Sukkur Press Club

Sukkur Press Club The Sukkur Press Club is a professional organization and business center for journalists

27/06/2026

سکھر کے علاقے روہڑی، ٹنڈرو کے رہائشی اور کھوسہ برادری سے تعلق رکھنے والے معذور شہری محمد نواز کھوسو نے اپنے معصوم بچوں کے ہمراہ معذور کوٹہ میں سرکاری ملازمت نہ ملنے کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔اس موقع پر محمد نواز کھوسو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ چار برس سے معذور کوٹہ کے تحت سرکاری ملازمت کے حصول کے لیے مختلف سرکاری دفاتر، بالخصوص ڈپٹی کمشنر آفس کے مسلسل چکر لگا رہے ہیں، مگر ہر بار انہیں صرف تسلیاں اور وعدے کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ حکام کی جانب سے کبھی کہا جاتا ہے کہ "اگلے سال آنا، تمہارا کام ہو جائے گا"، لیکن آج تک انہیں ملازمت فراہم نہیں کی گئی۔انہوں نے بتایا کہ بے روزگاری اور شدید مالی مشکلات کے باعث وہ انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور اپنے اہلِ خانہ کا پیٹ پالنے کے لیے بھیک مانگنے تک پر مجبور ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے معصوم بچوں کا مستقبل بھی شدید خطرات سے دوچار ہے اور معاشی تنگدستی نے ان کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔محمد نواز کھوسو نے حکومتِ سندھ، متعلقہ محکموں اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ معذور افراد کے لیے مختص سرکاری کوٹہ پر شفاف انداز میں فوری عملدرآمد کرتے ہوئے انہیں ملازمت فراہم کی جائے تاکہ وہ باعزت طریقے سے اپنے خاندان کی کفالت کر سکیں۔احتجاج کے اختتام پر انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیرِاعلیٰ سندھ، چیف سیکریٹری سندھ، کمشنر سکھر، ڈپٹی کمشنر سکھر اور دیگر متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ ان کے معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے اور انہیں معذور کوٹہ کے تحت سرکاری ملازمت فراہم کرکے ان کے خاندان کو معاشی مشکلات سے نجات دلائی جائے۔
District Sukkur Police Sukkur house Sindh Police Barrister Arsalan Islam Shaikh Bilawal Bhutto Zardari Sukkur Press Club Only News Main & Mera Sukkur

23/06/2026

سکھر پریس کلب میں میڈیا سائنسز کے طلبہ کے لیے سمر انٹرن شپ پروگرام جاری
سکھر پریس کلب کے زیرِ اہتمام اور سکھر آئی بی اے یونیورسٹی کے شعبۂ میڈیا سائنسز کے تعاون سے طلبہ و طالبات کے لیے چھ ہفتوں پر مشتمل تیسرا سمر انٹرن شپ پروگرام 2026 باقاعدہ طور پر جاری ہے۔ پروگرام کا مقصد نوجوانوں کو صحافت، میڈیا اور ابلاغِ عامہ کے مختلف شعبوں سے عملی آگاہی فراہم کرنا اور انہیں مستقبل کے پیشہ ور صحافیوں کے طور پر تیار کرنا ہے۔
انٹرن شپ پروگرام کے پہلے ہفتے میں سندھ وومن جرنلسٹس ایسوسی ایشن کی صدر اور سینئر صحافی سحرش کھوکھر جبکہ سیکریٹری جنرل گل رخ ویرانی نے خصوصی تربیتی سیشنز منعقد کیے۔ اس موقع پر انہوں نے طلبہ و طالبات کو صحافت کے بنیادی اصولوں، پیشہ ورانہ اخلاقیات، خبر نویسی، رپورٹنگ، میڈیا کے کردار اور صحافتی ذمہ داریوں کے بارے میں تفصیلی آگاہی فراہم کی۔
تربیتی نشست کے دوران شرکاء کو بتایا گیا کہ صحافت صرف خبر لکھنے یا ٹی وی اسکرین پر نظر آنے کا نام نہیں بلکہ یہ مختلف مہارتوں، علوم اور پیشہ ورانہ شعبوں کا مجموعہ ہے۔ اس پروگرام کے دوران طلبہ کو میڈیا انڈسٹری کے مختلف پہلوؤں سے روشناس کروایا جائے گا تاکہ وہ عملی اور نظریاتی دونوں سطحوں پر اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنا سکیں۔
سیشن میں نیوز رپورٹنگ کے شعبے کا خصوصی تعارف بھی پیش کیا گیا۔ مقررین نے بتایا کہ نیوز رپورٹنگ صحافت کی بنیاد سمجھی جاتی ہے جس میں خبر کی تلاش، معلومات کی تصدیق، تمام متعلقہ فریقین کا مؤقف حاصل کرنا اور خبر کو غیر جانبدارانہ انداز میں عوام تک پہنچانا شامل ہے۔ ایک کامیاب رپورٹر کے لیے سچائی، درستگی، غیر جانبداری اور ذمہ داری بنیادی اصولوں کی حیثیت رکھتے ہیں۔
اسی طرح کانٹینٹ رائٹنگ کے شعبے پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ کانٹینٹ رائٹنگ میں مضامین، فیچرز، بلاگز، ویب سائٹس اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے معیاری، مؤثر اور دلچسپ تحریری مواد تیار کیا جاتا ہے۔ اس شعبے میں تخلیقی صلاحیتوں، تحقیق اور مؤثر ابلاغ کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔
منتظمین کے مطابق آئندہ ہفتوں میں طلبہ کو فوٹو جرنلزم، ویڈیو پروڈکشن، ڈیجیٹل میڈیا، سوشل میڈیا مینجمنٹ، اینکرنگ، انٹرویو ٹیکنیکس اور میڈیا ایتھکس سمیت صحافت کے دیگر اہم شعبوں سے بھی متعارف کروایا جائے گا۔
شرکاء نے اس تربیتی پروگرام کو اپنے مستقبل کے لیے انتہائی مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے انہیں عملی صحافت کی باریکیوں کو سمجھنے اور پیشہ ورانہ میدان میں آگے بڑھنے کے لیے رہنمائی حاصل ہوگی۔
fans Sukkur Press Club Sukkur Union of Journalists -SUJ PFUJ Pfuj Pakistan Only News

23/06/2026

سکھر کے علاقے آدم شاہ کالونی، گلی نمبر 4، ملٹری روڈ کے رہائشی مہر برادری سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین نے اپنی جائیداد پر مبینہ قبضے اور عدالتی کارروائی کے ذریعے ہراساں کیے جانے کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔احتجاج کی قیادت مسمات خالدہ زوجہ مختیار احمد مہر مرحوم، فرحان احمد مہر، اختیار احمد مہر اور دیگر افراد نے کی۔ اس موقع پر مظاہرین نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان کے مرحوم عزیز مختیار احمد مہر نے تقریباً دو سال قبل ایک جگہ ایڈووکیٹ عبدالرحیم مہر کو کرائے پر دی تھی، جس کا کرایہ مرحوم مختیار احمد مہر خود وصول کرتے تھے۔مظاہرین کے مطابق مختیار احمد مہر کے انتقال کو چار ماہ گزر چکے ہیں، جس کے بعد ورثاء نے مذکورہ وکیل سے کرایہ طلب کیا تو انہوں نے مبینہ طور پر مؤقف اختیار کیا کہ یہ جگہ انہیں فروخت کی جا چکی ہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ جب ان کی جانب سے فروخت سے متعلق دستاویزات طلب کی گئیں تو انہیں دھمکیاں دی گئیں اور کہا گیا کہ عدالت کے ذریعے جگہ خالی کروائی جائے گی۔احتجاج کرنے والوں نے مزید دعویٰ کیا کہ مذکورہ جائیداد ان کے دادا مومن مہر کے نام پر ہے، جبکہ ایڈووکیٹ عبدالرحیم مہر کی جانب سے انہیں عدالتی نوٹس بھی بھیجا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ قانونی اور انتظامی سطح پر انصاف کے منتظر ہیں اور اپنی ملکیت کے تحفظ کے لیے متعلقہ اداروں سے رجوع کر رہے ہیں۔مظاہرین نے ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن، ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن، چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی سکھر سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، مبینہ طور پر قبضہ شدہ جگہ واگزار کرائی جائے اور متاثرہ خاندان کو تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ پُرامن ماحول میں زندگی گزار سکیں۔
fans Sukkur Press Club Only News Sindh Police District Bar Association, Sukkur District Sukkur Police

23/06/2026

Wishing all participants a successful and enriching learning journey ahead.


Highlight fans Sukkur Press Club Only News Sindh Government Syed Nasir Hussain Shah Syed Murad Ali Shah PFUJ Syed Kumail Hyder Shah Pfuj Pakistan

22/06/2026

سکھر پریس کلب کے سامنے عباسی برادری کا احتجاج، بہنوئی اور بھانجوں پر تشدد، ڈکیتی اور جان سے مارنے کی کوشش کا الزام

سکھر کے علاقے اللہ آباد کالونی کے رہائشی عباسی برادری سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین نے اپنے قریبی رشتہ داروں کی مبینہ زیادتیوں اور ناانصافیوں کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔احتجاج کی قیادت کرنے والی مسمات روزینہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ان کے بہنوئی رحیم داد اور اس کے بیٹوں عامر، زاکر اور محمد علی چنہ نے مبینہ طور پر اچانک ان کے گھر میں داخل ہو کر انہیں اور ان کی بیٹی کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔انہوں نے مزید بتایا کہ ملزمان گھر میں موجود قیمتی سامان لوٹ کر فرار ہو گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب وہ علاقے کے معززین کے پاس انصاف کے حصول کے لیے اپنی فریاد لے کر گئیں تو مذکورہ افراد نے دوبارہ حملہ کرتے ہوئے ان کے شوہر پر کلہاڑی سے وار کیا، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے۔مسمات روزینہ کے مطابق واقعے کی رپورٹ متعلقہ تھانے میں درج کرائی گئی، جہاں پولیس کی جانب سے انہیں میڈیکل لیٹر جاری کرکے سول اسپتال جانے کی ہدایت کی گئی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ جب وہ سول اسپتال پہنچے تو وہاں نہ کوئی ڈاکٹر موجود تھا اور نہ ہی طبی عملہ دستیاب تھا۔انہوں نے الزام لگایا کہ اسپتال انتظامیہ سے شکایت کرنے کی کوشش پر انہیں دھمکیاں دی گئیں، جس کے باعث ان کے خاندان میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔احتجاج میں شریک افراد نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی سکھر سے مطالبہ کیا کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، نامزد ملزمان کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور متاثرہ خاندان کو تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے۔
Sukkur Press Club Only News Highlight Sindh Police District Sukkur Police fans

22/06/2026

تاریخی قبرستان کی اراضی پر مبینہ قبضوں، عدالتی احکامات کی خلاف ورزی اور دھمکیوں کے خلاف شہری کا سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاج

سکھر ضلع شکارپور کے تعلقہ لکھی غلام شاہ کے گاؤں بھر کن کے رہائشی فتح علی کاکڑ پٹھان نے تاریخی قبرستان "نالے چنگے" کی اراضی پر مبینہ غیر قانونی قبضوں، عدالتی احکامات کی خلاف ورزی، عوامی راستوں کی بندش اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے پرامن احتجاج ریکارڈ کرایا۔احتجاج کے دوران فتح علی کاکڑ پٹھان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گاؤں بھر کن میں واقع صدیوں پرانا تاریخی قبرستان "نالے چنگے" مبینہ طور پر بااثر افراد کے غیر قانونی قبضے کی زد میں ہے، جس کے باعث نہ صرف قبرستان کی حدود متاثر ہوئی ہیں بلکہ اس کے قدیمی راستے بھی ختم کر دیے گئے ہیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ رحمت علی ولد عبدالغفور، ان کے بیٹے سرفراز علی اور دیگر افراد نے قبرستان سے ملحقہ اراضی، جن میں سروے نمبر 27، 35 اور دیگر متعلقہ سروے نمبرز شامل ہیں، کو مبینہ طور پر زرعی مقاصد اور فش فارم کے لیے استعمال کیا، جبکہ اس اراضی کی خفیہ فروخت کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔فتح علی کا کہنا تھا کہ معاملے کی سنگینی کے پیش نظر انہوں نے جوڈیشل مجسٹریٹ لکھی غلام شاہ کی عدالت سے رجوع کیا، جہاں عدالتی کارروائی کے بعد قبرستان کی اراضی کو قبرستان قرار دیتے ہوئے 23 مئی 2025 کو احکامات جاری کیے گئے۔ ان کے مطابق فریقین نے عدالت کے روبرو متنازع سرگرمیاں روکنے کی یقین دہانی بھی کرائی، تاہم بعد ازاں مبینہ طور پر عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی گئی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 19 جون 2026 کو انہوں نے اسسٹنٹ کمشنر لکھی غلام شاہ کو درخواست اور عدالتی احکامات کی نقول فراہم کیں، جس پر اسسٹنٹ کمشنر نے نوٹس لیتے ہوئے 21 جون 2026 کو متعلقہ عملے کو موقع پر بھیجا، جہاں جاری کام کو رکوا دیا گیا۔احتجاجی بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ قبرستان کی اراضی پر ہل چلانے اور زرعی سرگرمیوں کے باعث متعدد قبروں کو نقصان پہنچا، قبروں کی بے حرمتی ہوئی اور انسانی باقیات زمین سے باہر آگئیں، جسے انہوں نے شرعی، اخلاقی اور قانونی اعتبار سے سنگین معاملہ قرار دیا۔
فتح علی کاکڑ پٹھان نے الزام عائد کیا کہ قبرستان کے دو قدیمی عوامی راستوں پر بھی مبینہ طور پر قبضہ کر کے انہیں فروخت کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں اہل علاقہ کی قبرستان تک رسائی متاثر ہوئی اور تاریخی مقام کی شناخت کو شدید نقصان پہنچا۔انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ان کی جانب سے قانونی کارروائی شروع کیے جانے کے بعد انہیں اور ان کے اہل خانہ کو مبینہ طور پر دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جبکہ سوشل میڈیا اور بعض مقامی میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے ان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان پر قبرستان کی اراضی پر قبضے اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہیں۔احتجاجی بیان میں انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بعض افراد نے مختلف سرکاری، عوامی اور گوٹھ آباد کی اراضی سے متعلق مبینہ طور پر جعلی اندراجات اور غیر قانونی دعوے کروا رکھے ہیں، جن کی تحقیقات مختلف فورمز پر جاری ہیں۔ ان کے مطابق معزز عدالت کی جانب سے ایک متنازع اندراج پہلے ہی منسوخ کیا جا چکا ہے۔فتح علی کاکڑ پٹھان نے حکومت سندھ، ضلعی انتظامیہ، ریونیو حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ تاریخی قبرستان "نالے چنگے" کی فوری سرکاری پیمائش اور حد بندی کرائی جائے، تمام مبینہ غیر قانونی قبضے ختم کیے جائیں، عدالتی احکامات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے، قبرستان کے اصل راستے بحال کیے جائیں، غیر قانونی فروخت اور ریکارڈ میں مبینہ ردوبدل کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، جبکہ انہیں، ان کے اہل خانہ اور گواہوں کو قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کے آئین، قانون اور عدلیہ پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ متعلقہ ادارے تاریخی قبرستان کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی کے لیے فوری اقدامات کریں گے۔
Sukkur Press Club Only News fans Highlight Sindh Police Sindh Government

22/06/2026

تاریخی قبرستان کی اراضی پر مبینہ قبضوں، عدالتی احکامات کی خلاف ورزی اور دھمکیوں کے خلاف شہری کا سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاج

سکھر ضلع شکارپور کے تعلقہ لکھی غلام شاہ کے گاؤں بھر کن کے رہائشی فتح علی کاکڑ پٹھان نے تاریخی قبرستان "نالے چنگے" کی اراضی پر مبینہ غیر قانونی قبضوں، عدالتی احکامات کی خلاف ورزی، عوامی راستوں کی بندش اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے پرامن احتجاج ریکارڈ کرایا۔احتجاج کے دوران فتح علی کاکڑ پٹھان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ گاؤں بھر کن میں واقع صدیوں پرانا تاریخی قبرستان "نالے چنگے" مبینہ طور پر بااثر افراد کے غیر قانونی قبضے کی زد میں ہے، جس کے باعث نہ صرف قبرستان کی حدود متاثر ہوئی ہیں بلکہ اس کے قدیمی راستے بھی ختم کر دیے گئے ہیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ رحمت علی ولد عبدالغفور، ان کے بیٹے سرفراز علی اور دیگر افراد نے قبرستان سے ملحقہ اراضی، جن میں سروے نمبر 27، 35 اور دیگر متعلقہ سروے نمبرز شامل ہیں، کو مبینہ طور پر زرعی مقاصد اور فش فارم کے لیے استعمال کیا، جبکہ اس اراضی کی خفیہ فروخت کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔فتح علی کا کہنا تھا کہ معاملے کی سنگینی کے پیش نظر انہوں نے جوڈیشل مجسٹریٹ لکھی غلام شاہ کی عدالت سے رجوع کیا، جہاں عدالتی کارروائی کے بعد قبرستان کی اراضی کو قبرستان قرار دیتے ہوئے 23 مئی 2025 کو احکامات جاری کیے گئے۔ ان کے مطابق فریقین نے عدالت کے روبرو متنازع سرگرمیاں روکنے کی یقین دہانی بھی کرائی، تاہم بعد ازاں مبینہ طور پر عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کی گئی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 19 جون 2026 کو انہوں نے اسسٹنٹ کمشنر لکھی غلام شاہ کو درخواست اور عدالتی احکامات کی نقول فراہم کیں، جس پر اسسٹنٹ کمشنر نے نوٹس لیتے ہوئے 21 جون 2026 کو متعلقہ عملے کو موقع پر بھیجا، جہاں جاری کام کو رکوا دیا گیا۔احتجاجی بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ قبرستان کی اراضی پر ہل چلانے اور زرعی سرگرمیوں کے باعث متعدد قبروں کو نقصان پہنچا، قبروں کی بے حرمتی ہوئی اور انسانی باقیات زمین سے باہر آگئیں، جسے انہوں نے شرعی، اخلاقی اور قانونی اعتبار سے سنگین معاملہ قرار دیا۔
فتح علی کاکڑ پٹھان نے الزام عائد کیا کہ قبرستان کے دو قدیمی عوامی راستوں پر بھی مبینہ طور پر قبضہ کر کے انہیں فروخت کر دیا گیا، جس کے نتیجے میں اہل علاقہ کی قبرستان تک رسائی متاثر ہوئی اور تاریخی مقام کی شناخت کو شدید نقصان پہنچا۔انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ان کی جانب سے قانونی کارروائی شروع کیے جانے کے بعد انہیں اور ان کے اہل خانہ کو مبینہ طور پر دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جبکہ سوشل میڈیا اور بعض مقامی میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے ان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان پر قبرستان کی اراضی پر قبضے اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزامات بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہیں۔احتجاجی بیان میں انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بعض افراد نے مختلف سرکاری، عوامی اور گوٹھ آباد کی اراضی سے متعلق مبینہ طور پر جعلی اندراجات اور غیر قانونی دعوے کروا رکھے ہیں، جن کی تحقیقات مختلف فورمز پر جاری ہیں۔ ان کے مطابق معزز عدالت کی جانب سے ایک متنازع اندراج پہلے ہی منسوخ کیا جا چکا ہے۔فتح علی کاکڑ پٹھان نے حکومت سندھ، ضلعی انتظامیہ، ریونیو حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ تاریخی قبرستان "نالے چنگے" کی فوری سرکاری پیمائش اور حد بندی کرائی جائے، تمام مبینہ غیر قانونی قبضے ختم کیے جائیں، عدالتی احکامات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے، قبرستان کے اصل راستے بحال کیے جائیں، غیر قانونی فروخت اور ریکارڈ میں مبینہ ردوبدل کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، جبکہ انہیں، ان کے اہل خانہ اور گواہوں کو قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کے آئین، قانون اور عدلیہ پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ متعلقہ ادارے تاریخی قبرستان کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی کے لیے فوری اقدامات کریں گے۔

21/06/2026

صادق آباد کا پریمی جوڑا جان کے خوف سے سکھر پریس کلب پہنچ گیا ’ہم نے باہمی رضامندی سے شادی کی، اپنے ہی رشتہ دار جان کے دشمن بن گئے

سکھر صادق آباد سے تعلق رکھنے والے ایک پریمی جوڑے نے جان کے شدید خطرات کے پیش نظر سکھر پریس کلب پہنچ کر میڈیا کے سامنے تحفظ کی اپیل کی ہے۔پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سعید احمد ولد بشیر احمد اور ان کی اہلیہ خالدہ ولد غلام نبی ملک نے بتایا کہ انہوں نے دو ماہ قبل باہمی رضامندی سے صادق آباد سیشن کورٹ میں قانونی طور پر پسند کی شادی کی ہے اور اب وہ اپنے شہر صادق آباد میں پرامن زندگی گزارنا چاہتے ہیں، تاہم خالدہ ملک کے سابقہ شوہر جس نے 4 ماہ قبل مجھے طلاق دے دی تھی اب یہ اور میرے بھائی اور قریبی رشتہ داروں کی جانب سے انہیں مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے اور جان سے مار دینے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔خالدہ ملک نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ سابقہ شوہر اور میرے بھائی سمیت قریبی رشتے دار ان کے شوہر اور سسرالی کو جان لیوا دھمکیاں بھی دیں رہے ہیں، حالانکہ نہ انہیں کسی نے اغواء کیا اور نہ ہی ان افراد کا اس معاملے سے کوئی تعلق ہے۔خالدہ ملک کا کہنا تھا کہ وہ اپنی مرضی سے گھر سے نکلی تھیں اور سعید احمد سے عدالت میں نکاح کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے سابقہ شوہر اور میرے بھائی جن میں اجمل ملک، خالد ملک، اکمل ملک، سعید ملک، لیاقت ملک، شوکت ملک سمیت دیگر افراد شامل ہیں، انہیں مسلسل ہراساں کر رہے ہیں اور قتل کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔پریس کلب میں گفتگو کرتے ہوئے خالدہ ملک نے کہا:"میرے بھائی اور رشتے دار ہماری جان کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ ہم نے عدالت میں اپنی مرضی سے شادی کی ہے لیکن ہمارے شہر صادق آباد کے افراد ہمیں نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔"سعید احمد نے میڈیا کو بتایا کہ وہ اور خالدہ ملک ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے، اسی لیے انہوں نے قانونی طریقے سے شادی کی۔ ان کے مطابق خالدہ ملک کے بھائی اس شادی سے خوش نہیں اس لئے ہمیں خدشہ ہے کہ وہ کسی بھی وقت ان کے خلاف خطرناک قدم اٹھا سکتے ہیں۔ سعید احمد کا کہنا تھا کہ خالدہ ملک نے اپنی مرضی سے گھر سے نکل کر ان سے شادی کی، جس کے بعد خالدہ کے بھائی انہیں جان لیوا دھمکیاں دے رہے ہیں ۔جوڑے نے اعلیٰ حکام سمیت وزیرِاعلیٰ پنجاب ڈی پی او سے اپیل کی کہ انہیں فوری طور پر قانونی تحفظ فراہم کیا جائے۔ تاکہ وہ پرامن زندگی گزار سکیں۔پریمی جوڑے نے مطالبہ کیا کہ ان کا بیان ریکارڈ پر لیا جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔اس موقع پر جوڑے نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیراعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری اقدامات کرتے ہوئے ان کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ جوڑے کا کہنا تھا کہ اگر انہیں بروقت تحفظ فراہم نہ کیا گیا تو انہیں کسی بھی وقت قتل کیے جانے کا خدشہ ہے۔
fans Sukkur Press Club Only News

20/06/2026

سکھر: نجی پی وی سی پلاسٹک پائپ فیکٹری کے مزدوروں کا تنخواہوں میں اضافے اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے احتجاج

سکھر کے علاقے گولیمار میں قائم نجی پی وی سی پلاسٹک پائپ فیکٹری کے مزدوروں نے تنخواہوں میں اضافہ نہ کیے جانے اور بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے فیکٹری مالکان کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے اپنے مطالبات کے حق میں آواز بلند کی۔احتجاجی مظاہرے میں عبدالباسط انصاری، عابد علی ملک، مقصود، رشید، سکندر، سمیع اللہ، عطااللہ اور دیگر مزدوروں نے شرکت کی۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مزدوروں نے بتایا کہ وہ گزشتہ آٹھ سے دس سال سے فیکٹری میں خدمات انجام دے رہے ہیں، تاہم اس طویل عرصے کے دوران ان کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ نہیں کیا گیا۔مزدوروں کا کہنا تھا کہ اس وقت انہیں ماہانہ 26 ہزار سے 28 ہزار روپے تک تنخواہ دی جا رہی ہے، جو موجودہ مہنگائی کے دور میں ان کے لیے انتہائی ناکافی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ حکومت کی جانب سے کم از کم ماہانہ اجرت 42 ہزار 500 روپے مقرر کی جا چکی ہے، لیکن فیکٹری انتظامیہ اس پر عمل درآمد نہیں کر رہی۔
مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ لیبر ڈیپارٹمنٹ کے اہلکار فیکٹری کے دورے تو کرتے ہیں، تاہم وہ مالکان کے ساتھ مبینہ طور پر ملی بھگت کرکے واپس چلے جاتے ہیں اور مزدوروں کے مسائل حل کرنے کے لیے کوئی مؤثر اقدامات نہیں کیے جاتے۔
مزدوروں نے مزید کہا کہ جب بھی وہ فیکٹری کے مالک جے کمار سے تنخواہوں میں اضافے اور دیگر سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہیں تو انہیں مسائل کے حل کی یقین دہانی کرانے کے بجائے ملازمت سے نکالنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔احتجاجی مزدوروں نے متعلقہ اداروں، لیبر ڈیپارٹمنٹ، وزیرِاعلیٰ سندھ اور چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا کہ فیکٹری میں مزدوروں کے ساتھ ہونے والی مبینہ ناانصافیوں اور حقوق کی پامالی کا فوری نوٹس لیا جائے، کم از کم اجرت کے قانون پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے اور مزدوروں کو ان کے جائز حقوق اور بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔
fans Sukkur Press Club Only News Sindh Government

19/06/2026

نوجوان کے اغواء کے بعد قتل، ملزمان کی عدم گرفتاری کے خلاف ورثاء کا احتجاج، انصاف کا مطالبہ

سکھر گاؤں حاجی نہال خان کھوسہ کے رہائشی کھوسو برادری سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین نے نوجوان عبدالباسط عرف شاہ میر کھوسو کے مبینہ اغواء اور بعد ازاں قتل کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔احتجاجی مظاہرے میں مقتول کے اہل خانہ اور عزیز و اقارب کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جن میں بلاول کھوسو، عمران کھوسو، مقتول کی والدہ مائی سکھن، بہنیں ماہی اور فہمیدہ، میر حسن کھوسو اور دیگر شامل تھے۔ مظاہرین انصاف اور ملزمان کی گرفتاری کے حق میں نعرے بھی لگا رہے تھے۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مقتول کے ورثاء نے الزام عائد کیا کہ چند روز قبل ان کے نوجوان عبدالباسط عرف شاہ میر کھوسو کو مبینہ طور پر بااثر افراد شبیر کھوسو، نعیم کھوسو، فرزان کھوسو، مقیم کھوسو، رحیم کھوسو اور دیگر نامعلوم افراد زبردستی اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ اہل خانہ کے مطابق بعد ازاں انہیں اطلاع ملی کہ نوجوان کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا ہے۔ورثاء کا کہنا تھا کہ واقعے کے فوری بعد وہ مقدمہ درج کروانے کے لیے متعلقہ تھانہ قادرپور پہنچے، تاہم ابتدائی طور پر پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کے بقول بعد میں مقدمہ تو درج کر لیا گیا، لیکن تاحال نامزد ملزمان کو گرفتار نہیں کیا گیا۔مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ قادرپور پولیس بااثر ملزمان کی پشت پناہی کر رہی ہے اور انصاف کی فراہمی کے بجائے معاملے کو طول دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملزمان آزادانہ گھوم رہے ہیں، جس کے باعث پورا خاندان شدید خوف و ہراس کا شکار ہے۔مقتول کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ انہیں اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ عبدالباسط عرف شاہ میر کھوسو کو کس مقصد کے تحت اغواء کیا گیا اور بعد ازاں اسے قتل کیوں کیا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی غیرجانبدار اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔احتجاجی مظاہرین نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی سکھر سے مطالبہ کیا کہ واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے قتل میں ملوث تمام ملزمان کو گرفتار کیا جائے، شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جائے اور متاثرہ خاندان کو مکمل تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے۔
Sukkur Press Club Only News Highlight fans Sindh Police District Sukkur Police Sindh Government Syed Murad Ali Shah

Address

Press Club Bulevard, Minara Road
Sukkur
65200

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sukkur Press Club posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Sukkur Press Club:

Share

Category