Sukkur Press Club

Sukkur Press Club The Sukkur Press Club is a professional organization and business center for journalists

25/08/2026

سکھر: 20 سالہ شادی شدہ خاتون کے مبینہ قتل کے خلاف میرانی برادری کا احتجاج، ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ

سکھر بچل شاہ میانی کے رہائشی میرانی برادری سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین نے 20 سالہ شادی شدہ خاتون ساجدہ میرانی کے مبینہ قتل کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ اس موقع پر مسمات فہمیدہ زوجہ عبدالرشید میرانی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ انہوں نے تقریباً تین ماہ قبل اپنی بیٹی ساجدہ کی شادی نایاب میرانی سے کی تھی۔ ان کے مطابق شادی کے بعد سے ساجدہ کو اس کے شوہر نایاب میرانی، آفتاب میرانی، کامران میرانی، مسمات نجمہ، مسمات صائمہ اور دیگر افراد مبینہ طور پر بدترین تشدد کا نشانہ بناتے رہے۔مسمات فہمیدہ کا کہنا تھا کہ ان کی بیٹی نے گھر والوں کو سسرال میں مبینہ تشدد اور ظلم و زیادتی کے بارے میں کبھی کچھ نہیں بتایا، تاہم چند روز قبل انہیں اطلاع ملی کہ ساجدہ کو مبینہ طور پر اس کے شوہر اور دیگر افراد نے تشدد کرکے قتل کردیا ہے۔ واقعے کے بعد اہل خانہ کی جانب سے متعلقہ تھانے میں مقدمہ درج کرایا گیا، جس پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ساجدہ کے شوہر نایاب میرانی کو گرفتار کرلیا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ مقدمے میں نامزد دیگر مبینہ ملزمان تاحال آزاد گھوم رہے ہیں، جس کے باعث مقتولہ کے اہل خانہ میں شدید خوف و تشویش پائی جاتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی غیرجانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کر کے تمام نامزد ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے اور قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔مقتولہ کے اہل خانہ اور احتجاجی مظاہرین نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیراعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر رینج اور ایس ایس پی سکھر سمیت اعلیٰ حکام سے اپیل کی کہ انہیں فوری انصاف اور تحفظ فراہم کیا جائے، جبکہ مبینہ قتل میں ملوث تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔مظاہرین نے واضح کیا کہ اگر تمام نامزد ملزمان کو گرفتار کرکے انصاف فراہم نہ کیا گیا تو وہ احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے پر مجبور ہوں گے۔
fans Sukkur Press Club Only News Highlight Sindh Police District Sukkur Police Sindh Government Syed Murad Ali Shah Barrister Arsalan Islam Shaikh District Bar Association, Sukkur Syed Nasir Hussain Shah

24/08/2026

سکھر میونسپل کارپوریشن کے ریٹائرڈ ملازمین کا پنشن، گریجویٹی اور دیگر واجبات کی عدم ادائیگی کے خلاف احتجاج

سکھر میونسپل کارپوریشن کے ریٹائرڈ ملازمین ویلفیئر ٹرسٹ کی جانب سے تنخواہوں، پنشن، گریجویٹی، انکریمنٹ اور دیگر جائز مراعات کی عدم ادائیگی کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے اپنے جائز حقوق فوری طور پر ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔احتجاجی مظاہرے کی قیادت آصف علی خان، بشیر احمد گوپانگ، مسمات کوثر اور مسمات زاہداں نے کی، جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر مظاہرین کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی زندگی کے قیمتی سال سکھر میونسپل کارپوریشن کی خدمت میں گزارے، مگر ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں اپنے ہی جائز حقوق کے حصول کے لیے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔مظاہرین نے کہا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے پنشن میں حالیہ 7 فیصد خصوصی اضافہ کیا گیا، تاہم ان کے مطابق میونسپل کارپوریشن کی انتظامیہ نے یکم جولائی سے اس اضافے کو پنشن میں شامل نہیں کیا، جس کے باعث ریٹائرڈ ملازمین کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پنشن میں اضافے کا اطلاق یکم جولائی سے کیا جائے اور گزشتہ مدت کا واجب الادا فرق بھی فوری طور پر ادا کیا جائے۔ریٹائرڈ ملازمین کا کہنا تھا کہ پنشن ان کا حق ہے اور عمر کے اس حصے میں جب انہیں سکون اور تحفظ ملنا چاہیے، انہیں مالی پریشانیوں سے دوچار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریٹائرڈ ملازمین کے بچوں کو ملازمتوں کے مواقع بھی فراہم نہیں کیے جا رہے، جبکہ دیگر واجبات، گریجویٹی، انکریمنٹ اور متعلقہ مراعات کی ادائیگی میں بھی تاخیر کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ محدود پنشن میں گھریلو اخراجات، بچوں کی ضروریات اور دیگر مالی ذمہ داریاں پوری کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے واجبات کی بروقت ادائیگی نہ ہونے کے باعث متعدد ریٹائرڈ ملازمین شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔مظاہرین نے سکھر میونسپل کارپوریشن کی انتظامیہ اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ پنشن ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو باقاعدگی سے ادا کی جائے، 7 فیصد اضافے کا یکم جولائی سے اطلاق کرتے ہوئے پنشن کا فرق بھی ادا کیا جائے، جبکہ گریجویٹی، انکریمنٹ اور دیگر تمام جائز واجبات فوری طور پر جاری کیے جائیں۔ریٹائرڈ ملازمین نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات پر فوری عملدرآمد نہ کیا گیا تو وہ قانونی چارہ جوئی کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کے ساتھ ساتھ احتجاج کا دائرہ بھی وسیع کریں گے اور احتجاجی مظاہرے تسلسل کے ساتھ جاری رکھیں گے۔
Sukkur Press Club Only News Highlight Syed Murad Ali Shah fans Sindh Government Barrister Arsalan Islam Shaikh

22/08/2026

سکھر: بچے کے حادثے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور مبینہ پولیس غفلت کی تحقیقات کا مطالبہ

سکھر جیل موڑ فلٹر پلانٹ کے رہائشی نادر علی میرانی نے سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ گزشتہ روز پیش آنے والے ایک حادثے میں ان کا معصوم بچہ شدید زخمی ہوگیا، جس کے نتیجے میں بچے کے پاؤں کی چار انگلیاں شدید متاثر ہوئی ہیں، تاہم واقعے کے بعد قانونی کارروائی کے لیے پولیس سے رجوع کرنے کے باوجود انہیں مبینہ طور پر انصاف فراہم نہیں کیا گیا۔احتجاج کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نادر علی میرانی نے بتایا کہ حادثے کے فوراً بعد انہوں نے قانونی کارروائی کے لیے سی سیکشن تھانے میں این سی درج کرائی۔ ان کے مطابق پولیس کی جانب سے بچے کے طبی معائنے کے لیے میڈیکل سرٹیفکیٹ بھی جاری کیا گیا، جس کے بعد وہ قانونی کارروائی کی امید لے کر پولیس سے رجوع کرتے رہے۔متاثرہ شخص کا الزام ہے کہ اس کے باوجود مبینہ طور پر ایس ایچ او اور پولیس اہلکار رحمت اللہ میرانی نے مخالف فریق سے مبینہ طور پر رقم لے کر معاملہ ختم کرنے کی کوشش کی اور متعلقہ افراد کو چھوڑ دیا۔ نادر علی میرانی نے مزید دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے اپنے بچے کو انصاف دلانے اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا تو انہیں مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں کی جانب سے دھمکیاں دی گئیں کہ ان کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کیے جاسکتے ہیں۔نادر علی میرانی کے مطابق مبینہ دھمکیوں اور پولیس کے رویے کے باعث وہ شدید ذہنی اذیت کا شکار ہوئے اور بالآخر واپس جانے پر مجبور ہوگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک جانب ان کا معصوم بچہ حادثے کے باعث شدید زخمی ہے جبکہ دوسری جانب انہیں مبینہ طور پر قانونی کارروائی کے بجائے دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے اعلیٰ پولیس حکام اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ واقعے کا فوری، شفاف اور غیرجانبدارانہ نوٹس لیا جائے، بچے کے حادثے کے ذمہ دار افراد کا تعین کرکے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے اور واقعے سے متعلق درج این سی، میڈیکل سرٹیفکیٹ اور دیگر قانونی ریکارڈ کی بنیاد پر معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔نادر علی میرانی نے پولیس اہلکاروں پر عائد کیے گئے مبینہ الزامات کی بھی غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی اہلکار نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا یا فریقین میں سے کسی سے غیرقانونی طور پر لین دین کیا ہے تو اس کے خلاف محکمانہ اور قانونی کارروائی کی جائے۔انہوں نے اپیل کی کہ انہیں اور ان کے خاندان کو تحفظ فراہم کیا جائے، بچے کو انصاف دلایا جائے اور واقعے کے ذمہ دار افراد کو قانون کی گرفت میں لایا جائے۔ متاثرہ شخص نے اعلیٰ پولیس حکام سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی میرٹ پر تحقیقات کرا کے انہیں فوری انصاف فراہم کیا جائے۔
Sukkur Press Club fans Only News Sindh Government Syed Kumail Hyder Shah Sindh Police District Sukkur Police Syed Nasir Hussain Shah Highlight Barrister Arsalan Islam Shaikh

22/08/2026

سکھر میں جماعت الصالحین پاکستان کے زیر اہتمام میلادِ مصطفیٰ ﷺ ریلی، عاشقانِ رسول ﷺ کی بھرپور شرکت

سکھر جماعت الصالحین پاکستان ضلع سکھر کے زیر اہتمام عید میلادالنبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی مناسبت سے ایک عظیم الشان میلادِ مصطفیٰ ﷺ ریلی نکالی گئی، جس میں عاشقانِ رسول ﷺ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ریلی سکھر پریس کلب سے شروع ہوئی اور شہر کی مختلف اہم شاہراہوں سے ہوتی ہوئی گھنٹہ گھر سکھر پر پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی۔ریلی کے شرکاء نے ہاتھوں میں سبز پرچم اور میلادِ مصطفیٰ ﷺ سے متعلق بینرز و پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جبکہ راستے بھر "سرکار کی آمد مرحبا، سوہنے کی آمد مرحبا" سمیت دیگر فلک شگاف نعرے بلند کیے گئے۔ ریلی کے باعث شہر کی فضا درود و سلام اور نعروں سے گونجتی رہی۔ریلی میں سنی تحریک کے مرکزی رہنما نور احمد قاسمی، ڈاکٹر سعید اعوان، سلیم، مشرف محمود قادری سمیت جماعت الصالحین پاکستان کے عہدیداران، کارکنان اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میلادالنبی ﷺ منانا دراصل حضور اکرم ﷺ سے اپنی محبت اور عقیدت کا اظہار ہے۔انہوں نے کہا کہ رحمتُ للعالمین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادتِ باسعادت پوری انسانیت کے لیے اللہ تعالیٰ کی جانب سے عظیم نعمت اور تحفہ ہے۔ مسلمان اس بابرکت موقع پر خوشیاں مناتے ہوئے اپنے گھروں، مساجد، دکانوں، بازاروں اور گلی محلوں کو چراغاں اور سجاوٹ سے مزین کرتے ہیں۔مقررین کا کہنا تھا کہ جماعت الصالحین پاکستان کے زیر اہتمام میلادِ مصطفیٰ ﷺ ریلی کا بنیادی مقصد مسلمانوں کو یہ پیغام دینا ہے کہ وہ عید میلادالنبی ﷺ کی خوشیاں بھرپور مذہبی عقیدت و احترام کے ساتھ منائیں اور اپنے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے والہانہ محبت کا اظہار کریں۔انہوں نے کہا کہ حضور نبی کریم ﷺ کی آمد سے پوری دنیا میں رحمت، ہدایت اور انسانیت کے لیے خیر و برکت کا پیغام عام ہوا۔ آج دنیا بھر کے مسلمان اپنے پیارے نبی کریم ﷺ کی ولادتِ باسعادت کی خوشیاں منا رہے ہیں، جبکہ پاکستان سمیت سکھر میں بھی گلی گلی، محلہ محلہ درود و سلام کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں اور عاشقانِ رسول ﷺ اپنے گھروں، مساجد اور کاروباری مراکز کو سجا رہے ہیں۔مقررین نے مزید کہا کہ نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ پوری انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ میلادالنبی ﷺ کی خوشیوں کے ساتھ ساتھ آپ ﷺ کی تعلیمات، اخلاقِ حسنہ، محبت، اخوت، برداشت، امن اور انسانیت کی خدمت کے پیغام کو بھی عام کریں۔ریلی کے اختتام پر ملک و قوم کی سلامتی، امن و استحکام، خوشحالی اور عالمِ اسلام کے لیے خصوصی دعا کی گئی، جبکہ شرکاء نے عید میلادالنبی ﷺ کی خوشیاں بھرپور مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منانے کے عزم کا اظہار کیا۔
fans Sukkur Press Club Only News Sindh Government Syed Murad Ali Shah Syed Kumail Hyder Shah

22/08/2026

منشیات و جوئے کے اڈوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ، علاقہ مکینوں کا احتجاجی مظاہرہ بعد ازاں پریس کلب میں پریس کانفرنس

سکھر اللہ آباد کالونی نزد بورڈ آفس کے رہائشیوں نے علاقے میں مبینہ طور پر منشیات فروشی، جوئے کے اڈوں اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے سائٹ ایریا پولیس کے خلاف بھی شدید نعرے بازی کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پولیس کو متعدد بار شکایات اور درخواستیں دینے کے باوجود مبینہ منشیات فروشوں اور جوئے کے اڈے چلانے والے عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی جا رہی۔اس موقع پر اللہ آبایو عرف ڈاڈا مہر، گلاب ملک، غلام قادر تنیو اور دیگر علاقہ مکینوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اللہ آباد کالونی اور مبارک کالونی، نزد پیپسی کولا کے علاقوں میں مبینہ طور پر منشیات اور جوئے کے اڈے چلائے جا رہے ہیں، جس کے باعث علاقہ مکینوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ علاقے میں مبینہ طور پر منشیات کے استعمال اور جوئے کی سرگرمیوں کے باعث نوجوان نسل متاثر ہو رہی ہے، جبکہ بعض افراد نشے کی حالت میں گلیوں اور راستوں پر بیٹھے رہتے ہیں، جس سے اہلِ محلہ اور وہاں سے گزرنے والی خواتین کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق اللہ آباد کالونی میں ہزاروں خاندان رہائش پذیر ہیں اور مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے باعث پورا علاقہ متاثر ہو رہا ہے۔
اللہ آبایو عرف ڈاڈا مہر نے الزام عائد کیا کہ انہوں نے اہلِ محلہ کی شکایات پر مبینہ منشیات اور جوئے کے اڈوں کے خلاف آواز اٹھائی اور متعلقہ افراد کو غیر قانونی سرگرمیاں بند کرنے کا کہا، تاہم معاملہ حل ہونے کے بجائے مبینہ طور پر ان کے ساتھ جھگڑے اور کشیدگی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دوران ان کے دو بھتیجوں کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جن کے میڈیکل سرٹیفکیٹس بھی ان کے پاس موجود ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ معاملے پر انہوں نے پولیس کو درخواستیں دیں اور قانونی کارروائی بھی کروائی، تاہم بعد ازاں مبینہ طور پر انہیں دباؤ میں لانے اور راستے سے ہٹانے کے لیے ان کے خلاف بھی مقدمہ درج کرا دیا گیا۔ انہوں نے خاص طور پر پانچ سالہ سراج احمد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سائٹ ایریا پولیس کی جانب سے درج ایف آئی آر میں ایک کمسن بچے کو بھی نامزد کیا گیا ہے، جو کے جی کلاس کا طالب علم ہے۔مظاہرین نے سوال اٹھایا کہ پانچ سالہ بچہ کس طرح کسی سنگین جرم کا ملزم ہو سکتا ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی واقعے میں بچے کا نام شامل کیا گیا ہے تو پولیس کو پہلے مکمل تحقیقات اور حقائق کی تصدیق کرنی چاہیے تھی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کمسن بچے کو ایف آئی آر میں نامزد کرنے کے معاملے کی بھی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں۔اللہ آبایو عرف ڈاڈا مہر نے مزید الزام عائد کیا کہ علاقے میں مبینہ طور پر منشیات اور جوئے کی سرگرمیاں بعض بااثر افراد کی سرپرستی میں جاری ہیں اور پولیس کو اس حوالے سے بارہا آگاہ کیا گیا، تاہم کارروائی نہ ہونے کے باعث علاقہ مکین مایوسی کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا کسی فرد کے ساتھ ذاتی یا جائیداد کا تنازع نہیں، بلکہ ان کی جدوجہد مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے خاتمے اور نوجوان نسل کے مستقبل کے تحفظ کے لیے ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں انہوں نے متعلقہ پولیس افسران، ڈی آئی جی سکھر آفس سمیت دیگر حکام کو درخواستیں بھی دیں، جبکہ اپنے مؤقف کے حق میں مبینہ درخواستیں، میڈیکل سرٹیفکیٹس اور دیگر دستاویزات بھی میڈیا کے سامنے پیش کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پولیس اور متعلقہ اداروں نے بروقت کارروائی نہ کی تو علاقے میں منشیات اور جوئے کی سرگرمیوں کے باعث صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
مظاہرین نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیراعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی سکھر سے مطالبہ کیا کہ اللہ آباد اور ملحقہ علاقوں میں مبینہ منشیات فروشی اور جوئے کے اڈوں کے خلاف فوری اور غیر جانب دارانہ کارروائی کی جائے، مبینہ طور پر ملوث افراد کو گرفتار کرکے قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے، جبکہ ان کے خلاف درج مبینہ جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات کی بھی شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ انہیں اور ان کے اہل خانہ کو تحفظ فراہم کیا جائے اور کمسن سراج احمد سمیت دیگر افراد کے خلاف درج مقدمات کا میرٹ پر جائزہ لیا جائے۔ مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات پر فوری توجہ نہ دی گئی تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔
fans Sukkur Press Club Only News Sindh Police District Sukkur Police District Bar Association, Sukkur

22/08/2026

سکھر صالح پٹ کے رہائشی چوہان برادری سے تعلق رکھنے والے بااثر افراد کی
ظلم و زیادتیوں اور ناانصافیوں کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ
Sukkur Press Club Only News Highlight District Sukkur Police Sindh Police fans Sindh Government

21/08/2026

بیٹی کے سسرالیوں کی مبینہ زیادتیوں کے خلاف نوح پوتو برادری کا سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاج

سکھر ٹھری میرواہ، ضلع خیرپور سے تعلق رکھنے والی نوح پوتو برادری کے افراد نے بیٹی کے سسرالیوں کی مبینہ زیادتیوں، تشدد اور ناانصافیوں کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے اعلیٰ حکام سے واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات، مبینہ طور پر درج مقدمے کی شفاف انکوائری اور انصاف و تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔احتجاج میں عبدالشکور نوح پوتو، عارف علی خاکی، نعیم سٹھار، حافظ ایاز ملاح، صدام سولنگی اور دیگر افراد شریک تھے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور متعلقہ حکام سے مبینہ ظلم و زیادتی کا نوٹس لینے کی اپیل کی۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عبدالشکور نوح پوتو اور دیگر مظاہرین نے مؤقف اختیار کیا کہ کچھ عرصہ قبل ان کی بہن مسمات زکیہ ولد شفیع محمد نوح پوتو نے گھر سے روانہ ہو کر اپنی پسند سے عدنان ولد امام الدین سومرو کے ساتھ کورٹ میرج کی تھی۔ مظاہرین کے مطابق شادی کو تقریباً 11 ماہ گزرنے کے بعد زکیہ نے اپنی والدہ سے رابطہ کرکے مبینہ طور پر کہا کہ وہ سسرال میں حالات سے پریشان ہے اور اسے وہاں سے گھر لے جایا جائے۔مظاہرین کے مطابق زکیہ کی جانب سے رابطہ کرنے کے بعد اس کے والد شفیع محمد نوح پوتو نے اپنے داماد عدنان ولد امام الدین سومرو سے ملاقات کی، جہاں مبینہ طور پر معاملات کو خوش اسلوبی سے طے کرلیا گیا۔ تاہم، جب شفیع محمد نوح پوتو اپنی بیٹی زکیہ کو اپنے ہمراہ گھر لے جانے کے لیے پہنچے تو امام الدین سومرو سمیت بعض افراد نے مبینہ طور پر ان پر حملہ کردیا، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئے۔عبدالشکور نوح پوتو نے مزید الزام عائد کیا کہ وڈیرہ ذوالفقار سومرو نے مبینہ طور پر حملے میں کردار ادا کرنے کے بعد زکیہ کے والد شفیع محمد سمیت دیگر افراد کے خلاف بھی مبینہ طور پر بے بنیاد مقدمہ درج کروا کر معاملے کو مزید پیچیدہ کردیا۔ مظاہرین کے مطابق مقدمے میں شفیع محمد، عبدالنعیم، مسمات امتیاز، عبدالغفور اور نعیم سمیت دیگر کو نامزد کیا گیا ہے۔مظاہرین نے کہا کہ وہ قانون کو ہاتھ میں لینے کے بجائے قانونی اور آئینی طریقے سے انصاف کے حصول کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیراعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر، ایس ایس پی خیرپور اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی مکمل اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، تمام فریقین کا مؤقف سنا جائے اور اگر کسی شخص نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے تو اسے قانون کے مطابق سزا دی جائے۔مظاہرین نے مزید مطالبہ کیا کہ انہیں اور ان کے اہل خانہ کو مبینہ دھمکیوں یا کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے تحفظ فراہم کیا جائے اور معاملے میں انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے حقائق سامنے لائے جائیں۔ احتجاج کے اختتام پر مظاہرین نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لے کر داد رسی کی اپیل کی۔
fans Sukkur Press Club Sindh Police Sindh Government Only News District Bar Association, Sukkur District Sukkur Police

تلاش گمشدگی نام ۔۔ صابر علی ولد الطاف حسین شیخ عمر۔۔۔  32سالہایڈریس ۔۔۔ شیخ محلہ سانگی شہر تعلقہ پنوعاقل ضلع سکھر برؤن ک...
18/08/2026

تلاش گمشدگی
نام ۔۔ صابر علی ولد الطاف حسین شیخ
عمر۔۔۔ 32سالہ
ایڈریس ۔۔۔ شیخ محلہ سانگی شہر تعلقہ پنوعاقل ضلع سکھر
برؤن کلر کا سوٹ پہن رکھا تھا جب گھر سے نکلا تھا۔
بھائی مقبول احمد شیخ اور کزن افلاق احمد شیخ کا سکھر پریس کلب پہنچ کر قانون نافذ کرنیوالے اداروں سمیت عوام الناس سے ڈھونڈنے کی اپیل مقبول احمد شیخ کا کہنا تھا کہ 3ماہ قبل گھر سے بچوں کی شاپنگ کے غرض سے نکلا مگر ابھی تک واپس گھر نہیں لوٹا گھر والے انتہائی ذہنی اذیت کا شکار ہیں پولیس اسپتال سب جگہ تلاش کیا مگر کہیں بھی بھائی صابر شیخ کا پتا نہیں چل سکا مقبول احمد شیخ قانون نافذ کرنیوالے اداروں سمیت عوام الناس سے ڈھونڈنے کی اپیل کی اور کہا کہ جس بھائی کو صابر شیخ کے حوالے سے کوئی علم ہو یا اسے کہیں دیکھا ہو تو میرے اس نمبر پر رابطہ کریں ۔۔
مقبول احمد شیخ
موبائل فون نمبر ۔۔۔ 03110653633
Sukkur Press Club Only News Highlight Sindh Police District Sukkur Police fans Syed Murad Ali Shah Sindh Government Syed Kumail Hyder Shah

18/08/2026

سکھر: 10 سال قبل طلاق یافتہ خاتون کا بچوں سے ملاقات نہ کرانے کے خلاف احتجاج

سکھر(بیورورپورٹ)نیو پنڈ کی رہائشی مریم پیرزادو زوجہ نظیر حسین بھٹی سکھر پریس کلب پہنچ کر صحافیوں کے سامنے دہائی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے سابق شوہر نظیر حسین بھٹی نے اسے 10 سال قبل طلاق دے کر پانچ بچوں، جن میں تین بیٹیاں اور دو بیٹے شامل ہیں، اپنے ساتھ رکھ لیے اور اسے گھر سے نکال دیا۔مریم پیرزادو نے بتایا کہ طلاق کے بعد وہ اکیلی زندگی گزارتی رہی اور دربدر ہو کر مختلف گھروں میں کام کاج کرکے اپنا گزر بسر کرتی رہی۔ اس کے مطابق اس نے دوسری شادی بھی کرلی، جبکہ اس کی ایک بیٹی کی شادی بھی ہوچکی ہے، لیکن اس کے باوجود اسے اپنے بچوں سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جارہی۔مریم پیرزادو نے الزام عائد کیا کہ اس کا سابق شوہر نہ صرف اسے بچوں سے ملنے سے روک رہا ہے بلکہ بچوں پر بھی مبینہ طور پر تشدد اور سختی کرتا ہے، جس کے باعث وہ شدید پریشانی میں مبتلا ہے۔مریم پیرزادو نے آئی جی سندھ پولیس اور ایس ایس پی سکھر سے مطالبہ کیا کہ معاملے کا نوٹس لے کر سابق شوہر کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور اسے اپنے بچوں سے ملاقات کا حق دلایا جائے۔
Sukkur Press Club Only News Highlight fans Sindh Police District Sukkur Police Sindh Government Syed Kumail Hyder Shah

17/08/2026

تین ماہ گزرنے کے باوجود چوری شدہ گاڑی برآمد نہ ہوسکی، پہلوان غلام حسین پٹھان کا ایس ایس پی سکھر اور اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ

سکھر سندھ کی ثقافتی کھیل ملاکھڑا کے معروف پہلوان غلام حسین پٹھان نے سکھر پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ تین ماہ گزرنے کے باوجود سکھر کے سی سیکشن تھانے کی حدود سے چوری ہونے والی ان کی گاڑی تاحال برآمد نہیں ہوسکی، جس کے باعث وہ شدید پریشانی اور مالی مشکلات کا شکار ہیں۔غلام حسین پٹھان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ سندھ کے روایتی ثقافتی کھیل ملاکھڑا میں نہ صرف سندھ بلکہ پاکستان کے دیگر صوبوں اور بیرونِ ملک بھی اپنے صوبے کی نمائندگی کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 15 مئی 2026 کو سکھر کے سی سیکشن تھانے کی حدود سے ان کی 2009 ماڈل ٹویوٹا کرولا GLi گاڑی چوری ہوگئی تھی، جس کی اطلاع پولیس کو دینے کے باوجود تاحال گاڑی کی برآمدگی ممکن نہیں ہوسکی۔انہوں نے بتایا کہ گاڑی کی چوری کے بعد وہ متعدد مرتبہ پولیس افسران سے رابطہ کرتے رہے اور اپنی گاڑی کی بازیابی کے لیے مسلسل کوششیں کیں، تاہم تین ماہ گزرنے کے باوجود انہیں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نظر نہیں آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایس ایس پی سکھر سے ملاقات کے لیے بھی کئی مرتبہ کوشش کی، تاہم ملاقات میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔پہلوان غلام حسین پٹھان کے مطابق ایک موقع پر وہ ایس ایس پی سکھر کے دفتر پہنچے، جہاں انہیں تقریباً ایک گھنٹے تک انتظار کرنا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ملاقات کے لیے پرچی بھی بھجوائی، تاہم ملاقات نہ ہوسکی۔ بعد ازاں جب ایس ایس پی سکھر دفتر سے روانہ ہونے لگے تو انہوں نے انہیں اپنی گاڑی کے قریب بلا کر مختصر ملاقات کی، جس دوران ایس ایس پی کی جانب سے گاڑی کی جلد بازیابی کی یقین دہانی کرائی گئی، مگر اس یقین دہانی کے باوجود تاحال گاڑی برآمد نہیں ہوسکی۔غلام حسین پٹھان نے کہا کہ وہ ایک غریب پہلوان ہیں اور انہوں نے اپنی محنت اور حلال کمائی سے گاڑی خریدی تھی۔ گاڑی کی چوری نے انہیں شدید مالی مشکلات سے دوچار کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ گزشتہ تین ماہ سے اپنی گاڑی کی بازیابی کے لیے مختلف دفاتر کے چکر لگا رہے ہیں، لیکن ابھی تک انہیں انصاف اور داد رسی نہیں مل سکی۔انہوں نے سندھ کے وزیرِ داخلہ، آئی جی سندھ اور ڈی آئی جی سکھر رینج سے اپیل کی کہ وہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ پولیس حکام کو چوری شدہ گاڑی کی برآمدگی کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی ہدایت کریں۔غلام حسین پٹھان نے کہا کہ وہ امید رکھتے ہیں کہ پولیس حکام ان کی داد رسی کریں گے اور ان کی گاڑی جلد برآمد کرائی جائے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پریس کانفرنس کے بعد بھی ان کے مسئلے پر کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو وہ سندھ بھر کے پہلوانوں سے رابطہ کرکے ایس ایس پی سکھر کے دفتر کے سامنے پُرامن احتجاج کریں گے۔انہوں نے کہا کہ وہ قانون کو ہاتھ میں لینے کے بجائے پرامن اور قانونی طریقے سے اپنے حق کے لیے آواز بلند کرنا چاہتے ہیں، تاہم اگر مسلسل نظرانداز کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے پر مجبور ہوں گے۔پہلوان غلام حسین پٹھان نے ایک مرتبہ پھر اعلیٰ پولیس حکام اور صوبائی وزیرِ داخلہ سے اپیل کی کہ وہ ان کی چوری شدہ گاڑی کی فوری بازیابی کے لیے اپنا کردار ادا کریں تاکہ ایک غریب محنت کش اور کھلاڑی کو اس کی ملکیت واپس مل سکے۔
Sukkur Press Club Only News Highlight Sindh Police District Sukkur Police fans Syed Kumail Hyder Shah

Address

Press Club Bulevard, Minara Road
Sukkur
65200

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sukkur Press Club posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Sukkur Press Club:

Shortcuts

Share

Category