05/08/2026
ایک چراغ اور بجھا، اک عہد کا خاتمہ ہو گیا...
دل انتہائی غمزدہ اور آنکھیں اشکبار ہیں، دو دن گزر گئے لیکن دل اس تلخ حقیقت کو ماننے کے لیے تیار ہی نہیں کہ ہمارے انتہائی محترم، شفقت کے مجسمے اور عظیم استاد جناب عبدالقیوم استاد صاحب اب ہم میں نہیں رہے۔
عبدالقیوم استاد صاحب صرف ایک معلم نہیں تھے، بلکہ بچپن سے لے کر آج تک وہ میرے لیے ایک شفیق چچا اور زندگی کے ہر موڑ پر بہترین رہنما کی مانند تھے۔ ان سے میرا رشتہ صرف استاد اور شاگرد کا نہیں، بلکہ ایک انتہائی گہرے احترام، محبت اور عقیدت کا تھا۔
ابھی بمشکل ایک ہفتہ پہلے ہی ان سے ملاقات ہوئی تھی... لیکن جب میں نے ان کو کمزور اور ڈھلتی ہوئی صحت میں دیکھا تو دل دہل گیا تھا۔ وہی عبدالقیوم استاد صاحب جو کبھی توانائی، جذبے اور متحرک زندگی سے بھرپور ہوا کرتے تھے، انہیں اس حالت میں دیکھ کر دل اندر سے رو پڑا تھا۔ کاش خبر ہوتی کہ وہ ہماری آخری ملاقات ہے...
بشپنڈ کی مٹی کا یہ عظیم، شریف النفس اور تعلیم یافتہ ہیرا آج ہم سے جدا ہو گیا۔ بشپنڈ کا کون سا ایسا فلاحی کام تھا جس میں عبدالقیوم استاد صاحب پیش پیش نہ ہوتے؟ وہ ہر غم میں، ہر دکھ درد میں پورے علاقے کے لیے ایک مضبوط سہارا تھے۔
کتنی دردناک اور عجب بات ہے کہ بشپنڈ میں جب بھی کوئی اس فانی دنیا سے رخصت ہوتا تھا، تو اس کی رحلت کا اعلان خود عبدالقیوم استاد صاحب اپنی آواز میں کیا کرتے تھے... لیکن دو دن پہلے جب ان کی اپنی ہی وفات کی خبر ملی تو جیسے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ دنیا کا قانون یہی ہے کہ ہر روح کو لوٹ کر اپنے رب کے پاس جانا ہے، لیکن استاد صاحب کا جانا ایک ایسا خلا چھوڑ گیا ہے جو کبھی پر نہیں ہو سکے گا۔
اللہ تعالیٰ عبدالقیوم استاد صاحب کو اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ ترین مقام عطا فرمائے، ان کی تمام تر خدمات اور حسنات کو قبول فرمائے اور ان کی کامل مغفرت فرمائے۔ آمین یا رب العالمین!
آپ کی یادیں اور آپ کی دی ہوئی تعلیمات ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گی۔