10/07/2026
Copied
جس دن زیارت میں 9 پولیس اہلکار شہید ہوئے، حملہ آور اپنے ساتھ مزید 25 پولیس اہلکار بھی لے گئے تھے۔ کل ان میں سے 21 افراد کے جسدِ خاکی کوئٹہ لائے گئے، لیکن ان پچیس افراد میں سے چار افراد جن میں ایک پنجابی ایس پی اور تین اهلكار صوبائی وزیر نور محمد دومڑ کی کوششوں سے بازیاب کرائے گئے۔
دوسری جانب کل شام جب یہ جنازے کوئٹہ لائے گئے تو پہلے انہیں شہر کی حدود پر روک دیا گیا اور شہر میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔ بعد ازاں جب انہیں سول ہسپتال پہنچایا گیا تو عوام نے اپنی آنکھوں سے وہاں کا کشیدہ ماحول دیکھا۔ سول ہسپتال میں انہیں عوامی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔
ان جنازوں کو ہنہ اوڑک دھرنے میں لے جانا تھا، لیکن جیسے ہی اس کی اطلاع ملی، اسی وقت دھرنا کمیٹی کو مسلح افراد کی جانب سے دھمکی موصول ہوئی کہ اگر تم نے یہ جنازے دھرنے میں لائے تو ہم ہنہ اوڑک کے بارہ افراد کو بھی نشانہ بنائیں گے۔
ان دونوں باتوں کو دیکھتے ہوئے عوام کے ذہنوں میں یہ شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں کہ ان مسلح افراد کو ریاستی سرپرستی حاصل ہے جو ایک طرف ایک صوبائی وزیر کی زبانی چار افراد رہا کروائے جاتے ہیں اور تیس افراد مارے جاتے ہیں، اور دوسری طرف جب سول ہسپتال میں انہیں عوامی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تو مسلح افراد نے دھمکی دی کہ ان جنازوں کو دھرنے میں نہیں لانے دیا جائے گا۔