Syed Muzammal Rizvi's Poetry

Syed Muzammal Rizvi's Poetry like my page please

29/01/2021

سرور کی لاڈلی ہے حیدر کی محسنہ
کیسے مثال دوں میں اس بے مثال کی

مدحت لکھوں میں اس کی میری مجال کیا
سورج پہ دسترس ہو جس کے بلال کی

༺سیدمزمل رضوی༻

مجھ کو تیری باتیں اچھی لگتی تھیںتم کو میرا ہسنا اچھا لگتا تھاتم کو مجھ سے پیار ہے گہری شدت کامجھ سے ہر دم کہنا اچھا لگتا...
03/03/2020

مجھ کو تیری باتیں اچھی لگتی تھیں
تم کو میرا ہسنا اچھا لگتا تھا
تم کو مجھ سے پیار ہے گہری شدت کا
مجھ سے ہر دم کہنا اچھا لگتا تھا
جب ہم دونوں دونوں میں ہم ہوتے تھے
تم کو میرے پاس ہی رہنا اچھا لگتا تھا
کچی سڑک پہ بستہ بغل میں ڈالے ہوئے
مل کر ساتھ میں چلنا اچھا لگتا تھا
یسو پنجو والی کھیل کے تھپڑ اور
پھر ہاتھوں کا ملنا اچھا لگتا تھا
ساری دنیا سے ناواقف رہتے تھے
دھوپ میں بیٹھ کے جلنا اچھا لگتا تھا
کتنا اچھا دور تھا دور پرانے کا
بوڑھی دادی کو تنگ کرنا اچھا لگتا تھا

سید مزمل رضوی

ہم نے کیا تھا کل جو ہمیں پر اُتر رہا ہےافلاک کا غُبار بھی یہیں پر اتر رہا ہےخالی پڑی وہ چھتری بس سوچتی رہیمجھ سے اُڑا کب...
27/02/2020

ہم نے کیا تھا کل جو ہمیں پر اُتر رہا ہے
افلاک کا غُبار بھی یہیں پر اتر رہا ہے
خالی پڑی وہ چھتری بس سوچتی رہی
مجھ سے اُڑا کبوتر کہیں پر اُتر رہا ہے
کچھ تو غلط ہوا ہے اب مان جایئے
جو ہاں کا پرستار بھی نہیں پر اُتر رہا ہے
اس سے بڑا عزاب کیا ہو گا غریب پہ
خشیوں کا ایک بادل غمیں پر اُتر رہا ہے
نفرت کی یہ حرارت کتنی ہے بڑھ گئی
سورج پگھل پگھل کے زمیں پر اُتر رہا ہے
سید مزمل رضوی

خوشیاں دیکھیں ہیں غم دیکھ چکے ہیںدِل جِگر آنکھیں  نٙم دیکھ چُکے ہیںتُم کو دیکھنے کی حسرت ہی نہیں باقی رضویاب خود میں چُھ...
27/02/2020

خوشیاں دیکھیں ہیں غم دیکھ چکے ہیں
دِل جِگر آنکھیں نٙم دیکھ چُکے ہیں
تُم کو دیکھنے کی حسرت ہی نہیں باقی رضوی
اب خود میں چُھپے تُم کو ہم دیکھ چُکے ہیں

سید مزمل رضوی

میرے میسج پہ تیرا رِپلائے نا کرناجیسے درد پہ کسی ڈھیٹھ کا ہائے نا کرناسید مزمل رضوی
26/02/2020

میرے میسج پہ تیرا رِپلائے نا کرنا
جیسے درد پہ کسی ڈھیٹھ کا ہائے نا کرنا
سید مزمل رضوی

سورج کی شعاعوں کی ضرورت ہی نہیںاپنی ہی حرارت سے جل جاوں گا میںتُم ہاتھوں کو ملتی رہ جاو گی جاناںتیرے آنچل کے سائے میں پِ...
26/02/2020

سورج کی شعاعوں کی ضرورت ہی نہیں
اپنی ہی حرارت سے جل جاوں گا میں
تُم ہاتھوں کو ملتی رہ جاو گی جاناں
تیرے آنچل کے سائے میں پِگھل جاوں گا میں
سید مزمل رضوی

میری توبہ بھی رایئگاں گزری رضویاُسکی آنکھوں میں پھر سے جھانکا ہےسید مزمل رضوی
03/02/2020

میری توبہ بھی رایئگاں گزری رضوی
اُسکی آنکھوں میں پھر سے جھانکا ہے
سید مزمل رضوی

تمہاری آنکھوں کے مٹکوں کو بھر بھی سکتا تھاتمہارے سامنے سے چُپ چاپ گزر بھی سکتا تھامیری مجبوریوں میں شامل میرا بیٹا بھی ہ...
02/02/2020

تمہاری آنکھوں کے مٹکوں کو بھر بھی سکتا تھا
تمہارے سامنے سے چُپ چاپ گزر بھی سکتا تھا
میری مجبوریوں میں شامل میرا بیٹا بھی ہے
تمہارے ہاتھوں سے ورنہ میں مر بھی سکتا تھا
ڈوبنے والے نے مجھ سے سہارا مانگا ہی نہیں
یقین کیجئے سیلاب میں ' میں تر بھی سکتا تھا
حیاء کے ہاتھوں نے دامن میرا دبوچ لیا
میں تیری آنکھوں سے دل میں اُتر بھی سکتا تھا
میری امید کے بر عکس تم تو سارے ہو
وگرنہ ستم یہ تیرے میں جٙر بھی سکتا تھا
میری تہزیب نے روکا توں رضوی سید ہے
میں تیرے جسم سے کھلواڑ کر بھی سکتا تھا
سید مزمل رضوی

کل پلانے کی ضد تمہاری تھی آج میں خود شراب مانگوں گاتم نے مانگے جو پھول اپنے دیئے میں بھی اپنی کتاب مانگوں گاتم نے پوچھا ...
29/01/2020

کل پلانے کی ضد تمہاری تھی
آج میں خود شراب مانگوں گا
تم نے مانگے جو پھول اپنے دیئے
میں بھی اپنی کتاب مانگوں گا
تم نے پوچھا جو میں بتا ہوں چکا
کچھ تو میں بھی جواب مانگوں گا
گر خدا نے مجھے نوازا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو
فقط تیرے عذاب مانگوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔گا
تم نے جس چیز سے بھی روکا تھا
میں وہ بلکل جناب مانگوں۔۔۔۔۔گا
حشر میں جب خدا بلائے ۔۔۔۔۔۔۔گا
تم سے سارے حساب مانگوں۔۔۔گا
سید مزمل رضوی

کہڑے خرچے چائی فرنی ایںسِر توں چادر لائی فرنی ایںکِس بے فیض دی خاطر جھلیئےاپنا آپ گنوائی۔۔۔۔۔۔۔۔ فرنی ایں سید مزمل رضوی
28/01/2020

کہڑے خرچے چائی فرنی ایں
سِر توں چادر لائی فرنی ایں
کِس بے فیض دی خاطر جھلیئے
اپنا آپ گنوائی۔۔۔۔۔۔۔۔ فرنی ایں
سید مزمل رضوی

27/01/2020
درد پہلے سے زیادہ ہے نہ جانے کیوںدل رونے پہ آمادہ ہے نا جانے کیوںوہ جو میرا تھا مکمل ہر حال میں ہر دمنہ پورا نہ آدھا ہے ...
23/01/2020

درد پہلے سے زیادہ ہے نہ جانے کیوں
دل رونے پہ آمادہ ہے نا جانے کیوں
وہ جو میرا تھا مکمل ہر حال میں ہر دم
نہ پورا نہ آدھا ہے نہ جانے کیوں
میں جس میں چھپا لوں اشکوں کی روانی
نہیں ملتا لبادہ ہے نہ جانے کیوں
جس نے لوٹا ہے زمانے کو چالاکی سے اپنی
کیوں لگتا وہ سادہ ہے نہ جانے کیوں
جو بوجھ اتارا تھا ابھی کندھوں سے رضوی
پھر بوجھ وہ لادا ہے نہ جانے کیوں

سید مزمل رضوی

Address

Syedwala

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Syed Muzammal Rizvi's Poetry posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category