Voice of saleem khan

Voice of saleem khan voice of saleem khan

مونگہ دا چہ خلاف پوسٹ نہ شو کولے ۔۔نو پلیز مونگہ تہ داسی پوسٹ مہ سینڈ کؤی. او ھر ایڈمین تہ بہ پوسٹ لاندی نوم لازمی لیکلے وی ۔ زکہ چی مونگہ خپل پولیس او پاکستان آرمی سرہ مینہ لرو
I Love Swabi police 🫰🤍
I Love pak Army 🫰🤍
🫰💗👈
Voice of saleem khan

*قاضی آن لائن اسلامی اکیڈمی کی ایک اور شاندار کامیابی* *پبلک سروس کمیشن* نے *لیکچرر اسلامیات* کے نتائج کا اعلان کر دیا ہ...
04/09/2026

*قاضی آن لائن اسلامی اکیڈمی کی ایک اور شاندار کامیابی*

*پبلک سروس کمیشن* نے *لیکچرر اسلامیات* کے نتائج کا اعلان کر دیا ہے، جس میں *ضلع صوابی کے گاؤں سلیم خان سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر مفتی زیب خان قاضی (حالیہ ایس ایس اسلامیات)* لیکچرر اسلامیات کی پوسٹ پر منتخب ہو گئے۔

ڈاکٹر مفتی زیب خان قاضی نے اپنی اس شاندار کامیابی کو *اپنے والدین اور اپنے بڑے بھائی اجمل خان* کی دعاؤں، محبت اور حوصلہ افزائی کا نتیجہ قرار دیا۔

یہ کامیابی نہ صرف ڈاکٹر مفتی زیب خان قاضی کے لیے بلکہ ان کے خاندان اور سلیم خان کے باشندوں کے لیے بھی باعثِ فخر ہے۔

📢 *یاد رہے!*

قاضی آن لائن اسلامی اکیڈمی کے *17 امیدواران اور انسٹرکٹرز* ایک ہی سیشن میں *لیکچرر اسلامیات* کی پوسٹ پر منتخب ہو چکے ہیں۔ الحمدللہ!

💔 دشمنی ختم، امن کی طرف ایک خوبصورت قدمممتاز کے قتل کے بعد ملک آدم خان کے بھائی ملک عمیر خان کا ایک اہم اور دل کو چھو لی...
03/09/2026

💔 دشمنی ختم، امن کی طرف ایک خوبصورت قدم

ممتاز کے قتل کے بعد ملک آدم خان کے بھائی ملک عمیر خان کا ایک اہم اور دل کو چھو لینے والا آڈیو پیغام سامنے آیا ہے۔

ملک عمیر خان نے اپنے دوستوں، نوجوانوں اور تمام لوگوں سے اپیل کی ہے کہ کسی کی موت پر خوشی نہ منائیں، ہوائی فائرنگ اور جشن سے گریز کریں اور دشمنی، انتقام اور اسلحہ کلچر کو ختم کریں۔

انہوں نے کہا کہ ممتاز زندگی میں ان کا دشمن تھا، لیکن اب وہ دنیا سے جا چکا ہے اور اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے۔ اس کی موت پر سب سے زیادہ دکھ اس کی ماں، بہنوں اور بھائیوں کو ہوگا، کیونکہ وہ خود اپنے بھائی کی موت کا درد سہہ چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دشمنی نے دونوں خاندانوں کو تباہ کر دیا، دونوں طرف 20 سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ کسی ماں نے اپنے بیٹے کو اس لیے پیدا نہیں کیا کہ وہ دشمنی اور انتقام کی آگ میں جل کر جان دے۔

نوجوانوں کے نام پیغام دیتے ہوئے انہوں نے کہا:

"ٹک ٹاک کے ویوز، بندوق کے ساتھ ویڈیوز اور بدمعاشی کسی کو عزت نہیں دیتے۔ دشمنی کا انجام پولیس، خوف، اجڑے ہوئے گھر اور جنازے ہیں۔"

آخر میں ملک عمیر خان نے خیبرپختونخوا پولیس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ "انہوں نے انصاف کیا۔ آج کے بعد نہ کوئی ہمارا دشمن ہے اور نہ ہی کسی کے ساتھ ہمارا کوئی کام۔"

🤲 اللہ تعالیٰ تمام مرحومین کی مغفرت فرمائے اور دونوں خاندانوں کو صبر دے۔
دشمنی نہیں، امن کو فروغ دیں۔ ❤️

#امن #خیبرپختونخوا

صوابی ..زیدہ محلہ مکاخیل کے کیپٹن عبیداللہ ولد سرور مرحوم بلوچستان میں ڈیوٹی کے دوران جام شہادت نوش کرگئے اور شہادت کے ع...
01/09/2026

صوابی ..زیدہ محلہ مکاخیل کے کیپٹن عبیداللہ ولد سرور مرحوم بلوچستان میں ڈیوٹی کے دوران جام شہادت نوش کرگئے اور شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہوگئے۔
اللہ انکی شہادت قبول فرمائے..
انکی نماز جنازہ آج بروز منگل عصر کو متوقع۔۔۔

بمبوریت ملوکوشائی میں کم عمر بچی کی مبینہ شادی، متعلقہ اداروں سے فوری تحقیقات کا مطالبہبمبوریت، ضلع لوئر چترال کے علاقے ...
30/08/2026

بمبوریت ملوکوشائی میں کم عمر بچی کی مبینہ شادی، متعلقہ اداروں سے فوری تحقیقات کا مطالبہ

بمبوریت، ضلع لوئر چترال کے علاقے ملوکوشائی سے ایک کم عمر بچی کی مبینہ شادی سے متعلق تشویشناک اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد بچوں کے تحفظ، قانونی عمر، رضامندی اور نکاح کی رجسٹریشن سے متعلق اہم سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔

ڈسٹرکٹ لوئر چترال ٹیم کو موصول ہونے والی اطلاعات اور دستیاب معلومات کے مطابق، ملوکوشائی کے رہائشی اسرار نے اپنی تقریباً 10 سالہ کم عمر بیٹی کی شادی مبینہ طور پر پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے ساتھ کرائی ہے۔

اطلاعات کے مطابق نکاح محدود سطح پر انجام دیا گیا اور معاملے کو عام لوگوں سے دور رکھنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم ڈسٹرکٹ اپر چترال ٹیم ان تمام دعوؤں کی آزادانہ اور حتمی تصدیق نہیں کر سکی، اس لیے معاملے کو موصولہ اطلاعات کی بنیاد پر رپورٹ کیا جا رہا ہے۔

اگر بچی کی عمر واقعی تقریباً 10 سال ہے تو یہ معاملہ انتہائی سنجیدہ نوعیت کا ہے اور کئی اہم سوالات جنم لیتے ہیں۔ بچی کی اصل عمر کیا ہے؟ نکاح کے وقت عمر سے متعلق کون سی دستاویزات پیش کی گئیں؟ نکاح خواں نے عمر کی تصدیق کس بنیاد پر کی؟ نکاح نامے کی رجسٹریشن کس طرح ہوئی؟ اور کیا متعلقہ سرکاری اداروں، مقامی انتظامیہ یا چائلڈ پروٹیکشن حکام کو اس معاملے کا علم تھا؟

ڈسٹرکٹ اپر چترال ٹیم متعلقہ ضلعی انتظامیہ، پولیس، چائلڈ پروٹیکشن حکام اور دیگر ذمہ دار اداروں سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس معاملے کی فوری، شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات کی جائیں۔

بچی کی اصل عمر سرکاری ریکارڈ سے معلوم کی جائے، نکاح نامے اور رجسٹریشن کا مکمل ریکارڈ چیک کیا جائے، نکاح کے عمل میں شامل متعلقہ افراد سے معلومات حاصل کی جائیں اور اگر کسی قانون یا ضابطے کی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

اس پورے معاملے میں سب سے اہم ترجیح بچی کا تحفظ، رازداری، مستقبل اور بنیادی حقوق ہونے چاہئیں۔ کم عمر بچوں سے متعلق ایسے معاملات کو صرف خاندانی یا نجی معاملہ قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، خصوصاً جب بچے کے تحفظ اور قانونی حقوق سے متعلق سنگین سوالات سامنے آ رہے ہوں۔

ڈسٹرکٹ اپر چترال ٹیم کا مؤقف ہے کہ اس معاملے کی حقیقت صرف متعلقہ اداروں کی شفاف تحقیقات اور سرکاری ریکارڈ کی جانچ کے ذریعے ہی سامنے آ سکتی ہے۔

آپ کی رائے میں کم عمر بچوں کی شادی سے متعلق ایسے معاملات سامنے آنے پر انتظامیہ اور چائلڈ پروٹیکشن اداروں کو سب سے پہلے کیا اقدام کرنا چاہیے؟
Bumburet, Mulawakhshai, Lower Chitral, child marriage, child protection, Chitral news, Khyber Pakhtunkhwa, Pakistan news, latest news

اعلان فوتگی 📢سلیم خان باکر گلشن آباد میں وصال زمان بیکری والے کے والد صاحب گوہر زمان بقضائے الٰہی وفات پا گئے ہیں ان کا ...
29/08/2026

اعلان فوتگی 📢

سلیم خان باکر گلشن آباد میں وصال زمان بیکری والے کے والد صاحب گوہر زمان بقضائے الٰہی وفات پا گئے ہیں

ان کا نماز جنازہ آج رات 10:00 باکر گلشن آباد میں ادا کی جائے گی

اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے نماز جنازہ میں شرکت کرکے ثواب دارین حاصل کریں اللہ تعالیٰ مرحوم کو بخشش عطا فرمائے اور اہل خانہ کو صبر واستقامت عطا فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین 🤲

سلیم خان، گاؤں ابوبانڈہ کے رہائشی محترم کریم اللہ کاکا ولدیت: مرحومصادق اللہ استاد SSS گورنمنٹ ہائی سکول نمبر 1 سلیم خان...
28/08/2026

سلیم خان، گاؤں ابوبانڈہ کے رہائشی محترم کریم اللہ کاکا ولدیت: مرحوم
صادق اللہ استاد SSS گورنمنٹ ہائی سکول نمبر 1 سلیم خان کے چچا اور انور اللہ و زبیر کے محترم والد وفات پا گئے ہیں۔

نمازِ جنازہ:
28 اگست 2026 بروز جمعہ بوقت 2:00 بجے دن
مقام: ابوبانڈہ، سلیم خان

PIMS اسلام آباد سانحہ: 14 معصوم بچوں کی موت، ذمہ دار کون؟اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PIMS) کے ماد...
27/08/2026

PIMS اسلام آباد سانحہ: 14 معصوم بچوں کی موت، ذمہ دار کون؟

اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PIMS) کے مادر و طفل مرکز کی نرسری میں 26 اگست 2026 کو پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے نے پوری قوم کو سوگوار کر دیا۔ نرسری میں موجود 15 نومولود بچوں میں سے 14 معصوم بچے جاں بحق ہوئے جبکہ ایک بچے کو بچا لیا گیا۔ یہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ہمارے سرکاری ہسپتالوں میں حفاظتی انتظامات، نگرانی اور حکومتی ذمہ داریوں پر ایک سنگین سوال ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی وفاقی حکومت اور متعلقہ وزارتِ صحت سے عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر دارالحکومت کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں شمار ہونے والے ادارے کی نرسری میں نومولود بچوں کے لیے جدید فائر سیفٹی انتظامات مکمل نہیں تھے تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ کیا صرف کسی افسر کو معطل کرنا کافی ہے، یا اس پورے نظام کی جواب دہی ضروری ہے جس کے تحت ایسے حساس شعبے میں حفاظتی انتظامات کی مسلسل نگرانی ہونی چاہیے تھی؟
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ہسپتالوں، خصوصاً نوزائیدہ بچوں کے انتہائی حساس یونٹس میں فائر الارم، دھوئیں کا پتہ لگانے والے نظام، ایمرجنسی راستے، فائر فائٹنگ آلات، تربیت یافتہ عملہ اور باقاعدہ سیفٹی آڈٹ کو بنیادی ضرورت سمجھا جاتا ہے۔ برطانیہ جیسے ممالک میں ہسپتالوں کے لیے باقاعدہ Fire Safety Risk Assessment اور مریضوں کو محفوظ حصے میں منتقل کرنے کے واضح ہنگامی طریقۂ کار موجود ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان میں ایسی بنیادی حفاظتی سہولیات کو یقینی بنانے کے لیے ہر بڑے سرکاری ہسپتال میں مستقل اور مؤثر نظام کیوں نہیں بنایا جاتا؟
یہ وقت صرف تعزیتی بیانات دینے کا نہیں بلکہ عملی اقدامات کرنے کا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ PIMS سانحے کی شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات کرائے، ذمہ داروں کا تعین کرے، تحقیقاتی رپورٹ عوام کے سامنے لائے اور اگر کسی ادارے، افسر یا انتظامیہ کی غفلت ثابت ہو تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ ساتھ ہی ملک کے تمام سرکاری ہسپتالوں، خصوصاً NICU اور نرسریوں کا فوری فائر سیفٹی آڈٹ کرایا جائے اور جدید Fire Alarm، Smoke Detection، Sprinkler اور Emergency Evacuation Systems لازمی بنائے جائیں۔
متاثرہ خاندانوں کو مناسب مالی امداد اور قانونی معاونت فراہم کرنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ یقینی بنایا جائے کہ آئندہ کسی ماں باپ کو اپنے نومولود بچے کو ہسپتال کی غفلت یا ناقص حفاظتی نظام کے باعث نہ کھونا پڑے۔
14 معصوم بچے واپس نہیں آسکتے، لیکن اگر اس سانحے سے سبق لے کر پورے ملک کے ہسپتالوں کا حفاظتی نظام بہتر بنایا جائے تو شاید مستقبل میں کئی معصوم جانیں بچائی جا سکیں۔ حکومتیں صرف بیانات اور تعزیت کے لیے نہیں ہوتیں؛ حکومت کی اصل ذمہ داری شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہے۔
جسار احمد یوسفزئی ( وائس آف سلیم خان)

📢 اہم اطلاع / نقد رقم کی گمشدگیاطلاع دی جاتی ہے کہ میرے 10,300 (دس ہزار تین سو) روپے آج تاریخ 27-08-2026 کو شام 4:30 بجے...
27/08/2026

📢 اہم اطلاع / نقد رقم کی گمشدگی

اطلاع دی جاتی ہے کہ میرے 10,300 (دس ہزار تین سو) روپے آج تاریخ 27-08-2026 کو شام 4:30 بجے سلیم خان سے لاندے نہڑو (Landa Narro) جاتے ہوئے راستے میں کہیں گر کر گم ہو گئے ہیں۔

جس کسی باضمیر شخص کو یہ رقم ملے، برائے مہربانی اللہ کی رضا کی خاطر اور دیانت داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے درج ذیل نمبر پر رابطہ کر کے رقم واپس کر دیں۔

📞 رابطہ نمبر: 03141916545
📍 علاقہ: سلیم خان تا لاندے نہڑو

سلیم خان گاؤں میں زیر نظر تصاویر میں 70 موٹر سائیکل فروخت کیلئے مناسب قیمت پر دستیاب ہے خواہشمند خریدار اس نمبر پر رابطہ...
26/08/2026

سلیم خان گاؤں میں زیر نظر تصاویر میں 70 موٹر سائیکل فروخت کیلئے مناسب قیمت پر دستیاب ہے خواہشمند خریدار اس نمبر پر رابطہ کریں۔
03356360262

مرحوم ملک نیاز علی خان (چیئرمین)ایک خوش مزاج، عوام دوست اور پاکستان پیپلز پارٹی کے وفادار کارکن کی یاد:مرحوم ملک نیاز عل...
25/08/2026

مرحوم ملک نیاز علی خان (چیئرمین)

ایک خوش مزاج، عوام دوست اور پاکستان پیپلز پارٹی کے وفادار کارکن کی یاد:

مرحوم ملک نیاز علی خان، المعروف چیئرمین، ولد زرد علی خان ضلع صوابی کے یونین کونسل سلیم خان محلہ میراحمد خیل سے تعلق رکھنے والی ایک معروف سماجی و سیاسی شخصیت تھے۔ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے دیرینہ اور وفادار کارکن رہے اور پارٹی کے ساتھ ان کی وابستگی کو علاقے میں ان کی سیاسی شناخت کا اہم حصہ سمجھا جاتا تھا۔

سیاسی وابستگی اور عوامی خدمت:

ملک نیاز علی خان نے اپنی عملی زندگی میں سیاست کو محض سیاسی سرگرمی کے طور پر نہیں بلکہ لوگوں سے رابطے اور ان کے مسائل میں ساتھ دینے کے ذریعے اپنایا۔ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک مضبوط اور نظریاتی کارکن کے طور پر مقامی سطح پر سرگرم رہے۔ پارٹی کے اندر ان کے روابط بھی وسیع تھے اور وہ پیپلز پارٹی کی قیادت اور کارکنوں کے ساتھ قریبی تعلقات رکھنے کے حوالے سے جانے جاتے تھے۔

ان کی سیاسی و سماجی سرگرمیوں کا مرکز ان کا اپنا علاقہ اور گاؤں تھا۔ مقامی لوگوں کے چھوٹے بڑے مسائل میں مدد کرنا، لوگوں سے رابطہ رکھنا اور اپنی استطاعت کے مطابق اجتماعی کاموں میں حصہ لینا ان کی شخصیت کا نمایاں پہلو تھا۔

چیئرمین اور بلدیاتی کردار:

مرحوم نیاز علی خان کو مقامی سطح پر چیئرمین کے نام سے بھی جانا جاتا تھا۔ مرحوم نیاز علی خان یونین کونسل سلیم خان شرقی/متعلقہ مقامی بلدیاتی نظام میں چیئرمین کی ذمہ داری بھی ادا کر چکے تھے۔
وی سی سلیم خان کے جنرل کونسلر بھی رہے تھے۔ ۔

عوام سے تعلق اور خوش اخلاقی:

ملک نیاز علی خان کی شخصیت کا سب سے خوبصورت پہلو ان کا خوش مزاج اور زندہ دل ہونا تھا۔ وہ لوگوں سے گھل مل کر رہنے والے، خوش اخلاق اور ملنسار انسان تھے۔ دوستوں اور جاننے والوں کے ساتھ ہنسی مذاق کرنا، محفل کو خوشگوار رکھنا اور خصوصاً چھوٹے بچوں کے ساتھ محبت اور شفقت سے پیش آنا ان کی عادتوں میں شامل تھا۔

ملک نیاز علی خان چونکہ غریب/مڈل کلاس گھرانے سے تعلق رکھتے تھے لیکن ان کے بارے میں مقامی طور پر یہ تاثر بھی پایا جاتا تھا کہ وہ مہمان نواز اور تعلقات نبھانے والے انسان تھے۔ ان کے گھر اور محفل میں آنے والے لوگوں کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آنا ان کی شخصیت کا حصہ تھا۔ اسی خوش اخلاقی اور میل جول کی وجہ سے انہوں نے مختلف طبقات میں اچھے تعلقات قائم کیے۔

پارٹی قیادت سے روابط:

پاکستان پیپلز پارٹی سے طویل وابستگی کے باعث ان کے پارٹی کے مختلف رہنماؤں اور کارکنوں سے روابط رہے۔ ایک اندازے اور پارٹی جلسوں اور میٹنگز کے مطابق ان کے پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت، جن میں قمر زمان کائرہ، بلاول بھٹو زرداری، سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور مولابخش چانڈیو جیسے رہنما شامل ہیں، سے بھی ملاقاتیں اور سیاسی روابط رہے۔
ان روابط نے ان کی مقامی سیاسی سرگرمیوں اور پارٹی سے وابستگی کو مزید مضبوط کیا۔

2021ء کے بلدیاتی انتخابات

مرحوم ملک نیاز علی خان نے 2021ء کے خیبر پختونخوا بلدیاتی انتخابات میں بھی حصہ لیا۔ انہوں نے ویلیج کونسل کی ناظم کی نشست کے لیے انتخاب لڑا، تاہم اس مرتبہ انہیں کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔
انتخابی شکست کے باوجود ان کی سیاسی و سماجی سرگرمیاں ختم نہیں ہوئیں اور وہ اپنے لوگوں اور سیاسی جماعت کے ساتھ رابطے میں رہے۔

بیماری اور آخری ایام:

زندگی کے آخری دور میں ملک نیاز علی خان شدید علالت کا شکار ہوئے۔ آپ کے مطابق انہیں جگر کا عارضہ لاحق تھا اور بیماری وقت کے ساتھ شدت اختیار کرتی گئی۔ ان کے علاج کے لیے مقامی سطح کے علاوہ کراچی تک بھی کوششیں کی گئیں اور بڑے طبی مراکز میں علاج کرایا گیا۔
ان کے علاج کےلئیے لیور ٹرانسپلانٹ کی کوشش بھی کی گئ جبکہ پارٹی کی طرف سے بھی علاج کے سلسلے میں تعاون کیا گیا۔
بالآخر بیماری نے ان کی صحت کو بہت متاثر کیا اور وہ زندگی کی بازی ہار گئے۔

وفات اور تدفین:

مرحوم ملک نیاز علی خان کی وفات جولائی 2022ء میں ہوئی۔ 25 جولائی 2022ء کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے دیرینہ کارکن ملک نیاز علی خان انتقال کر گئے اور انہیں ان کے آبائی قبرستان، موضع سلیم خان، صوابی میں سپردِ خاک کیا گیا۔

ان کی وفات سے اہلِ علاقہ، دوستوں، سیاسی ساتھیوں اور پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستہ لوگوں میں ایک خلا پیدا ہوا۔ ان کی پہچان ایک ایسے شخص کے طور پر رہی جس نے اپنی زندگی میں سیاست کے ساتھ ساتھ لوگوں سے تعلق، مہمان نوازی، خوش اخلاقی اور مقامی سطح پر خدمت کو اہمیت دی۔

شخصیت کا خلاصہ

ملک نیاز علی خان ایک خوش مزاج، زندہ دل، ملنسار، مہمان نواز، عوام دوست اور سیاسی طور پر متحرک شخصیت تھے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ ان کی طویل وابستگی، مقامی سطح پر بلدیاتی کردار، لوگوں کے ساتھ مضبوط روابط اور اپنے علاقے کے لیے خدمات ان کی زندگی کے نمایاں پہلو ہیں۔

ان کی شخصیت کا اصل سرمایہ صرف سیاسی وابستگی نہیں بلکہ وہ انسانی تعلقات تھے جو انہوں نے اپنی خوش اخلاقی، محبت اور خلوص سے قائم کیے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے انتقال کے بعد بھی ان کے جاننے والے انہیں محبت اور احترام سے یاد کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ مرحوم ملک نیاز علی خان کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور پسماندگان، دوستوں اور سیاسی ساتھیوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

جسار احمد یوسفزئی ( وائس آف سلیم خان)

Address

Swabi
0938

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Voice of saleem khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share