KPK News

KPK News پل پل کی خبر ہر پل کی خبر

16 دسمبر 2014
16/12/2024

16 دسمبر 2014

31/05/2024

پاکستان تحریک انصاف اور پھر خورشید خٹک پر قوم نے اعتماد کیا.

اب ان کی اور انکے پارٹی کی زمہ داری بنتی ہے کہ قوم کو اب اس کا ترقیاتی منصوبوں کی مد میں جواب دے.

دل کی گہرائیوں سے مبارک پیش کرتے ہیں اللہ کرے کہ زندگی کے ھر قدم پر کامیاب اپکے قدم چومے ۔۔ منجانب امن جرگہ غنڈی میرخانخ...
19/08/2023

دل کی گہرائیوں سے مبارک پیش کرتے ہیں اللہ کرے کہ زندگی کے ھر قدم پر کامیاب اپکے قدم چومے ۔۔ منجانب امن جرگہ غنڈی میرخانخیل

08/07/2022
کرونا کی وجہ سے معلوم نہیں کب معملات زندگی واپس اپنے ٹریک پہ آیی گی۔۔بہت سارے بیروزگار ہوگیے۔۔ مزدور طبقہ مشکل سے زندگی ...
19/05/2020

کرونا کی وجہ سے معلوم نہیں کب معملات زندگی واپس اپنے ٹریک پہ آیی گی۔۔بہت سارے بیروزگار ہوگیے۔۔ مزدور طبقہ مشکل سے زندگی بسر کررہے ہیں۔ دبیی کی روشنیاں کب واپس لوٹی گی معلوم نہیں۔۔ لاکھوں پاکستانیوں سمیت بیرون ممالک کے باشندگان اپنی روزی کے پیچھے آمارات میں زندگی بسر کرتے تھے۔

اللہ پاک ان مشکلوں کو پورے عالم کے لیے آسان بنادیں۔ آمین

30/12/2019

انسانی زندگی پر گناہوں کے اثرات

امام ابن قیم ؒ نے اپنی کتاب ’’الداء والدواء‘‘ میں ’’انسانی زندگی پر گناہوں کے اثرات ‘‘تفصیلا بیان کئے ہیں ۔جن کا خلاصہ آپ کے سامنے پیش خدمت ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو گناہوں سے محفوظ فرمائے۔آمین

گناہوں کے نقصانات✔

١۔علم سے محرومی:
کیونکہ علم ایک روشنی ہے جس کو اللہ انسان کے دل میں ڈال دیتا ہے جبکہ گناہ اس روشنی کو بجھا دیتا ہے۔

۲۔رزق سے محرومی:

جیسا کہ مرفوع حدیث میں وارد ہے:((ان العبد لیحرم الرزق بالذنب یصیبہ))[مسندأحمد]
’’بندہ اپنے کردہ گناہوں کے سبب رزق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔

۔٣وحشت کا احساس:
وہ خوف خدا جو گناہ گار آدمی اپنے دل میں محسوس کرتا ہے،جس سے دراصل اس کی تمام لذتیں ختم ہو جاتی ہیں۔

۴۔خوف کا احساس:
وہ خوف جو گناہ گار شخص لوگوں سے محسوس کرتا ہے’’خصوصا نیک لوگوں سے‘‘جب یہ خوف قوی ہو جاتا ہے تو مذکور شخص ان نیک لوگوں سے ،اور ان کی مجالس سے دور بھاگتاہے اور ان سے نفع اٹھانے کی برکت سے محروم ہو جاتا ہے۔اور شیطانی گروہ کے اتنا ہی قریب ہوجاتا ہے جتناکہ رحمانی گروہ سے دور ہوتا ہے۔

۵۔معاملات میں تنگی:
گناہ گار شخص اپنے سامنے معاملات کی تنگی اور خیر کے ہر دروازے کو بند محسوس کرتا ہے،جیسا کہ متقی اور پرہیز گار شخص کے لئے اللہ تعالیٰ اس کے تمام معاملات کو آسان کر دیتا ہے۔

۶۔اندھیرے کا احساس:
گناہ گار شخص حقیقتااپنے دل میں اندھیرا محسوس کرتا ہے ۔حتی کہ وہ رات کو اکیلے چلنے والے اندھے کی مانند گمراہی اور ہلاکتوں میں جا پڑتا ہے لیکن اس کو احساس تک نہیں ہوتا۔

۷۔دل وبدن کی کمزوری:
گناہ انسان کے دل اوربدن کوکمزور کر دیتا ہے۔دل اتنا کمزور ہو جاتا ہے کہ اس کی روحانی موت واقع ہو جاتی ہے۔جبکہ بدن کی کمزوری دراصل دل کی کمزوری ہے کیونکہ مومن کی ساری قوت اس کے دل میں ہوتی ہے۔فاجر شخص اگرچہ دیکھنے میں مضبوط ہو مگر ضرورت کے وقت وہ کمزور ہی ثابت ہو گا۔

۸۔اطاعت سے محرومی :
گناہ انسان کو اطاعت اور فرمانبرداری سے روکتا ہے جس سے انسان مزید گناہوں میں پڑ جاتا ہے۔

۹۔عمر میں کمی:
گناہوں سے عمر کم ہو جاتی ہے اور عمر کی برکت ختم ہو جاتی ہے جبکہ نیکی کرنے سے عمر میں برکت اور اضافہ ہوتا ہے۔

۱۰۔گناہ کی طرف رجحان:
کیونکہ گناہ سے گناہ ہی نکلتا اور پیدا ہوتا ہے۔ایک گناہ دوسرے گناہ کی جانب راہنمائی کرتا ہے۔

۱۱۔ارادہ معصیت کی مضبوطی:
گناہ کرنے کا سب سے خطرناک نقصان یہ ہے کہ گناہ کرنے کا ارادہ مضبوط ہو جاتا ہے اور توبہ کرنے کا ارادہ کمزور پڑ جاتا ہے۔حتی کہ آہستہ آہستہ انسان کے دل سے توبہ کرنے کا ارادہ کلیۃً ہی ختم ہو جاتا ہے۔

۱۲۔گناہ کی قباحت کا دل سے محو ہو جانا:
جب انسان کثرت سے گناہ کرتا ہے تو اس کے دل سے گناہ کی قباحت ختم ہو جاتی ہے اور گناہ کرنا اس کی عادت بن جاتی ہے۔حتی کہ لوگوں کے دیکھ لینے یا برا بھلا کہنے کو بھی قبیح نہیں جانتا ۔بلکہ اگر اس نے گناہ کر لیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے گناہ پر پردہ ڈال دیا تو یہ بد بخت خود لوگوں میں اپنے گناہ کی تشہیر کرتا پھرتا ہے اور اس پر فخر کا اظہار کرتا ہے۔اس قسم کے لوگوں کو معاف نہیں کیا جائے گا اور ان پر توبہ کا دروازہ بند ہے ۔جیسا کہ حدیث میں موجود ہے:
((کل أمتی معافی الا المجاھرین))
’’اپنے گناہوں کی تشہیر کرنے والوں کے علاوہ میری امت کے سارے لوگوں کو معاف کر دیا جائیگا ۔‘‘

۱۳۔مجرموں کی وراثت:
گناہ مجرموں کی وراثت ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے ہلاک وبرباد کر دیا ۔مثلا لواطت قوم لوط کی وراثت اور زمین میں تکبر کرتے ہوئے فساد برپا کرنا قوم فرعون کی وراثت ہے،علی ہذا القیاس گناہگار شخص ان مجرموں کا لباس پہن کر وہی گناہ کرتا ہے جو ان لوگوں نے کیا۔اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا:((من تشبہ بقوم فھو منھم))’’جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہی میں سے ہے‘‘

۱۴۔ذلت ورسوائی کا سبب:
گناہ کرنا اللہ تعالیٰ کے سامنے ذلت ورسوائی اور آنکھوں سے گر جانے کا سبب ہے۔اور جو شخص اللہ کے سامنے ذلیل ہو جائے اس کو کوئی عزت دینے والا نہیں ہے۔اگرچہ ظاہرا لوگ اس سے ڈرتے ہوئے یا لالچ میں اس کی عزت کرتے ہی ہوں۔لیکن انہی لوگوں کے دلوں میں وہ حقیر ترین شخص ہوگا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
((وَمَنْ یُھِنِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنْ مُّکْرِمٍ))[الحج:۱۸]’٠
’جسے رب ذلیل کر دے اسے کوئی عزت دینے والا نہیں۔‘‘

۱۵۔گناہ کی حقارت:
گناہ پر مداومت اور ہمیشگی کرنے سے انسان کے دل میں گناہ کرنا حقیر بن جاتا ہے۔اور یہی ہلاکت کی علامت ہے۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود فرماتے ہیں:
((ان المؤمن یری ذنوبہ کأنہ فی أصل الجبال یخاف أن یقع علیہ ،وان الفاجر یری ذنوبہ کذباب وقع علی أنفہ فقال بہ ھکذا فطار))
’’مومن آدمی گناہ کو پہاڑ کی مانند تصور کرتا ہے اور ڈرتا رہتا ہے کہ کہیں وہ پہاڑ اس پر نہ گر جائے،جبکہ فاسق وفاجرشخص گناہ کو مکھی کی مانند خیال کرتا ہے جو اس کی ناک پر بیٹھ گئی اور اس نے ہاتھ کے اشارے سے اس کو اڑا دیا۔‘‘

۱۶۔نحوست:
انسان اور جانور گناہ گار شخص کو نحوست کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔امام مجاہد ؒ فرماتے ہیں!جب قحط سالی پڑتی ہے اور بارش رک جاتی ہے تو چوپائے گناہگار اور نافرمان بنی آدم پر لعنت کرتی ہوئے کہتے ہیں:
((ھذا بشؤم معصیۃ ابن آدم ))
یہ ابن آدم کی نافرمانی کی نحوست ہے۔

۱۷۔عزت وآبرو کا خاتمہ:
گناہ انسان کو ذلت ورسوائی سے دوچار کر دیتا ہے اور عزت وآبرو کو برباد کر دیتا ہے کیونکہ ساری کی ساری عزت اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور اطاعت میں مضمر ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
((مَنْ کَانَ یُرِیْدُالْعِزَّۃَ فَلِلّٰہِ الْعِزَّۃُ جَمِیْعاً))[فاطر:۱۰]
’’جو شخص عزت حاصل کرنا چاہتا ہو تو اللہ تعالیٰ ہی کی ساری عزت ہے۔‘‘

۱۸۔عقل میں فتور:
عقل اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ نور اور روشنی ہے ،جبکہ گناہ اس نور اور روشنی کو بجھا دیتا ہے۔ جب یہ نو راور روشنی ہی بجھ جائے تو عقل وشعور میں فتور واقع ہو جاتا ہے۔اور انسان آداب انسانیت بھول جاتا ہے۔

۱۹۔غفلت کا سبب :
کثرت سے گناہ کرنے کی وجہ سے انسان کے دل پر مہر لگا دی جاتی ہے اور اس کو غافلین میں سے لکھ دیا جاتا ہے۔جیسا کہ بعض مفسرین نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان
((کَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ مَّا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ))[المطففین:۱۴]
’’یوں نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ(چڑھ گیا )ہے۔‘‘
سے گناہ کے بعد پے در پے گناہ مراد لیا ہے۔

۲۰۔لعنت کا سبب:
جیسا کہ أحادیث میں وارد ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مختلف گناہ کرنے والوں پر لعنت فرمائی ۔مثلا آپ نے فرمایا کہ چور،سود خور،تصاویر بنانے والے اور قوم لوط کا فعل کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ لعنت کرے۔وغیرہ

۲۱۔نبی کریم ﷺ اور فرشتوں کی دعاؤں سے محرومی:
کیونکہ اللہ رب العزت نے نبی کریم ﷺ کو حکم دیا ہے کہ وہ مومن مرد اور مومن عورتوں کے لئے بخشش کی دعا کریں۔اور فرشتوں کے بارے میں فرمایا:
((الَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَہٗ یُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّھِمْ وَیُؤْمِنُوْنَ بِہٖ وَیَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ آمَنُوْا۔۔۔۔))[المومن:۷]
’’عرش کے اٹھانے والے اور اس کے آس پاس کے فرشتے اپنے رب کی تسبیح حمد کے ساتھ ساتھ کرتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کے لئے استغفار کرتے ہیں،کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار !تو نے ہر چیز کو اپنی بخشش اور علم سے گھیر رکھا ہے ،پس تو انہیں بخش دے جو توبہ کریں اور تیری راہ کی پیروی کریں اور تو انہیں دوزخ کے عذاب سے بھی بچا لے۔‘‘

۲۲۔فساد فی الارض کا سبب:

گناہ زمین میں فساد کا سبب ہے کیونکہ گناہوں کے سبب ہی زمین پر پانی،اناج اور پھلوں میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
((ظَھَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ أَیْدِیْ النَّاسِ لِیُذِیْقَھُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ))[الروم:۴۱]
’’خشکی اور تری میں لوگوں کی بد اعمالیوں کی وجہ سے فساد پھیل گیا۔اس لئے کہ انہیں ان کے بعض کرتوتوں کا پھل اللہ تعالیٰ چکھا دے (بہت) ممکن ہے کہ وہ باز آجائیں۔‘‘

۲۳۔خسف ومسخ کا سبب:
گناہوں کے سبب ہی زمین پر زلزلہ آتا ہے یا زمین دھنس جاتی ہے یا زمین کی برکات ختم ہو جاتی ہیں۔

۲۴۔غیرت کا فقدان:
گناہ گار شخص کے دل سے غیرت ختم ہو جاتی ہے اور وہ بے غیرت ہو جاتا ہے۔حتی کہ وہ گناہ کرنے کو بھی قبیح نہیں سمجھتا خواہ وہ خود گناہ کررہا ہو یا اس کے اہل عیال گناہ کر رہے ہوں۔
۲۵۔شرم وحیا کا خاتمہ:
گناہ کرنے سے انسان کے دل میں موجود شرم و حیا ختم ہو جاتا ہے۔جو کہ دل کی حقیقی زندگی اور ہر خیر کی بنیاد ہے۔جب حیا ہی نہ رہے تو خیر بھی باقی نہیں رہتی ۔جیسا کہ حدیث میں ہے!’’جب تو حیا نہیں کرتا تو جو مرضی کر!‘‘

۲۶۔اللہ کی تعظیم میں کمی:
گناہ گار شخص کے دل میں اللہ کی تعظیم کمزور پڑ جاتی ہے۔کیونکہ اگر اس کے دل میں اللہ کی عظمت ہوتی تو وہ یہ گناہ کبھی نہ کرتااور اس کے اندر گناہ کی جرأت کبھی پیدانہ ہوتی۔

۲۷۔اللہ کی رحمت سے محرومی:
اللہ رب العزت نافرمان اور باغی شخص کو بھلا دیتے ہیں اور اس کو اس کی حالت پر تنہا چھوڑ دیتے ہیں۔اب اللہ تعالیٰ اس کی کوئی پرواہ نہیں کرتے کہ وہ کس وادی میں جاکر ہلاک وبرباد ہو جائے۔

۲۸۔نیکی سے بغاوت:
گناہگا ر اور نافرمان شخص کو نیکی کی توفیق ہی نہیں ملتی اور وہ اپنے گناہوں میں ہی لتھڑا رہتا ہے ۔

۲۹۔خیر سے محرومی:

گناہ گا رشخص ان بھلائیوں سے محروم جا تاہے جو اہل ایمان وتقوی کو اللہ تعالیٰ عنایت فرماتے ہیں:جس میں أجر عظیم کا ملنا
((وَسَوْفَ یُؤْتِ اللّٰہُ الْمُؤْمِنِیْنَ أَجْراً عَظِیْماً))[النسائ:۱۴۶]
’’اللہ تعالیٰ مومنوں کو بہت بڑا اجر دے گا۔‘‘
دنیا وآخرت میں شر کا دور ہو جانا
((اِنَّ اللّٰہَ یُدَافِعُ عَنِ الَّذِیْنَ آمَنُوْا))
[الحج:۳۸]
’’سن رکھو!یقینا سچے مومنوں کے دشمنوں کو اللہ تعالیٰ خود ہی ہٹا دیتا ہے۔‘‘
اور درجات کی بلندی شامل ہے
((یَرْفَعِ اللّٰہُ الَّذِیْنَ آمَنُوْا مِنْکُمْ وَالَّذِیْنَ أُوْتُوْا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ))
'
[المجادلۃ:۱۱]

’’اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کے جو ایمان لائے ہیں اور جوعلم دئیے گئے ہیں درجے بلند کر دے گا۔‘‘

پشاور حیات آباد ۔۔ بجلی کے بلوں میں LPS پر  جنرل ٹیکس کے نام پر لوٹا جارہا ہے ۔ زیر نظر تصویر میں واجب الادا رقم 775روپے...
23/11/2019

پشاور حیات آباد ۔۔ بجلی کے بلوں میں LPS پر جنرل ٹیکس کے نام پر لوٹا جارہا ہے ۔ زیر نظر تصویر میں واجب الادا رقم 775روپے پر 1084روپے یہی ظالمانہ ٹیکس نافذ کیا گیا ہے جو سراسر زیادتی ہے ۔۔ عوامی خلقے

*کرک ، میاں بیوی کو نومولود بچے اور چھ سالہ لڑکی سمیت گھر میں آگ لگا کر جلانے کا معمہ حل۔**معمولی تکرار پر سگے بھائی ،بھ...
14/11/2019

*کرک ، میاں بیوی کو نومولود بچے اور چھ سالہ لڑکی سمیت گھر میں آگ لگا کر جلانے کا معمہ حل۔*
*معمولی تکرار پر سگے بھائی ،بھابھی، شیر خوار بھتیجے اور چھ سالہ بہن کو پٹرول چھڑک کر آگ لگانے والا سفاک ملزم ساتھی سمیت گرفتار۔*
*بھائی نے دوست کیساتھ مل کر نوجوان بھائی کو آگ لگائی، رضوان اور صدف آگ میں جھلسنے باعث پشاور میں دوران علاج جانبر نہ ہوسکے۔*
*وقوعہ کے دن ڈ ی پی او کر ک نے متاثرہ گھر جاکر لواحقین کو اصل کہانی تک پہنچنے اور ملزمان بے نقاب کرنے کا یقین دلایا تھا۔*
*اصل کہانی سے پردہ چاک کرنے اور اصل ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لانے کیلئے جدید پولیسنگ نظام سے استفادہ لیا۔ڈی پی او نوشیر خان مہمند*
کرک (شعبہ تعلقات عامہ) تفصیلات کیمطابق تھانہ صابر آبا دکے حدود میں گاﺅں کبیر کلہ میں ہفتہ قبل 7نومبر کو گھر کے کمرے میں میاں بیوی کو نومولود بچے اور بہن سمیت پٹرول چھڑک کر آگ لگانے کا دلخراش واقعہ پیش آیا تھا۔ جس میں کمرے میں موجود چاروں افراد جھلس کر علاج کیلئے ہسپتال منتقل کیا تھا۔وقوعہ کے دن ڈی پی او کرک نوشیر خان مہمند ایس پی انوسٹی گیشن اور ڈی ایس پی سمیت موقع پر پہنچ گئے تھے ڈی پی او کرک نے وقوعہ کی جائزہ لے کر ایس پی انوسٹی گیشن اور پولیس افسران کو وقوعہ کے تمام پہلو پر نظر رکھنے اوروقوعہ کے دوسرے رخ کا جائزہ لے کر باریک بینی سے تفتیش کرنے کے ہدایات جاری کئے اور متاثرہ خاندان کواصل کہانی کو منظر عام پر لانے اور اصل ملزمان کی گرفتاری کا یقین دلایا تھا۔تھانہ صابر آباد کے ایس ایچ او سعید خان اور تفتیشی افسر رومان نے ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر امجد علی کی نگرانی میں کمال مہارت کیساتھ کیس میں ملوث نامعلوم ملزمان تک جدید پولیسنگ نظام سے اصل ملزمان تک رسائی حاصل کرتے ہوئے دونوں ملزمان تابش جاوید ولد جاوید اقبال کودوست ساتھی ملزم سمیت ساجد اقبال ولد نصیب گل کو گرفتا ر کرلیا۔گرفتار ملزمان میں تابش جاوید جھلسنے والے رضوان کا سگا بھائی ہے جس نے بھائی کیساتھ معمولی تکرار پر دوست کیساتھ مل کر اپنے ہی بھائی کو رات کے وقت بیوی اور 13دن کے نومولود بچے اور اپنی 6سالہ سگی بہن صدف کو کمرے میں محو خواب پٹرول چھڑک کر آگ لگادی ۔آگ میں جھلسنے کے باعث ملزم کابھائی رضوان اور بہن صدف دوران علاج جانبر نہ ہو سکے ۔

Address

Tappi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when KPK News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share