GHSS OnaDherai ,Matta, Swat

GHSS OnaDherai ,Matta, Swat Free and Standard Education
(1)

29/03/2026
29/03/2026

نمبروں کی دوڑ اور ٹوٹتے ہوئے بچے 🥇🥇🏅

یہ کیسا زمانہ آ گیا ہے جہاں بچوں کے خواب نہیں، ان کے نمبر گنے جاتے ہیں۔
جہاں مسکراہٹ کی قیمت نہیں، بلکہ رزلٹ کارڈ کی لائنوں میں لکھی ہوئی فیصدی اہم ہو چکی ہے
۔
آج کا بچہ بچہ نہیں رہا، ایک “پروجیکٹ” بن چکا ہے
ایسا پروجیکٹ جس سے ہر قیمت پر “پہلی پوزیشن” نکالنی ہے، چاہے اس کی معصومیت کچلی جائے، اس کا اعتماد ٹوٹ جائے یا اس کی سانسیں ہی کیوں نہ رک جائیں۔
سوال یہ ہے کہ آخر ہم اپنے بچوں کے ساتھ کر کیا رہے ہیں؟
یہ جو ہم نے ایک اندھی دوڑ شروع کر رکھی ہے—پوزیشن، گریڈ، ٹاپر—یہ تعلیم نہیں، یہ ایک بے رحم مقابلہ ہے۔ ایک ایسا مقابلہ جس میں جیتنے والے چند ہوتے ہیں، لیکن ہارنے والے ہزاروں… اور ان ہارنے والوں میں صرف نمبر کم آنے والے بچے نہیں ہوتے، بلکہ ان کے خواب، ان کی خودی، اور کئی بار ان کی زندگیاں بھی شامل ہوتی ہیں۔
ہمیں ماننا ہوگا کہ اس تباہی کے دو بڑے کردار ہیں:

والدین… اور پرائیویٹ سکول۔
پرائیویٹ سکولوں نے “ہر بچے کو پوزیشن” دینے کا جو مصنوعی نظام بنایا ہے، اس نے تعلیم کو ایک سرکس بنا دیا ہے
ہر بچہ “خاص" ہے، ہر بچہ “ٹاپر” ہے
—لیکن حقیقت میں یہ ایک نفسیاتی جال ہے۔ اس جال میں بچے نہیں، ان کے والدین پھنس جاتے ہیں۔ پھر وہی والدین اپنے بچوں کو اسی جھوٹے معیار پر پرکھنے لگتے ہیں۔
اور جب حقیقت سامنے آتی ہے—جب بچہ پہلی پوزیشن نہیں لے پاتا، جب نمبر کم آ جاتے ہیں—تو وہی گھر جو اس کی پناہ ہونا چاہیے تھا، اس کے لیے ایک عدالت بن جاتا ہے۔
سوال، طعنے، موازنہ… اور ایک ایسا دباؤ جو آہستہ آہستہ بچے کی روح کو گھونٹ دیتا ہے۔
ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ایک کم عمر ذہن اس بوجھ کو کیسے برداشت کرتا ہوگا؟
وہ بچہ جو صرف تھوڑی سی تعریف، تھوڑا سا حوصلہ چاہتا ہے، اسے ہم ناکامی کا طعنہ دے کر کیا بنا رہے ہیں؟
یہی وہ مقام ہے جہاں سے کہانیاں بدلتی ہیں—
_کچھ بچے خاموش ہو جاتے ہیں،

کچھ بغاوت کر دیتے ہیں،_
اور کچھ… ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جاتے ہیں۔
یہ صرف اعداد و شمار نہیں، یہ ہمارے رویوں کا نتیجہ ہے۔
تعلیم کا مقصد کبھی بھی “پہلی پوزیشن” نہیں تھا۔
تعلیم کا مقصد انسان بنانا تھا۔ سوچنے والا، سمجھنے والا، جینے والا انسان۔
لیکن ہم نے تعلیم کو ایک ریس کورس بنا دیا ہے جہاں بچے گھوڑوں کی طرح دوڑا دیے گئے ہیں، اور ہم تماشائی بن کر تالیاں بجا رہے ہیں۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم رکیں… اور خود سے ایک سادہ سا سوال پوچھیں:

کیا ہمیں ایک کامیاب بچہ چاہیے یا ایک زندہ بچہ؟
اگر آپ کا بچہ کم نمبر لے آتا ہے، تو اس کے کندھے پر ہاتھ رکھیں، اس کی ہمت بڑھائیں، اس کو یہ احساس دیں کہ وہ نمبر سے بڑھ کر ہے۔
کیونکہ یقین مانیں، ایک بچہ جسے قبولیت مل جائے، وہ زندگی میں بہت آگے جاتا ہے—اور ایک بچہ جسے صرف دباؤ ملے، وہ کہیں نہ کہیں ٹوٹ جاتا ہے۔
یہ جنگ نمبروں کی نہیں، ذہنوں کی ہے۔
اور اگر ہم نے آج بھی نہ سمجھا… تو کل ہمارے پاس صرف خالی رپورٹ کارڈ ہوں گے، اور ان کے پیچھے چھپے ہوئے ٹوٹے ہوئے بچے۔
فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے—
ہم نے بچوں کو بنانا ہے… یا بگاڑنا ہے۔
منقول

DateSheet SSC-I 2026 BISE Swat (For Students & Parents Info)
28/03/2026

DateSheet SSC-I 2026 BISE Swat (For Students & Parents Info)

د وڑوکی اختر لوئے خوشالئ مو مبارک شہ
20/03/2026

د وڑوکی اختر لوئے خوشالئ مو مبارک شہ

11/03/2026

تعطیلات میں تعلیمی تسلسل کیسے برقرار رکھا جائے؟

تعطیلات عموماً سکولوں میں تعلیمی عمل کے رک جانے کا سبب بن جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں طلباء کی سیکھنے کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر بچوں کا سیکھنے کا سلسلہ طویل عرصے تک منقطع رہے تو وہ پہلے سے سیکھی ہوئی چیزوں کا کچھ حصہ بھول بھی جاتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ سکول انتظامیہ اور اساتذہ ایسی حکمتِ عملی اختیار کریں جس کے ذریعے تعطیلات کو بھی سیکھنے کے مواقع میں تبدیل کیا جا سکے۔
ذیل میں چند مؤثر طریقے پیش کیے جا رہے ہیں جن کے ذریعے تعطیلات کے دوران بھی تعلیمی عمل کو جاری رکھا جا سکتا ہے۔

1. ہوم لرننگ پیکج (Home Learning Package)
تعطیلات سے پہلے طلباء کو ایک منظم ہوم لرننگ پیکج فراہم کیا جائے۔ اس میں ایسی سرگرمیاں شامل ہوں جو بچوں کو سوچنے، سمجھنے اور مشاہدہ کرنے پر آمادہ کریں۔ مثلاً:
* مختصر اسائنمنٹس
* ریڈنگ ایکٹیویٹیز
* مشاہداتی سرگرمیاں
* حقیقی زندگی سے متعلق مسائل
یہ سرگرمیاں زیادہ مشکل نہ ہوں بلکہ ایسی ہوں جنہیں بچے خود اعتمادی کے ساتھ مکمل کر سکیں۔

2. مطالعہ کی عادت کو فروغ دینا
تعطیلات بچوں میں کتاب دوستی پیدا کرنے کا بہترین موقع ہوتی ہیں۔ اس دوران بچوں کو نصابی کتابوں کے ساتھ ساتھ مختلف اقسام کی کتب پڑھنے کی ترغیب دی جا سکتی ہے، جیسے:
* کہانیاں
* سائنسی معلوماتی کتابیں
* سوانح عمریاں
* اسلامی یا اخلاقی ادب
اساتذہ بچوں کو Reading Log یا مطالعہ ڈائری دے سکتے ہیں جس میں وہ روزانہ پڑھنے کا مختصر خلاصہ لکھیں۔

3. پراجیکٹ بیسڈ لرننگ
تعطیلات میں طلباء کو ایسے پراجیکٹس دیے جائیں جو انہیں تحقیق، مشاہدہ اور تخلیقی سوچ کی طرف لے جائیں۔
مثالیں:
* گھر میں پانی یا بجلی کے استعمال کا ریکارڈ تیار کرنا
* اپنے خاندان کا سادہ شجرہ نسب بنانا
* اپنے محلے کا نقشہ تیار کرنا
* کسی سائنسی تصور پر سادہ تجربہ کرنا
اس طرح طلباء Learning by Doing کے اصول کے تحت زیادہ مؤثر انداز میں سیکھتے ہیں۔

4. ڈیجیٹل لرننگ کا استعمال
اگر سہولیات موجود ہوں تو اساتذہ تعطیلات کے دوران بھی طلباء سے رابطہ برقرار رکھ سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر:
* آن لائن تعلیمی ویڈیوز
* واٹس ایپ یا دیگر آن لائن گروپس
* مختصر آن لائن کوئز
* تعلیمی ایپس کا استعمال
یہ طریقہ خاص طور پر بڑے بچوں کے لیے خود سیکھنے (Self Learning) کے مواقع فراہم کرتا ہے۔

5. روزمرہ زندگی سے سیکھنے کے مواقع
تعلیم صرف کتابوں تک محدود نہیں ہوتی۔ تعطیلات میں بچوں کو روزمرہ زندگی کے مختلف کاموں کے ذریعے سیکھنے کا موقع دیا جا سکتا ہے۔ مثلاً:
* خریداری کرتے وقت حساب لگانا
* کھانا بنانے میں پیمائش اور تناسب کو سمجھنا
* گھر کے بزرگوں سے تاریخی واقعات یا زندگی کے تجربات سننا
* پودے لگانا اور ان کی نشوونما کا مشاہدہ کرنا
اس طرح بچے علم کو عملی زندگی سے جوڑنا سیکھتے ہیں۔

6. والدین کی شمولیت
تعطیلات کے دوران والدین کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے۔ سکول کو چاہیے کہ والدین کو سادہ ہدایات فراہم کرے، جیسے:
* بچوں کے ساتھ روزانہ کم از کم 20 سے 30 منٹ تعلیمی سرگرمی کریں
* بچوں کے سوالات کی حوصلہ افزائی کریں
* موبائل اور ٹی وی کے غیر ضروری استعمال کو محدود کریں
* بچوں کے ساتھ مطالعہ اور گفتگو کا ماحول بنائیں
یہ تعاون بچوں کی تعلیمی دلچسپی اور اعتماد کو بڑھاتا ہے۔

7. تخلیقی اور ہم نصابی سرگرمیاں
تعطیلات بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو ابھارنے کا بہترین موقع بھی ہیں۔ اس دوران بچوں کو درج ذیل سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ترغیب دی جا سکتی ہے:
* ڈرائنگ اور پینٹنگ
* کہانی نویسی
* تقریری مشق
* سائنسی ماڈل بنانا
* دستکاری
یہ سرگرمیاں بچوں میں تخلیقی سوچ اور خود اظہار کو فروغ دیتی ہیں۔

8. تعطیلات کے بعد جائزہ اور حوصلہ افزائی
جب سکول دوبارہ کھلیں تو اساتذہ کو چاہیے کہ طلباء کی تعطیلاتی سرگرمیوں کا جائزہ لیں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ مثلاً:
* طلباء کے پراجیکٹس کی نمائش
* بہترین اسائنمنٹس کو سراہنا
* طلباء کو اپنے تجربات بیان کرنے کا موقع دینا
اس سے بچوں کو احساس ہوتا ہے کہ ان کی محنت اہم اور قابلِ قدر ہے۔

✅حاصل کلام
اگر تعطیلات کو محض آرام کا وقت سمجھنے کے بجائے سیکھنے اور شخصیت سازی کے مواقع کے طور پر استعمال کیا جائے تو طلباء کا تعلیمی تسلسل برقرار رہتا ہے۔ اساتذہ، سکول انتظامیہ اور والدین کے باہمی تعاون سے تعطیلات بھی بچوں کی علمی، فکری اور تخلیقی نشوونما کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔
AMEL Pakistan


#تعلیم

11/03/2026

DCTE assessment
Grade 6th & 9th
Briefing.... 11/03/2026

Address

Swat

Opening Hours

Monday 07:30 - 13:00
Tuesday 07:30 - 13:00
Wednesday 13:00 - 13:00
Thursday 07:30 - 13:00
Friday 07:30 - 12:00
Saturday 07:30 - 13:00

Telephone

+92946883676

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when GHSS OnaDherai ,Matta, Swat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to GHSS OnaDherai ,Matta, Swat:

Share