Sukkur Reports

Sukkur Reports Highlights People's Problems Bring the voice of the oppressed people of sukkur to the upper echelon

16/08/2026

پانچ سال سے ویٹنگ میں بیٹھے PST/JEST امیدواروں کا سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاج، انصاف نہ ملنے پر بلال ہاؤس اور اسمبلی کے گھیراؤ کا اعلان

سکھر 2021ء میں PST/JEST کا ٹیسٹ پاس کرنے کے باوجود گزشتہ پانچ سال سے تقرری کے منتظر سکھر سٹی کے امیدواروں نے اپنے مطالبات کے حق میں سکھر پریس کلب کے سامنے بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے محکمہ تعلیم اور سندھ حکومت سے فوری طور پر میرٹ اور اسکور کے مطابق تقرری کے آفر آرڈرز جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں مسلسل یقین دہانیاں کرائی جا رہی ہیں، مگر عملی طور پر ان کے مسئلے کا حل نہیں نکالا جا رہا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ انہوں نے 2021ء میں PST/JEST کے ٹیسٹ دیے تھے اور گزشتہ پانچ برس سے مختلف مراحل میں ویٹنگ لسٹ میں رکھے گئے ہیں۔ ان کے مطابق سندھ کے مختلف علاقوں میں کم اسکور رکھنے والے امیدواروں کو بھی تقرری کے آفر آرڈرز جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ بعض علاقوں میں 40 سے زائد نمبر حاصل کرنے والے امیدوار بھی بھرتی ہو چکے ہیں، لیکن سکھر سٹی کے ایسے امیدوار جنہوں نے 50 یا اس سے زائد نمبر حاصل کیے ہیں، آج بھی تقرری کے منتظر ہیں۔
احتجاج کرنے والے امیدواروں نے کہا کہ انہیں کبھی گریوینس کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کے لیے بلایا جاتا ہے اور کبھی اسپیشل کمیٹی کے اجلاس میں شنوائی کی امید دلائی جاتی ہے، تاہم متعدد مرتبہ پیش ہونے کے باوجود ان کے بنیادی مسئلے کا مستقل حل نہیں نکالا گیا۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ پانچ سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود وہ اپنے حق کے آفر آرڈر سے محروم ہیں، جس کے باعث امیدواروں اور ان کے خاندانوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔مظاہرین نے کہا کہ ان کے اردگرد کے اضلاع اور علاقوں میں 40 پلس اسکور پر امیدواروں کو تقرریاں دی جا چکی ہیں، جبکہ وہ 50 نمبر حاصل کرنے کے باوجود ویٹنگ میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے منتخب نمائندوں پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سکھر کے ایم پی ایز اور ایم این ایز نے ان کے مسئلے کو مؤثر انداز میں متعلقہ فورمز پر نہیں اٹھایا، جس کی وجہ سے ہزاروں امیدواروں کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے۔امیدواروں نے بتایا کہ 20 اگست کو اسپیشل کمیٹی کا اجلاس دوبارہ طلب کیا گیا ہے اور انہیں امید ہے کہ اس اجلاس میں سکھر سٹی کے PST/JEST امیدواروں کا دیرینہ مسئلہ حل کرتے ہوئے میرٹ اور اسکور کی بنیاد پر آفر آرڈرز جاری کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اب بھی پرامن اور آئینی طریقے سے اپنے حق کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر 20 اگست کو اسپیشل کمیٹی کے اجلاس میں ان کے مطالبات منظور نہ کیے گئے اور آفر آرڈرز جاری کرنے کے حوالے سے واضح پیش رفت نہ ہوئی تو وہ احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے پر مجبور ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پرامن مارچ کرتے ہوئے بلال ہاؤس اور سندھ اسمبلی کے گھیراؤ سمیت احتجاج کے دیگر جمہوری راستے اختیار کریں گے۔مظاہرین نے سندھ حکومت، محکمہ تعلیم، اسپیشل کمیٹی اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ PST/JEST 2021ء کے سکھر سٹی کے ویٹنگ امیدواروں کے معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے اور میرٹ و اسکور کے مطابق فوری طور پر آفر آرڈرز جاری کیے جائیں تاکہ پانچ سال سے روزگار کے منتظر امیدواروں میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ہو سکے۔احتجاج میں محفوظ احمد، ماجد علی اور علی رضا سمیت بڑی تعداد میں PST/JEST امیدوار شریک تھے، جنہوں نے اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی اور فوری انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
Sukkur Reports Syed Nasir Hussain Shah Sukkur Press Club Barrister Arsalan Islam Shaikh Journalist Shahzad Sultan Panhwar

15/08/2026

ذہنی مریض کو مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں زخمی کرنے کے خلاف ملک برادری کا احتجاج

سکھر بچل شاہ میانی کی ملک برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے سی سیکشن پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر جعلی پولیس مقابلہ ظاہر کرکے ذہنی مریض رحیم بخش عرف راجہ ملک کو فائرنگ کرکے زخمی کرنے کے خلاف سکھر پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو اور ڈی آئی جی سکھر سے واقعے کا فوری نوٹس لے کر مبینہ طور پر ملوث پولیس افسران و اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔اس موقع پر احتجاج کرنے والے عرفان ملک۔ خیر محمد ملک حماد اللّٰہ ملک، سید حزب اللہ شاہ و دیگر افراد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ رحیم بخش عرف راجہ ملک ذہنی طور پر بیمار ہے اور تقریباً چھ روز قبل بچل شاہ میانی میں واقع اپنے گھر سے نکل گیا تھا۔ رات ہونے کے بعد اہل خانہ اور علاقہ مکینوں نے اس کی تلاش شروع کی، تاہم تمام تر کوششوں کے باوجود اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ مظاہرین کے مطابق گزشتہ چھ روز سے اہل خانہ مسلسل اپنے لاپتا لڑکے کی تلاش میں مصروف تھے۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز انہیں سوشل میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ سی سیکشن تھانے کی پولیس نے پرانے سکھر میں پیر توڈل شاہ قبرستان کے قریب ایک مبینہ پولیس مقابلے کے دوران رحیم بخش عرف راجہ ملک کو فائرنگ کرکے زخمی کردیا ہے اور اسے علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر رحیم بخش کے والدین اور دیگر اہل خانہ شدید صدمے سے دوچار ہوگئے، جبکہ گھر میں کہرام مچ گیا اور والدین و بہنوں کی حالت غیر ہوگئی۔ملک برادری کے افراد نے الزام عائد کیا کہ رحیم بخش ذہنی مریض ہے اور اسے مبینہ طور پر ایک جعلی پولیس مقابلہ ظاہر کرکے زخمی کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ واقعے کے بعد انہوں نے سی سیکشن تھانے کے ایس ایچ او سے رابطہ کرکے حقائق جاننے اور ملاقات کی کوشش کی، تاہم مبینہ طور پر ایس ایچ او نے ملاقات سے گریز کیا۔ مظاہرین کے مطابق انہوں نے ایس ایس پی سکھر سے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی، مگر انہیں بھی ملاقات کا موقع نہیں دیا گیا۔
مظاہرین نے مزید بتایا کہ مبینہ پولیس مقابلے میں زخمی ہونے والے رحیم بخش عرف راجہ ملک کی طبیعت بھی تشویشناک بتائی جا رہی ہے، جس کے باعث اہل خانہ میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔احتجاجی مظاہرین نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو اور ڈی آئی جی سکھر سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، رحیم بخش کو زخمی کرنے کے ذمہ دار سی سیکشن تھانے کے متعلقہ پولیس افسران و اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور مبینہ طور پر گرفتار ذہنی مریض کو فوری طور پر اہل خانہ کے حوالے کیا جائے۔مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات پر فوری توجہ نہ دی گئی اور واقعے کا نوٹس نہ لیا گیا تو وہ ڈی آئی جی سکھر کے دفتر کے سامنے احتجاجی دھرنا دینے پر مجبور ہوں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔
Sukkur Reports Sindh Police Sukkur Press Club DIG Faisal Chachar PSP Barrister Arsalan Islam Shaikh Syed Nasir Hussain Shah

15/08/2026

جونیئر سائنس ٹیچر (JST) امیدواروں کا پاسنگ مارکس 55 سے کم کرکے 50 مقرر کرنے کا مطالبہ

سکھر جونیئر سائنس ٹیچر (JST) ٹیسٹ میں 50 سے 54 نمبر حاصل کرنے والے امیدواروں نے حکومتِ سندھ، محکمہ اسکول ایجوکیشن، آئی بی اے سکھر اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ JST کے پاسنگ مارکس 55 کے بجائے 50 مقرر کیے جائیں تاکہ ہزاروں اہل امیدواروں کو روزگار کے مساوی مواقع میسر آ سکیں۔
امیدواروں کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ تقریباً 5 ہزار 200 امیدوار ایسے ہیں جنہوں نے JST ٹیسٹ میں 50 سے 54 نمبر حاصل کیے، تاہم پاسنگ معیار 55 مقرر ہونے کے باعث وہ اگلے مرحلے کے لیے اہل قرار نہیں دیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ نہ صرف ہزاروں امیدواروں کے ساتھ ناانصافی ہے بلکہ ماضی میں اختیار کیے گئے بھرتی کے اصولوں سے بھی مطابقت نہیں رکھتا۔امیدواروں نے مؤقف اختیار کیا کہ ماضی میں مختلف سرکاری بھرتیوں اور امتحانات میں 50 فیصد یا اس سے بھی کم پاسنگ معیار رکھا جاتا رہا ہے، جن میں JEST 2018 میں 50 فیصد، ٹیچنگ لائسنس کے امتحان میں 50 فیصد، PST/JEST کے مختلف ٹیسٹوں میں 33 سے 40 فیصد جبکہ HST، SST، سندھ پبلک سروس کمیشن (SPSC) اور آئی بی اے کے دیگر امتحانات میں بھی نسبتاً کم پاسنگ معیار مقرر کیا گیا تھا۔ ایسے میں صرف JST کے لیے 55 نمبر کی شرط عائد کرنا امیدواروں کے مطابق غیر منصفانہ اور امتیازی اقدام ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ دنیا بھر میں 50 فیصد کو ایک مناسب، منصفانہ اور قابلِ قبول پاسنگ معیار تصور کیا جاتا ہے، اس لیے حکومت سندھ اور محکمہ تعلیم کو چاہیے کہ میرٹ، انصاف اور مساوی مواقع کے اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے JST کے پاسنگ مارکس 55 سے کم کرکے 50 مقرر کرے۔
امیدواروں نے مطالبہ کیا کہ 50 سے 54 نمبر حاصل کرنے والے تمام اہل امیدواروں کو بھی تقرری کے عمل میں شامل کیا جائے تاکہ ان کی محنت رائیگاں نہ جائے اور صوبے میں سائنس اساتذہ کی دستیاب آسامیوں کو میرٹ کی بنیاد پر پُر کیا جا سکے۔آخر میں JST امیدواران نے وزیر اعلیٰ سندھ، وزیر تعلیم سندھ، سیکریٹری اسکول ایجوکیشن، آئی بی اے سکھر اور دیگر متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے پاسنگ معیار پر نظرثانی کریں اور "50 فیصد ایک منصفانہ اور قابلِ قبول پاسنگ معیار ہے" کے اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے ہزاروں امیدواروں کو انصاف فراہم کریں۔
Sukkur Reports Syed Nasir Hussain Shah Sukkur Press Club Barrister Arsalan Islam Shaikh

15/08/2026

سکھر: مزدا کی ٹکر سے جاں بحق کمسن حسن علی کے ورثاء کا لاش پریس کلب کے سامنے رکھ کر احتجاج، ڈرائیور کی گرفتاری کا مطالبہ

سکھر گزشتہ رات سکھر کے اسٹیڈیم روڈ پر مزدا گاڑی کی ٹکر سے کچلے جانے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے کمسن حسن علی ولد ساجد علی میرانی کے ورثاء اور اہلِ علاقہ نے سکھر پریس کلب کے سامنے لاش رکھ کر احتجاجی مظاہرہ کیا اور دھرنا دے دیا۔احتجاج کی قیادت جاں بحق بچے کی والدہ راڻي، والد ساجد علی اور الطاف حسین ملاح نے کی، جبکہ دھرنے میں خواتین اور مردوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔مظاہرین نے بچے کی لاش پریس کلب کے سامنے رکھ کر شدید احتجاج کیا اور واقعے میں ملوث مزدا ڈرائیور کی فوری گرفتاری اور اس کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا۔دھرنے کے باعث سکھر پریس کلب چوک کے اطراف شہر کی جانب آنے اور جانے والے تمام راستے بند ہوگئے، جس سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ ایک معصوم بچے کو مبینہ طور پر مزدا گاڑی نے لوگوں کے سامنے کچل کر موت کے گھاٹ اتار دیا، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ واقعے کے بعد ڈرائیور فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے تاحال ملزم کو گرفتار کرنے کے لیے مؤثر کارروائی نہیں کی، جو متاثرہ خاندان کے ساتھ ناانصافی ہے۔اس موقع پر ورثاء نے مطالبہ کیا کہ حسن علی کی ہلاکت کے ذمہ دار مزدا ڈرائیور کو فوری طور پر گرفتار کرکے اس کے خلاف قانونی کارروائی اور مقدمہ درج کیا جائے، جبکہ متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔احتجاج کے دوران سکھر سی سیکشن تھانے کے ایس ایچ او بھی موقع پر پہنچے اور مظاہرین سے مذاکرات کرکے ٹریفک کے لیے راستہ کھلوانے کی کوشش کی، تاہم مظاہرین نے روڈ کھولنے سے انکار کرتے ہوئے واضح کیا کہ جب تک مبینہ ملزم کو گرفتار کرکے مقدمہ درج نہیں کیا جاتا، احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔مظاہرین نے پولیس حکام سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے ذمہ دار ڈرائیور کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ آئندہ ایسے المناک واقعات کی روک تھام ممکن ہوسکے۔
Sukkur Reports Sindh Police Syed Nasir Hussain Shah Sukkur Press Club Barrister Arsalan Islam Shaikh Journalist Shahzad Sultan Panhwar DIG Faisal Chachar PSP

14/08/2026

سکھر ۔ روہڑی میں یوم آزادی کا جشن، رائل لاء کالج میں بھرپور جذبے سے منایا گیا۔


14/08/2026

سکھر میں لغاری برادری کی خواتین کا پولیس مبینہ زیادتیوں کے خلاف احتجاج، گرفتار افراد کی رہائی اور انصاف کا مطالبہ

سکھر کے علاقے گرم گودی کے رہائشی لغاری برادری سے تعلق رکھنے والی خواتین نے متعلقہ تھانے کی پولیس پر مبینہ ظلم و زیادتی، ناانصافی، گھروں میں چادر اور چار دیواری کے تقدس کی پامالی اور مردوں کی گرفتاریوں کے الزامات عائد کرتے ہوئے سکھر پریس کلب کے سامنے بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا۔ احتجاج میں شریک خواتین نے پولیس کے مبینہ ناروا رویے کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔مظاہرین خواتین کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکاروں نے مبینہ طور پر ان کے گھروں پر دھاوا بولتے ہوئے چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا۔ خواتین کے مطابق پولیس نے ان کے خلاف جھوٹا منشیات کا الزام عائد کرتے ہوئے گھروں میں داخل ہو کر تلاشی لی اور مبینہ طور پر خواتین کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا، جبکہ گھر میں موجود مردوں کو زبردستی گرفتار کرکے اپنے ساتھ لے گئی۔خواتین کا مزید کہنا تھا کہ گرفتار افراد کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے جب وہ متعلقہ تھانے پہنچیں تو وہاں موجود پولیس اہلکاروں نے مبینہ طور پر انکار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے نہ تو کوئی چھاپہ مارا ہے اور نہ ہی کسی شخص کو گرفتار کیا ہے۔ مظاہرین نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر پولیس نے ان کے مردوں کو گرفتار نہیں کیا تو پھر وہ کہاں ہیں اور انہیں کس قانون کے تحت لے جایا گیا ہے۔احتجاجی خواتین نے الزام عائد کیا کہ پولیس کے اس مبینہ طرزِ عمل سے ان کے خاندان شدید ذہنی اذیت اور خوف میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، مبینہ طور پر گرفتار کیے گئے تمام مردوں کو فوری طور پر بازیاب کرکے رہا کیا جائے، خواتین کو مبینہ تشدد اور پولیس کی زیادتیوں سے تحفظ فراہم کیا جائے اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔مظاہرین نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیراعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی سکھر سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے پرزور اپیل کی کہ واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے انہیں انصاف فراہم کیا جائے اور ان کے خاندانوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔خواتین کا کہنا تھا کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا احترام کرتی ہیں، تاہم کسی بھی شہری کے گھر میں مبینہ طور پر غیرقانونی داخلہ، چادر اور چار دیواری کے تقدس کی پامالی اور شہریوں کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات پر فوری توجہ نہ دی گئی تو وہ اپنے احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے پر مجبور ہوں گی۔
Sindh Police Sukkur Press Club Sukkur Reports Barrister Arsalan Islam Shaikh DIG Faisal Chachar PSP

13/08/2026

سکھر: خاتون اور 12 سالہ بچی پراسرار طور پر لاپتا، شوہر کا تلاش میں مدد کا مطالبہ

سکھر نیو پنڈ سکھر کے رہائشی عارف علی مغل نے اپنے معصوم بیٹے محمد عثمان کے ہمراہ سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے اپنی اہلیہ کرن مغل اور 12 سالہ بیٹی مسکان کی گمشدگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پولیس فوری طور پر دونوں کی تلاش کے لیے مؤثر اقدامات کرے اور انہیں بحفاظت بازیاب کرایا جائے۔احتجاج کے دوران عارف علی مغل نے بتایا کہ گزشتہ بدھ کی شام ان کی اہلیہ کرن مغل اور 12 سالہ بیٹی مسکان اچانک گھر سے لاپتا ہوگئیں، جن کی انہوں نے رشتہ داروں، عزیزوں اور دیگر ممکنہ مقامات پر کافی تلاش کی، تاہم تاحال دونوں کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔انہوں نے بتایا کہ واقعے کی اطلاع نیو پنڈ پولیس کو بھی دی گئی، مگر اس کے باوجود تاحال ان کی اہلیہ اور بیٹی کے بارے میں کوئی معلومات حاصل نہیں ہوسکیں۔ عارف مغل کے مطابق دونوں کے موبائل فون بھی بند ہیں، جس کے باعث ان کی تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔عارف علی مغل کا کہنا تھا کہ ان کی اہلیہ کچھ عرصے سے ان سے طلاق لینے پر اصرار کر رہی تھیں۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے اپنی اہلیہ سے کہا تھا کہ وہ والدین اور خاندان کے بڑوں کو بٹھا کر شرعی طریقے سے معاملہ حل کرنے کے لیے تیار ہیں اور کسی بھی صورت میں انہیں زبردستی گھر میں رکھنے کے حق میں نہیں۔ ان کے مطابق اگر کوئی شرعی عذر موجود ہے تو وہ طلاق دینے کے لیے بھی تیار ہیں۔انہوں نے بتایا کہ وہ سکھر کے ضیاء الدین اسپتال میں ملازمت کرتے ہیں اور اپنی استطاعت کے مطابق اہل خانہ کے اخراجات پورے کرتے رہے ہیں۔ عارف مغل نے خدشہ ظاہر کیا کہ اہلیہ اور بیٹی کی اچانک گمشدگی کے باعث خاندان شدید ذہنی اذیت اور پریشانی میں مبتلا ہے۔انہوں نے سکھر پولیس کے اعلیٰ حکام اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے کرن مغل اور 12 سالہ مسکان کی تلاش کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جائیں اور دونوں کو بحفاظت بازیاب کرا کے اہل خانہ کے حوالے کیا جائے۔متاثرہ شخص نے کہا کہ وہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مکمل تعاون کے لیے تیار ہیں اور انہیں امید ہے کہ حکام فوری کارروائی کرتے ہوئے لاپتا ماں اور بیٹی کا سراغ لگانے میں کامیاب ہوں گے۔
Sukkur Reports Sindh Police Sukkur Press Club DIG Faisal Chachar PSP Barrister Arsalan Islam Shaikh

11/08/2026

سکھر انچارج (ٹی اینڈ ایک آر سی) ٹراما
ایمرجنسی ریسپانس سینٹر کے
ڈاکٹر محمود قریشی سے بات چیت
ٹراما سینٹر سکھر کی عوام کے لیے ایک گفٹ ہے

Sukkur Reports Syed Nasir Hussain Shah Barrister Arsalan Islam Shaikh Ghulam Mustfa Chachar DrMujeeb Rehman Journalist Shahzad Sultan Panhwar Dr-Abid Aziz DrAbdul Waheed Mahar ゚

Address

Sukkur
65200

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sukkur Reports posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share