03/03/2026
سکھر کے کچے کے علاقے کڈھڑی، تعلقہ پنوعاقل کے رہائشی مہر برادری سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین نے سول اسپتال سکھر کے باہر اپنے سگے بھائیوں اور قریبی رشتہ داروں کی جانب سے مبینہ طور پر زرعی زمین پر قبضے، گھروں پر حملے اور فائرنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے شدید نعرے بازی کرتے ہوئے انصاف اور تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔تفصیلات کے مطابق مائی مریم اور ابوبکر ولد احمد دین مہر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان کے سگے بھائیوں اور بااثر رشتہ داروں، جن میں عبدالرحیم مہر، خادم حسین مہر، عبدالخالق مہر، صدیق مہر، عبدالواحد مہر، غلام قادر مہر سمیت دیگر نامعلوم افراد شامل ہیں، نے ان کی 500 ظریب زرعی زمین پر قبضہ کر رکھا ہے۔مظاہرین کے مطابق جب انہوں نے زمین واگزار کروانے کے لیے بات چیت کی کوشش کی تو مبینہ طور پر ملزمان نے ان پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں ایک نوجوان جاں بحق ہوگیا۔ واقعے کے بعد تنازع شدت اختیار کر گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بعد ازاں ایک مقامی بااثر شخصیت کی جانب سے جرگہ کیا گیا، تاہم اس کے باوجود زمین واپس نہ کی گئی بلکہ ان کے خلاف مقدمات درج کروا کر پولیس کے ذریعے دباؤ ڈلوایا گیا۔مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ جمعہ کے روز مسلح افراد نے جدید ہتھیاروں سے لیس ہو کر ان کے گھروں پر دھاوا بولا، بلااشتعال فائرنگ اور راکٹوں سے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں چھ خواتین زخمی ہوئیں۔زخمیوں میں مائی نظیراں، مائی ربن، مائی نویداں، مائی مختیار اور مائی فاطمہ شامل ہیں، جن میں سے تین کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
مظاہرین کا دعویٰ ہے کہ اس دوران سات سالہ بچی سمیرا موقع پر جاں بحق ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ واقعے کے بعد بھی انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور زمین سے دستبردار نہ ہونے کی صورت میں مزید حملوں کی وارننگ دی جا رہی ہے۔احتجاج میں شریک افراد نے پولیس پر جانبداری کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ مبینہ ملزمان کو سیاسی و سماجی اثر و رسوخ حاصل ہے اور پولیس کارروائی کرنے کے بجائے ان کا ساتھ دے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گھروں کی توڑ پھوڑ، لوٹ مار اور جانی نقصان کے باوجود مقدمات ان ہی کے خلاف درج کیے جا رہے ہیں۔مظاہرین نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیرِاعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی سکھر سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر شفاف انکوائری کروا کر ذمہ داران کو گرفتار کیا جائے، قبضہ ختم کروایا جائے اور متاثرہ خاندان کو تحفظ و انصاف فراہم کیا جائے تاکہ وہ پُرامن زندگی گزار سکیں۔دوسری جانب پولیس حکام سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تاہم خبر کی اشاعت تک مؤقف حاصل نہیں ہو سکا۔
Sukkur Reports Sukkur Press Club fans Bilawal Bhutto Zardari Syed Nasir Hussain Shah ゚viralシfypシ゚viralシalシ