Gul Awaz

Gul Awaz ہمارا پیج فالو کریں۔شکریہ 💞

31/12/2025

11 ہل برائے فارسیل ماڈل ڈبل فریملوکیشن پنڈ دادنخان جہلم ڈیمانڈ 1.60 لاکھ موقع پر کمی رابط نمبر 0325533954403488156677اگر...
06/12/2025

11 ہل برائے فارسیل
ماڈل
ڈبل فریم
لوکیشن پنڈ دادنخان جہلم
ڈیمانڈ 1.60 لاکھ موقع پر کمی
رابط نمبر 03255339544
03488156677

اگر آپ بھی اپنا ٹریکٹر یا زرعی آلات جانور وغیرہ جلدی سیل کرنا چاہتے ہیں
تو میرے واٹس ایپ نمبر 03116493096 پر فریش تصاویر بنا کر بھیجیں آپ کی پوسٹ بنا کر لگا دی جائے گی وہ بھی بلکل فری

انتباہ! پوسٹ لگنے کے بعد ڈلیٹ نہیں ہو گی

ہم نے صرف خریدوفروخت کا ایک پلیٹ فارم آپکو دیا باقی لین دین میں اپنی تسلی خود کریں

آپ ٹریکٹر فارسیل کی ویڈیوز ہمارے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر بھی دیکھ سکتے ہیں نیچے لنک پر کلک کریں اور اکاؤنٹ کو فالو کریں 👇👇👇👇👇👇
https://www.tiktok.com/?_t=ZS-8zlUtqUSBZh&_r=1

وٹس ایپ چینل کو ضرور فالو کریں تاکہ ہر طرح کی اپڈیٹ آپ کو ٹائم پے مل سکے
وٹس ایپ چینل کا لنک نیچے دے دیا ہے اس کو کلک کریں ،👇👇👇👇👇👇👇👇👇👇
Follow the CTN Tractor channel on WhatsApp: https://whatsapp.com/channel/0029Vayocl58KMqjEC3GA12b

سیرت النبی ﷺعنوان: سیدہ خدیجہ رضی الله عنها سے نکاحشاید وہ گزشتہ آسمانی کتاب کا کوئی عالم تھا اور اُس نے آپ کو پہچان لیا...
15/09/2024

سیرت النبی ﷺ

عنوان: سیدہ خدیجہ رضی الله عنها سے نکاح

شاید وہ گزشتہ آسمانی کتاب کا کوئی عالم تھا اور اُس نے آپ کو پہچان لیا تھا، چناچہ بولا:
"آپ ٹھیک کہتے ہیں۔"
اس کے بعد اس نے میسرہ سے علیحدگی میں ملاقات کی، کہنے لگا:
"میسرہ! یہ نبی ہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یہ وہی ہے جن کا ذکر ہمارے راہب اپنی کتابوں میں پاتے ہیں۔"
میسرہ نے اس کی اس بات کو ذہن نشین کر لیا۔ راستے میں ایک اور واقعہ پیش آیا۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے دو اونٹ بہت زیادہ تھک گئے تھے اور چلنے کے قابل نہ رہے،ان کی وجہ سے میسرہ قافلے کے پیچھے رہ گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قافلے کے اگلے حصے میں تھے۔میسرہ ان اونٹوں کی وجہ سے پریشان ہوا تو دوڑتا ہوا اگلے حصے کی طرف آیا اور اپنی پریشانی کے بارے میں آپ کو بتایا۔ آپ اس کے ساتھ ان دونوں اونٹوں کے پاس تشریف لائے،ان کی کمر اور پچھلے حصے پر ہاتھ پھیرا۔ کچھ پڑھ کر دم کیا۔ آپ کا ایسا کرنا تھا کہ اونٹ اسی وقت ٹھیک ہوگئے اور اس قدر تیز چلے کہ قافلے کے اگلے حصے میں پہنچ گئے۔ اب وہ منہ سے آوازیں نکال رہے تھے اور چلنے میں جوش و خروش کا اظہار کر رہے تھے۔
پھر قافلے والوں نے اپنا سامان فروخت کیا۔اس بار انہیں اتنا نفع ہوا کہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا، چنانچہ میسرہ نے آپ سے کہا:
"اے محمد! ہم سالہا سال سے سیدہ خدیجہ کے لئے تجارت کر رہے ہیں، مگر اتنا زبردست نفع ہمیں کبھی نہیں ہوا جتنا اس بار ہوا ہے۔"
آخر قافلہ واپس مکہ کی طرف روانہ ہوا۔میسرہ نے اس دوران صاف طور پر یہ بات دیکھی کہ جب گرمی کا وقت ہوتا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر ہوتے تھے تو دو فرشتے دھوپ سے بچانے کیلیے آپ پر سایہ کیے رہتے تھے۔ ان تمام باتوں کی وجہ سے میسرہ کے دل میں آپ کی محبت گھر کر گئی اور یوں لگنے لگا جیسے وہ آپ کا غلام ہو۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کے وقت مکہ میں داخل ہوئے۔ اپ باقی قافلے سے پہلے پہنچ گئے تھے۔ آپ سیدھے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے گھر پہنچے۔ وہ اس وقت چند عورتوں کے ساتھ بیٹھی تھیں۔ انہوں نے دور سے آپ کو دیکھ لیا۔ آپ اونٹ پر سوار تھے اور دو فرشتے آپ پر سایہ کئے ہوئے تھے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے یہ منظر دوسری عورتوں کو بھی دکھایا۔ وہ سب بہت حیران ہوئیں۔
اب آپﷺ نے حضرت خدیجہ رضی الله عنہا کو تجارت کے حالات سنائے۔منافع کے بارے میں بتایا۔ اس مرتبہ پہلے کی نسبت دو گنا منافع ہوا تھا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا بہت خوش ہوئیں۔ انہوں نے پوچھا:
"میسرہ کہاں ہے؟"
آپ نے بتایا:
"وہ ابھی پیچھے ہے۔"
یہ سن کر سیدہ نے کہا:
"آپ فوراً اس کے پاس جائیے اور اسے جلد از جلد میرے پاس لائیے۔"
آپ واپس روانہ ہوئے۔حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے دراصل آپ کو اس لیے بھیجا تھا کہ وہ پھر سے وہی منظر دیکھنا چاہتی تھیں۔ جاننا چاہتی تھیں کیا اب بھی فرشتے ان پر سایہ کرتے ہیں یا نہیں۔ جونہی آپ روانہ ہوئے، یہ اپنے مکان کے اوپر چڑھ گئیں اور وہاں آپ کو دیکھنے لگیں۔ آپ کی شان اب بھی وہی نظر آئی۔ اب اُنہیں یقین ہو گیا کہ اُن کی آنکھوں نے دھوکا نہیں کھایا تھا۔ کچھ دیر بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم میسرہ کے ساتھ اُن کے پاس پہنچ گئے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے میسرہ سے کہا:
"میں نے ان پر دو فرشتوں کو سایہ کرتے ہوئے دیکھا ہے، کیا تم نے بھی کوئی ایسا منظر دیکھا ہے۔"
جواب میں میسرہ نے کہا:
"میں تو یہ منظر اس وقت سے دیکھ رہا ہوں جب قافلہ یہاں سے شام جانے کے لیے روانہ ہوا تھا۔"
اس کے بعد میسرہ نے نسطورا سے ملاقات کا حال سنایا۔ دوسرے آدمی نے جو کہا تھا، وہ بھی بتایا۔ جس نے لات اور عزیٰ کی قسم کھانے کے لیے کہا تھا، پھر اونٹوں والا واقعہ بتایا۔ یہ تمام باتیں سننے کے بعد سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ کو طے شدہ اجرت سے دوگنا دی۔ جب کہ طے شدہ اجرت پہلے ہی دوسرے لوگوں کی نسبت دوگنا تھی۔
ان تمام باتوں سے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا بہت حیران ہوئیں۔ اب وہ اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل سے ملیں، یہ پچھلی کتابوں کے عالم تھے۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے انہیں، جو کچھ خود دیکھا اورمیسرہ کی زبانی سنا تھا، وہ سب کہہ سُنایا۔ ورقہ بن نوفل اس وقت عیسائی مذہب سے تعلق رکھتے تھے،اس سے پہلے وہ یہودی تھے۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی تمام باتیں سن کر ورقہ بن نوفل نے کہا:
"خدیجہ! اگر یہ باتیں سچ ہیں تو سمجھ لو، محمد اس امت کے نبی ہیں۔ میں یہ بات جان چکا ہوں کہ وہ اس امت کے ہونے والے نبی ہیں، دنیا کو انہی کا انتظار تھا۔ یہی ان کا زمانہ ہے۔"
یہاں یہ بات بھی واضح ہو جائے کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے لیے تجارتی سفر صرف ایک بار ہی نہیں کیا چند سفر اور بھی کیے۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا ایک شریف اور پاک باز خاتون تھیں۔ نسب کے اعتبار سے بھی قریش میں سب سے اعلیٰ تھیں۔ اُنہیں قریش کی سیدہ کہا جاتا تھا۔ قوم کے بہت سے لوگ اُن سے نکاح خواہشمند تھے، کئی نوجوانوں کے پیغام اُن تک پہنچ چکے تھے، لیکن انہوں نے کسی کے پیغام کو قبول نہیں کیا تھا۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تجارت کے سفر سے واپس آئے تو آپ ﷺ کی خصوصیات دیکھ کر اور آپ کی باتیں سن کر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت زیادہ متاثر ہو چکی تھیں لہٰذا انہوں نے ایک خاتون نفیسہ بنت منيه کو آپ کی خدمت میں بھیجا۔ اُنہوں نے آکر آپ سے کہا کہ اگر کوئی دولتمند اور پاک باز خاتون خود آپ کو نکاح کی پیشکش کرے تو کیا آپ مان لیں گے۔
اُن کی بات سن کر آپ نے فرمایا:
"وہ کون ہیں؟"
نفیسہ نے فوراً کہا:
"خدیجہ بنت خویلد۔"
آپ نے انہیں اجازت دے دی۔ نفیسہ بنت منیہ سیدہ خدیجہ رضی الله عنہا کے پاس آئیں۔ انہیں ساری بات بتائی۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنے چچا عمرو بن اسد کو اطلاع کرائی، تاکہ وہ آکر نکاح کر دیں۔
سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی اس سے پہلے دو مرتبہ شادی ہو چکی تھی۔ ان کا پہلا نکاح عتیق ابن مائد سے ہوا تھا۔ اس سے بیٹی ہندہ پیدا ہوئی تھی۔ عتیق کے فوت ہو جانے کے بعد سیدہ کا دوسرا نکاح ابوہالہ نامی شخص سے ہوا۔ ابوہالہ کی وفات کے بعد سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا بیوگی کی زندگی گزار رہی تھیں کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نکاح کا ارادہ کر لیا۔ اس وقت سیدہ کی عمر 40 سال کے لگ بھگ تھی۔
سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے چچا عمرو بن اسد وہاں پہنچ گئے، ادھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے چچاؤں کو لے کر پہنچ گئے۔ نکاح کس نے پڑھایا ، اس بارے روایات مختلف ہیں۔ ایک روایت یہ ہے کہ یہ نکاح چچا ابوطالب نے پڑھایا تھا۔ مہر کی رقم کے بارے میں بھی روایات مختلف ہیں۔ ایک روایت یہ ہے کہ مہر کی رقم بارہ اوقیہ کے قریب تھی، دوسری روایت یہ ہے کہ آپ نے مہر میں بیس جوان اونٹنیاں دیں۔
نکاح کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ولیمے کی دعوت کھلائی اور اس دعوت میں آپ نے ایک یا دو اونٹ ذبح کیے۔

موٹروے پر کام کرنے والے ایک چائنیز انجنیئر کو چائے کے ساتھ جلیبی دی گئی وہ چائے پی کر جلیبی کو اٹھا کر غور سے دیکھتا رہا...
15/09/2024

موٹروے پر کام کرنے والے ایک چائنیز انجنیئر کو چائے کے ساتھ جلیبی دی گئی وہ چائے پی کر جلیبی کو اٹھا کر غور سے دیکھتا رہا پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا کسی نے پوچھا کیوں رو رھے ھو بھائی؟ چینی انجنیئر بولا یہ ہماری زبان میں لکھا ھے پاکستان میں بجلی اور پیٹرول کبھی سستا نہیں ھوگا😄😄😄😄😄

20/07/2024

سلطان قطب الدین ایبک۔۔۔۔
1150ء میں ترکستان (ترک، ترکی پھر ترکیہ) کے غریب گھر میں پیدا ہونے والے قطب کے گھرانے کا ایک غلاموں پر مشتمل "ایبک" نامی قبیلے سے تھا۔ دور جہالت تھا، ابھی لڑکپن ہی تھا، والدین نے اپنے سے جدا کر کے نشاپور میں لگنے والی غلاموں کی منڈی میں بولی لگا کر اسے بیچ ڈالا، اسے آگے فخرالدین عبد العزیز کوفی، قاضی، تاجر اور ابوحنیفہ کی اولاد میں سے ایک نے خرید لیا۔
گھر پہنچ کر قاضی نے بچے سے اس کا نام ہوچھا، کمسن غلام نے نام بتانے سے انکار کر دیا:
" اگر نام بتا دیا تو یہ میرے نام کی توہین ہو گی، اب آپ کا غلام ہوں، جس نام سے پکاریں گے، وہی میرا نام ہو گا"
قاضی کو بچے سے ایسے جواب کی امید نہیں تھی حیرت ہوئی اور اس کا جواب اچھا لگا کہ ابھی بچہ ہے، غلام ہے، عزت نفس کا کتنا احساس رکھتا ہے۔ رحمدل قاضی نے مشقت لینے کی بجاے اس کی اچھی تربیت، تعلیم اور پرورشں کرنے کا فیصلہ کیا اور چھوٹے غلام پر خاص توجہ دی۔
بچہ شروع سے ہی بہادر تھا، جنگجوانہ مشاغل کھیلنے سے شوق رکھتا۔ بہت کم عرصے میں تعلیم کے ساتھ ساتھ گھڑ سواری، تلوار، نیزہ بازی اور تیراندازی میں مہارت حاصل کر لی۔ قاضی غلام کی صلاحیتیں دیکھ کر حیران رہ جاتا۔
-----------
سلطان شہاب الدین غوری، غزنی کا شہنشاہ، ایک روز شاہی گھڑ دوڑوں کا مقابلہ دیکھ رہا تھا۔ قاضی غلام کو لے کر سلطان کے پاس پہنچ گیا:
" سرکار، ساری سلطنت میں اس غلام کا گھڑ سواری میں کوئی مقابل نہ ثانی ملے گا"
سلطان خوبصورت، صحت مند، سانولہ، پرکشش رنگت والے نوجوان غلام کو دیکھ کر مسکرایا۔ جنگلی گھوڑا وحشی تصور کیا جاتا یے، جسے تربیت دینا مشکل ترین کام یے۔ غلام سے پوچھا:
" گھوڑے کو کتنا تیز دوڑا سکتے ہو؟"
غلام نے نہایت ادب کے ساتھ جواب دیا:
" حضور, گھوڑے کو تیز دوڑانے میں کوئی مہارت نہیں، اصل مہارت اسے اپنا تابع بنانا ہے"
سلطان نے ستائشگی سے غلام کو دیکھا، ایک بہترین گھوڑے کی لگام غلام کے ہاتھ میں تھما دی۔ وہ اچھل کر گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھ گیا، کچھ دور دوڑا کر واپس لے آیا، انتہائی انوکھی بات یہ ہوئی کہ گھوڑا واپسی پر اپنے سُموں کے جن نشانات پر چل کر گیا تھا، انہیں قدموں واپس لایا۔ یہ سب دیکھنے والوں کے لئیے نہایت ناقابل یقین تھا، اس سے پہلے ایسی مہارت کبھی کسی میں دیکھی گئی تھی۔ سلطان غلام کی مہارت سے نہایت متاثر ہوا۔ جو جانور کو اپنا تابع و مطیع بنا سکتا ہے اس کے لئیے انسانوں کو فرمانبردار بنانا مشکل نہیں ہو گا
سلطان نے اسی وقت غلام کو منہ بولے دام دے کر مصایب خاص میں شامل کر لیا۔
ایک روز سلطان دربار میں بیٹھا خوش ہو کر غلاموں کو تحائف تقسیم کر رہا تھا، غلام خاص نے وہ تمام ضعیف غلاموں میں بانٹ دئیے۔ سلطان یہ دیکھ کر اسے مزید پسند کرتے اعلیٰ ترین عہدے " امیر خور" پر ترقی دے دی، پھر شاہی اصطبل کا سربراہ مقرر کر دیا جہاں سینکڑوں مال بردار اور جنگی تربیت یافتہ گھوڑوں کو ہمہ وقت سلطنت کی حفاظت کرنے کی تربیت دی جاتی تھی۔ غلام نے رفتہ رفتہ قدرت کی عطا کردہ صلاحیتوں کا سکہ سلطان پر بٹھا کر اس کا مزید قرب حاصل کر لیا۔
1192ء کو سلطان محمد غوری نے دہلی اور اجمیر فتح کیا 42 سالہ غلام کو پہلے یہاں کا گورنر اور پھر شاہی افواج کا سپہ سالار مقرر کر دیا۔ اگلے سال نوجوان غلام سپہ سالار نے سلطان کے حکم پر پڑوسی دشمن قنوج پر چڑھائی کر دی، پہلے سے بڑھ کر سپہ گری کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ سلطان نے غلام کو اپنا فرزند بنا کر "فرمان فرزندی" کے اختیارات دے دئیے اور دو میں سے ایک نایاب ترین قیمتی سفید ہاتھی اسے انعام میں دیا۔
یہ وہ دور تھا جب اسلام اپنے عروج پر اور سارا یورپ جاہلیت کے اندھیروں میں ڈوبا پڑا تھا۔ اسلامی تاریخ کا ایک بہادر غلام سپہ سالار، قطب الدین ایبک پھر وہ عظیم حکمران بنا جس نے دہلی فتح کر کے یہاں سب سے پہلی اسلامی مملکت کی بنیاد رکھی۔ یہاں سے غلام قطب الدین کا ستارہ چمکتا رہا، اس کی افواج گجرات، راجپوتانہ، گنگا جمنا، دوآبہ، بہار اور بنگال میں اسلام کا سبز پرچم لہراتی داخل ہو گئیں۔
15 مارچ 1206ء کو سلطان محمد غوری کو جہلم کے قریب گکھڑوں قبیلے کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا ہڑا، غلام پاس نہیں تھا، یہ مارا گیا۔
23 جون 1206ء کو لاہور میں ایبک کی تخت نشینی کا اعلان کر دیا گیا۔ قطب الدین ایبک کی زندگی کا سارا زمانہ فتوحات میں گزرا، کبھی شکست نہیں کھائی۔ تخت پر بیٹھ کر سب سے پہلے عظیم ترین سلطنت پر توجہ دی۔ بیشتر وقت نوزائیدہ اسلامی سلطنت کا امن و امان قائم رکھنے میں گزرا۔ عالموں کا قدر دان، فیاضی اور داد و درویشی سے تاریخ میں "لکھ بخش" کے نام سے مشہور ہوا۔
یکم نومبر 1219ء لاہور میں چوگان (پولو) کھیلتے گھوڑے سے گر کر راہ ملک عدم ہوا، انار کلی بازار لاہور کے ایک کوچے ایبک، اب ایبک روڈ میں دفنا دیا گیا۔
از، کتاب "خدا اور میں"

پہلی ایٹمی سائنسدان سمیرا موسیٰ 3 مارچ 1917 کو پیدا ہوئیں۔ انہیں 5 اگست 1952 کو یہودیوں نے (ق ت ل) کر دیا تھا۔وہ غربیہ گ...
20/07/2024

پہلی ایٹمی سائنسدان سمیرا موسیٰ 3 مارچ 1917 کو پیدا ہوئیں۔ انہیں 5 اگست 1952 کو یہودیوں نے (ق ت ل) کر دیا تھا۔

وہ غربیہ گورنریٹ کے زیفتا سینٹر کے گاؤں میں پیدا ہوئی تھیں، وہ پہلی مصری ایٹمی سائنسدان ہیں اور قاہرہ یونیورسٹی میں فیکلٹی آف سائنس میں پہلی ٹیچنگ اسسٹنٹ تھیں ۔ اس وقت لڑکیوں کے لئے یہ ڈگری اور پوزیشن حاصل کرنا عام بات نہیں تھی-

سمیرا موسیٰ کی ذہانت کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے سیکنڈری اسکول کے پہلے سال میں الجبرا کی سرکاری کتاب میں غلطیاں نکال کر ان کی درستگی کی، اسے اپنے والد کے خرچے پر چھاپا، اور 1933 میں اسے اپنے ساتھیوں میں مفت تقسیم کیا۔

سمیرا نے گیسوں کی تھرمل کمیونیکیشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور ایک مشن پر برطانیہ گئیں جہاں انہوں نے جوہری تابکاری Atomic Radioactivity کا مطالعہ کیا اور ایکس رے X-Ray اور مختلف اشیا پر اس کے اثرات میں ڈاکٹریٹ کی PHD کی ڈگری حاصل کی۔

آپ نے ایک سال اور پانچ ماہ میں ہی اپنا مقالہ مکمل کرلیا تھا، اور دوسرا سال مسلسل تحقیق میں گزارا جس کے بعد وہ ایک اہم مساوات پر پہنچیں (جسے اس وقت مغربی دنیا میں قبول نہیں کیا گیا تھا) جو کہ تانبے جیسی سستی دھاتوں کو فشن ری ایکشن پر مجبور کرتا ہے۔ اور پھر ایسے مواد سے ایٹم بم کی تیاری جو ہر کسی کے لیے قابل رسائی ہو، لیکن اسے ڈاکٹر سمیرا موسیٰ کی عرب سائنسی تحقیق میں لکھا نہیں گیا ہے!

کہتے ہیں اسکو یہودی ایجنسی موساد Mossad نے انھیں امریکہ میں ایک کار حادثے میں (ق ت ل) کروا دیا تھا -
حلانک و کار حادثے میں تیز رفتاری کی وجہ سے ایکسیڈنٹ میں مرگئی تھی

شوہر کا خراب رویہ دیکھ کر ہر بیوی کے سامنے تین راستے ہوتے ہیں، اور ہر بیوی ان تین راستوں میں سے کوئ ایک راستہ ضرور چُنتی...
20/07/2024

شوہر کا خراب رویہ دیکھ کر ہر بیوی کے سامنے تین راستے ہوتے ہیں، اور ہر بیوی ان تین راستوں میں سے کوئ ایک راستہ ضرور چُنتی ہے۔ اگر شوہر بیوی کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتا، اسے وقت نہیں دیتا، موبائل، ٹیلیوژن اور دوستوں میں مصروف رہتا یے، اسے عزت و پیار نہیں دیتا، ہر وقت جھگڑے کرتا ہے، گالیاں دیتا یے، ماں بہن کی باتوں میں آکر بے عزت کرتا ہے، مطلب کسی بھی اعتبار سے بیوی کو راحت کی بجاۓ تکلیف پہنچاتا یے تو اس غلیظ انسان کی بیوی تین راستوں میں سے ایک راستہ اختیار کرتی ہے۔

"پہلا راستہ" کچھ بیویاں جو ایمان کی کمذور ہوتی ہیں وہ شوہر کے خراب رویہ کو دیکھ کر غیر محرم سے رابطہ بنا لیتی ہیں، پھر اسکے ساتھ اپنے سکھ دکھ شیئر کرنے لگتی ہیں، اور وہ شخص بھی اسکے ساتھ بہت زیادہ ہمدردی سے پیش آتا ہے، ہمدردی والا یہ تعلق پہلے دوستی میں تبدیل ہوکر دونوں کو کبیرہ گناہوں کی طرف لے جاتا ہے، ایسی صورت میں شوہر، بیوی اور اسکا ہمدرد تینوں ہی سخت سزا کے حقدار ٹھہریں گے۔

"دوسرا راستہ" کچھ بیویاں ایمان کی مظبوط ہوتی ہیں لیکن ہمت کی کمذور ہوتی ہیں، اگر انکا شوہر انکے ساتھ خراب رویہ رکھتا ہے جیسا کہ اوپر لکھ چکا ہوں تو یہ بیویاں اپنی عزت و آبرو کی تو ہر دم ہر پل حفاظت کرتی ہیں لیکن اندر سے مکمل ٹوٹ جاتی ہیں، انکا ہنسنا رسمی ہوتا ہے، انکی مسکراہٹیں رسمی ہوتی ہیں، انکی بول چال رسمی ہوتی ہیں، انکا لوگوں سے ملنا اور بول چال کرنا سب رسمی ہوتا ہے، یہ دن کی روشنی میں اندر ہی اندر گھٹتی ہیں اور رات کے اندھیروں میں خون کے آنسو روتی ہیں، یہ بیویاں زندہ لاش بن کر اپنی زندگی گذارتی ہیں، اور بروز محشر اس بیوی کا شوہر اس وقت تک جنت میں داخل نا ہوسکے گا جب تک بیوی کے ایک ایک آنسو کا حساب نا دیدے۔

"تیسرا راستہ" اس راستے پر چلنے والی بیویوں کا ایمان تو مظبوط ہوتا ہی ہے لیکن یہ ہمت اور استقلال کی پہاڑ بھی ثابت ہوتی ہیں، یہ مایوس نہیں ہوتی بلکہ فکر کرتی ہیں، یہ شوہر کے خراب رویہ کو خود کے لیۓ چیلنج تصور کرتی ہیں کہ کس طرح شوہر کو اپنی طرف مائل کیا جاۓ، یہ شوہر کے غصہ پر سامنے جواب نہیں دیتی صبر کرک برداشت کرتی ہیں، یہ شوہر کے ساتھ بہت زیادہ نرم اور پیار بھرا رویہ رکھتی ہیں، شوہر کے آنے سے پہلے خود کو دلہن کی طرح تیار کرلیتی ہیں کہ شوہر کا دھیان کہیں اور نا جاۓ، یہ جانتی ہیں کہ شوہر کے والدین کی خدمت فرض نہیں لیکن پھر بھی خود کو ساس سسر میں جھونک دیتی ہیں کہ بذرگوں کی دعاؤں سے انکا گھر بسا رہے، یہ تکیوں میں منہ چھپا کر رونے کی بجاۓ سجدوں میں رونے کو ترجیح دیتی ہیں، یہ سجدوں میں آنسو بہا کر رب کے حضور شوہر کی واپسی مانگتی ہیں، یہ تہجد میں اٹھ کر پھر رب کی بارگاہ میں حاضری لگاتی ہیں اور آنکھیں نم کیے اپنی آہ اس رب کے سامنے رکھ کر اپنی خوشیاں مانگتی ہیں، اللہ انکی ہمت اور مدد کے لیۓ پکارنے پر انہیں مایوس نہیں کرتا، انکی ہمت، انکی قربانیاں اور صبر کا پھل دیتے ہوۓ انکے شوہر کا دل انکی بیویوں کی طرف پھیر دیتا ہے۔
اگر بیوی پہلا راستہ اختیار کرتی ہے تو دنیا میں زلت و رسوائ اور آخرت میں شوہر اور ہمدرد سمیت سخت عذاب کی حقدار ٹھہرے گی۔

اگر بیوی دوسرا راستہ اختیار کرتی یے تو غلیظ شوہر کی وجہ سے اپنا ہی دل جلاتی ہے اپنا ہی خون جلاتی ہے، اپنے آپ کو تکلیف دینے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا لیکن اسے اللہ کے یہاں اس صبر اور عزت و آبرو کی حفاظت کا بے تحاشہ اجر ملے گا۔
اگر بیوی تیسرا راستہ اختیار کرتی ہے، شوہر کی بیغیرتی کو خود کے لیۓ چیلنج تصور کیۓ ہمت اور غور و فکر سے کام لیتی ہے جیسا کہ اوپر لکھ چکا ہوں تو 80 فیصد بیویاں اللہ کے حکم سے اپنے مقصد میں کامیاب ہوکر ایک خوشگوار اذدواجی زندگی گزارتی ہیں۔
میں یہاں کہنا چاہتا ہوں کہ شوہر کے خراب رویہ پر ہر بیوی تیسرا راستہ اختیار کرنا چاہیے انشاءاللہ رب تعالی اسے مایوس نہیں کرے گا۔

یہاں ایک اور بات کہنا چاہوں گا کہ اگر کسی بھی عورت کی آنکھ میں ایک آنسو بھی شوہر کی وجہ سے آجاۓ تو جنت میں اس وقت تک نہیں جا سکے گا جب تک بیوی اسے معاف نا کردے۔ ، جناب یہ فتوے نہیں دین اسلام ہے جہاں کسی ایک انسان کا دل دکھانے پر روزے نماز ساری عبادتیں منہ پر مار دی جایئں گی کہ جاؤ پہلے اس شخص سے معافی لیکر آؤ۔

ایک شہید جو اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہوۓ شہید ہوا ہو اسے بھی جنت v جاؤ، تم مفتی صاحب کے پاس جاؤ، اولیاء کرام کے پاس جاؤ اور معلوم کرو کہ اگر شوہر کی وجہ سے بیوی کی آنکھ میں ایک آنسو آگیا اور بیوی نے معاف نا کیا تو شوہر کے لیۓ جنت جانے میں بڑی رکاوٹ ثابت ہوسکتی یے۔

میں نہیں مانتا کاغذ پہ لکھا شجرہ نسببات کرنے سے قبیلے کا پتہ چلتا ہے۔کسی زمانے میں ایک بادشاہ نے ایک قیدی کو کسی وجہ سے ...
20/07/2024

میں نہیں مانتا کاغذ پہ لکھا شجرہ نسب
بات کرنے سے قبیلے کا پتہ چلتا ہے۔

کسی زمانے میں ایک بادشاہ نے ایک قیدی کو کسی وجہ سے پھانسی کا حکم دیا اور جب قید خانے میں سے قیدی کو لایا گیا تو اس سے مرنے سے پہلے آخری خواہش پوچھی گئی قیدی نے کہا میں کیونکہ ایک اچھے گھرانے سے ہوں لہذا مجھے اعلی نسلی گھوڑوں سے پھانسی لگایا جائے
(اس زمانے میں پھانسی کے تخت پر چڑھا کر گھوڑوں سے بندھ کر گھوڑوں کو دوڑیا جاتا تھا اس طرح پھانسی کی سزا ہوتی تھی)خیر گھوڑوں کو لایا گیا تو قیدی بول اٹھا ان میں ایک تو نسلی ہے پر ایک نسلی نہیں ہے لہذا میری آخری خواہش مکمل نہیں ہوئی
بادشاہ نے گھوڑوں کے مالک کو بلوایا اور پوچھا کیا یہ بات سچ ہے گھوڑوں کے مالک نے جواب دیا بلکل ایک بلکل اصلی نسل کا لیکن دوسرا میں گدھے کا ملاپ شامل ہے بادشاہ نے حیران ہو کر قیدی سے پوچھا تمہیں کیسے یہ بات پتہ چلی کہ ایک گھوڑا نسلی ہے اور ایک نسلی نہیں
قیدی نے کہا جو نسلی ہے وہ بڑے آرام سے کھڑا تھا جبکہ جو ملاپ گدھے کا ہے وہ گدھے کی طرح کبھی ادھر ٹانگ مار کبھی منہ پھیر کبھی اچھل کر کبھی بیٹھ جا جس سے مجھے علم ہوا بادشاہ قیدی کی دانائی اور سوچ سے بڑا متاثر ہوا اور قیدی کی پھانسی منسوخ کر کے اپنے وزیر سے کہا اس کی ایک روٹی میں اضافہ کر دیا جائے
کچھ دن بعد بادشاہ کے دربار میں ایک سنار دو ہیرے لے کر حاضر ہوا اور بادشاہ کو کہا اگر آپ کی رعایا میں سے کوئی یہ بتا دے کہ ان میں کون سا ہیرا اصلی اور کون سا نقلی اور اس اصلی اور نقلی میں فرق بتا دے تو میں آپ کو دونوں ہیرے انعام میں دے دوں گا
بہت سے لوگوں سے پوچھا مگر کوئی مکمل جانچ نہ کر سکا بادشاہ کے دماغ میں قیدی کا خیال آیا بادشاہ نے اس کو دربار میں حاضر ہونے کا حکم دیا سپاہی قید خانے میں سے قیدی کو لے کر حاضر ہوئے اور قیدی کو ہیرے جانچ پڑتال کے لیے دئیے گئے قیدی نے کچھ ہی لمحوں میں بتا دیا کہ ایک اصلی اور دوسرا نقلی ہے بادشاہ نے پوچھا تمہیں کیسے پتہ چلا ؟
قیدی نے کہا کہ اصلی ہیرا رگڑنے سے کبھی گرم نہیں ہوتا جبکہ نقلی ہیرا رگڑنے سے گرم ہو جاتا ہے سنار نے وہ دونوں ہیرے بادشاہ کو انعام میں دے دئیے اور چلتا بنا
بادشاہ قیدی کی دانائی اور سوچ پر بہت زیادہ خوش ہوا اور سپاہیوں سے ایک اور روٹی بڑھانے کا حکم دیا دوپہر کو جب سپاہی قیدی کو ایک اور روٹی اضافے کے ساتھ دینے آئے تو قیدی نے کہا بادشاہ بھی کسی لانگڑی کا بیٹا ہے سپاہیوں نے قیدی کی یہ بات بادشاہ تک پہنچا دی بادشاہ کو غصہ آیا اور سپاہیوں سے قیدی کو دربار میں حاضر ہونے کا حکم دیا
اور قیدی سے اس بات کی وضاحت مانگی گئی قیدی نے بادشاہ کو کہا اپنے خاندان کے بارے میں کسی سے پتہ کروا لو
بادشاہ کی سلطنت میں سب سے ادھیڑ عمر شخص کو ڈھونڈا گیا اور اس سے بادشاہ کے آباوواجداد کے بارے میں پوچھا گیا ادھیڑ عمر شخص نے بتایا کہ یہاں اس بادشاہ سے پہلے اس کا باپ بادشاہ تھا لیکن وہ بادشاہ بننے سے پہلے لانگڑی تھا کیونکہ اس بادشاہ سے پہلے ایک بادشاہ تھا اس کا اپنا کوئی بیٹا نہ تھا اس بادشاہ نے اعلان کیا تھا کوئی ایسا شخص جو میری رعایا کو بھوکا نہ مرنے دے تو آپ کا باپ لانگڑی تھا اس دربار کا اس نے حامی بھری کہ میں رعایا کو بھوک سے نہیں مرنے دوں گا اس طرح بادشاہ سلامت آپ کے باپ کو سلطنت دی گئی تھی
بادشاہ نے قیدی سے پوچھا تمہیں کیسے پتہ چلا کہ میں لانگڑی کا بیٹا ہوں
قیدی نے کہا کہ میں نے جتنے حکمت اور دانائی کی باتیں تمہیں بتاتا تم بجائے مجھے آزادی دینے یا ہیرے جواہرات دینے کی بجائے میری روٹی میں اضافہ کر دیتے تھے اگر تمہاری جگہ پر کوئی خاندانی شخص ہوتا وہ مجھے ضرور کوئی ہیرے جواہرات دیتا اور مجھے قید خانے سے رہا کرتا لیکن تیری حرکتیں تیری نسل کا پتا بتاتی ہیں

: انسان اپنی شہرت پیسے شکل سے نہیں بلکہ اپنی حرکتوں سے اپنی نسل کا پتا بتادیتا ہے۔،

لڑکا جب لڑکی کی عزت لوٹ لیتا ہے تو لڑکی کی ماں کو فورا علم ہو جاتا ہے لیکن وہ خاموشی سے سہہ لیتی ہے لیکن یہ خاموشی شادی ...
19/07/2024

لڑکا جب لڑکی کی عزت لوٹ لیتا ہے تو لڑکی کی ماں کو فورا علم ہو جاتا ہے لیکن وہ خاموشی سے سہہ لیتی ہے لیکن یہ خاموشی شادی کی رات تک ہی ہوتی ہے شادی کی رات خاوند جب بیوی کے قریب جاتا ہے تو خاوند کو علم ہو جاتا ہے کہ میری بیوی پہلے کیا گل کھلا چکی ہے اور انجام طلاق تک پہنچ جاتا ہے اگر شوہر طلاق نہ بھی دے تو لڑکی کی زندگی سسرال میں ایک کتے سے بھی کم قیمتی ہوتی ہے

ان سب میں لڑکے کی غلطی نہیں ہے

اس میں لڑکی کی غلطی ہے ہر لڑکی کو انبکس میں میسج آتے ہیں اس کی مرضی جواب دے نہ دے اگر لڑکی جوب دیتی ہے تو وہ انبکس میں اپنی رضامندی سے جواب دیتی ہے کوئی اس کو فورس نہیں کر سکتا

لڑکی کی زندگی بھی انبکس کی طرح ہے

جہاں وہ رضامندی اختیار کر لیتی ہے وہاں اپنی عزت لڑکے کہ قدموں میں رکھ دیتی ہے لڑکا اس سے کھیل کر کسی نیے شکار کی تلاش میں نکل جاتا ہے اور لڑکی کی زندگی تباہ ہو جاتی ہے
تمام لڑکیاں یہ بات زہن سے نکال دیں آپ کوئی غلط کام کرو گی تو ماں کو علم نہیں ہو گا اور شادی کرنے کہ بعد شوہر کو علم نہیں ہو گا یہ سراسر آپ خود کو دھوکا دے رہی ہو
ماں اور شوہر کو ایک سیکنڈ میں سب علم ہو جاتا ہے لیکن ماں سہہ لیتی ہے کیوں کہ وہ ماں ہے لیکن شوہر کسی صورت نہیں سہتا وہ طلاق دے کر ہی رہتا ہے اور اگر طلاق نہ بھی دے تو اس عورت کی زندگی بہت بے کار اور بے بس بے حد حقیر

لہذا سنبھل جا اے بنت حوا🙏🙏

نہ نکال اپنے ہاتھوں سے اپنے باپ کی عزت کا جنازہ
پیار ایک پھول دینے کا نام نہیں جو سچا پیار کرتا ہے
وہ نکاح کا کہتا ہے سڑکوں پارکوں میں ملنے کا نہیں کہتا
نہ پیار کسی پھول کا محتاج نہ پارکوں میں ملنے کا نام
اس پیارے لفظ کو نہ برباد کر
آگر کسی کو میری پوسٹ بری لگے تو معذرت 🙏

19/07/2024

برمودا تکون، جسے "شیطان کی تکون" کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، امریکی ریاست فلوریڈا کے ساحل کے قریب واقع ایک مشہور مقام ہے۔ اس کے بارے میں بہت سی کہانیاں اور افسانے گردش کرتی ہیں کیونکہ یہاں سے گزرنے والی طیارے اور جہاز پراسرار طور پر غائب ہو جاتے ہیں۔

یہ تکون شمالی بحر اوقیانوس کے مغربی حصے میں واقع ہے، اور اس کی حدود تین نکات یعنی برمودا، فلوریڈا، اور پورٹو ریکو پر مشتمل ہیں۔ اس تکون کا ہر پہلو تقریباً ایک ہزار میل پر محیط ہے۔

سائنسدانوں نے دنیا بھر سے اس معمہ کو حل کرنے اور جہازوں اور طیاروں کے غائب ہونے کی وجوہات معلوم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سلسلے میں کئی کہانیاں اور نظریات سامنے آئے ہیں۔

سب سے پہلے 1492 میں کرسٹوفر کولمبس برمودا تکون کے قریب پہنچا، اور اس نے دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں موجود قطب نما غیر معمولی حرکت کر رہا ہے۔ 1840 میں، فرانسیسی جہاز "روزالی" برمودا تکون کے علاقے سے گزر رہا تھا اور اچانک غائب ہوگیا۔ چند مہینوں کی تلاش کے بعد یہ جہاز تکون کے علاقے سے باہر خالی حالت میں ملا، اور یوں اس مقام کے بارے میں کہانیاں اور افسانے بننے لگے۔

1872 میں، "ماری سیلیسٹ" نامی جہاز مشہور ہوا جب یہ جہاز بھی غائب ہوگیا تھا۔ ایک ماہ بعد، یہ جہاز ملا اور اس کے تمام سامان اور خوراک صحیح حالت میں تھے، لیکن عملے کا کوئی سراغ نہ ملا۔

برمودا تکون کے بارے میں کئی نظریات ہیں:
# # # نظریہ اول:
یہ کہ اس علاقے میں جزیرہ اٹلانٹس موجود ہے جو اپنے "کریسٹل انرجی" کے ذریعے جہازوں اور طیاروں کو نگل لیتا ہے۔ اس نظریے کے مطابق، یہاں وقت کے گیٹ بھی ہیں جو جہازوں اور طیاروں کو کسی اور زمان و مکان میں منتقل کر دیتے ہیں۔

# # # نظریہ دوم:
کچھ سائنسدانوں کے مطابق، یہ ممکنہ طور پر جزر و مد کی لہروں یا مقناطیسی میدان کی غیر معمولی حالت کی وجہ سے ہو سکتا ہے جو نیویگیشن میں مشکلات پیدا کرتی ہیں۔

# # # نظریہ سوم:
کہا جاتا ہے کہ اس علاقے میں سمندری لہریں بہت بڑی اور خطرناک ہوتی ہیں جو اچانک نمودار ہو کر بڑے بڑے جہازوں کو ڈبو دیتی ہیں۔

# # # نظریہ چہارم:
کچھ افسانے یہ بھی بتاتے ہیں کہ یہ مقام شیطان کا جزیرہ ہے، یا یہاں سے دجال یا یاجوج ماجوج نکلیں گے، اور یہی وجہ ہے کہ یہ مقام "شیطان کی تکون" کے نام سے مشہور ہے۔

# # # نظریہ پنجم:
کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ سب کہانیاں محض خیالی ہیں جو کتابوں اور فلموں میں دکھائی جاتی ہیں۔ بہت سے حادثات جو برمودا تکون سے منسوب کیے جاتے ہیں، اصل میں عام سمندری حادثات ہوتے ہیں۔

# # # نظریہ ششم:
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس مقام پر خلا میں جانے والی مخلوقات آتی اور جاتی ہیں کیونکہ یہاں سے فضا کا غلاف کمزور ہے۔

# # # نظریہ ہفتم:
یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر انسان روشنی کی رفتار سے چلنے والی گاڑی بنا سکے تو وہ برمودا تکون کے ذریعے ماضی میں واپس جا سکتا ہے۔

# # # آخری نظریہ:
حالیہ تحقیقات کے مطابق، سمندر کی تہہ میں موجود میتھین گیس کے پھٹنے کی وجہ سے برمودا تکون میں حادثات پیش آتے ہیں۔

برمودا تکون آج بھی ایک بڑا راز ہے اور اس کے بارے میں کئی کہانیاں اور معمہ حل طلب ہیں.

Address

Swabi
23430

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Gul Awaz posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share