10/12/2017
ٹانک(نامہ نگار)جنوبی وزیرستان کے چار ہزار سے زاہد خاصہ دار فورس کی عدم کمپیوٹرائزڈ سسٹم کی بناءپر گذشتہ چھ ماہ سے بند تنخوائیں جلد بحال کی جائیں تاکہ خاصہ دار ملازمین کے اہل خانہ اور ان کے خاندانوں کے معاشی گھریلومسائل و مشکلات کا ازالہ ہو،خاصہ دار فورس کی تنخواہوں کو کمپیوٹرائذڈ سسٹم کے طریقہ کار کے تحت بنانے کے لیے کوشاں ہیں ،سمل بوبڑ کے متاثرین کو دیگر ٹی ڈی پیز کی طرح رجسٹرڈ اور انہیں مرعات اور سہولیات مہیا کیا جائے اور ان بے گھر خاندانوں کی جلد ان کے ابائی علاقوں کو واپسی یقینی بنائی جائے ، ان خیالات ممبر قومی اسمبلی و چیئر مین سٹنڈنگ کمیٹی برائے سیفران مولانا جمال الدین محسود نے سوموار کے روز پولیٹکل کمپاﺅنڈ ٹانک میں درے محسود کے گرینڈ جرگہ سے خطاب کرتے ہوے کہا ان کا کہنا تھا کہ جنوبی وزیرستان میںاب بھی کافی سارے علاقے مکانات کے سروے کے عمل سے محروم ہیں جس کی بنیادی وجہ تحصیلداروں کی کمی ہے چناچہ تباہ ہونے والے مکانات کے نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے سروے کے ٹیموں میں تحصیلداروںکی کمی کو پور ا کرنے کے لیے اعلیٰ حکام سے گفت و شنید جاری ہے اور قوی توقع ہے کہ اس مسلے کا حل جلدنکل آئے گا ممبر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ وہ اپنے حلقے کے عوام کی بھلائی و فلاح بہبود اور ان کے مسائل کے حل کے لیے آج تک کسی کوتاہی یا غفلت سے کا م نہیں لیا