Bazm e Masoomi skr

Bazm e Masoomi skr online

28/04/2026

💫 بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ 💫

آج صبح جب میں آفس جا رہا تھا، تو راستے میں ایک کالج کی بچی کو سڑک کنارے اپنی سکوٹی کے ساتھ پریشان کھڑا دیکھا۔ اخلاقی طور پر یہی مناسب سمجھا کہ اس کی مدد کی جائے۔ میں نے اپنی بائیک گھمائی اور اس کے قریب جا کر رکا

موجودہ حالات کے پیشِ نظر وہ بچی مجھے دیکھ کر سہم سی گئی، لیکن میں نے مناسب فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے بڑے ادب سے سلام کیا

"السلام علیکم بیٹا جی! آپ کیوں پریشان ہیں اور یہاں اکیلی کیوں کھڑی ہیں؟"

بچی نے دبی آواز میں جواب دیا اور بتایا کہ سکوٹی اچانک بند ہو گئی ہے، موبائل گھر بھول آئی ہے اور کالج سے بھی لیٹ ہو رہی ہے۔ اس کی آنکھوں میں خوف تھا، کہنے لگی: "ابھی ایک لڑکا پاس سے گزرا، اس نے بہت بدتمیزی کی اور گندی باتیں کیں، میں بہت ڈر گئی ہوں۔"

میں نے اسے حوصلہ دیا: "بیٹا! آپ بالکل پریشان نہ ہوں، آپ میری بیٹیوں کی طرح ہیں۔"

میں نے خود کوشش کی لیکن سکوٹی ٹھیک نہ ہوئی۔ میں نے اسے اپنی بائیک پر بیٹھنے کا کہا تاکہ وہ محفوظ محسوس کرے، پہلے تو وہ ہچکچائی لیکن میرے اصرار اور لہجے کے خلوص نے اسے بھروسہ دلایا۔ میں نے مکینک کو بلوایا، جس نے آکر نقص دور کر دیا۔ جب میں نے مکینک کو پیسے دے کر رخصت کیا اور بچی کو بتایا کہ سکوٹی ٹھیک ہو گئی ہے، تو اس کے چہرے کی خوشی دیدنی تھی ☺️

اس نے شکریہ کے طور پر پرس سے ہزار کا نوٹ نکال کر مجھے دینا چاہا، لیکن میں نے مسکرا کر انکار کر دیا۔ اسے تاکید کی کہ اب کالج کا وقت نکل چکا ہے، اس لیے سیدھی گھر جائیں۔ وہ اپنی منزل کی طرف روانہ ہوئی اور دور جا کر ایک بار پھر ہاتھ ہلا کر الوداع کہا

میری تمام بھائیوں سے گزارش ہے

یہ بچیاں ہماری اپنی ہیں۔ اگر وہ اپنی ضرورت یا تعلیم کے لیے سڑک پر نکلتی ہیں، تو انہیں تحفظ فراہم کرنا ہمارا فرض ہے۔ انہیں راستہ دیں، انہیں عزت دیں، نہ کہ انہیں اکیلا دیکھ کر ہوس زدہ بن جائیں☝️

حقیقی مرد وہ نہیں جس سے عورتیں ڈریں، بلکہ مرد ہونے کا اصل احساس یہ ہے کہ آپ کی موجودگی میں کوئی بھی عورت یا بچی خود کو غیر محفوظ نہ سمجھے 🌟

آئیں عہد کریں کہ ہم اپنے رویوں سے اس معاشرے کو اپنی بیٹیوں کے لیے محفوظ بنائیں گے تاکہ انہیں مرد ذات سے خوف نہیں، بلکہ تحفظ کا احساس ملے 🩵

یہ تحریر واٹس ایپ سے کاپی کی گئی ہے جو آگاہی کے لئیے پھیلائی جا رہی ہے ☝️ copy
✍️فرخ احمد معصومی

🌹بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ🌹            ہم اپنے بچوں کو نماز کا پابند کیسے بنائیں؟                      بغیر ...
23/04/2026

🌹بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ🌹

ہم اپنے بچوں کو نماز کا پابند کیسے بنائیں؟
بغیر چیخی چلائے یا سزا دیے

1. سب سے پہلے عملی نمونہ ان کے سامنے خشوع کے ساتھ نماز پڑھیں، کیونکہ دل پر نظر سے زیادہ اثر ہوتا ہے کان سے۔

2 ترغیب ڈرانے سے پہلے: نماز کے لیے کوئی چھوٹا سا تحفہ یا تعریف و حوصلہ افزائی کریں، کیونکہ بچہ تعریف پسند کرتا ہے۔
3 نرمی اور خوش مزاجی نماز کے لیے پیار بھرے الفاظ یا شفقت بھرا لمس استعمال کریں، سختی یا غصے کے بغیر۔

4 تدریج اور لچک اسے بتدریج نماز کا عادی بنائیں اور ایک دم مکمل ہونے کی توقع نہ رکھیں۔
5 نماز کو محبت سے جوڑنا اسے یاد دلائیں کہ نماز اللہ سے ملاقات ہے، محض ایک بوجھ یا فرض نہیں۔
تربیت نماز کو زبردستی ٹھونسنے سے نہیں ہوتی، بلکہ دل میں اس کی محبت اور شوق پیدا کرنے سے ہوتی ہے۔

✍️فرخ احمد معصومی

21/04/2026

✨ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ✨

میں ایک جاننے والے کے گھر گیا تو وہاں ایک بڑا سبق آموز قصہ رونما ہوا جو آپ کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں۔ میں ان کے ڈرائینگ روم میں جا کر بیٹھا تو کچن ڈرائینگ روم کے ساتھ اٹیچ تھا جس کی وجہ سے کچن میں ہونے والی گفتگو کو تھوڑا غور کرنے سے سنا جا سکتا تھا۔

دو خواتین گفتگو کر رہی تھیں جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ یہ دونوں اس گھر کی دلہنیں ہیں۔ ان دونوں کی گفتگو نے مجھے ایک بہت بڑا سبق سکھایا۔ ایک خاتون دوسری سے کہہ رہی تھی کہ ”تم پر کتنا ظلم ہوتا ہے سارا دن تم سے گھر کے کام کرواتے رہتے ہیں،

ہر کوئی تمھیں نوکر کی طرح سمجھتا ہے شائد اس لئے کہ تم مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتی ہو اور مجھے دیکھو گھر میں سارا دن رانیوں کی طرح راج کرتی ہوں کوئی مجھے کچھ نہیں کہتا،

جس کو کام ہوتا ہے وہ تمھیں کہتا ہے، تمھیں ان لوگوں نے گھر کی نوکرانی بنا رکھا ہے، تم اپنے شوہر کو کیوں نہیں بتاتی یہ سب ؟“ دوسری خاتون نے انتہائی خوبصورت جواب دیا اس نے کہا :

”مجھے اس بات پر فخر ہے کہ گھر کے افراد ہر کام کے لئے میرا انتحاب کرتے ہیں کیونکہ مجھے ان کے کام کرنے سے خوشی محسوس ہوتی ہے اور جب میں اس گھر کے کاموں کو اپنا سمجھ کر کرتی ہوں تو مجھے تھکن محسوس نہیں ہوتی

اور جب میرا شوہر گھر آتا ہے تو وہ گھر کے ہر فرد سے میرے لئے تعریفی کلمات سنتا ہے تو مجھے سے خوش ہو جاتا ہے اور میرے شوہر کے چہرے پر آنے والی وہ خوشی میرے دن بھر کی تھکن کو پل بھر میں ختم کر دیتی ہے اور پھر میں اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں کہ

میں اپنے شوہر کی نا فرمانی اور ناراضگی سے محفوظ ہوں اور باقی رہی مڈل کلاس کی بات تو اللہ کے نزدیک ان کلاسسز کی کوئی اہمیت نہیں وہ اپنے بندے کو تقویٰ کی بنیاد پر پرکھتا ہے،

اس لئے میں اپنے شوہر کی نافرمان ہو کر اپنے رب کو ناراض نہیں کرنا چاہتی اس کے لئے چاہے مجھے کوئی بھی قربانی دینی پڑے۔ “

اس نیک بخت خاتون کی باتیں سنی تو یقین ہو گیا کہ لازماً اس خاتون کی تربیت کے پیچھے کسی عظیم خاتون کا ہاتھ ہے جس نے اپنی بیٹی کو ایسے اعلٰی اخلاق سے مزین کیا۔
✍️فرخ احمد معصومی

With Ishfaque Ahmed – I just got recognized as one of their top fans! 🎉
19/04/2026

With Ishfaque Ahmed – I just got recognized as one of their top fans! 🎉

19/04/2026

✨ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ✨

سات سو سال قبل لکھی گئی ابن خلدون کی یہ تحریر گویا مستقبل کے تصور کا منظر نامہ ہے:

“مغلوب قوم کو ہمیشہ فاتح کی تقلید کا شوق ہوتا ہے، فاتح کی وردی اور وردی پر سجے تمغے، طلائی بٹن اور بٹنوں پر کنندہ طاقت کی علامات، اعزازی نشانات، اس کی نشست و برخاست کے طور طریقے، اس کے تمام حالات، رسم و رواج ، اس کے ماضی کو اپنی تاریخ سے جوڑ لیتے ہیں، حتیٰ کہ وہ حملہ آور فاتح کی چال ڈھال کی بھی پیروی کرنے لگتے ہیں، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ جس طاقتور سے شکست کھاتے ہیں اس کی کمال مہارت پر آنکھیں بند کر کے یقین رکھتے ہیں۔

محکوم معاشرہ اخلاقی اقدار سے دستبردار ہو جاتا ہے ، ظلمت کا دورانیہ جتنا طویل ہوتا ہے، ذہنی و جسمانی طور پر محکوم سماج کا انسان اتنا ہی جانوروں سے بھی بدتر ہوجاتا ہے، ایک وقت آتا ہے کہ محکوم صرف روٹی کے لقمے اور جنسی جبلت کے لیے زندہ رہتا ہے۔

جب ریاستیں ناکام اور قومیں زوال پذیر ہوتی ہیں تو ان میں نجومی، بھکاری، منافق، ڈھونگ رچانے والے، چغل خور، کھجور کی گٹھلیوں کے قاری، درہم و دینار کے عوض فتویٰ فروش فقہیہ، جھوٹے راوی، ناگوار آواز والے متکبر گلوکار، بھد اڑانے والے شاعر، غنڈے، ڈھول بجانے والے، خود ساختہ حق سچ کے دعویدار، زائچے بنانے والے، خوشامدی، طنز اور ہجو کرنے والے، موقع پرست سیاست دانوں اور افواہیں پھیلانے والے مسافروں کی بہتات ہوجاتی ہے ۔
ہر روز جھوٹے روپ کے نقاب آشکار ہوتے ہیں مگر یقین کوئی نہیں کرتا ، جس میں جو وصف سرے سے نہیں ہوتا وہ اس فن کا ماہر مانا جاتا ہے، اہل ہنر اپنی قدر کھو دیتے ہیں، نظم و نسق ناقص ہو جاتا ہے، گفتار سے معنویت کا عنصر غائب ہوجاتا ہے ، ایمانداری کو جھوٹ کے ساتھ، اور جہاد کو دہشت گردی کے ساتھ ملا دیا جاتا ہے۔

جب ریاستیں برباد ہوتی ہیں، تو ہر سو دہشت پھیلتی ہے اور لوگ گروہوں میں پناہ ڈھونڈنے لگتے ہیں، عجائبات ظاہر ہوتے ہیں اور افواہیں پھیلتی ہیں، بانجھ بحثیں طول پکڑتی ہیں، دوست دشمن اور دشمن دوست میں بدل جاتا ہے، باطل کی آواز بلند ہوتی ہے اور حق کی آواز دب جاتی ہے، مشکوک چہرے زیادہ نظر آتے ہیں اور ملنسار چہرے سطح سے غائب ہو جاتے ہیں، حوصلہ افزا خواب نایاب ہو جاتے ہیں اور امیدیں دم توڑ جاتی ہیں، عقلمند کی بیگانگی بڑھ جاتی ہے، لوگوں کی ذاتی شناخت ختم ہوجاتی ہے اور جماعت، گروہ یا فرقہ ان کی پہچان بن جاتے ہیں۔

مبلغین کے شور شرابے میں دانشوروں کی آواز گم ہو جاتی ہے۔
بازاروں میں ہنگامہ برپا ہو جاتا ہے اور وابستگی کی بولیاں لگ جاتی ہیں، قوم پرستی، حب الوطنی، عقیدہ اور مذہب کی بنیادی باتیں ختم ہو جاتی ہیں اور ایک ہی خاندان کے لوگ خونی رشتہ داروں پر غداری کے الزامات لگاتے ہیں۔

بالآخر حالات اس نہج پر پہنچ جاتے ہیں کہ لوگوں کے پاس نجات کا ایک ہی منصوبہ رہ جاتا ہے اور وہ ہے "ہجرت"، ہر کوئی ان حالات سے فرار اختیار کرنے کی باتیں کرتا ہے، تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ ہونے لگتا ہے، وطن ایک سرائے میں بدل جاتا ہے، لوگوں کا کل سازو سامان سفری تھیلوں تک سمٹ آتا ہے، چراگاہیں ویران ہونے لگتی ہیں، وطن یادوں میں، اور یادیں کہانیوں میں بدل جاتی ہیں۔”

ابن خلدون خدا آپ پر رحم کرے! کیا آپ ہمارے مستقبل کی جاسوسی کر رہے تھے؟ آپ سات صدیاں قبل وہ دیکھنے کے قابل تھے جو ہم آج تک دیکھنے سے قاصر ہیں!

✍️فرخ احمد معصومی

18/04/2026

☪️ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ☪️
🌲بیٹوں کی اقسام🌲
بیٹے پانچ قسموں کے ہوتے ہیں...!

۱: پہلے وہ جنہیں والدین کسی کام کو کرنے کا حُکم دیں تو کہنا نہیں مانتے، یہ عاق ہیں...

۲: دوسرے وہ ہیں جنہیں والدین کسی کام کو کرنے کا کہہ دیں تو کر تو دیتے ہیں مگر بے دلی اور کراہت کے ساتھ، یہ کسی قسم کے اجر سے محروم رہتے ہیں...

۳: تیسری قسم کے بیٹے وہ ہیں جنہیں والدین کوئی کام کرنے کا کہہ دیں تو کر تو دیتے ہیں مگر بڑبڑاتے ہوئے، سُنا سُنا کر، احسان جتلا کر، بکواس بازی کر کر کے۔ یہ کام کر کے بھی گھاٹے میں ہیں اور گناہ کما رہے ہیں...

۴: چوتھی قسم کے وہ بیٹے ہیں جنہیں والدین کوئی کام بتا دیں تو خوش دلی سے کرتے ہیں، یہ اجر کماتے ہیں اور ایسے بیٹے بہت کم ہوتے ہیں...

۵: پانچویں قسم کے وہ بیٹے ہیں جو والدین کی ضرورتوں کے کام اُن کے کہنے سے پہلے کر دیتے ہیں، یہ خوش بخت بیٹوں کی نادر قسم ہیں...

آخری دو قسم کے بیٹے؛ ان کی عمر میں برکت، رزق میں وسعت، ان کے معاملات کی آسانی اور ان کے سینوں میں پڑی راحت اور وسعت کے بارے میں کچھ نا پوچھیئے، یہ تو بس اللہ “اپنی رحمت کے لیے جس کو چاہتا ہے مخصوص کر لیتا ہے اور اس کا فضل بہت بڑا ہے...

ایک چھوٹا سا سوال ہے ہر اُس کرم فرما کیلئے جو اس وقت یہ پڑھ رہا ہے: آپ اوپر بیان کیئے گئے بیٹوں کی قسموں میں سے کون سی قسم کے بیٹے ہیں...؟

(بھاگ کر اپنی ماں کے سر پر بوسہ دینے سے پہلے) اپنے آپ سے یہ پوچھ کر دیکھیئے کہ والدین کے ساتھ “بِر” یا حُسن سلوک یا راستبازی ہوتی کیا ہے...؟

یہ حُسن سلوک؛ ماں یا باپ کے سر پر ایک بوسہ لے لینے کا نام نہیں ہے، ناں ہی ان کے ہاتھوں پر یا حتی کہ اُن کے پاؤں پر بوسہ لینے کا نام ہے۔ کہیں یہ کر کے تو اس گمان میں میں ناں پڑ جائے کہ تو نے ان کی رضا کو پا لیا ہے...

حُسن سلوک یہ ہے کہ تو اُن کے دل میں آئی ہوئی خواہش کو محسوس کرے اور پھر اُن کے حُکم کا انتظار کیئے بغیر اس خواہش کو پورا کر دے...

حُسن سلوک یہ ہے کہ تو یہ جاننے کی کوشش میں لگا رہے کہ انہیں کونسی بات خوشی دیتی ہے اور پھر اُس کام کو جلدی سے کر ڈالے۔ اور تو یہ جاننے کی کوشش کرے کہ انہیں کس بات سے دُکھ پہنچتا ہے اور پھر اس کوشش میں رہے کہ وہ تجھ سے ایسی کوئی چیز کبھی بھی نا دیکھ پائیں...

اُن سے حسن سلوک یہ ہے کہ تجھے ان کا احساس ہو، تو ان کیلیئے بات چیت کا وقت نکالتا ہو، انہیں کسی چیز کے کھانے پینے کی طلب ہو تو حاضر کر دیتا ہو بھلے یہ ایک چائے کا کپ ہی کیوں ناں ہو...

حسن سلوک یہ بھی ہے کہ تو اُن کے آرام اور راحت کا خیال رکھے بھلے اس کیلیئے اپنی راحت کو ہی کیوں نا تیاگنا پڑے۔ اگر تیری دوستوں میں شب بیداری انہیں شاق گزرتی ہے تو تیرا جلدی سو جانا بھی ان کے ساتھ ایک حسن سلوک کی ہی ایک مثال ہے...

حسن سلوک یہ بھی ہے کہ ان کی خاطر اپنی دعوتیں ضیافتیں چھوڑ دے اگر اس سے تیرا اُن کے ساتھ میل جول متاثر ہوتا ہے تو...

ایک مناسب ریسٹورنٹ پر ان کے ساتھ کھانا، حج و عمرہ میں ان کی راحت کے پیش نظر اچھے ہوٹل میں ان کے قیام کا بندوبست، حتی کہ کہیں چھوٹی موٹی تفریح اور پکنک جو تیرے والدین کے دل کو سرور دے اور وہ اپنی اس عمر میں بھی خوشی کا احساس پائیں...

حسن سلوک یہ بھی ہے کہ تیرے والدین تیرے مال سے مستفیض ہو رہے ہوں بھلے وہ خود کیوں ناں مالدار ہوں۔ اور تیرا یہ جانے بغیر کہ ان کے پاس اب کتنے پیسے ہیں اور انہیں ضرورت ہے بھی یا کہ نہیں تو ان پر خرچ کرتا رہے...

حس سلوک یہ بھی ہے کہ تو ان کی حتی المقدور راحت تلاش کرتا رہے اور انہوں نے تیری ولادت سے اب تک جو کچھ خدمت کر دی ہے کو کافی سمجھے اور اب ان کے احسانات کے بدلے میں کچھ نا کچھ کرتا رہے...

حس سلوک یہ بھی ہے کہ تو ان کے لبوں پر کسی طرح ہنسی لاتا رہے بھلے تو اپنے نظروں میں کیوں ناں مسخرہ ہی لگ رہا ہو...

آخری بات: والدین سے حسن سلوک تیرے اور تیرے بھائیوں بہنوں کے درمیان "باری بندی" کا نام نہیں۔ یہ تو ایک دوڑ کا نام ہے جو جنت کے دروازوں کی طرف جاری ہے اور پتہ نہیں کون پہلے پہنچ جائے۔ اور یہ بھی یاد رکھو کہ جنت کو بہت سے راستے جاتے ہیں اور ان میں سے کئی راستے تیرے والدین سے ہو کر جاتے ہیں...!!!
✍️فرخ احمد معصومی

17/04/2026

🌺 بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ 🌺
لوگ تمہیں تب تک اچھا سمجھیں گے، جب تک تم ان سے متفق رہو"
گروپ تھنک کا جال۔

کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ پاکستانی معاشرے میں اختلافِ رائے کو زیادہ پسند نہیں کیا جاتا؟ زیادہ تر لوگ اپنے گروپ، خاندان، یا دوستوں کے خیالات سے متفق رہنے کی کوشش کرتے ہیں، چاہے وہ اندرونی طور پر ان سے اختلاف رکھتے ہوں۔ اس رویے کو نفسیات میں "گروپ تھنک" (Groupthink) کہا جاتا ہے، جو ہماری زندگی کے بڑے فیصلوں پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی نوجوان خاندان کی مرضی کے خلاف کوئی غیر روایتی کیریئر چنتا ہے، تو اسے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یا اگر کوئی سیاست، مذہب، یا سماجی معاملات پر "اکثریتی" رائے سے ہٹ کر کچھ کہتا ہے، تو لوگ اسے ناپسند کرنے لگتے ہیں، چاہے اس کی بات حقیقت پر مبنی ہو۔

گروپ تھنک کیا ہے؟
"گروپ تھنک" سائیکالوجی کی ایک اصطلاح ہے، جس کے مطابق لوگ کسی گروہ کے ساتھ چلنے کے لیے اپنی انفرادی سوچ اور عقل کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔ اس اصطلاح کو 1972 میں ماہرِ نفسیات اِروِنگ جینس (Irving Janis) نے متعارف کروایا، جنہوں نے تحقیق کی کہ گروہ کے اندر دباؤ کیسے لوگوں کو عقل مندانہ فیصلے کرنے سے روکتا ہے۔
یہ اثر صرف عام افراد پر نہیں، بلکہ حکومتی پالیسی سازوں، کمپنیوں کے ایگزیکٹوز، اور اداروں کے رہنماؤں پر بھی ہوتا ہے، جس کی وجہ سے بہت سے غلط فیصلے کیے جاتے ہیں۔

پاکستان میں گروپ تھنک کی مثالیں

1. خاندانی دباؤ اور شادی کے فیصلے
اکثر نوجوان، خاص طور پر لڑکیاں، اپنے خاندان کی مرضی کے خلاف شادی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتیں، چاہے وہ جانتی ہوں کہ ان کے لیے بہتر فیصلہ کچھ اور ہو سکتا ہے۔ خاندان کا دباؤ اور "لوگ کیا کہیں گے؟" کا خوف، انہیں وہ فیصلہ کرنے پر مجبور کرتا ہے جو وہ خود نہیں چاہتیں۔

2. کیریئر کا انتخاب
انجینئرنگ، میڈیکل، اور سرکاری نوکریوں کو کامیابی کا واحد معیار سمجھا جاتا ہے۔ اگر کوئی نوجوان آرٹ، فری لانسنگ، یا کوئی غیر روایتی کیریئر چننا چاہے تو اکثر اسے سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ اس خوف سے کہ "اگر میں ناکام ہو گیا تو خاندان اور دوست کیا کہیں گے؟"، لوگ اپنے خوابوں کو ترک کر دیتے ہیں۔

3. سیاست اور مذہب پر گفتگو
پاکستانی معاشرے میں سیاست اور مذہب پر اختلافی گفتگو کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی پارٹی یا فرقے کے عمومی بیانیے سے ہٹ کر بات کرے، تو اسے فوراً غدار، بے دین، یا جاہل قرار دے دیا جاتا ہے، چاہے اس کے دلائل کتنے ہی مضبوط کیوں نہ ہوں۔

لوگ کیوں بھیڑ چال کا شکار ہوتے ہیں؟

1951 میں ایک مشہور ماہرِ نفسیات سولومن ایش (Solomon Asch) نے ایک تجربہ کیا، جس میں لوگوں کو ایک گروپ میں شامل کیا گیا اور ان کے سامنے چند سادہ سوالات رکھے گئے۔
یہ سوالات اتنے آسان تھے کہ ہر کوئی ان کا صحیح جواب دے سکتا تھا۔ لیکن گروپ میں شامل کچھ لوگ، جو اصل میں تجربے کے ساتھی تھے، جان بوجھ کر غلط جواب دیتے۔ حیران کن طور پر، جب عام افراد نے دیکھا کہ زیادہ تر لوگ ایک غلط جواب دے رہے ہیں، تو وہ بھی اپنا درست جواب چھوڑ کر اکثریت کے ساتھ چلنے لگے۔

یہ تجربہ ثابت کرتا ہے کہ لوگ اکثر سچ جاننے کے باوجود، صرف گروپ سے باہر ہونے کے خوف سے، اپنے اصل خیالات کو دبا دیتے ہیں۔

گروپ تھنک کے نقصانات

اختلافِ رائے دب جاتا ہے، جس کی وجہ سے معاشرے میں ترقی رک جاتی ہے۔
غلط فیصلے لیے جاتے ہیں، کیونکہ لوگ اکثریت کے دباؤ میں آ کر جذباتی فیصلے کر لیتے ہیں۔
نئی سوچ اور خیالات پنپ نہیں پاتے، اور سب ایک جیسے خیالات کو دہرانے لگتے ہیں۔
انسانی حقوق اور انصاف متاثر ہوتا ہے، کیونکہ کوئی بھی غیر مقبول رائے کا دفاع کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔

اس جال سے کیسے بچا جائے؟

1. اپنی رائے کو پہچانیے: اپنی سوچ کو دوسروں کے اثر سے آزاد کرنے کی کوشش کریں اور اپنے اندرونی خیالات کا تجزیہ کریں۔

2. سوالات کریں: جو بھی معلومات آپ تک پہنچے، اس پر غور کریں اور تحقیق کریں کہ آیا یہ حقیقت پر مبنی ہے یا محض اکثریتی رائے کا نتیجہ۔
3. نئی سوچ کو قبول کریں: وہ خیالات جو عام نہیں ہیں، وہ بھی سننے اور سمجھنے کے قابل ہوتے ہیں۔
4. تنقید سے نہ گھبرائیں: اگر آپ کی رائے حقیقت پر مبنی ہے، تو محض لوگوں کے ناراض ہونے کے خوف سے اسے تبدیل نہ کریں۔
5. صحیح فیصلے کے لیے مختلف آراء سنیں: کسی بھی بڑے فیصلے سے پہلے مختلف نظریات اور خیالات کو سنیں، بجائے اس کے کہ صرف اکثریت کے دباؤ میں آئیں۔

پاکستان میں سچ بولنے، مختلف رائے رکھنے، یا اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کے لیے ہمت چاہیے۔ "گروپ تھنک" ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم بھیڑ کے ساتھ چلیں، چاہے ہمیں پتہ ہو کہ راستہ غلط ہے۔ لیکن اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے فیصلے حقیقت اور منطق پر مبنی ہوں، تو آپ کو اس نفسیاتی جال کو پہچاننا اور اس سے باہر نکلنا ہوگا۔
✍️فرخ احمد معصومی

17/04/2026

🌺 بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ 🌺
لوگ تمہیں تب تک اچھا سمجھیں گے، جب تک تم ان سے متفق رہو"
گروپ تھنک کا جال۔

کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ پاکستانی معاشرے میں اختلافِ رائے کو زیادہ پسند نہیں کیا جاتا؟ زیادہ تر لوگ اپنے گروپ، خاندان، یا دوستوں کے خیالات سے متفق رہنے کی کوشش کرتے ہیں، چاہے وہ اندرونی طور پر ان سے اختلاف رکھتے ہوں۔ اس رویے کو نفسیات میں "گروپ تھنک" (Groupthink) کہا جاتا ہے، جو ہماری زندگی کے بڑے فیصلوں پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی نوجوان خاندان کی مرضی کے خلاف کوئی غیر روایتی کیریئر چنتا ہے، تو اسے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یا اگر کوئی سیاست، مذہب، یا سماجی معاملات پر "اکثریتی" رائے سے ہٹ کر کچھ کہتا ہے، تو لوگ اسے ناپسند کرنے لگتے ہیں، چاہے اس کی بات حقیقت پر مبنی ہو۔

گروپ تھنک کیا ہے؟
"گروپ تھنک" سائیکالوجی کی ایک اصطلاح ہے، جس کے مطابق لوگ کسی گروہ کے ساتھ چلنے کے لیے اپنی انفرادی سوچ اور عقل کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔ اس اصطلاح کو 1972 میں ماہرِ نفسیات اِروِنگ جینس (Irving Janis) نے متعارف کروایا، جنہوں نے تحقیق کی کہ گروہ کے اندر دباؤ کیسے لوگوں کو عقل مندانہ فیصلے کرنے سے روکتا ہے۔
یہ اثر صرف عام افراد پر نہیں، بلکہ حکومتی پالیسی سازوں، کمپنیوں کے ایگزیکٹوز، اور اداروں کے رہنماؤں پر بھی ہوتا ہے، جس کی وجہ سے بہت سے غلط فیصلے کیے جاتے ہیں۔

پاکستان میں گروپ تھنک کی مثالیں

1. خاندانی دباؤ اور شادی کے فیصلے
اکثر نوجوان، خاص طور پر لڑکیاں، اپنے خاندان کی مرضی کے خلاف شادی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتیں، چاہے وہ جانتی ہوں کہ ان کے لیے بہتر فیصلہ کچھ اور ہو سکتا ہے۔ خاندان کا دباؤ اور "لوگ کیا کہیں گے؟" کا خوف، انہیں وہ فیصلہ کرنے پر مجبور کرتا ہے جو وہ خود نہیں چاہتیں۔

2. کیریئر کا انتخاب
انجینئرنگ، میڈیکل، اور سرکاری نوکریوں کو کامیابی کا واحد معیار سمجھا جاتا ہے۔ اگر کوئی نوجوان آرٹ، فری لانسنگ، یا کوئی غیر روایتی کیریئر چننا چاہے تو اکثر اسے سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ اس خوف سے کہ "اگر میں ناکام ہو گیا تو خاندان اور دوست کیا کہیں گے؟"، لوگ اپنے خوابوں کو ترک کر دیتے ہیں۔

3. سیاست اور مذہب پر گفتگو
پاکستانی معاشرے میں سیاست اور مذہب پر اختلافی گفتگو کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی پارٹی یا فرقے کے عمومی بیانیے سے ہٹ کر بات کرے، تو اسے فوراً غدار، بے دین، یا جاہل قرار دے دیا جاتا ہے، چاہے اس کے دلائل کتنے ہی مضبوط کیوں نہ ہوں۔

لوگ کیوں بھیڑ چال کا شکار ہوتے ہیں؟

1951 میں ایک مشہور ماہرِ نفسیات سولومن ایش (Solomon Asch) نے ایک تجربہ کیا، جس میں لوگوں کو ایک گروپ میں شامل کیا گیا اور ان کے سامنے چند سادہ سوالات رکھے گئے۔
یہ سوالات اتنے آسان تھے کہ ہر کوئی ان کا صحیح جواب دے سکتا تھا۔ لیکن گروپ میں شامل کچھ لوگ، جو اصل میں تجربے کے ساتھی تھے، جان بوجھ کر غلط جواب دیتے۔ حیران کن طور پر، جب عام افراد نے دیکھا کہ زیادہ تر لوگ ایک غلط جواب دے رہے ہیں، تو وہ بھی اپنا درست جواب چھوڑ کر اکثریت کے ساتھ چلنے لگے۔

یہ تجربہ ثابت کرتا ہے کہ لوگ اکثر سچ جاننے کے باوجود، صرف گروپ سے باہر ہونے کے خوف سے، اپنے اصل خیالات کو دبا دیتے ہیں۔

گروپ تھنک کے نقصانات

اختلافِ رائے دب جاتا ہے، جس کی وجہ سے معاشرے میں ترقی رک جاتی ہے۔
غلط فیصلے لیے جاتے ہیں، کیونکہ لوگ اکثریت کے دباؤ میں آ کر جذباتی فیصلے کر لیتے ہیں۔
نئی سوچ اور خیالات پنپ نہیں پاتے، اور سب ایک جیسے خیالات کو دہرانے لگتے ہیں۔
انسانی حقوق اور انصاف متاثر ہوتا ہے، کیونکہ کوئی بھی غیر مقبول رائے کا دفاع کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔

اس جال سے کیسے بچا جائے؟

1. اپنی رائے کو پہچانیے: اپنی سوچ کو دوسروں کے اثر سے آزاد کرنے کی کوشش کریں اور اپنے اندرونی خیالات کا تجزیہ کریں۔

2. سوالات کریں: جو بھی معلومات آپ تک پہنچے، اس پر غور کریں اور تحقیق کریں کہ آیا یہ حقیقت پر مبنی ہے یا محض اکثریتی رائے کا نتیجہ۔
3. نئی سوچ کو قبول کریں: وہ خیالات جو عام نہیں ہیں، وہ بھی سننے اور سمجھنے کے قابل ہوتے ہیں۔
4. تنقید سے نہ گھبرائیں: اگر آپ کی رائے حقیقت پر مبنی ہے، تو محض لوگوں کے ناراض ہونے کے خوف سے اسے تبدیل نہ کریں۔
5. صحیح فیصلے کے لیے مختلف آراء سنیں: کسی بھی بڑے فیصلے سے پہلے مختلف نظریات اور خیالات کو سنیں، بجائے اس کے کہ صرف اکثریت کے دباؤ میں آئیں۔

پاکستان میں سچ بولنے، مختلف رائے رکھنے، یا اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کے لیے ہمت چاہیے۔ "گروپ تھنک" ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم بھیڑ کے ساتھ چلیں، چاہے ہمیں پتہ ہو کہ راستہ غلط ہے۔ لیکن اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے فیصلے حقیقت اور منطق پر مبنی ہوں، تو آپ کو اس نفسیاتی جال کو پہچاننا اور اس سے باہر نکلنا ہوگا۔
✍️فرخ احمد معصومی

https://medium.com//%D8%A8%D9%90%D8%B3%D9%92%D9%85%D9%90-%D8%A7%D9%84%D9%84%D9%91%D9%B0%D9%87%D9%90-%D8%A7%D9%84%D8%B1%D9%8E%D9%91%D8%AD%D9%92%D9%85%D9%B0%D9%86%D9%90-%D8%A7%D9%84%D8%B1%D9%8E%D9%91%D8%AD%D9%90%D9%8A%D9%92%D9%85%D9%90-b1d3094b9b26

🌺 بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ 🌺🥀 _*اسلام میں عورت کے چار عظیم روپ.  🥀عورت اسلام میں محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک...
16/04/2026

🌺 بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ 🌺
🥀 _*اسلام میں عورت کے چار عظیم روپ. 🥀

عورت اسلام میں محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک مکمل معاشرتی بنیاد ہے وہ کبھی ماں بن کر جنت کا دروازہ بنتی ہے کبھی بیوی بن کر سکون کا ذریعہ کبھی بیٹی بن کر رحمت اور کبھی بہن بن کر وفا کی علامت
رسول اللہﷺ کی تعلیمات میں ان تمام کرداروں کو نہایت عظمت اور احترام کے ساتھ بیان کیا گیا ہے
*ماں:* جنت کا سب سے بڑا دروازہ ماں کے روپ میں عورت کی عظمت کو اسلام نے انتہائی بلند مقام دیا ہے
ایک صحابیؓ نے رسول اللہﷺ سے پوچھا میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟
آپﷺ نے فرمایا تمہاری ماں
انہوں نے تین بار یہی سوال دہرایا اور ہر بار جواب آیا (تمہاری ماں) چوتھی بار فرمایا تمہارا باپ
(صحیح بخاری:5971)
(صحیح مسلم:2548)
یہ حدیث ماں کے مقام کو تین گنا زیادہ اہمیت دے کر واضح کرتی ہے کہ عورت جب ماں بنتی ہے تو اس کا مقام سب سے بلند ہو جاتا ہے
*بیوی:* سکون اور بہترین اخلاق کا معیار
بیوی کے ساتھ حسنِ سلوک کو ایمان کا معیار قرار دیا گیا
رسول اللہﷺ نے فرمایا تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ سب سے بہتر ہو اور میں اپنی بیویوں کے ساتھ تم سب سے بہتر ہوں
(جامع الترمذی:3895)
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ عورت بطور بیوی احترام نرمی اور حسنِ سلوک کی مستحق ہے اور یہی مرد کی اخلاقی برتری کا معیار ہے
*بیٹی:* رحمت اور جنت کا سبب بیٹیوں کی پرورش کو جنت کا ذریعہ قرار دیا گیا
رسول اللہﷺ نے فرمایا جس شخص نے دو بیٹیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بالغ ہو گئیں تو میں اور وہ جنت میں اس طرح ہوں گے اور آپﷺ نے اپنی دو انگلیوں کو ملا کر اشارہ فرمایا
(صحیح مسلم:2631)
ایک اور روایت میں ہے جس شخص کی تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان کی پرورش کرے ان پر رحم کرے تو وہ اس کے لیے جہنم سے پردہ بن جائیں گی
(سنن ابن ماجہ:3669)
یہ احادیث بتاتی ہیں کہ بیٹی محض اولاد نہیں بلکہ رحمتِ الٰہی ہے
*بہن:* صلہ رحمی اور محبت کا حصہ
اگرچہ بہن کے بارے میں براہِ راست کم احادیث ہیں لیکن اسلام نے عمومی طور پر رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک اور صلہ رحمی کی سخت تاکید کی ہے
رسول اللہﷺ نے فرمایا جو شخص چاہتا ہے کہ اس کی روزی میں وسعت ہو اور عمر دراز ہو وہ صلہ رحمی کرے
(صحیح بخاری:5986)
(صحیح مسلم:2557)
بہن بھی اسی صلہ رحمی کا حصہ ہے اور اس کے ساتھ حسنِ سلوک کو اسلام نے عظیم نیکی قرار دیا ہے
*نتیجہ:* اسلام میں عورت ہر روپ میں عزت محبت اور احترام کی مستحق ہے ماں کے روپ میں وہ جنت کی کنجی ہے بیوی کے روپ میں سکون کا ذریعہ بیٹی کے روپ میں رحمت اور بہن کے روپ میں وفا اور صلہ رحمی کی علامت
حقیقت یہ ہے کہ جس معاشرے نے عورت کو اس کے ان چاروں روپوں میں پہچانا اور عزت دی وہی معاشرہ امن محبت اور اخلاقی بلندی کی مثال بنا

(( ✍️فرخ احمد معصومی ))

13/04/2026

🌺 بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ 🌺

کتابوں نے مجھے بے وقوفی، غصے، پاگل پن اور خود کو تباہ کرنے سے بچا لیا؛ اور محبت سکھا دی؛ اور بہت کچھ!

مطالعہ کیا کریں.
مطالعے سے سوچ کو نئے زاویے ملتے ہیں۔

❞ پڑھنا دماغ کو تیز کرتا ہے، تخیل کو متحرک کرتا ہے، روح کو جوش دیتا ہے، نظر کو پاک کرتا ہے اور دل کو وسعت دیتا ہے۔❝

اس لئے پڑھا کریں۔ پڑھا کریں تا کہ ان حقیقتوں سے آشنا ہو سکیں جو معمولات زندگی میں کہیں کھو سی گئی ہیں۔ پڑھا کریں تا کہ جان سکیں آپ کدھر ہیں؟ کیا ہیں؟ اور کیا کر سکتے ہیں؟

پڑھا کریں تاکہ معلوم پڑے کہ کائنات میں بکھری زندگی کی حقیقتوں کو ذہن میں کیسے ترتیب دینا ممکن ہے.
پڑھا کریں تاکہ جہالت سے سر اٹھاتے سرکش لہجوں, بدلحاظ لفظوں اور بدتہذیب عادتوں کو مہار کرسکیں.
پڑھیں تاکہ انہونی کو ہونی میں بدل کر موجودات سے لطف اندوز ہوں.
پڑھا کریں تاکہ فکر زنگ آلود نہ ہو.
پڑھا کریں تاکہ باشعور مزاجوں سے آشنائی پیدا کرکے زیست سے بدظن ہوکر نہ مریں

یہ ضروری نہیں ہے کہ ہمیں ہر کتاب کے ہر بیان کی سمجھ آ جائے- اگر آپ کو کسی کتاب کو سمجھنے میں دشواری ہو رہی ہے تو یہ ممکن ہے کہ لکھنے والے نے ان تصورات کی درست وضاحت نہیں کی- یہ بھی ممکن ہے کہ آپ کے پاس وہ بنیادی علم نہیں ہے جو کتاب لکھنے والے نے فرض کر رکھا ہے- یہ بھی ممکن ہے کہ اس کتاب میں یا اس موضوع میں آپ کو دلچسپی نہیں ہے اور آپ کسی وجہ سے زبردستی وہ کتاب پڑھ رہے ہیں-

لیکن بہرحال اگر آپ کو کسی کتاب کی سمجھ نہیں آ رہی تو اسی موضوع پر دوسرے مصنفین کی تحاریر پڑھیے، اس موضوع کا بنیادی علم حاصل کیجیے، اور جب تک ایک چیپٹر کی مکمل سمجھ نہ آ جائے اس وقت تک اس چیپٹر کو بار بار پڑھتے رہیے- اس چیپٹر کے جو جملے یا جو تصورات آپ کو سمجھ نہیں آ رہے انہیں ہائ لائٹ کیجیے اور ان موضوعات پر مزید انفارمیشن سرچ کیجیے-

پوری کتاب ایک ہی وقت میں مت پڑھیے- اگر کوئی موضوع آپ کو کچھ کچھ سمجھ میں آنے لگا ہے تو کتاب کو بند کر کے اس موضوع پر خود سے کچھ لکھیے، لیکن اس کتاب کے الفاظ کو ہو بہو مت لکھیے، اس انفارمیشن کو اپنے الفاظ مین لکھیے- لکھنے سے جس قدر سمجھ آتی ہے اتنی صرف پڑھنے سے نہیں آتی- جب آپ کو اعتماد ہو جائے کہ آپ کو یہ انفارمیشن سمجھ میں آنے لگی ہے تو اسے اپنے کسی جاننے والے کو وہ موضوع سمجھائیے- کسی بھی موضوع کی جس قدر سمجھ دوسروں کو سمجھانے کی کوشش میں آتی ہے اتنی خود سٹڈی کر کے نہین آتی-

کبھی کسی بھی موضوع کو 'یاد' کرنے کی کوشش مت کیجیے، خواہ جتنا بھی وقت لگے، اپنے آپ کو اتنا وقت دیجیے لیکن اس موضوع کو سمجھنے کی کوشش کیجیے- ہر روز سٹڈی کا دورانیہ مقرر کیجیے- سٹڈی کے بعد سو جائیے- دماغ میں عارضی یادوں سے مستقل یادوں کے سسٹم میں انفارمیشن ٹرانسفر نیند کے دوران ہوتی ہے۔

(( ✍️فرخ احمد معصومی ))

Address

Sindh
Sukkur
65200

Telephone

+923108138254

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bazm e Masoomi skr posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Bazm e Masoomi skr:

Share