30/08/2026
بمبوریت ملوکوشائی میں کم عمر بچی کی مبینہ شادی، متعلقہ اداروں سے فوری تحقیقات کا مطالبہ
بمبوریت، ضلع لوئر چترال کے علاقے ملوکوشائی سے ایک کم عمر بچی کی مبینہ شادی سے متعلق تشویشناک اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد بچوں کے تحفظ، قانونی عمر، رضامندی اور نکاح کی رجسٹریشن سے متعلق اہم سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔
ڈسٹرکٹ لوئر چترال ٹیم کو موصول ہونے والی اطلاعات اور دستیاب معلومات کے مطابق، ملوکوشائی کے رہائشی اسرار نے اپنی تقریباً 10 سالہ کم عمر بیٹی کی شادی مبینہ طور پر پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے ساتھ کرائی ہے۔
اطلاعات کے مطابق نکاح محدود سطح پر انجام دیا گیا اور معاملے کو عام لوگوں سے دور رکھنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم ڈسٹرکٹ اپر چترال ٹیم ان تمام دعوؤں کی آزادانہ اور حتمی تصدیق نہیں کر سکی، اس لیے معاملے کو موصولہ اطلاعات کی بنیاد پر رپورٹ کیا جا رہا ہے۔
اگر بچی کی عمر واقعی تقریباً 10 سال ہے تو یہ معاملہ انتہائی سنجیدہ نوعیت کا ہے اور کئی اہم سوالات جنم لیتے ہیں۔ بچی کی اصل عمر کیا ہے؟ نکاح کے وقت عمر سے متعلق کون سی دستاویزات پیش کی گئیں؟ نکاح خواں نے عمر کی تصدیق کس بنیاد پر کی؟ نکاح نامے کی رجسٹریشن کس طرح ہوئی؟ اور کیا متعلقہ سرکاری اداروں، مقامی انتظامیہ یا چائلڈ پروٹیکشن حکام کو اس معاملے کا علم تھا؟
ڈسٹرکٹ اپر چترال ٹیم متعلقہ ضلعی انتظامیہ، پولیس، چائلڈ پروٹیکشن حکام اور دیگر ذمہ دار اداروں سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس معاملے کی فوری، شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات کی جائیں۔
بچی کی اصل عمر سرکاری ریکارڈ سے معلوم کی جائے، نکاح نامے اور رجسٹریشن کا مکمل ریکارڈ چیک کیا جائے، نکاح کے عمل میں شامل متعلقہ افراد سے معلومات حاصل کی جائیں اور اگر کسی قانون یا ضابطے کی خلاف ورزی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
اس پورے معاملے میں سب سے اہم ترجیح بچی کا تحفظ، رازداری، مستقبل اور بنیادی حقوق ہونے چاہئیں۔ کم عمر بچوں سے متعلق ایسے معاملات کو صرف خاندانی یا نجی معاملہ قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، خصوصاً جب بچے کے تحفظ اور قانونی حقوق سے متعلق سنگین سوالات سامنے آ رہے ہوں۔
ڈسٹرکٹ اپر چترال ٹیم کا مؤقف ہے کہ اس معاملے کی حقیقت صرف متعلقہ اداروں کی شفاف تحقیقات اور سرکاری ریکارڈ کی جانچ کے ذریعے ہی سامنے آ سکتی ہے۔
آپ کی رائے میں کم عمر بچوں کی شادی سے متعلق ایسے معاملات سامنے آنے پر انتظامیہ اور چائلڈ پروٹیکشن اداروں کو سب سے پہلے کیا اقدام کرنا چاہیے؟
Bumburet, Mulawakhshai, Lower Chitral, child marriage, child protection, Chitral news, Khyber Pakhtunkhwa, Pakistan news, latest news