Baidar TV GB

Baidar TV GB Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Baidar TV GB, News & Media Website, Office Ali Plaza skardu, Skardu.
(2)

بیدار ٹی وی جی بی
گلگت بلتستان کی آواز — ہر خبر، ہر پہلو۔
ہماری ترجیح: حقائق، شفافیت اور بروقت اطلاع۔
عوام کی آنکھ، خطے کی زبان۔
حالاتِ حاضرہ، سیاست، سماج، ثقافت — سب کچھ، بغیر کسی پردے کے۔

🚨 اہم اپیل برائے اہلِ علاقہ 🚨روندو، حرموش، جگلوت اور چلاس کے رہائشی حضرات سے گزارش ہے کہ تمام اہلِ علاقہ سے گزارش ہے کہ ...
10/08/2026

🚨 اہم اپیل برائے اہلِ علاقہ 🚨

روندو، حرموش، جگلوت اور چلاس کے رہائشی حضرات سے گزارش ہے کہ تمام اہلِ علاقہ سے گزارش ہے کہ دریا کے کناروں پر نظر رکھیں۔
اگر کسی مقام سے کوئی میت نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر ریسکیو ٹیم کو اطلاع دیں یا درج ذیل نمبروں پر رابطہ کریں۔

📞 0342-8188114
📞 0305-9412300
📞 0355-5194555
📞 0346-9164096
📞 0355-4295180

🙏 انسانی ہمدردی کے تحت اس پوسٹ کو ضرور شیئر کریں تاکہ بروقت اطلاع اور ضروری کارروائی ممکن ہو سکے۔
آپ کا ایک شیئر کسی خاندان کے لیے بہت بڑی مدد ثابت ہو سکتا ہے۔

از قلم سیدہ تسکین بخت  ڈپریشن ایک خاموش قاتلانسانی معاشرے کی ترقی کا انحصار صرف مضبوط معیشت، جدید ٹیکنالوجی یا بلند و با...
06/08/2026

از قلم سیدہ تسکین بخت
ڈپریشن ایک خاموش قاتل
انسانی معاشرے کی ترقی کا انحصار صرف مضبوط معیشت، جدید ٹیکنالوجی یا بلند و بالا عمارتوں پر نہیں بلکہ ذہنی طور پر صحت مند نسل پر ہوتا ہے۔ اگر ایک قوم کے بچے اور نوجوان ذہنی دباؤ، اضطراب اور ڈپریشن کا شکار ہو جائیں تو اس قوم کا مستقبل بھی غیر یقینی ہو جاتا ہے۔ افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ آج ڈپریشن صرف بالغ افراد تک محدود نہیں رہا بلکہ بچے اور نوجوان بھی بڑی تعداد میں اس خاموش بیماری کی لپیٹ میں آ رہے ہیں۔ عالمی سطح پر ہونے والی تحقیقات اس امر کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ذہنی بیماریوں کی ایک بڑی تعداد کی ابتدا بچپن اور نوعمری ہی میں ہو جاتی ہے، لیکن بروقت توجہ نہ ملنے کے باعث یہ مسئلہ پوری شخصیت کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں ڈپریشن کو اکثر کمزوری، ناشکری یا وقتی اداسی سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ یہ ایک باقاعدہ نفسیاتی کیفیت ہے جو انسان کی سوچ، جذبات، رویّوں، کارکردگی اور زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کرتی ہے۔
ہر بچہ اپنے اندر فطری صلاحیتوں کا ایک منفرد خزانہ لے کر پیدا ہوتا ہے۔ کوئی تخلیقی صلاحیت رکھتا ہے، کوئی سائنسی ذہن کا مالک ہوتا ہے، کسی کو ادب، موسیقی، مصوری یا کھیل سے فطری لگاؤ ہوتا ہے، مگر بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ بچوں کو ان کی فطرت کے مطابق پروان چڑھانے کے بجائے اپنی خواہشات اور توقعات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے۔ والدین اپنی ادھوری خواہشات بچوں پر مسلط کر دیتے ہیں، اساتذہ صرف امتحانی نتائج کو کامیابی کا معیار بنا دیتے ہیں اور معاشرہ ہر بچے کو ایک ہی پیمانے پر پرکھنے لگتا ہے۔ جب کسی بچے کو مسلسل یہ احساس دلایا جائے کہ وہ دوسروں سے کم تر ہے، اس کے نمبر کم ہیں، وہ فلاں بچے جیسا ذہین نہیں یا اس کی دلچسپیاں غیر اہم ہیں، تو اس کے اندر احساسِ کمتری جنم لیتا ہے۔ یہی احساس رفتہ رفتہ خود اعتمادی کو ختم کرتا ہے اور ذہنی دباؤ کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
موجودہ تعلیمی نظام بھی اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ تعلیم کا مقصد شخصیت سازی اور فکری تربیت کے بجائے صرف زیادہ سے زیادہ نمبر حاصل کرنا بن گیا ہے۔ صبح اسکول، پھر ٹیوشن، اس کے بعد ہوم ورک اور امتحانات کی تیاری، یہ مسلسل دوڑ بچوں کو ذہنی اور جسمانی طور پر تھکا دیتی ہے۔ بچپن، جو کھیلنے، سیکھنے اور نئی چیزوں کو دریافت کرنے کا زمانہ ہوتا ہے، اب کارکردگی ثابت کرنے کی ایک مسلسل آزمائش بن چکا ہے۔ جو بچے اس دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں، وہ خود کو ناکام سمجھنے لگتے ہیں، حالانکہ ناکامی ان کی صلاحیت میں نہیں بلکہ اس نظام میں ہوتی ہے جو ہر بچے کو ایک ہی سانچے میں ڈھالنا چاہتا ہے۔
سوشل میڈیا نے بھی نوجوانوں کی ذہنی صحت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ موبائل فون کی اسکرین پر نظر آنے والی مصنوعی کامیابیاں، خوبصورتی، آسائشیں اور شہرت نوجوانوں کو اپنی حقیقی زندگی سے غیر مطمئن کر دیتی ہیں۔ وہ دوسروں کی زندگی کے بہترین لمحوں کا موازنہ اپنی روزمرہ کی حقیقت سے کرنے لگتے ہیں، جس کے نتیجے میں احساسِ محرومی پیدا ہوتا ہے۔ آن لائن بُلیئنگ، منفی تبصرے، مقبولیت کی خواہش اور مسلسل ڈیجیٹل موجودگی ذہنی سکون کو متاثر کرتی ہے۔ ماہرینِ نفسیات کا خیال ہے کہ سوشل میڈیا کا غیر متوازن استعمال نوجوانوں میں اضطراب، تنہائی اور ڈپریشن کے امکانات میں اضافہ کر سکتا ہے، خصوصاً جب یہ حقیقی سماجی تعلقات کی جگہ لے لے۔
خاندانی ماحول بھی بچوں کی ذہنی کیفیت پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ وہ گھر جہاں محبت کے بجائے ڈانٹ، مکالمے کے بجائے حکم، اور اعتماد کے بجائے خوف کا ماحول ہو، وہاں بچے اپنے جذبات کو دبا دیتے ہیں۔ والدین کی باہمی ناچاقی، گھریلو تشدد، بے توجہی، غیر ضروری سختی یا جذباتی دوری بچے کے احساسِ تحفظ کو مجروح کرتی ہے۔ ایسا بچہ بظاہر خاموش رہتا ہے مگر اندر ہی اندر شدید ذہنی کشمکش سے گزرتا رہتا ہے۔ یہی دباؤ وقت کے ساتھ ڈپریشن کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
ڈپریشن کے اثرات صرف ذہنی کیفیت تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ بچے کی تعلیمی کارکردگی، یادداشت، توجہ، سماجی روابط اور شخصیت کی نشوونما کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ ایسا بچہ آہستہ آہستہ تنہائی پسند ہو جاتا ہے، اس کی دلچسپیاں ختم ہونے لگتی ہیں، مستقبل کے بارے میں امید کم ہو جاتی ہے اور بعض صورتوں میں وہ خود کو بے وقعت سمجھنے لگتا ہے۔ اگر بروقت مدد نہ ملے تو یہ کیفیت مزید سنگین صورت اختیار کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں ذہنی صحت کو جسمانی صحت کے برابر اہمیت دی جا رہی ہے۔
اس مسئلے کا حل صرف ادویات میں نہیں بلکہ رویّوں کی تبدیلی میں پوشیدہ ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو دوسروں سے موازنہ کرنے کے بجائے ان کی انفرادی صلاحیتوں کو پہچانیں اور ان کی کوششوں کی تعریف کریں۔ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ صرف نمبروں کے بجائے بچوں کی تخلیقی صلاحیت، اخلاقی تربیت اور ذہنی آسودگی پر بھی توجہ دیں۔ تعلیمی اداروں میں پیشہ ورانہ نفسیاتی مشاورت کا نظام قائم ہونا چاہیے تاکہ ذہنی دباؤ کا شکار بچوں کی بروقت رہنمائی ہو سکے۔ اسی طرح سوشل میڈیا کے متوازن استعمال، کھیل، مطالعہ، جسمانی سرگرمیوں اور خاندانی گفتگو کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنایا جائے تاکہ بچے اپنے جذبات کا اظہار کر سکیں اور خود کو تنہا محسوس نہ کریں
حقیقت یہ ہے کہ بچوں اور نوجوانوں میں بڑھتا ہوا ڈپریشن صرف ایک طبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی، تعلیمی اور اخلاقی بحران ہے۔ جب ایک معاشرہ بچوں سے ان کا بچپن چھین لے، انہیں مسلسل مقابلے، موازنے اور توقعات کے بوجھ تلے دبا دے، ان کی بات سننے کے بجائے صرف ان سے کامیابی کا مطالبہ کرے، تو ان کی صلاحیتیں پروان نہیں چڑھتیں بلکہ مرجھا جاتی ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر بچہ ایک الگ شخصیت، الگ خواب اور الگ صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر ہم اسے محبت، اعتماد، آزادیِ اظہار اور مناسب رہنمائی فراہم کریں تو وہ نہ صرف ڈپریشن سے محفوظ رہ سکتا ہے بلکہ اپنی بھرپور صلاحیتوں کے ساتھ معاشرے کی ترقی میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ ایک ذہنی طور پر صحت مند نسل ہی ایک مضبوط، مہذب اور روشن مستقبل کی حقیقی ضمانت ہے۔

پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 45 پیسے فی لیٹر اضافہہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے فی لیٹر کمی
06/08/2026

پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 45 پیسے فی لیٹر اضافہ
ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے فی لیٹر کمی

پھیالونگ منصوبہ | 9 اگست 2026 کو افتتاح کا اعلان | افتتاحی تقریب دیوسائی میں ہوگی |صدر انجمن امامیہ بلتستان آغا سید باقر...
05/08/2026

پھیالونگ منصوبہ | 9 اگست 2026 کو افتتاح کا اعلان | افتتاحی تقریب دیوسائی میں ہوگی
|صدر انجمن امامیہ بلتستان آغا سید باقر الحسینی
و ترجمان آفتاب

#ایڈمن
#آغاسیدباقرالحسینی

05/08/2026

یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر فرزندِ پاکستان راجہ سائیں کا پیغام

گر میری وفات کے بعد میری آخری وصیت پوچھی جائے تو میرا جواب صرف اتنا ہوگا:
مجھے میرے وطنِ عزیز پاکستان کے سبز ہلالی پرچم میں لپیٹ کر سپردِ خاک کیا جائے اور میری قبر پر یہ الفاظ لکھ دیے جائیں
یہ وہ فرزندِ پاکستان تھا جس نے اپنی آخری سانس تک پاکستان سے وفاداری کشمیر کی آزادی کے مؤقف اور افواجِ پاکستان کی عزت وقار اور دفاع پر فخر کیا۔
میرا ایمان ہے کہ پاکستان میری پہچان میری عزت اور میری جان ہے جبکہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ وطنِ عزیز پاکستان کو ہمیشہ امن استحکام اور ترقی عطا فرمائے کشمیری عوام کو آزادی نصیب کرے اور افواجِ پاکستان کو ہر میدان میں کامیاب و کامران رکھے۔

پاکستان زندہ باد کشمیر پائندہ باد۔

Raja Saen

05/08/2026

ممبر گلگت بلتستان اسمبلی سید امام مالک کا یوم استحصال کشمیر سے متعلق اہم پیغام

سکردو بھر میں چہلمِ حضرت امام حسینؑ 2026 کے جلوس پُرامن ماحول میں جاری ہیںسکردو; (کریم کریمی) سکردو بھر میں چہلمِ حضرت ا...
04/08/2026

سکردو بھر میں چہلمِ حضرت امام حسینؑ 2026 کے جلوس پُرامن ماحول میں جاری ہیں

سکردو; (کریم کریمی) سکردو بھر میں چہلمِ حضرت امام حسینؑ کے سلسلے میں برآمد ہونے والے ماتمی جلوس انتہائی پُرامن، مذہبی عقیدت اور احترام کے ساتھ اپنے مقررہ راستوں پر گامزن ہیں۔ جلوسوں کے راستوں پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ، پولیس، ریسکیو ادارے اور رضاکار اپنی ذمہ داریاں احسن انداز میں انجام دے رہے ہیں۔

شہریوں نے بھی نظم و ضبط اور باہمی رواداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جلوسوں کے پُرامن انعقاد میں بھرپور تعاون کیا۔ مختلف مقامات پر عزاداروں کے لیے سبیلوں اور طبی امداد کے مراکز بھی قائم کیے گئے ہیں۔

ایک المیہ! سکردو سے تعلق رکھنے والے دو نوجوان دریائے سندھ میں ڈوب گئے ہیں۔ ان کے جسد خاکی کی تلاش جاری ہے۔ دریا کے کنارو...
03/08/2026

ایک المیہ! سکردو سے تعلق رکھنے والے دو نوجوان دریائے سندھ میں ڈوب گئے ہیں۔ ان کے جسد خاکی کی تلاش جاری ہے۔ دریا کے کناروں پر رہنے والے تمام اہل علاقہ سے اپیل ہے کہ انسانیت کے ناطے اپنے علاقوں میں نظر رکھیں اور کسی بھی اطلاع کی صورت میں دیئے گئے نمبروں پر رابطہ کریں۔ دعا ہے کہ اللہ پاک ان کی تلاش میں آسانیاں پیدا کرے۔"
03059412300
03469164096

 #سکردو: چھومک پل سائیڈ کے مقام پر دو افراد کے دریا میں ڈوبنے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو 𝟏𝟏𝟐𝟐 سکردو کی...
02/08/2026

#سکردو: چھومک پل سائیڈ کے مقام پر دو افراد کے دریا میں ڈوبنے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو 𝟏𝟏𝟐𝟐 سکردو کی ٹیم فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

میڈیا سیل ریسکیو 𝟏𝟏𝟐𝟐 سکردو

گلگت۔شندور روڈ: متاثرین معاوضے کے منتظر، ترقی کا سفر کیوں رکا ہوا ہے؟تحریر: دردانہ شیرگلگت۔شندور روڈ گلگت بلتستان کے اہم...
02/08/2026

گلگت۔شندور روڈ: متاثرین معاوضے کے منتظر، ترقی کا سفر کیوں رکا ہوا ہے؟
تحریر: دردانہ شیر
گلگت۔شندور روڈ گلگت بلتستان کے اہم ترین ترقیاتی منصوبوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ شاہراہ نہ صرف غذر بلکہ پورے خطے کی معاشی، تجارتی اور سیاحتی ترقی کی ضامن سمجھی جاتی ہے۔ عوام کو امید تھی کہ اس سڑک کی تعمیر سے سفری مشکلات کم ہوں گی، سیاحت کو فروغ ملے گا، تجارت میں اضافہ ہوگا اور مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ لیکن افسوس کہ اس اہم منصوبے کی رفتار مختلف انتظامی اور مالی مسائل کے باعث مسلسل متاثر ہو رہی ہے۔
سب سے بڑا مسئلہ ان متاثرین کا ہے جن کی زمینیں اور املاک تین سال قبل سڑک کی زد میں آ چکی ہیں، مگر آج تک انہیں معاوضہ ادا نہیں کیا جا سکا۔ اس دوران متاثرہ زمینوں پر نہ کاشتکاری کی جا سکتی ہے اور نہ ہی تعمیرات کی اجازت ہے۔ یوں درجنوں خاندان ایک غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ ان کی قیمتی زمینیں بھی ان کے کسی کام کی نہیں رہیں اور معاوضہ بھی ابھی تک نہیں ملا۔
ضلعی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ متاثرین کی زمینوں کا ریکارڈ، پیمائش اور معاوضے سے متعلق تمام دستاویزی کارروائی مکمل کی جا چکی ہے، تاہم نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی جانب سے فنڈز فراہم نہ ہونے کے باعث ادائیگیاں ممکن نہیں ہو سکیں۔ دوسری جانب یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے منصوبے کے لیے فنڈز کی بروقت فراہمی نہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف متاثرین کو معاوضہ ملنے میں تاخیر ہو رہی ہے بلکہ سڑک کی تعمیر بھی شدید سست روی کا شکار ہے۔اس تاخیر کے اثرات صرف متاثرین تک محدود نہیں۔ تعمیراتی کمپنیوں کی بھاری مشینری مختلف مقامات پر کھڑی ہے، جبکہ آبادی والے علاقوں میں مقامی لوگ معاوضہ ملنے تک تعمیراتی کام کی اجازت نہیں دے رہے۔ نتیجتاً کمپنیوں کو روزانہ لاکھوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے اور منصوبے کی تکمیل مزید تاخیر کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ گلگت۔شندور روڈ گلگت بلتستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بن سکتی ہے۔ اس شاہراہ کی تکمیل سے نہ صرف غذر بلکہ چترال اور دیگر ملحقہ علاقوں کے درمیان رابطے بہتر ہوں گے، سیاحت، تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا اور ہزاروں افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گےضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی حکومت، نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور متعلقہ ادارے اس منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کریں۔ سب سے پہلے متاثرین کو ان کی زمینوں اور املاک کا جائز معاوضہ فوری ادا کیا جائے تاکہ وہ اپنی زندگیوں کو دوبارہ منظم کر سکیں اور منصوبے پر کام بھی بلا رکاوٹ جاری رہ سکے۔
ترقیاتی منصوبے صرف سڑکیں بنانے کا نام نہیں، بلکہ ان منصوبوں سے متاثر ہونے والے شہریوں کے حقوق کا تحفظ بھی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر متاثرین کو بروقت انصاف اور معاوضہ فراہم کیا جائے تو نہ صرف عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بحال ہوگا بلکہ گلگت۔شندور روڈ جیسے اہم منصوبے بھی جلد اپنی منزل تک پہنچ سکیں گے، جو یقیناً گلگت بلتستان کی خوشحالی اور روشن مستقبل کی ضمانت ثابت ہوں گے۔

Address

Office Ali Plaza Skardu
Skardu
16100

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Baidar TV GB posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Baidar TV GB:

Shortcuts

Share