر دی تھی ۔۔ جو کسی دوسرے موبائل کی لگائی گئی تھیں ۔

بہ ہر حال ! ۔۔

2 :۔ سی پی آئی ڈی ۔ CPID.

یہ پیچ patch کا ہی اگلا ورژن ہے ۔۔
یہ زرا مہنگا اور پکا کام ہوتا ہے ۔۔ اگر موبائل Reset
بھی کر دیں تو IMEI پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔

سی پی آئی ڈی CPID بھی ایک مستقل بزنس بن چکا ہے ۔۔
یہ آنلائن ہوتا ہے ۔
عموماً فلیگ شپ موبائل ، جو پاکستانی میں اوریجنل PTA اپروو بہت مہنگے ملتے ہیں ۔۔
یہ CPID میں کافی مناسب ریٹ میں جاتے ہیں ۔
ون پلس ، سامسنگ شیاؤمی وغیرہ کے ہائی اینڈ ڈیوائس
عموماً سی پی آئی ڈی والی ہوتی ہیں ۔

ان موبائل کا ڈبہ نہیں ہوتا ۔۔ خدا نخواستہ کہیں گر جائے ،
گم ہو جائے ، اللہ نہ کرے کوئی چوری وغیرہ ہو جاتی ہے تو FIR نہیں ہو سکے گی ۔۔ کیونکہ بغیرہ ڈبہ کے تھانے میں درخواست نہیں دے سکتے۔

نوٹ !....۔۔۔ یہ CPID اور Patch دونوں غیر قانونی کام ہیں ۔

موبائل یوزر کیلیے مسئلہ نہیں ہے ۔۔ پیچ کرنے والوں کیلئے مسئلہ ہوتا ہے ۔

اگر آپ اوریجنل PTA approve لینا چاہ رہے ہیں تو ۔۔ ایسا کریں ، کہ گوگل پلے اسٹور سے
ڈی وی ایس DVS نامی ایپ ڈاؤن لوڈ کر لیں ۔

یہاں موبائل کی IMEI نمبر ڈالیں ۔۔
یہاں سے آپ چیک کر سکتے ہیں کہ یہ IMEI اپروو
ہے یا نہیں ۔۔ اور یہ کہ ۔۔ یہ IMEI اسی موبائل کی ہے یا کسی اور کی ۔ موبائل ماڈل لکھا ہوا نظر آئے گا ۔
۔
۔

آج کی ایپس ۔
Is Original
موبائل کی وارنٹی ، ایکٹیویشن چیک کرنے کیلئے ۔

DVS
یہ IMEI چیک کرنے کیلئے
اوووووووووور
درخت لگائیں تاکہ آمدہ نسلیں صیحت مند ماحول پائیں

صحرائے صحارا، جو پورے افریقہ میں پھیلا ہوا ہے، سیارے کے سب سے وسیع قدرتی عجائبات میں سے ایک ہے۔الجزائر، چاڈ، مصر، لیبیا،...
03/09/2024

صحرائے صحارا، جو پورے افریقہ میں پھیلا ہوا ہے، سیارے کے سب سے وسیع قدرتی عجائبات میں سے ایک ہے۔

الجزائر، چاڈ، مصر، لیبیا، مالی، موریطانیہ، مراکش، نائجر، سوڈان، تیونس، اور مغربی صحارا سمیت تقریباً 11 ممالک کا احاطہ کرتے ہوئے، یہ اپنی وسعت کے ساتھ زمین کی تزئین پر حاوی ہے۔

اس کی سراسر وسعت، ہندوستان سے تقریباً 2.86 گنا بڑا ہے، جغرافیائی اور ثقافتی دونوں حوالوں سے اس کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔

پراسراریت اور خوبصورتی میں گھرا ہوا یہ بنجر پھیلاؤ ایک منفرد رغبت رکھتا ہے، جو مہم جوؤں اور سائنس دانوں کو یکساں طور پر اپنے ناہموار علاقے کو تلاش کرنے اور اس کے چھپے ہوئے خزانوں سے پردہ اٹھاتا ہے

کیا آپ جانتے ہیں کہ؟قرون وسطیٰ میں فرانس کے ایک شہر میں عورتیں صبح سویرے اپنے شوہروں کے ناشتے میں ہلکا سا زہر ڈالتی تھیں...
01/09/2024

کیا آپ جانتے ہیں کہ؟
قرون وسطیٰ میں فرانس کے ایک شہر میں عورتیں صبح سویرے اپنے شوہروں کے ناشتے میں ہلکا سا زہر ڈالتی تھیں اور پھر جب وہ رات گئے گھر واپس آتے تو انہیں اس کا تریاق دیا جاتا تھا، اس لیے اس زہر سے کوئی نقصان نہیں ہوتا تھا۔ اور اگر مرد گھر نہ آنے کی وجہ سے کہیں اور ہوتے تھے اور اس وجہ سے تریاق میں تاخیر ہوتی تو مردوں کو سر درد، متلی، سانس لینے میں تکلیف، افسردگی، درد، الٹی ہو جاتی ۔
جتنا آدمی گھر سے دور تھا،
وہ زیادہ بیمار تھا، اور پھر جب وہ گھر واپس آتا تو اس کی لاعلمی میں اس کی بیوی اسے تریاق دے د یتی اور وہ چند منٹوں میں بہتر ہو جاتا۔ اس خوفناک چال سے، مردوں کو دھوکہ دیا گیا کیونکہ وہ تصور کرتے تھے کہ گھر سے دور رہنے سے انہیں تکلیف اور ڈپریشن ہوں گے، تو وہ اپنے گھروں اور بیویوں سے منسلک ہو گئے. #

محققین "مونا لیزا"  کی پینٹنگ کے مصور  "لیونارڈو دا ونچی"  کو تاریخ میں گزرے ذہین ترین لوگوں میں سے ایک شمار کرتے ہیں - ...
30/08/2024

محققین "مونا لیزا" کی پینٹنگ کے مصور "لیونارڈو دا ونچی" کو تاریخ میں گزرے ذہین ترین لوگوں میں سے ایک شمار کرتے ہیں -
لیونارڈو دا ونچی اپنی تمام ذاتی تحریروں نوٹس کو الٹا لکھتے تھے ، یہ لکھا ہوا ورق صرف آئینے کے سامنے رکھ کر ہی پڑھنے کے قابل ہوسکتا تھا اور یہ راز سب کو معلوم نہیں تھا اور ایسا لکھنے کی وجہ بھی نامعلوم ہے۔
لیو نارڈو دا ونچی نے اپنی "مونا لیزا" کی پینٹنگ میں بھی کچھ اہم راز چھوڑے ہیں جو حال ہی میں دریافت ہوئے ہیں، مونا لیزا کی آنکھوں میں ایک خاص کوڈ بھی بنایا ہے جو عام آنکھ سے نہیں دیکھا جا سکتا اور اسے صرف حساس عدسے کی مدد سے مائیکروسکوپ کے نیچے ہی دیکھا جا سکتا ہے - مونا لیزا کی دائیں آنکھ میں دو حروف لکھے ہیں جب کہ بائیں آنکھ میں کچھ خطوط بنے ہوئے ہیں جو وقت کے عوامل کے ساتھ نہیں پہچانے جا سکتے …

Address

Sillanwali
40010

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Neutral Craft posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share