Dastanehaq

Dastanehaq 📖 Quran | 🌙 Hadees | 🪻 Islamic Stories
Inspiring Souls Through Deen

📜داستان فتوح الشام قسط 19عنوان صلح اور جنگ کا عجیب سنگم دمشق کی گلیاں اور دو عظیم سالاروں کا ٹکراؤشہر کے اندر تکبیر کی گ...
02/09/2026

📜داستان فتوح الشام قسط 19
عنوان صلح اور جنگ کا عجیب سنگم دمشق کی گلیاں اور دو عظیم سالاروں کا ٹکراؤ
شہر کے اندر تکبیر کی گونج اور رومیوں میں کہرام
رات کا پچھلا پہر ختم ہو رہا تھا اور صبح کی سفیدی بس نمودار ہونے کو تھی۔ باب الشرقی یعنی دمشق کے مشرقی دروازے سے خالد بن ولید اپنے جانبازوں کے ساتھ طوفان کی طرح اندر داخل ہو چکے تھے۔ ان کی تلواریں بجلی کی طرح چمک رہی تھیں اور تکبیر کی آوازوں نے دمشق کی گلیوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ خالد جس گلی سے گزرتے، رومی پہرے داروں کو گاجر مولی کی طرح کاٹتے چلے جاتے۔ اب تک دمشق جنگ کے زور سے فتح ہو رہا تھا اور رومیوں پر موت کا خوف اس طرح طاری تھا کہ جو بھی خالد کے سامنے آتا، وہیں ڈھیر ہو جاتا۔

دوسری طرف رومیوں کی چال اور ابو عبیدہ کی نرمی
شہر کے دوسری طرف، باب الجابیہ کے قریب ابو عبیدہ بن الجراح خیمہ زن تھے۔ رومی سرداروں اور پادریوں کو جب خبر ملی کہ خالد مشرقی دروازہ توڑ کر اندر گھس آئے ہیں اور قتل عام کر رہے ہیں، تو ان کے ہوش اڑ گئے۔ وہ جانتے تھے کہ خالد کی تلوار سے بچنا اب ناممکن ہے۔ انہوں نے فورا ایک چال چلی۔ وہ باب الجابیہ کی فصیل پر آئے اور امین امت ابو عبیدہ کو پکارا۔ انہوں نے روتے گڑگڑاتے ہوئے کہا کہ ہم صلح چاہتے ہیں۔ ہم ہتھیار ڈالتے ہیں، ہمیں اور ہمارے مال کو پناہ دے دو۔ ابو عبیدہ، جو اپنی نرم دلی اور رحم کے لیے مشہور تھے، انہوں نے رومیوں کی حالت زار دیکھی تو فورا صلح قبول کر لی۔ انہوں نے ایک تحریر لکھ کر دی کہ دمشق والوں کی جان، مال اور گرجا گھر محفوظ رہیں گے، بشرطیکہ وہ جزیہ دیں۔ رومیوں نے فورا مغربی دروازہ کھول دیا اور ابو عبیدہ امن کا پرچم لہراتے ہوئے شہر میں داخل ہو گئے۔

دمشق کے وسط میں دو عظیم سالاروں کا تاریخی آمنا سامنا
یہ ایک عجیب اور حیرت انگیز منظر تھا۔ خالد بن ولید مشرقی دروازے سے جنگ کرتے ہوئے، خون میں لت پت تلواریں لیے شہر کے وسط یعنی کلیسا مریم کے قریب پہنچے۔ ان کے ساتھ مجاہدین جوش اور جذبے سے نعرے لگا رہے تھے۔ ٹھیک اسی وقت سامنے سے ابو عبیدہ نمودار ہوئے۔ ان کے ساتھ رومی سردار اور پادری تھے، اور ان کے ہاتھ میں صلح کا پرچم تھا۔ خالد نے رومیوں کو زندہ دیکھا تو حیران رہ گئے اور اپنی تلوار تان لی۔ انہوں نے گرجدار آواز میں کہا ابو عبیدہ! آپ ان کتوں کو پناہ دے رہے ہیں؟ میں نے انہیں جنگ سے جیتا ہے اور یہ دروازہ میں نے اپنی تلوار سے توڑا ہے۔
ابو عبیدہ نے انتہائی تحمل سے جواب دیا خالد، میرے بھائی! میں نے انہیں امان دے دی ہے اور صلح کا معاہدہ لکھ چکا ہوں۔ اب ہم ان پر تلوار نہیں اٹھا سکتے۔
خالد نے غصے سے کہا میں نے خون بہایا ہے، میرے ساتھیوں نے جانیں دی ہیں، میں اس صلح کو نہیں مانتا۔
یہ وہ لمحہ تھا جہاں دو عظیم سوچیں ٹکرا رہی تھیں۔ ایک طرف خالد کا جنگی جوش اور خون کا حساب تھا، اور دوسری طرف ابو عبیدہ کا دیا ہوا امن کا وعدہ۔ صحابہ کرام کے درمیان ایک بحث چھڑ گئی۔ کچھ خالد کے حق میں تھے کہ شہر جنگ سے فتح ہوا ہے، اور کچھ ابو عبیدہ کے ساتھ تھے کہ مسلمانوں کا وعدہ پتھر کی لکیر ہوتا ہے۔

مسلمانوں کا وہ عدل جس نے دنیا کو حیران کر دیا
اس نزاع کو حل کرنے کے لیے دونوں سالار ایک جگہ بیٹھے اور دیگر صحابہ سے مشورہ کیا۔ طویل بحث کے بعد جو فیصلہ ہوا، اس نے دمشق والوں پر سحر کر دیا۔ فیصلہ یہ ہوا کہ دمشق کا وہ آدھا حصہ جو خالد نے جنگ سے فتح کیا ہے، وہ مفتوحہ علاقہ کہلائے گا، اور جو آدھا حصہ ابو عبیدہ کی صلح سے فتح ہوا ہے، وہ صلح کا علاقہ مانا جائے گا۔ لہذا کلیسا مریم کو آدھا مسجد بنا دیا گیا اور آدھا عیسائیوں کے پاس رہنے دیا گیا۔ رومی سردار یہ انصاف دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ انہوں نے دیکھا کہ یہ مسلمان اپنے ساتھی کی تلوار کی طاقت کے باوجود اپنے ایک کمانڈر کے وعدے کی پاسداری کر رہے ہیں۔

طوماس اور اس کے ساتھیوں کی رخصتی
اس صلح کے تحت دمشق کا حاکم طوماس، جس کی آنکھ ام ابان کے تیر سے پھوٹ چکی تھی، اپنے خزانوں اور ان لوگوں کو لے کر دمشق سے نکلنے کے لیے تیار ہو گیا جو مسلمانوں کی حکومت میں نہیں رہنا چاہتے تھے۔ ابو عبیدہ نے انہیں تین دن کی مہلت دی کہ وہ جہاں جانا چاہیں، جا سکتے ہیں، مسلمان تین دن تک ان کا پیچھا نہیں کریں گے۔ طوماس اپنے قافلے کے ساتھ دمشق سے نکلا تو اس کا دل حسرت اور انتقام سے بھرا ہوا تھا، لیکن وہ بے بس تھا۔

اس واقعے سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے
پہلا سبق وعدے کی پاسداری
مسلمانوں نے طاقت کے نشے میں اپنے ایک جرنیل کے وعدے کو نہیں توڑا۔ یہی وہ اخلاق تھا جس نے دنیا کو اسلام کی طرف کھینچا۔ وعدہ خلافی خواہ کسی کے ساتھ بھی ہو، اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔
دوسرا سبق اختلافات کو شائستگی سے حل کرنا
خالد اور ابو عبیدہ کے درمیان اختلاف ہوا، لیکن انہوں نے اسے آپسی لڑائی نہیں بننے دیا بلکہ مل بیٹھ کر مشورے سے ایک ایسا درمیانی راستہ نکالا جس سے دونوں کی بات رہ گئی۔
تیسرا سبق رحم اور عدل کا امتزاج
اسلامی فتوحات صرف تلوار کے زور پر نہیں ہوئیں، بلکہ ان میں ابو عبیدہ جیسی نرمی اور عدل بھی شامل تھا۔ جہاں سختی کی ضرورت تھی وہاں خالد کی تلوار تھی، اور جہاں صلح کی گنجائش تھی وہاں ابو عبیدہ کا رحم تھا۔

اگلی قسط میں پڑھیے
طوماس دمشق سے نکل کر کس طرف گیا؟ کیا خالد بن ولید اسے اتنی آسانی سے جانے دینے والے تھے؟ تین دن کی مہلت ختم ہوتے ہی خالد نے صحرا کا وہ کون سا پراسرار اور ناممکن راستہ چنا جس نے طوماس کے قافلے کو بیچ راستے میں گھیر لیا؟

اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی اپنے ان نیک بندوں کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔"

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سازش اور اس کا عبرتناک انجاممدینہ منورہ میں وفد کی آمد اور عامر بن طفیل کے مطالباتع...
02/09/2026

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سازش اور اس کا عبرتناک انجام
مدینہ منورہ میں وفد کی آمد اور عامر بن طفیل کے مطالبات
عام الوفود یعنی وفود کے سال میں عامر بن طفیل اور اربد بن قیس بنو عامر کے ایک وفد کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ عامر بن طفیل اپنی قوم کے سرداروں میں سے تھا اور ان میں سب سے زیادہ طاقتور اور جنگجو مانا جاتا تھا۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بہت بڑے معاملے پر سودے بازی کرنے کے ارادے سے آیا تھا۔
اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ وہ اس شرط پر اسلام لائے گا کہ آپ کے دنیا سے پردہ فرما جانے کے بعد قیادت اور سرداری اس کے ہاتھ میں ہوگی۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب دیا کہ یہ معاملہ اس کے لیے نہیں ہے بلکہ اس کے لیے وہی کچھ ہوگا جو عام مسلمانوں کے لیے ہے اور اس پر وہی ذمہ داریاں ہوں گی جو باقی سب پر ہیں۔ عامر نے اس بات کو قبول نہیں کیا اور اپنے لیے دیہات کے لوگوں پر حکمرانی مانگنے لگا جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حکمرانی شہروں کے لوگوں پر رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا یہ مطالبہ بھی مسترد کر دیا۔
اس پر عامر غصے میں آ گیا اور اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس شہر کو آپ کے خلاف گھوڑوں اور جنگجو مردوں سے بھر دے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب میں فرمایا کہ اللہ تجھے اس کام سے روک دے گا۔

قتل کی ناپاک سازش اور اللہ کی حفاظت
عامر نے اپنے ساتھی اربد بن قیس کے ساتھ مل کر دل میں ایک اور ہی سازش چھپا رکھی تھی۔ ان دونوں نے یہ طے کیا تھا کہ عامر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو باتوں میں الجھائے رکھے گا جبکہ اربد آپ کو قتل کرنے کی کوشش کرے گا۔ چنانچہ جب عامر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرنے کے لیے کھڑا ہوا تو اربد نے ان کے طے شدہ منصوبے پر عمل کرنے کی کوشش کی اور وہ اپنی تلوار لیے ہوئے تھا۔
لیکن اللہ تعالی نے اس کے اور اس کے ارادے کی تکمیل کے درمیان رکاوٹ ڈال دی جس کی وجہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچنے میں کامیاب نہ ہو سکا اور ان دونوں کی یہ سازش ناکام ہو گئی۔ پھر وہ دونوں شخص وہاں سے چلے گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے حق میں بددعا فرمائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کے لیے بددعا اور پھر ان کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا اس کا ذکر سیرت اور تفسیر کی کتابوں میں ملتا ہے۔

سازش کرنے والوں کا عبرتناک انجام
جہاں تک اربد بن قیس کا تعلق ہے تو وہ اپنی قوم کی طرف لوٹ گیا پھر اس کے بعد اپنے کسی کام کے لیے نکلا تو اس پر آسمانی بجلی گری جس نے اسے ہلاک کر دیا۔ کئی مفسرین نے ذکر کیا ہے کہ یہ واقعہ ان روایات میں شامل ہے جن کا تعلق اللہ تعالی کے اس فرمان سے ہے
وَيُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَيُصِيبُ بِهَا مَن يَشَاءُ
جس کا ترجمہ ہے، اور وہ بجلیاں بھیجتا ہے پھر جس پر چاہتا ہے اسے گرا دیتا ہے۔
اور عامر بن طفیل کا معاملہ یہ ہوا کہ وہ مدینہ سے نکلا تو اسے ایک شدید بیماری لگ گئی اور اس کی گردن میں ایک غدود یعنی گلٹی نکل آئی۔ پھر وہ بنو سلول کی ایک عورت کے گھر ٹھہرا اور وہیں اس پر بیماری اتنی بڑھ گئی کہ وہ مر گیا۔ اس کی موت ایک ایسے شخص کا انجام تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بادشاہت اور سرداری کی طلب لے کر آیا تھا اور اس نے اپنے ساتھی کے ساتھ مل کر آپ کے ساتھ غداری اور دھوکے کی سازش رچی تھی۔ لیکن اللہ سبحانہ و تعالی نے اپنے نبی کی حفاظت فرمائی اور ان دونوں کی سازش کو خاک میں ملا دیا۔

اس واقعے سے ملنے والے اہم سبق
یہ واقعہ ایک بہت عظیم سبق اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔ انسان بسا اوقات منصوبہ بندی کرتا ہے اور یہ گمان کرتا ہے کہ معاملات اس کے ہاتھ میں آ چکے ہیں۔ بعض اوقات ایک ہی کام کو انجام دینے کے لیے ایک سے زیادہ لوگ اکٹھے ہو جاتے ہیں لیکن یاد رکھیں کہ اللہ کا حکم ہر تدبیر پر غالب ہے۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے
وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ
جس کا ترجمہ ہے، اور اللہ آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا۔
پس اللہ تعالی نے اپنے نبی کو آپ کے دشمنوں کی سازش سے محفوظ رکھا یہاں تک کہ آپ نے اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا اور امانت ادا کر دی۔ اس واقعے کو بیان کرتے وقت یہ بات اہم ہے کہ ہم ان باتوں کے درمیان فرق کریں جو صحیح احادیث سے ثابت ہیں اور ان تفصیلات کے درمیان جنہیں سیرت اور تفسیر کی بعض کتابوں میں مختلف اسناد کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔

تاہم ثابت شدہ بات یہی ہے کہ عامر بن طفیل اور اربد بن قیس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، عامر نے سرداری کا لالچ کیا، ان دونوں نے آپ کے ساتھ دھوکہ کرنے کا ارادہ کیا، اللہ نے ان کی سازش کو ناکام بنا دیا اور پھر ان دونوں میں سے ہر ایک کا انجام ویسا ہی ہوا جیسا کہ روایات میں بیان کیا گیا ہے۔

اس واقعے کو ایک یاد دہانی کے طور پر عام کریں کہ انسانوں کی سازش خواہ کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو وہ اللہ کے حکم پر غالب نہیں آ سکتی اور یہ کہ انجام ہمیشہ اسی کا ہوتا ہے جو اللہ سے ڈرے اور حق پر ثابت قدم رہے۔
میری تمام پڑھنے والوں سے گزارش ہے کہ کمنٹس میں ضرور بتائیں کہ آپ کو ہماری آج کی یہ قسط کیسی لگی اور اس واقعے نے آپ کے دل پر کیا اثر چھوڑا۔

مستند مرجع
صحیح بخاری
صحیح مسلم
سیرت ابن ہشام
الرحیق المختوم
تفسیر ابن کثیر

01/09/2026

وہ ایک غلطی جس نے مکہ کے سب سے بڑے تجارتی راستے کو قبرستان بنا دیا

داستان فتوح الشام قسط 19  عنوان زخمی طوماس کا رات کا ہولناک حملہ اور دمشق کا دروازہ کھلنے کا پراسرار راز  طوماس کا غصہ ا...
01/09/2026

داستان فتوح الشام قسط 19
عنوان زخمی طوماس کا رات کا ہولناک حملہ اور دمشق کا دروازہ کھلنے کا پراسرار راز طوماس کا غصہ اور انتقام کی قسم
ام ابان کے تیر نے طوماس کی ایک آنکھ ضائع کر دی تھی۔ خون میں لت پت اور درد سے تڑپتا ہوا طوماس جب قلعے کے اندر پہنچا تو اس کا غرور خاک میں مل چکا تھا۔ رومی طبیبوں نے اس کی آنکھ کا علاج کیا اور پٹی باندھ دی۔ لیکن طوماس کے دل میں انتقام کی آگ بھڑک رہی تھی۔ اس نے اپنے امرا اور سرداروں کو جمع کیا اور صلیب کی قسم کھا کر کہا کہ وہ اس ایک آنکھ کے بدلے ہزاروں عربوں کی جان لے گا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ اب دن کی روشنی میں لڑنے کے بجائے رات کی تاریکی کا سہارا لیا جائے گا تاکہ مسلمان غافل ہوں اور ان پر بیک وقت ہر طرف سے ٹوٹ پڑا جائے۔

رات کے اندھیرے میں چاروں دروازوں سے اچانک یلغار
آدھی رات کا وقت تھا جب دمشق کے باسی گہری نیند سو رہے تھے۔ طوماس کے حکم پر دمشق کے تمام بڑے دروازے بالکل خاموشی سے کھول دیے گئے۔ رومی فوج کے ہزاروں زرہ پوش فوجی ہاتھوں میں مشعلیں اور ننگی تلواریں لیے ایک ساتھ چاروں طرف سے مسلمانوں کے کیمپوں پر حملہ آور ہوئے۔
یہ ایک انتہائی ہولناک اور سنسنی خیز رات تھی۔ رومیوں کا خیال تھا کہ مسلمان سردی کی وجہ سے خیموں میں سو رہے ہوں گے اور وہ انہیں وہیں ختم کر دیں گے۔ لیکن اسلامی لشکر کے پہرے دار ہر وقت چوکنا رہتے تھے۔ جیسے ہی رومی قریب آئے، مسلمانوں نے تکبیر کے نعرے بلند کر کے پورے لشکر کو جگا دیا۔ رات کے اس گھپ اندھیرے میں ایسی خونریز جنگ ہوئی کہ تلواروں کے ٹکرانے سے نکلنے والی چنگاریوں نے میدان کو روشن کر دیا۔ مسلمان مجاہدین پہاڑ کی طرح ڈٹ گئے اور صبح کی روشنی پھوٹنے سے پہلے ہی رومیوں کو لاشوں کے ڈھیر چھوڑ کر واپس قلعے میں بھاگنا پڑا۔ طوماس کی یہ آخری اور سب سے بڑی چال بھی بری طرح ناکام ہو گئی تھی۔

ایک مقامی پادری کی حیرت انگیز پیشکش
اس رات کی ذلت آمیز شکست کے بعد رومیوں کے حوصلے بالکل جواب دے گئے۔ قلعے کے اندر مایوسی پھیل گئی۔ اسی دوران باب الشرقی یعنی مشرقی دروازے کی طرف، جہاں حضرت خالد بن ولید کا پہرہ تھا، ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ دمشق کا ایک سرکردہ پادری جس کا نام یونان تھا، وہ دیوار کے اوپر آیا اور اس نے اشارے سے مسلمانوں کو بات چیت کے لیے بلایا۔
وہ جان چکا تھا کہ اب رومی سلطنت کا سورج غروب ہونے والا ہے اور مسلمانوں کو زیادہ دیر تک روکا نہیں جا سکتا۔ اس نے حضرت خالد بن ولید سے پناہ طلب کی اور کہا کہ اگر تم میرے خاندان، میرے لوگوں اور ہمارے گرجا گھروں کو امان دے دو تو میں تمہیں شہر کے اندر داخل ہونے کا ایک خفیہ اور کمزور راستہ بتا دوں گا۔ سیف اللہ حضرت خالد بن ولید نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اسے اپنے شاندار اخلاق کے مطابق امان دے دی۔

کمندیں، دیواریں اور دمشق میں فاتحانہ داخلہ
رات کا پچھلا پہر تھا اور قلعے کے اندر رومی پہرے دار سردی اور تھکاوٹ کی وجہ سے غفلت کی نیند سو رہے تھے۔ اسی دوران عیسائیوں کا کوئی تہوار بھی چل رہا تھا جس کی وجہ سے پہرے پر توجہ کم تھی۔ پادری کے بتائے ہوئے منصوبے کے مطابق حضرت خالد بن ولید نے اپنے چند انتہائی بہادر اور چابک دست ساتھیوں کا انتخاب کیا جن میں حضرت قعقاع بن عمرو بھی شامل تھے۔
ان مجاہدین نے رسوں کی سیڑھیاں یعنی کمندیں فصیل پر پھینکیں اور بالکل خاموشی سے چھپکلیوں کی طرح دیواریں پھاند کر اندر داخل ہو گئے۔ اندر اترتے ہی انہوں نے پہرے داروں کو قابو کیا، دروازے کی بھاری زنجیریں کاٹیں اور باب الشرقی کا عظیم الشان دروازہ چوپٹ کھول دیا۔ دروازہ کھلتے ہی باہر منتظر مجاہدین نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے طوفان کی طرح دمشق شہر کے اندر داخل ہو گئے۔ وہ دمشق جس پر رومیوں کو بڑا ناز تھا، اب مسلمانوں کے قدموں تلے آ چکا تھا۔

اس واقعے سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے
پہلا سبق غصہ انسان کو اندھا کر دیتا ہے
طوماس نے غصے اور انتقام میں اندھا ہو کر رات کے حملے کا وہ بے وقوفانہ فیصلہ کیا جس نے اس کی بچی کھچی فوج کو بھی مروا دیا اور اس کی طاقت بالکل ختم ہو گئی۔ جذبات میں کیے گئے فیصلے ہمیشہ نقصان دیتے ہیں۔
دوسرا سبق چوکنا رہنا اور غفلت سے بچنا
مسلمانوں کا رات کے اندھیرے میں بھی ہوشیار رہنا ہمیں بتاتا ہے کہ منزل کے قریب پہنچ کر غفلت کا شکار ہونا سب سے بڑی بے وقوفی ہے۔ مسلسل محنت اور توجہ ہی کامیابی کی چابی ہے۔
تیسرا سبق اخلاق کی طاقت
پادری نے دروازہ کسی خوف سے نہیں بلکہ مسلمانوں کے منصفانہ رویے اور وعدے کی پاسداری پر یقین رکھتے ہوئے کھلوایا تھا۔ آپ کا اچھا کردار بڑے بڑے قلعے تسخیر کر سکتا ہے۔

گلی قسط میں پڑھیے
دمشق کا ایک دروازہ صلح سے کھلا اور دوسرا جنگ سے۔ جب شہر کے بیچوں بیچ حضرت خالد بن ولید اور حضرت ابو عبیدہ بن الجراح کا آمنا سامنا ہوا تو کیا صورت حال پیدا ہوئی، اور دمشق کے شہریوں کے ساتھ وہ تاریخ ساز فیصلہ کیا ہوا جس کی مثال آج تک دنیا نہ دے سکی۔

وہ عظیم صحابی جنہیں دیکھتے ہی رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک پر مسکراہٹ بکھر جاتی، اور جن کی ایک خامی نبوی دعا کی بدولت بے مث...
01/09/2026

وہ عظیم صحابی جنہیں دیکھتے ہی رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک پر مسکراہٹ بکھر جاتی، اور جن کی ایک خامی نبوی دعا کی بدولت بے مثال طاقت میں بدل گئی
تاریخِ اسلام کے سنہرے اوراق ایسے عظیم المرتبت ہیروز کے واقعات سے بھرے پڑے ہیں جن کی عظمت و جلالت بیان کرنے کے لیے کسی قسم کے مبالغے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ انہی درخشاں ستاروں میں سے ایک ایسی ہستی بھی ہیں جن کی ذات میں بہترین اخلاق، بے مثال بہادری، کامل فرماں برداری اور پکار پر لبیک کہنے کی خوبیاں یکجا تھیں۔ یہ جلیل القدر ہستی حضرت جریر بن عبداللہ البجلی رضی اللہ عنہ ہیں، جو اپنی قوم کے معزز سردار اور سرورِ کائنات ﷺ کے مقرب ترین ساتھیوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔

حلقہ بگوشِ اسلام ہونے والے ایک باوقار سردار
حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے رسالت مآب ﷺ کی حیاتِ طیبہ کے بالکل آخری ایام میں دینِ اسلام قبول کیا۔ تاریخی روایات بتاتی ہیں کہ وہ سورہ مائدہ کے نازل ہونے کے بعد دائرہ اسلام میں داخل ہوئے، جبکہ ایک اور روایت کے مطابق انہوں نے آقا دو جہاں ﷺ کے پردہ فرمانے سے محض چالیس دن قبل حق کا راستہ چنا۔ اپنی قوم کے اندر ان کا رتبہ نہایت بلند تھا، یہی وجہ ہے کہ ان کا مسلمان ہونا بھلائی اور اشاعتِ دین کا ایک بہت بڑا ذریعہ ثابت ہوا۔

شفقتِ نبوی کا منفرد رنگ اور پرتباک استقبال
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کی زندگی کا سب سے دلکش پہلو یہ ہے کہ حضور پرنور ﷺ ان کی بے پناہ عزت افزائی فرماتے اور ہمیشہ ہنستے مسکراتے چہرے کے ساتھ انہیں خوش آمدید کہتے۔ خود حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ جب سے میں نے کلمہ پڑھا، پیارے آقا ﷺ نے مجھے کبھی اپنے حضور پیش ہونے سے نہیں روکا، اور جب بھی میری طرف نگاہ اٹھائی تو ان کے لبوں پر مسکراہٹ ہوتی تھی۔ اس روح پرور منظر کو چشمِ تصور سے دیکھیے... ایک ایسا انسان جس نے کافی تاخیر سے اسلام قبول کیا، اس کے باوجود اسے دربارِ رسالت سے ایسی شاندار پذیرائی، تکریم اور حسنِ سلوک نصیب ہو رہا ہے۔ درحقیقت یہی نبوی تربیت کا کمال ہے کہ جب کوئی دل سچے جذبے سے خالقِ کائنات کی طرف لوٹتا ہے، تو یہ نہیں جانچا جاتا کہ اس کا آغاز کب اور کیسے ہوا، بلکہ اس کی سچائی اور لگن کو دیکھا جاتا ہے۔

ایک دشوار گزار مہم اور بارگاہِ نبوت سے ثباتِ قدمی کی دعا
ایک مرتبہ رسولِ اکرم ﷺ نے حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے استفسار فرمایا، کیا تم مجھے ذی الخلصہ سے نجات نہیں دلاؤ گے؟ واضح رہے کہ ذو الخلصہ یمن کے علاقے میں واقع ایک بت کدہ تھا جسے کعبہ یمانیہ بھی کہا جاتا تھا اور کچھ قبائل اللہ وحدہ لا شریک کو چھوڑ کر اس میں رکھے بتوں کی پوجا کیا کرتے تھے۔ جریر رضی اللہ عنہ نے فوراً حامی بھر لی اور عرض کیا، کیوں نہیں یا رسول اللہ۔ پھر آپ قبیلہ احمس کے ڈیڑھ سو جنگجوؤں کو ہمراہ لے کر اس مہم پر روانہ ہوگئے۔ تاہم ان کے دل میں ایک الجھن تھی... وہ گھڑ سواری میں ماہر نہیں تھے اور گھوڑے کی پیٹھ پر ٹک نہیں پاتے تھے۔ جب انہوں نے اپنی اس کمزوری کا تذکرہ حضور ﷺ سے کیا تو ایک تاریخ ساز لمحہ وجود میں آیا... سرکارِ دو عالم ﷺ نے ان کے حق میں دستِ مبارک اٹھا کر فرمایا، الٰہی، اسے ثابت قدمی عطا فرما، اور اسے راہ دکھانے والا اور راہ پایا ہوا بنا دے۔ حضرت جریر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ اس مبارک دعا کے بعد وہ تاحیات کبھی کسی گھوڑے کی پیٹھ سے نہیں گرے۔ کیا ہی زبردست دعا تھی، وہ شخص جو گھوڑے پر بیٹھنے سے قاصر تھا... دیکھتے ہی دیکھتے ایک عظیم الشان مہم کے لیے بہترین شہسوار بن کر میدان میں اتر گیا۔

باطل کو مٹانے کا تاریخی کارنامہ اور رحمتِ دو عالم کی دعائیں
جریر رضی اللہ عنہ اپنے جانبازوں کی قیادت کرتے ہوئے ذی الخلصہ کے مقام پر پہنچ گئے۔ وہاں انہوں نے اپنی ذمہ داری کو احسن انداز میں نبھایا، غیر اللہ کے ان تمام بتوں کو پاش پاش کر دیا اور اس عمارت کو نذرِ آتش کر کے خاکستر کر دیا، جس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے ایک قاصد کے ذریعے بارگاہِ رسالت میں فتح و نصرت کی نوید بھیجی۔ اس خبر نے رسول اللہ ﷺ کے قلبِ اطہر کو شادمانی سے بھر دیا... کیونکہ سرکشوں کی جانب سے قائم کردہ شرک کا ایک بہت بڑا اڈا ہمیشہ کے لیے نیست و نابود ہو چکا تھا۔ اس خوشی کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے قبیلہ احمس کے جنگجوؤں اور ان کے گھوڑوں کے لیے مسلسل پانچ بار برکت کی دعا فرمائی۔ یوں حضرت جریر رضی اللہ عنہ ایک ایسے مردِ مجاہد کی روشن مثال بن کر ابھرے جنہیں جب کوئی ذمہ داری سونپی گئی تو انہوں نے سرِ تسلیم خم کیا، اور کسی بھی مشکل کو پیچھے ہٹنے کا بہانہ نہیں بننے دیا۔

بہادری کے ہمراہ عاجزی اور خدمتِ خلق کی خوبصورت داستان
جریر رضی اللہ عنہ کی سیرت کا ایک اور دلکش رخ یہ ہے کہ ان کی قوت اور دبدبہ محض میدانِ جنگ تک محدود نہیں تھا۔ وہ اعلیٰ درجے کے شائستہ، منکسر المزاج اور وفا شعار انسان تھے۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اپنا ایک واقعہ سناتے ہیں کہ وہ ایک سفر کے دوران جریر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، اور جریر ان کے آرام و سکون کا خیال رکھتے ہوئے ان کی خدمت گزاری میں مصروف تھے، باوجود اس کے کہ جریر رضی اللہ عنہ عمر میں ان سے بڑے تھے۔ جب ان سے اس رویے کی وجہ دریافت کی گئی، تو آپ نے فرمایا کہ میں نے انصارِ مدینہ کو نبی کریم ﷺ کی ایسی بے لوث خدمت کرتے دیکھا ہے کہ میں نے عہد کر لیا ہے کہ جب بھی مجھے کوئی انصاری ملے گا، میں اس کی خدمت اور عزت افزائی کر کے ان کا وہ احسان اتارنے کی کوشش کروں گا۔ اس واقعے میں ہمارے لیے ایک بہت بڑا پیغام ہے... کہ اصل طاقت ور وہ نہیں جو دوسروں سے اپنے کام کروائے، بلکہ حقیقی طاقت ور تو وہ ہے جو اندر سے مضبوط اور جری ہو، لیکن خلقِ خدا کے سامنے سراپا عاجزی بن جائے۔

علمِ نبوی کے امانت دار اور حکمت و دانائی کے روشن چراغ
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کی پہچان محض ایک بہادر سپاہی کی نہیں، بلکہ وہ اقوالِ رسول ﷺ کے معتبر راویوں میں بھی شمار کیے جاتے ہیں۔ ان کی بیان کی گئی روایات میں ایک مشہور حدیث یہ بھی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو وضو کے دوران موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا، اسی باعث وہ اس سنتِ مبارکہ کی پیروی کیا کرتے تھے۔ انہوں نے یہ بھی صراحت کی کہ ان کا قبولِ اسلام سورہ مائدہ کے نزول کے بعد کا واقعہ ہے۔ اس امر سے یہ شرعی مسئلہ حل ہوا کہ وضو میں پاؤں دھونے کے حکم کے باوجود موزوں پر مسح کرنے کی اجازت باقی ہے اور منسوخ نہیں ہوئی۔ مزید برآں، حضرت جریر رضی اللہ عنہ حجۃ الوداع کے روح پرور اجتماع میں بھی موجود تھے، اور انہوں نے آقا دو جہاں ﷺ کی ان اہم ترین وصیتوں کو آگے پہنچایا جن میں مسلمانوں کے جان و مال کے تقدس اور باہمی خون ریزی سے بچنے کی سخت تاکید کی گئی تھی۔

صفاتِ کاملہ کا مجموعہ اور یکتا شخصیت
اگر جریر بن عبداللہ البجلی رضی اللہ عنہ کی حیاتِ طیبہ کا نچوڑ نکالا جائے تو ہم بلا جھجک کہہ سکتے ہیں کہ، انہوں نے کلمہ پڑھا تو اس کی لاج رکھی، انہیں جو حکم ملا اسے بجا لائے، مشکل مہم درپیش ہوئی تو دربارِ نبوی سے دعا کا وسیلہ پکڑا، اور جب منزل کی جانب قدم بڑھائے تو پھر پلٹ کر نہیں دیکھا۔ وہ ایک نامور شہسوار تھے... وہ دین کے مبلغ تھے... وہ علمِ حدیث کے راوی تھے... وہ سراپا عاجزی و انکساری تھے... وہ رشتے نبھانے والے تھے... اور وہ معاشرے میں انتہائی پاکیزہ کردار کے مالک تھے۔ دراصل یہی وہ چیز ہے جسے حقیقی عظمت کہا جاتا ہے۔ بڑائی اس بات میں نہیں کہ دنیا آپ کی طاقت کے گن گائے... بلکہ بڑائی یہ ہے کہ آپ حق کے راستے پر چٹان کی طرح کھڑے ہوں، لوگوں کے لیے نرمی کا پیکر ہوں، آزمائشوں میں نہ ڈگمگائیں، اور اللہ اور اس کے رسول کے سچے فرماں بردار بن کر دکھائیں۔

حرفِ تمنا اور دورِ حاضر کے لیے ایک سبق آموز پیغام
جریر بن عبداللہ البجلی رضی اللہ عنہ... ایک ایسے عظیم صحابی جن کا نام ہو سکتا ہے آج کی نسل نے زیادہ نہ سنا ہو، مگر ان کی زندگی کا ورق ورق شاندار کارناموں سے مزین ہے۔ ایک ایسا خوش نصیب انسان جس کے حق میں زبانِ رسالت سے ادا ہوا کہ، اے اللہ اسے ثابت قدم رکھ... پھر وہ اپنے مشن پر نکلا... اور اسے فتح یابی کے ساتھ مکمل کر کے ہی دم لیا۔ کاش ہم جریر رضی اللہ عنہ کی اس داستان سے یہ سبق حاصل کر سکیں کہ کوئی بھی انسان اپنی زندگی کے سفر کا آغاز کسی خامی، کمی یا سستی کے ساتھ کر سکتا ہے... لیکن اگر سچی لگن ہو، کامل ایمان ہو، مضبوط ارادہ ہو اور کسی مقبول ہستی کی دعا شاملِ حال ہو تو انسان کی پوری تقدیر بدل سکتی ہے۔ پروردگارِ عالم حضرت جریر بن عبداللہ البجلی پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے، ان سے راضی ہو جائے، اور روزِ قیامت ہمیں اور انہیں جنت الفردوس میں یکجا فرمائے۔
مستند مراجع
صحیح بخاری
صحیح مسلم
سنن ترمذی
سیر اعلام النبلا
الاصابہ فی تمییز الصحابہ

31/08/2026

نماز کے واجبات ۔۔۔۔۔۔

📜 فتوح الشام کی داستان: قسط 18⚔️ رومی کمانڈر طوماس کی لرزہ خیز یلغار، زہر آلود تیروں کا طوفان اور ایک مسلم بیٹی کا فیصلہ...
31/08/2026

📜 فتوح الشام کی داستان: قسط 18
⚔️ رومی کمانڈر طوماس کی لرزہ خیز یلغار، زہر آلود تیروں کا طوفان اور ایک مسلم بیٹی کا فیصلہ کن وار
دمشق کے طویل محاصرے نے فصیل کے اندر محصور رومیوں کی کمر توڑ دی تھی۔ بھوک اور شدید سردی کے باعث ان کے اعصاب جواب دے رہے تھے۔ ایسے میں دمشق کا گورنر اور قیصرِ روم ہرقل کا داماد، طوماس اس نتیجے پر پہنچا کہ یوں محصور رہ کر موت کا انتظار کرنے سے بہتر ہے کہ کوئی حتمی قدم اٹھایا جائے۔ چنانچہ اس نے قلعے سے باہر نکل کر مسلم فوج پر ایک اچانک اور زوردار یلغار کا منصوبہ بنایا۔
طوماس نے عیسائیوں کو اکٹھا کر کے ان کے اندر مذہبی جنون پیدا کیا اور ایک لشکرِ جرار تیار کر لیا۔ اس کی حکمتِ عملی یہ تھی کہ شہر کے اس دروازے سے (جو آج بھی 'باب توما' کہلاتا ہے) ایک طوفان کی مانند نکلا جائے اور مجاہدین کی صفوں کو درہم برہم کر دیا جائے۔

🏹 طوماس کی خونی یلغار اور زہر آلود تیروں کا مینہ
ستمبر کی ایک صبح تھی جب مسلمان مجاہدین اپنے مورچوں پر معمول کا پہرہ دے رہے تھے۔ اچانک باب توما کا بھاری بھرکم دروازہ کھلا اور رومی لشکر سیلاب کی طرح امڈ آیا۔ اس یلغار کا سب سے بھیانک پہلو یہ تھا کہ طوماس نے فصیلوں پر ہزاروں تیر اندازوں کو تعینات کر دیا تھا جو زہریلے تیر برسا رہے تھے، تاکہ رومی پیدل فوج باآسانی آگے بڑھ سکے۔
تیروں کا یہ طوفان اس قدر کثیف تھا کہ مجاہدین کا سر اٹھانا محال ہو گیا۔ اس دروازے کی حفاظت پر سیدنا شرحبیل بن حسنہ اپنے دستے کے ساتھ مامور تھے۔ اگرچہ مسلمانوں نے اس ناگہانی حملے کا نہایت پامردی سے مقابلہ کیا، تاہم زہریلے تیروں کے سبب بہت سے مجاہدین زخمی ہونے لگے۔

💔 سیدنا ابان کی عظیم شہادت اور سیدہ ام ابان کا بے مثال کردار
اس گھمسان کے رن میں ایک انتہائی رقت آمیز مگر ایمان کو گرما دینے والا واقعہ رونما ہوا۔ اسلام کے ایک شجاع اور نامور صحابی، سیدنا ابان بن سعید نہایت بہادری سے دشمن کا مقابلہ کر رہے تھے کہ اچانک فصیل کی جانب سے آنے والا ایک زہر آلود تیر ان کے جسم میں پیوست ہو گیا۔ زہر کی تیزی نے انہیں مہلت نہ دی اور وہ اسی میدان میں مرتبۂ شہادت پر فائز ہو گئے۔
ان کی زوجہ محترمہ، سیدہ ام ابان بھی اسی لشکر گاہ میں موجود تھیں۔ جب ان تک شوہر کی شہادت کی اطلاع پہنچی تو انہوں نے وہ ردعمل دیا جس کا رومی تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ عام خواتین کی مانند گریہ و زاری کرنے کے بجائے، اس شیر دل اور باہمت خاتون نے اپنے شہید شوہر کے خون میں لت پت کپڑوں کو چوما، ان کی کمان اور تیر سنبھالے اور سیدھی میدانِ کارزار کا رخ کیا۔

🦅 مسلم بیٹی کا وہ تاریخی وار جس نے رومیوں کے اوسان خطا کر دیے
سیدہ ام ابان تیر اندازی کے فن میں یکتا تھیں۔ انہوں نے میدانِ جنگ میں آگے بڑھ کر ایک ایسی جگہ محاذ سنبھالا جہاں سے رومیوں کا سپہ سالار طوماس ان کے نشانے پر بالکل واضح تھا۔ طوماس اپنے گھوڑے پر سوار غرور کے نشے میں چور اپنی فوج کا حوصلہ بڑھا رہا تھا اور اسے یقین تھا کہ آج وہ مسلمانوں کو شکستِ فاش دے گا۔
ام ابان نے اپنے شہید شوہر کی کمان میں تیر رکھا، پوری قوت سے زِہ کو کھینچا اور طوماس کو ہدف بناتے ہوئے تیر چھوڑ دیا۔ یہ محض ایک عام تیر نہیں تھا بلکہ ایک شہید کی بیوہ کے عزم اور نصرتِ خداوندی کا مظہر تھا۔ تیر فضا کو چیرتا ہوا سیدھا طوماس کی دائیں آنکھ میں جا گھسا۔
اس کے منہ سے ایک لرزہ خیز چیخ برآمد ہوئی اور وہ گھوڑے سے زمین پر آ رہا۔ اپنے سب سے بڑے کمانڈر کو یوں خون میں تڑپتا اور بلبلاتا دیکھ کر رومیوں کے حوصلے پست ہو گئے۔ ان کی صفوں میں ایسی بھگدڑ مچی کہ وہ رومی فوج جو کچھ دیر قبل مسلمانوں کو کچلنے کے خواب دیکھ رہی تھی، اب جان بچانے کی خاطر بدحواسی میں قلعے کی جانب فرار ہونے لگی۔
اگرچہ زخمی طوماس کو قلعے کے اندر منتقل کر دیا گیا، لیکن اس ایک تیر نے جنگِ دمشق کا پانسا مکمل طور پر مسلمانوں کے حق میں پلٹ دیا تھا۔

💡 اس تاریخی واقعے سے ملنے والے اسباق
* پہلا سبق: جذبات کا تعمیری اور مثبت استعمال: ام ابان نے اپنے شدید رنج اور صدمے کو اپنی کمزوری بننے کے بجائے اپنی طاقت میں ڈھالا اور وہ کارنامہ سرانجام دیا جو تاریخِ اسلام کا سنہری باب بن گیا۔
* دوسرا سبق: شجاعت کسی مخصوص صنف کی محتاج نہیں: تاریخِ اسلام اس بات پر شاہد ہے کہ جب بھی کڑا وقت آیا، مسلم خواتین نے میدانِ کارزار میں وہ جرات و استقامت دکھائی جس نے بڑے بڑے نامور جرنیلوں کو بھی حیرت میں ڈال دیا۔
* تیسرا سبق: باطل کی کھوکھلی طاقت: رومی فوج تعداد اور اسلحے (تیروں) کی کثرت کے باوجود کھوکھلی تھی۔ جیسے ہی ان کے قائد کی آنکھ زخمی ہوئی، پوری کی پوری فوج میدان چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہو گئی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ باطل کا رعب ہمیشہ عارضی اور ناپائیدار ہوتا ہے۔

📌 اگلی قسط کا احوال
شدید زخمی طوماس کا قسم کھانا اور رات کی تاریکی میں دمشق کے تمام دروازوں سے رومیوں کی بیک وقت سب سے بڑی یلغار۔ اور دوسری جانب ایک مقامی پادری کی حضرت خالد بن ولیدؓ سے وہ خفیہ اور فیصلہ کن ملاقات جس نے دمشق کے دروازے اندر سے کھول دیے۔

📜 داستان فتوح الشام قسط 17🏰 عنوان عروس الشام دمشق کا طویل محاصرہ، تاریخی مورچہ بندی اور رومیوں کا غرور🌍 دمشق کا حسن اور ...
31/08/2026

📜 داستان فتوح الشام قسط 17
🏰 عنوان عروس الشام دمشق کا طویل محاصرہ، تاریخی مورچہ بندی اور رومیوں کا غرور
🌍 دمشق کا حسن اور رومیوں کا ناقابل تسخیر دفاع
شام کا دل اور بازنطینی سلطنت کا سب سے خوبصورت اور مضبوط شہر دمشق اب مجاہدین کے سامنے تھا۔ اپنے سرسبز باغات، بہتی نہروں اور دلفریب حسن کی بدولت اسے اس دور میں عروس الشام یعنی شام کی دلہن کہا جاتا تھا۔ لیکن اس حسن کے گرد آسمان سے باتیں کرتی ہوئی وہ بلند و بالا اور چوڑی فصیلیں موجود تھیں جنہیں دیکھ کر ہی بڑے بڑے حملہ آوروں کے دل بیٹھ جاتے تھے۔ رومیوں نے شہر کے گرد ایک انتہائی گہری اور چوڑی خندق بھی کھود رکھی تھی جس میں نہر کا پانی چھوڑ دیا گیا تھا تاکہ کوئی دشمن فصیل کے قریب بھی نہ پھٹک سکے۔
قیصر روم ہرقل نے دمشق کی حفاظت کی ذمہ داری اپنے داماد اور سب سے قابل اعتماد جنگجو جرنیل طوماس یعنی تھامس کے سپرد کر رکھی تھی۔ طوماس بہت چالاک تھا۔ وہ جانتا تھا کہ کھلے میدان میں ان سرفروش عربوں کا مقابلہ کرنا موت کو دعوت دینا ہے، اس لیے اس نے خالص دفاعی حکمت عملی اپنائی۔ شہر کے تمام بھاری لوہے کے دروازے مقفل کر دیے گئے، فصیلوں پر منجنیقیں نصب کر دی گئیں اور ہزاروں تیر اندازوں کو دیواروں پر بٹھا دیا گیا جن کے پاس زہریلے تیروں کا بے پناہ ذخیرہ تھا۔ طوماس کو مکمل یقین تھا کہ دمشق کی یہ ناقابل تسخیر فصیلیں اور شام کی آنے والی خون جما دینے والی سردی ان صحرا نشینوں کو واپس لوٹنے پر مجبور کر دے گی۔

⚔️ اسلامی لشکر کی صف بندی اور دروازوں کا گھیراؤ
مسلمانوں کے نئے سپہ سالار اعظم سیدنا ابو عبیدہ بن الجراح اور سیف اللہ حضرت خالد بن ولید نے اس صورت حال کا جائزہ لیا اور شہر کے گرد گھیرا ڈالنے کے لیے ایک کمال درجے کی عسکری منصوبہ بندی کی۔ چونکہ دمشق بہت بڑا شہر تھا اور اس کے کئی دروازے تھے، اس لیے یہ فیصلہ کیا گیا کہ ہر دروازے پر ایک نامور سالار کو بٹھا کر شہر کا مکمل محاصرہ کیا جائے تاکہ اندر نہ کوئی بیرونی کمک جا سکے اور نہ ہی خوراک کا کوئی دانہ۔
ہر دروازے پر تاریخ کی عظیم شخصیات نے اپنے مورچے سنبھال لیے۔
مشرقی دروازے باب الشرقی پر حضرت خالد بن ولید نے اپنے جانثاروں کے ساتھ ڈیرے ڈالے۔
مغربی دروازے باب الجابیہ پر سیدنا ابو عبیدہ بن الجراح خود پوری شان و شوکت سے خیمہ زن ہوئے۔
باب الصغیر پر حضرت یزید بن ابی سفیان نے پہرہ سنبھالا۔
باب توما کی ناکہ بندی عرب کے سب سے زیرک سالار حضرت عمرو بن العاص نے کی۔
اور باب الفرادیس پر حضرت شرحبیل بن حسنہ نے اپنے مجاہدین کی صفیں بچھا دیں۔
یہ ایک ایسا محکم اور فولادی گھیراؤ تھا کہ دمشق کے اندر جانے والی ہوا تک مسلمانوں کے پہرے سے ہو کر گزرتی تھی۔ مجاہدین نے خندق کے اس پار اپنے خیمے گاڑ دیے اور فصیلوں پر کھڑے رومیوں کی نقل و حرکت پر عقاب جیسی نظریں جما لیں۔

❄️ کڑاکے کی سردی اور مسلمانوں کا صبر و استقامت
دن گزرتے گئے اور محاصرہ طویل ہوتا چلا گیا۔ اسی دوران شام کی وہ کڑاکے کی سردی شروع ہو گئی جس کے رومی شدت سے منتظر تھے۔ طوماس اور اس کے حواری فصیلوں سے جھانکتے اور انتظار کرتے کہ کب یہ عرب سردی سے ٹھٹھر کر اپنے خیمے اکھاڑیں گے اور بھاگ کھڑے ہوں گے۔
لیکن وہ یہ منظر دیکھ کر حیران اور خوفزدہ رہ گئے کہ یہ مجاہدین خیموں کے باہر برف باری اور ٹھنڈی ہواؤں کے باوجود رات کی تاریکی میں مصلوں پر جمے ہوئے ہیں، اور ان کے خیموں سے مسلسل کلام پاک کی تلاوت کی گونج آ رہی ہے۔ سردی، بھوک اور گھروں سے طویل دوری ان کے فولادی ارادوں میں ذرا برابر بھی دراڑ نہ ڈال سکی۔
حضرت ابو عبیدہ بن الجراح ہر رات لشکر کا گشت کرتے، مجاہدین کے الاؤ کے پاس بیٹھتے اور ان کے حوصلے بڑھاتے۔ انہوں نے واضح کر دیا تھا کہ جب تک دمشق کے دروازے کھل نہیں جاتے، اسلامی پرچم یہاں سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹے گا۔ طویل محاصرے کی وجہ سے دمشق کے باسیوں کا وہم اب ٹوٹنے لگا تھا اور شہر کے اندر ان کا ذخیرہ خوراک تیزی سے کم ہو رہا تھا۔

💡 فتوح الشام کے اس واقعے سے ملنے والے سبق
پہلا سبق استقامت اور صبر
کوئی بھی بڑی کامیابی راتوں رات نہیں ملتی۔ دمشق کا یہ محاصرہ مہینوں پر محیط رہا جو اس بات کا روشن سبق ہے کہ منزل جتنی بڑی ہو، اس کے لیے اتنے ہی طویل صبر اور استقامت کی ضرورت ہوتی ہے۔
دوسرا سبق بہترین ٹیم ورک اور نظم و ضبط
مسلمانوں کا شہر کے مختلف دروازوں پر باقاعدہ منصوبہ بندی سے مورچہ زن ہونا ثابت کرتا ہے کہ جنگوں میں صرف جذبہ کافی نہیں ہوتا، اس کے ساتھ بہترین ٹیم ورک، کمانڈ اور ڈسپلن عسکری کامیابی کی کنجی ہے۔
تیسرا سبق حالات کا مردانہ وار مقابلہ
رومیوں کا خیال تھا کہ سردی مسلمانوں کو ہرا دے گی، لیکن مجاہدین نے یہ ثابت کر دیا کہ جب انسان کے اندر کا ایمانی الاؤ روشن ہو تو باہر کا سخت ترین موسم بھی اس کے ارادوں کو منجمد نہیں کر سکتا۔

📌 اگلی قسط میں پڑھیے
دمشق کی فصیلوں سے رومی جرنیل طوماس کا اچانک اور ہولناک جوابی حملہ، زہریلے تیروں کی وہ بارش جس میں ایک نامور صحابی کی آنکھ ضائع ہوئی، اور میدان میں حضرت ضرار بن الازور کا وہ سنسنی خیز جوابی وار جس نے رومیوں کی چیخیں نکال دیں۔
🏷️

📜 مسیح دجال کا ظہور: حقائق، نشانیاں اور عبرت ناک انجام 📜🌍 تمہید اور پس منظرخالق کائنات نے جب انسانیت پر اپنا فضل مکمل فر...
31/08/2026

📜 مسیح دجال کا ظہور: حقائق، نشانیاں اور عبرت ناک انجام 📜
🌍 تمہید اور پس منظر
خالق کائنات نے جب انسانیت پر اپنا فضل مکمل فرما کر دین اسلام کی تکمیل کر دی، تو اپنے آخری پیغمبر کو قرب قیامت کے ان ہولناک فتنوں سے بھی آگاہ فرما دیا جو دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔ ان تمام مصائب میں سب سے لرزہ خیز اور ہولناک فتنہ مسیح دجال کا ظہور ہے۔ تاریخ انسانی میں حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے لے کر روز قیامت تک اس سے بڑا کوئی فتنہ برپا نہیں ہوگا۔ سید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سمیت ہر نبی نے اپنی قوم کو اس کے شر سے ڈرایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی شناخت واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ بنی نوع انسان میں سے ایک مرد ہوگا جسے رب ذوالجلال بطور آزمائش حیرت انگیز طاقتیں عطا فرمائے گا۔ وہ مافوق الفطرت کمالات دکھائے گا تاکہ کھرے اور کھوٹے کی پہچان ہو سکے اور اہل ایمان کو کافروں سے ممتاز کیا جا سکے۔

👁️ حلیہ اور وجہ تسمیہ
دجال وہ کانا اور کذاب شخص ہے جو دنیا کے آخری ایام میں خدائی کا جھوٹا دعویٰ کرے گا۔ پروردگار اسے ایسی استدلال شکن توانائیاں بخشے گا جن کے جادو میں آ کر گمراہ لوگ اس کے مرید بن جائیں گے۔ دجال کا لفظ دجل سے نکلا ہے جس کا مطلب دھوکہ دینا، مکر کرنا اور سچائی پر جھوٹ کا غلاف چڑھانا ہے۔ اسے مسیح اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی دائیں آنکھ ممسوح یعنی بالکل سپاٹ اور بے نور ہوگی، یا اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ وہ انتہائی مختصر عرصے میں پوری دنیا کا چکر لگا لے گا۔ اگر اس کی جسمانی خدوخال کی بات کی جائے تو وہ سرخ و سفید رنگت والا ایک خوبرو اور لحیم شحیم جوان ہوگا۔ اس کا ماتھا کشادہ اور ایک آنکھ خشک انگور کی طرح ابھری ہوئی اور بے رونق ہوگی۔ سب سے بڑی نشانی یہ ہوگی کہ اس کی دونوں آنکھوں کے عین درمیان کافر کندہ ہوگا جسے دنیا کا ہر سچا مسلمان باآسانی پڑھ لے گا۔

🏝️ جزیرے میں قید اور حدیث تمیم داری
دجال کے موجودہ ٹھکانے کے بارے میں مستند احادیث بالخصوص حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ سے مروی روایات رہنمائی کرتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور مبارک میں بھی موجود تھا اور نامعلوم سمندری حدود کے کسی گمنام جزیرے میں قید ہے۔ وہ اس وقت تک پابند سلاسل رہے گا جب تک کہ اللہ رب العزت اسے باہر نکلنے کا اذن نہ بخشے۔ حضرت تمیم داری اپنے دیگر تیس ساتھیوں کے ہمراہ سمندری طوفان میں بھٹک کر اسی جزیرے پر جا پہنچے تھے، جہاں ان کا سامنا جساسہ نامی ایک عجیب الخلقت اور گھنے بالوں والے جانور سے ہوا۔ اسی جانور نے انہیں بتایا کہ خانقاہ کے اندر موجود شخص دجال ہے۔ قدرت کاملہ نے اپنی بے پناہ حکمت کے تحت اسے بھاری زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے۔ اس بالوں والی مخلوق نے تمیم داری اور ان کے رفقاء سے نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے متعلق بھی استفسار کیا اور واضح کیا کہ دیوار کی دوسری جانب قید شخص دراصل مسیح دجال ہی ہے۔

📖 سابقہ الہامی کتب میں تذکرہ
احادیث مبارکہ میں تو دجال کا احوال نہایت باریک بینی سے بیان کیا گیا ہے، تاہم کلام پاک میں اس کا نام کھلے لفظوں میں نہیں لیا گیا، البتہ قرب قیامت کے فتنوں کی جانب واضح اشارے موجود ہیں۔ دوسری جانب تورات اور انجیل جیسی سابقہ الہامی کتابوں میں عیسائی اور یہودی اس سے ملتی جلتی ایک ہستی کا ذکر کرتے ہیں جسے اینٹی کرائسٹ یا مسیح کا دشمن پکارا جاتا ہے۔ بائبل کے نئے عہد نامے میں یوحنا کے مراسلات میں اس کا تذکرہ ملتا ہے، جبکہ پرانے عہد نامے کے صحیفہ دانیال میں بھی اس حوالے سے پیش گوئیاں موجود ہیں۔ یہودی عقائد کے مطابق دجال ان کے قبیلہ دان کی نسل سے ظہور پذیر ہوگا۔

⚔️ خروج اور تباہ کاریوں کا آغاز
اس کا ظہور ان قیامت خیز واقعات کے بعد ہوگا جن کی شروعات مسلمانوں کے ہاتھوں قسطنطنیہ کی عظیم الشان فتح سے ہوگی۔ یہ معرکہ بغیر کسی خون خرابے کے محض ستر ہزار مجاہدین کی تکبیرات اور تسبیحات کی گونج سے سر ہوگا۔ فصیل کا ایک حصہ گرے گا پھر دوسرا اور مجاہدین اسلام فاتحانہ انداز میں داخل ہو کر مال غنیمت سمیٹیں گے۔ ابھی وہ ان اموال کی تقسیم میں ہی مصروف ہوں گے کہ اچانک صدائیں گونجیں گی کہ دجال نکل آیا ہے۔ یہ سنتے ہی مسلمان سب کچھ وہیں چھوڑ کر پلٹ پڑیں گے۔ نبی مہربان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیش گوئی کے عین مطابق یہی وہ وقت ہوگا جب دجال دنیا میں فساد مچانا شروع کرے گا۔ اس سے قبل امام مہدی کا ظہور ہو چکا ہوگا جو دنیا کو عدل و انصاف سے منور کر چکے ہوں گے، اور تین سالہ شدید ترین قحط بھی گزر چکا ہوگا۔ دجال کا خروج مشرق کی سمت اصفہان کے علاقے یہودیہ سے ہوگا اور سبز چادریں اوڑھے ستر ہزار یہودی اس کے حامی دستوں میں شامل ہوں گے۔ وہ ابتدا میں پارسائی کا لبادہ اوڑھے گا، پھر اقتدار کا، اس کے بعد جھوٹی نبوت کا اور آخر میں خدائی کا دعویدار بن بیٹھے گا۔ وہ آسمان کو حکم دے گا تو بارش ہوگی، زمین سے کہے گا تو فصلیں اگ آئیں گی۔ اس کے ان کرشموں اور شعبدہ بازیوں کو دیکھ کر کچے عقیدے والے لوگ اس کے جال میں پھنس جائیں گے جبکہ سچے مسلمان ثابت قدم رہیں گے۔ وہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے سوا دنیا کے ہر کونے میں جائے گا، مگر ان دو مقدس شہروں کی سرحد پر فرشتوں کو ننگی تلواریں لیے پہرا دیتے پائے گا جو اسے داخل نہیں ہونے دیں گے۔

🕊️ سیدنا عیسیٰ کا نزول اور فتنے کا خاتمہ
جب دجال کی فوجیں بیت المقدس کا گھیراؤ کر کے اہل حق سے جنگ کی تیاریاں کر رہی ہوں گی، تو عین اسی وقت دمشق کی جامع مسجد کے مشرقی سفید مینار پر حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کا نزول ہوگا۔ وہ زرد رنگ کے ملبوسات پہنے دو فرشتوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے آسمان سے اتریں گے۔ آپ علیہ السلام دجال کا تعاقب کریں گے اور سر زمین فلسطین پر واقع باب لد کے مقام پر اسے جا لیں گے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نگاہ پڑتے ہی دجال کا جسم یوں گھلنے لگے گا جیسے پانی میں نمک پگھلتا ہے۔ آخر کار آپ علیہ السلام کے نیزے کا وار اس کا کام تمام کر دے گا۔ یہ معرکہ حق و باطل، کفر کی تاریکیوں پر نور ایمانی کی شاندار اور حتمی فتح ثابت ہوگا۔ یوں انسانی تاریخ کے اس بدترین اور تاریک ترین فتنے کا قلع قمع ہو جائے گا۔ اس کے بعد دنیا میں امن و آشتی کا ایسا دور دورہ ہوگا جو یاجوج ماجوج کے خروج تک قائم رہے گا۔

📢 ایک اہم پیغام
اس ہوش ربا اور ایمان افروز معلومات کو اپنے تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے وسیع پیمانے پر پھیلائیں تاکہ ہر خاص و عام کو دجال کے خروج، اس کی نشانیوں، موجودہ قید خانے اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں اس کے دردناک انجام کی مکمل حقیقت معلوم ہو سکے۔ اسے دوسروں تک پہنچا کر ثواب جاریہ کا حصہ بنیں تاکہ لوگ اس عظیم فتنے کی سنگینی کو سمجھ کر اپنے ایمان کی حفاظت کر سکیں، نیک اعمال میں دل لگائیں اور سورۃ الکہف کی تلاوت کو اپنا معمول بنا کر دجال کے شر سے پناہ مانگیں۔ یاد رکھیں، نیکی کا راستہ دکھانے والا بھی نیکی کرنے والے کے برابر اجر پاتا ہے۔ رحمت اللعالمین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کی پاکیزہ آل اور جانثار اصحاب پر درود و سلام کی کثرت کریں، اور اپنے پروردگار کے حضور سچے دل سے توبہ و استغفار کریں کیونکہ وہ ذات بے حد رحم کرنے والی اور توبہ قبول کرنے والی ہے۔

مستند مراجع:
صحیح البخاری
صحیح مسلم
سنن ابی داؤد
سنن الترمذی

Address

Swabi
23430

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dastanehaq posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share