02/09/2026
📜داستان فتوح الشام قسط 19
عنوان صلح اور جنگ کا عجیب سنگم دمشق کی گلیاں اور دو عظیم سالاروں کا ٹکراؤ
شہر کے اندر تکبیر کی گونج اور رومیوں میں کہرام
رات کا پچھلا پہر ختم ہو رہا تھا اور صبح کی سفیدی بس نمودار ہونے کو تھی۔ باب الشرقی یعنی دمشق کے مشرقی دروازے سے خالد بن ولید اپنے جانبازوں کے ساتھ طوفان کی طرح اندر داخل ہو چکے تھے۔ ان کی تلواریں بجلی کی طرح چمک رہی تھیں اور تکبیر کی آوازوں نے دمشق کی گلیوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ خالد جس گلی سے گزرتے، رومی پہرے داروں کو گاجر مولی کی طرح کاٹتے چلے جاتے۔ اب تک دمشق جنگ کے زور سے فتح ہو رہا تھا اور رومیوں پر موت کا خوف اس طرح طاری تھا کہ جو بھی خالد کے سامنے آتا، وہیں ڈھیر ہو جاتا۔
دوسری طرف رومیوں کی چال اور ابو عبیدہ کی نرمی
شہر کے دوسری طرف، باب الجابیہ کے قریب ابو عبیدہ بن الجراح خیمہ زن تھے۔ رومی سرداروں اور پادریوں کو جب خبر ملی کہ خالد مشرقی دروازہ توڑ کر اندر گھس آئے ہیں اور قتل عام کر رہے ہیں، تو ان کے ہوش اڑ گئے۔ وہ جانتے تھے کہ خالد کی تلوار سے بچنا اب ناممکن ہے۔ انہوں نے فورا ایک چال چلی۔ وہ باب الجابیہ کی فصیل پر آئے اور امین امت ابو عبیدہ کو پکارا۔ انہوں نے روتے گڑگڑاتے ہوئے کہا کہ ہم صلح چاہتے ہیں۔ ہم ہتھیار ڈالتے ہیں، ہمیں اور ہمارے مال کو پناہ دے دو۔ ابو عبیدہ، جو اپنی نرم دلی اور رحم کے لیے مشہور تھے، انہوں نے رومیوں کی حالت زار دیکھی تو فورا صلح قبول کر لی۔ انہوں نے ایک تحریر لکھ کر دی کہ دمشق والوں کی جان، مال اور گرجا گھر محفوظ رہیں گے، بشرطیکہ وہ جزیہ دیں۔ رومیوں نے فورا مغربی دروازہ کھول دیا اور ابو عبیدہ امن کا پرچم لہراتے ہوئے شہر میں داخل ہو گئے۔
دمشق کے وسط میں دو عظیم سالاروں کا تاریخی آمنا سامنا
یہ ایک عجیب اور حیرت انگیز منظر تھا۔ خالد بن ولید مشرقی دروازے سے جنگ کرتے ہوئے، خون میں لت پت تلواریں لیے شہر کے وسط یعنی کلیسا مریم کے قریب پہنچے۔ ان کے ساتھ مجاہدین جوش اور جذبے سے نعرے لگا رہے تھے۔ ٹھیک اسی وقت سامنے سے ابو عبیدہ نمودار ہوئے۔ ان کے ساتھ رومی سردار اور پادری تھے، اور ان کے ہاتھ میں صلح کا پرچم تھا۔ خالد نے رومیوں کو زندہ دیکھا تو حیران رہ گئے اور اپنی تلوار تان لی۔ انہوں نے گرجدار آواز میں کہا ابو عبیدہ! آپ ان کتوں کو پناہ دے رہے ہیں؟ میں نے انہیں جنگ سے جیتا ہے اور یہ دروازہ میں نے اپنی تلوار سے توڑا ہے۔
ابو عبیدہ نے انتہائی تحمل سے جواب دیا خالد، میرے بھائی! میں نے انہیں امان دے دی ہے اور صلح کا معاہدہ لکھ چکا ہوں۔ اب ہم ان پر تلوار نہیں اٹھا سکتے۔
خالد نے غصے سے کہا میں نے خون بہایا ہے، میرے ساتھیوں نے جانیں دی ہیں، میں اس صلح کو نہیں مانتا۔
یہ وہ لمحہ تھا جہاں دو عظیم سوچیں ٹکرا رہی تھیں۔ ایک طرف خالد کا جنگی جوش اور خون کا حساب تھا، اور دوسری طرف ابو عبیدہ کا دیا ہوا امن کا وعدہ۔ صحابہ کرام کے درمیان ایک بحث چھڑ گئی۔ کچھ خالد کے حق میں تھے کہ شہر جنگ سے فتح ہوا ہے، اور کچھ ابو عبیدہ کے ساتھ تھے کہ مسلمانوں کا وعدہ پتھر کی لکیر ہوتا ہے۔
مسلمانوں کا وہ عدل جس نے دنیا کو حیران کر دیا
اس نزاع کو حل کرنے کے لیے دونوں سالار ایک جگہ بیٹھے اور دیگر صحابہ سے مشورہ کیا۔ طویل بحث کے بعد جو فیصلہ ہوا، اس نے دمشق والوں پر سحر کر دیا۔ فیصلہ یہ ہوا کہ دمشق کا وہ آدھا حصہ جو خالد نے جنگ سے فتح کیا ہے، وہ مفتوحہ علاقہ کہلائے گا، اور جو آدھا حصہ ابو عبیدہ کی صلح سے فتح ہوا ہے، وہ صلح کا علاقہ مانا جائے گا۔ لہذا کلیسا مریم کو آدھا مسجد بنا دیا گیا اور آدھا عیسائیوں کے پاس رہنے دیا گیا۔ رومی سردار یہ انصاف دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ انہوں نے دیکھا کہ یہ مسلمان اپنے ساتھی کی تلوار کی طاقت کے باوجود اپنے ایک کمانڈر کے وعدے کی پاسداری کر رہے ہیں۔
طوماس اور اس کے ساتھیوں کی رخصتی
اس صلح کے تحت دمشق کا حاکم طوماس، جس کی آنکھ ام ابان کے تیر سے پھوٹ چکی تھی، اپنے خزانوں اور ان لوگوں کو لے کر دمشق سے نکلنے کے لیے تیار ہو گیا جو مسلمانوں کی حکومت میں نہیں رہنا چاہتے تھے۔ ابو عبیدہ نے انہیں تین دن کی مہلت دی کہ وہ جہاں جانا چاہیں، جا سکتے ہیں، مسلمان تین دن تک ان کا پیچھا نہیں کریں گے۔ طوماس اپنے قافلے کے ساتھ دمشق سے نکلا تو اس کا دل حسرت اور انتقام سے بھرا ہوا تھا، لیکن وہ بے بس تھا۔
اس واقعے سے ہمیں کیا سبق ملتا ہے
پہلا سبق وعدے کی پاسداری
مسلمانوں نے طاقت کے نشے میں اپنے ایک جرنیل کے وعدے کو نہیں توڑا۔ یہی وہ اخلاق تھا جس نے دنیا کو اسلام کی طرف کھینچا۔ وعدہ خلافی خواہ کسی کے ساتھ بھی ہو، اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔
دوسرا سبق اختلافات کو شائستگی سے حل کرنا
خالد اور ابو عبیدہ کے درمیان اختلاف ہوا، لیکن انہوں نے اسے آپسی لڑائی نہیں بننے دیا بلکہ مل بیٹھ کر مشورے سے ایک ایسا درمیانی راستہ نکالا جس سے دونوں کی بات رہ گئی۔
تیسرا سبق رحم اور عدل کا امتزاج
اسلامی فتوحات صرف تلوار کے زور پر نہیں ہوئیں، بلکہ ان میں ابو عبیدہ جیسی نرمی اور عدل بھی شامل تھا۔ جہاں سختی کی ضرورت تھی وہاں خالد کی تلوار تھی، اور جہاں صلح کی گنجائش تھی وہاں ابو عبیدہ کا رحم تھا۔
اگلی قسط میں پڑھیے
طوماس دمشق سے نکل کر کس طرف گیا؟ کیا خالد بن ولید اسے اتنی آسانی سے جانے دینے والے تھے؟ تین دن کی مہلت ختم ہوتے ہی خالد نے صحرا کا وہ کون سا پراسرار اور ناممکن راستہ چنا جس نے طوماس کے قافلے کو بیچ راستے میں گھیر لیا؟
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی اپنے ان نیک بندوں کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔"