02/09/2026
گاؤں حاجی نہال خان کھوسو کے رہائشی کھوسو برادری سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین نے معصوم بچوں سمیت 12 سالہ بچی اقرا کے مبینہ اغوا کا الزام عائد کرکے مقدمات درج کیے جانے کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے اعلیٰ حکام سے معاملے کی شفاف تحقیقات، مبینہ جھوٹے مقدمات کے خاتمے، دھمکیوں کا نوٹس لینے اور خاندان کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔اس موقع پر احمد کھوسو، عبدالکریم کھوسو، فہد کھوسو، فیصل کھوسو، ثمرین، نجمہ کھوسو اور دیگر مظاہرین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کسی فریق سے کوئی ذاتی دشمنی یا تنازع نہیں ہے، تاہم اس کے باوجود سبحان کھوسو، مسمات حاجناں کھوسو، قوت علی کھوسو اور دیگر افراد کی جانب سے ان پر کمسن بچی اقرا کو مبینہ طور پر اغوا کرنے کا الزام عائد کرکے مقدمات درج کروائے گئے ہیں۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ ان پر عائد الزامات بے بنیاد ہیں اور مقدمات کے اندراج سے ان کے خاندان کی عزت و ساکھ شدید متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ معاملے کی اصل وجہ پرانا زمین کا تنازع ہے، جسے بنیاد بنا کر انہیں مبینہ طور پر دباؤ میں لانے اور زمین سے محروم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔احتجاجی خاندان نے الزام عائد کیا کہ اس سے قبل بھی ان کے خلاف مبینہ طور پر جھوٹی ایف آئی آر درج کروائی جاچکی ہے، جبکہ ان کے مطابق مخالف فریق نے ان کی زمین پر قبضہ کرکے وہاں گھر بھی تعمیر کرلیا ہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ اب دوبارہ اغوا کے مقدمات درج کروا کر انہیں ذہنی اذیت اور قانونی مشکلات سے دوچار کیا جا رہا ہے اور مبینہ طور پر پوری زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔مظاہرین نے مزید کہا کہ انہیں بااثر افراد کی جانب سے اغوا یا کسی بھی قسم کے جانی نقصان کا خدشہ ہے، اس لیے متعلقہ پولیس اور انتظامیہ فوری طور پر ان کے خاندان کی حفاظت یقینی بنائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دھمکیاں دینے اور مبینہ طور پر جھوٹے مقدمات درج کروانے میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔کھوسو برادری کے مرد و خواتین نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر رینج اور ایس ایس پی سکھر سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے پرزور اپیل کی کہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے زمین کے تنازع کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں، مبینہ قبضہ ختم کروا کر انہیں ان کی زمین کا حق دلایا جائے اور ان کے خلاف درج مقدمات کی شفاف تحقیقات کرکے حقائق سامنے لائے جائیں۔مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر انہیں انصاف اور تحفظ فراہم نہ کیا گیا تو وہ اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے پر مجبور ہوں گے۔