GHAZI NAMA

GHAZI NAMA ہری پور، غازی اور گردونواح کی آواز بن کر "غازی نامہ نیوز نیٹ ورک"
اب ہر خبر، ہر واقعہ، ہر انٹریو سب سے پہلے آپ تک۔ اپنے مسائل، اپنی خبریں، اپنی آواز۔

07/09/2026

منصوبے پائپ لائن میں ہیں۔
اتنے عرصے سے منصوبے پائپ لائن میں ہیں کہ اب تو پائپ بھی زنگ آلود ہونے کو آ گئے۔
اعلانات ہوئے، دعوے ہوئے، ٹھیکیداروں کے میلے لگے، معاملات طے ہوئے، مگر منصوبے پائپ لائن سے باہر نہ نکل سکے۔
اب تو لگتا ہے پائپ لائن ہی کرپشن کے گندے سیوریج نالے میں کہیں پھٹ گئی، اور سارے منصوبے گٹر کے پانی کے ساتھ بہہ گئے۔
ہاں، کچھ چمچوں اور چاپلوسوں کے ہاں ترقی کے چند قطرے ضرور گرے، مگر وہ ووٹر اور سپورٹر محروم رہے جنہوں نے مشکل وقت میں ساتھ دیا تھا۔ کیونکہ وہ
منافق نہیں تھے۔ چاپلوس نہیں تھے۔
ہر وقت آگے پیچھے پھدکنے والے نہیں تھے۔
وہ سمجھتے تھے کہ ساتھ دینا عزت ہے، خوشامد کرنا نہیں۔ خیر یہ وقت بھی گزر جائے گا۔
اقتدار، عہدے، پروٹوکول اور چاپلوسوں کے ہجوم سب عارضی ہیں۔ وقت کا پہیہ گھومتا ضرور ہے، اور جب گھومتا ہے تو بڑے بڑے پھدکتے ہوئے زمین نشین ہو جاتے ہیں۔
بس وقت کا انتظار کیجیے۔ کل آئینہ بھی دکھے گا، اور چہرے بھی پہچانے جائیں گے۔

کہنے کو تو بہت کچھ ہے، لیکن پنجاب میرے ملک کا حصہ ہے اور پنجاب میں رہنے والے سب پنجابی ہمارے بھائی، ہماری عزت اور ہماری ...
06/09/2026

کہنے کو تو بہت کچھ ہے، لیکن پنجاب میرے ملک کا حصہ ہے اور پنجاب میں رہنے والے سب پنجابی ہمارے بھائی، ہماری عزت اور ہماری غیریت ہے۔
لیکن پنجاب کے شہر لاہور سے یہ بیوقوف، لاعلم اور تنگ نظر یہ ایک صحافی (صحافی کہنا ہی ایک گالی ہے اسے) کیونکہ جو صحافی کسی کی عزّت پر داغ لگائے، گالی دے، کسی علاقے یا صوبے کی عوام کے بارے میں اپنی گندی ذہنیت رکھے۔ اُسے میں صحافی نہیں۔۔۔۔ دل تو کہتا ہے، کہ میں اِس کے حسب نسب کی دھجیاں ثبوت کے ساتھ اُڑا دُوں، لیکن میری پرورش و ماحول اور تربیت اِس کی اجازت نہیں دیتا۔
ہزارہ پر بھونکنے والے، ہزاہ کو جاہل اور اَن پڑھ کہنے والے پڑھ ذرّہ ہزارے کی رائی برابر تفصّیل:

فیلڈ مارشل محمد ایوب خان۔
گوہر ایوب خان۔ عمر ایوب خان۔ شاہد خاقان عباسی۔ سردار مہتاب احمد خان عباسی۔ جلال بابا۔ مرتضیٰ جاوید عباسی۔ امان اللہ خان جدون۔ صاحبزادہ پیر صابر شاہ سابق وزیر اعلی پختونخواہ و سینئٹر، محترمہ آنیسہ زیب صوبائی وزیر قدرتی وسائل و نائب وزیر اطلاعات پاکستان۔ بابر نواز خان۔ گوہر نواز خان۔ فیصل زمان سابق ایم پی اے۔ معاون خصوصی برائے وزیر اعلی پختونخوا ملک عدیل اقبال۔ سردار محمد یوسف۔ اعظم خان سواتی۔ بابر سلیم خان سواتی۔ نواب صلاح الدین سعید خان تنولی۔
اقبال ظفر جھگڑا۔ سردار راجہ زمان۔ بابا حیدر زمان۔
(دفاع اور فضائیہ)
ایئر چیف مارشل انور شمیم/ ایئر مارشل اصغر خان۔ میجر جنرل محمد ضیاء الحق عباسی۔ لیفٹیننٹ جنرل صلاح الدین ترمذی۔ایڈمرل نعمان بشیر۔ انور شمیم کی پیدائش ہری پور میں ہوئی تھی۔
(عدلیہ)
جسٹس بشیر احمد جہانگیری سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ۔ جسٹس اعجاز افضل خان سابق جج سپریم کورٹ۔ جسٹس عبدالحکیم خان سابق چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ، سابق گورنر خیبر پختونخوا۔جسٹس محمد رضا خان سابق چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ۔ جسٹس طارق محمود جہانگیری اسلام آباد ہائی کورٹ۔ جسٹس اعجاز خان چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ۔ جسٹس زینت خان سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان چیف کورٹ۔ اطہر من اللہ چیف جسٹس اسلام آباد
(پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے) چوہدری محمد اسلم شہید کراچی پولیس کے بے خوف افسر، تعلق مانسہرہ کے ڈھڈیال سے
محمد ریاض خان عباسی سابق ڈی جی آئی ایس آئی ظہیر الاسلام عباسی معروف فوجی و انٹیلی جنس افسر
(علم، طب اور تعلیم)
پروفیسر ڈاکٹر عبدالجمیل خان ماہر طب و تعلیم۔ ڈاکٹر محمد نصیر خان طبیعیات دان۔ عمر اصغر خان ماہر تعلیم و سیاست دان۔
ڈاکٹر محمد سرفراز خان صفدر معروف عالم دین۔ مولانا صوفی عبدالحمید خان سواتی عالم، مصنف اور مدرس۔
(ادب، صحافت اور فن)
قتیل شفائی عظیم اردو شاعر و نغمہ نگار۔
داؤد کمال شاعر و ادیب۔ ریحام خان صحافی
افضل خان المعروف ریمبو اداکار۔ علی عظمت گلوکار و موسیقار۔
(کھیل)
حارث رؤف پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ باؤلر۔ یاسر حمید سابق پاکستانی کرکٹر۔ ثناء میر سابق کپتان پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم۔ابرار احمد سواتی کرکٹر۔ قیوم چنگیزی فٹبالر۔ یونس چنگیزی فٹبالر
اور اب اصل بات
اگر کوئی شخص ہزارہ کو صرف ایک پسماندہ یا کسی دوسرے علاقے پر بوجھ سمجھتا ہے تو اسے بحث کرنے کے بجائے یہ نام پڑھنے چاہئیں۔ یہ وہ خطہ ہے، صدر پاکستان دیے،
وزرائے اعظم دیے، ائر۔چیف دیے، نیول چیف دیے، جنرل اور میجر جنرل دیے، چیف جسٹس دیے، شاعر اور ادیب دیے، صحافی دیے، پولیس کے شہید افسر دیے، ڈاکٹر اور سائنس دان دیے، کرکٹر اور عالمی سطح کے کھلاڑی دیے اور یہ فہرست ابھی مکمل نہیں۔
ہزارہ کی تاریخ صرف چند ناموں کی محتاج نہیں، یہ نام خود ہزارہ کی تاریخ کا ایک چھوٹا سا باب ہیں اور ایک تصحیح بھی ضروری ہے: ایبٹ آباد کو ’’اسکولوں کا شہر‘‘ کہا جاتا ہے۔ لھذا ہزارہ پر بات کرنے سے پہلے، ہزارہ کو پڑھ لینا چاہیے۔ ہزارہ خاموش ضرور ہے، بے تاریخ نہیں۔
وزیر اعلی پنجاب محترمہ مریم نواز کا شوہر محترم صفدر بھی ہزارے وال ہے، کوئی یہ بھی بتا دے اِس کتّے کو۔
#ہزارہ

06/09/2026

جس نمبر سے کال کر کے آڈر دیا کیا۔ 03135363613

06/09/2026

"مجھے خطرہ پڑوسی ملک سے نہیں، پڑوسی صوبے سے ہے۔"
محترمہ مریم نواز !
آپ کو خطرہ ہے، ہمیں جنازے مل رہے ہیں۔
آپ کو پڑوسی صوبہ خطرہ نظر آتا ہے،
ہمیں اُس صوبے میں اپنے شہید نظر آتے ہیں۔ آپ نے خطرہ دیکھا، ہم نے دہشت گردی دیکھی۔ آپ نے صوبہ دیکھا، ہم نے ماں کا اجڑا ہوا گھر دیکھا۔ آپ نے سیاست دیکھی،
ہم نے تابوت دیکھے۔
ذرا سوات کی تاریخ یاد کیجیے۔
جب دہشت گردوں نے پاکستان کا پرچم اتار کر اپنا جھنڈا لہرایا، تو پختون رہنما ہی تھے جو جان ہتھیلی پر رکھ کر پاکستان کا پرچم دوبارہ لہرانے پہنچے۔
پھر اُن میں سے کئی کو چُن چُن کر شہید کیا گیا۔ تب کسی نے نہیں کہا۔
"ہمیں پڑوسی صوبے سے خطرہ ہے۔"
کیونکہ اُس وقت پختون پاکستان کے خلاف نہیں، پاکستان کے لیے کھڑا تھا۔ آج بھی خیبر پختونخوا دہشت گردی کی آگ میں جل رہا ہے۔
تو سوال سیدھا ہے۔
خطرہ خیبر پختونخوا سے ہے یا اُن دہشت گردوں سے جو خیبر پختونخوا کے بچوں کو مار رہے ہیں؟
محترمہ!
صوبہ دشمن نہیں ہوتا، دہشت گرد دشمن ہوتا ہے اور ذرا تاریخ بھی پڑھ لیجیے۔
قیامِ پاکستان کے وقت اسی خطے کے عوام نے ریفرنڈم کے ذریعے پاکستان کا انتخاب کیا تھا۔ آج اُسی خطے کے لوگوں کو خطرہ کہنا
صرف ایک سیاسی جملہ نہیں، ایک تاریخی احسان کو بھلا دینے کے مترادف ہے۔
زبان کے تیر چلانا آسان ہے، دلوں کے زخم بھرنا مشکل۔ اس لیے زہر اگلنے کے بجائے مرہم رکھیے۔ کیونکہ پاکستان پہلے ہی بہت کچھ سہہ چکا ہے۔ پنجاب کو خیبر پختونخوا سے نہیں، خیبر پختونخوا کو پنجاب سے نہیں،
دونوں کو اُن قوتوں سے خطرہ ہے جو پاکستان کو اندر سے تقسیم دیکھنا چاہتی ہیں اور یاد رکھیے، نفرت ووٹ دلا سکتی ہے،
ملک نہیں بنا سکتی۔ پاکستان صوبوں سے نہیں، صوبوں کے درمیان محبت سے مضبوط ہوگا۔

05/09/2026

تحصیل غازی کے کچھ موبائل صحافیوں کے نام ایک تلخ مگر ضروری اپیل
خدارا!
اگر کہیں سے آپ کو کاروباری افتتاح، شادی بیاہ یا کسی خوشی کی تقریب میں دعوت ملے، اور آپ وہاں پہنچ کر کوریج شروع کر دیں تو کم از کم ایک کام ضرور کر لیا کریں۔
پہلے بتا دیا کریں کہ کوریج کا معاوضہ ہوگا۔
یا دعوت قبول کرتے وقت ہی پوچھ لیا کریں۔
"ہمیں بطور مہمان بلا رہے ہیں یا کوریج کے لیے؟"
اگر کوریج کے لیے بلا رہے ہیں تو اپنا ریٹ بھی پہلے بتا دیں۔ گندا ہے، مگر اگر یہی آپ کا دھندہ ہے تو اپنی اجرت بتانے میں شرم کیسی؟ مسئلہ یہ ہے کہ بعض لوگ آپ کو صحافی سمجھ کر عزت دیتے ہیں۔ انہیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ آپ صحافی ہیں یا "شاہ رُخ خان" کہ جس کی خوشی کی تقریب میں محض جھلک دکھائی دینے کی بھی فیس بنتی ہے۔
گزشتہ دنوں ایک کاروباری افتتاح پر ہم بھی مدعو تھے اور چند دوسرے بھی۔ میزبان نے دعا کے بعد حسبِ روایت تمام مہمانوں کو چائے، مٹھائی اور بسکٹ پیش کیے۔ چند دن بعد وہ صاحب ملے تو کہنے لگے۔
"آپ کی برادری کے ایک صحافی کا پیغام آیا تھا کہ میں افتتاح پر آیا، لیکن آنر نے مجھے فیسلیٹیٹ نہیں کیا"
میں نے پوچھا
"فیسلیٹیٹ نہیں کیا؟ کیا مطلب؟" کہنے لگے،
لالہ! میں نے تو سب مہمانوں کو چائے، مٹھائی اور بسکٹ دیے تھے۔ وہ مزید کیا خصوصی فیسلیٹیٹ چاہتے تھے؟
منہ تک ایک بڑی گالی آئی، مگر روک لی۔
صرف اتنا کہا "شاید وہ آپ سے پیسوں کی امید لگائے بیٹھے تھے"
اس پر اُس شخص نے ایسی بات کہی کہ اسے نقل کرتے ہوئے بھی معذرت خواہ ہوں۔ سچ پوچھیں تو خون کھول اٹھا۔ لیکن جواب نہیں تھا۔ کیونکہ ہم میں سے کچھ لوگوں نے واقعی صحافت کو ایسی جگہ لا کھڑا کیا ہے جہاں صحافت کا نام سامنے ہے، مگر پیچھے کاروبار چل رہا ہے۔ ہم کیا کرتے ہیں؟ صحافت کا لبادہ اوڑھتے ہیں، کوریج شروع کرتے ہیں، ریٹ پہلے نہیں بتاتے اور پھر میزبان سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ خود سمجھ جائے کہ "صحافی صاحب کو فیسلیٹ" کرنا ہے۔
جناب! یہ صحافت نہیں۔
محنت کی اجرت لینا کوئی جرم نہیں۔
موبائل، کیمرہ، سفر، وقت، ایڈیٹنگ اور محنت سب کی قیمت ہے۔ لیکن قیمت پہلے طے کریں۔ کوریج معاوضے کے عوض ہے تو صاف لکھیں PAID COVERAGE
بلا معاوضہ ہے تو لکھیں NON PAID COVERAGE ۔اپنے سوشل میڈیا پیج پر ویڈیو کے کیپشن میں یہ لکھنے سے بھی مت شرمائیں کہ یہ پیڈ کوریج ہے۔ کیونکہ اگر دھندہ ہی کرنا ہے تو نقاب کیوں؟
یاد رکھیں:
ریٹ لینا عیب نہیں، ریٹ چھپانا عیب ہے۔
اجرت لینا شرم نہیں، صحافت کی عزت گروی رکھنا شرم ہے۔ مہمان بن کر جائیں تو مہمان رہیں۔ کوریج کے لیے جائیں تو پیشہ ور بنیں اور معاوضہ چاہیے تو پہلے بتائیں، بعد میں گلہ نہ کریں۔ جیسے کہ تحصیل ٹوپی کے کچھ موبائل پروفیشنل صحافی ہیں۔ کوریج پر آنے سے پہلے کوریج کا معاوضہ بتاتے ہیں۔ ہماری طرح کوریج کے بعد اُمید لگائے کرسیوں پر نہیں بیٹھے رہتے۔
خدارا اتنا مت گریں کہ کل معاشرہ آپ کو دیکھ کر یہ نہ پوچھے۔
"خبر کیا ہے؟" بلکہ پوچھے"بھائی! آپ کا ریٹ کیا ہے؟" کیونکہ جس دن صحافی کی پہچان اس کی خبر، قلم اور سچ نہیں بلکہ اس کا ریٹ بن جائے، اُس دن صرف ایک شخص نہیں گرتا پورا پیشہ بدنام ہوتا ہے۔
#صحافت

04/09/2026
04/09/2026

موٹر بائیک ہے، میزائل نہیں!
صرف دو منٹ بچانے کے لیے رانگ سائیڈ سے گزرنا، تیز رفتاری کرنا یا غلط جگہ سے یوٹرن لینا کسی کی پوری زندگی برباد کر سکتا ہے۔
آج صبح موضع خالو میں ایک حادثہ اسی بات کی یاد دہانی ہے۔ ایک موٹر بائیک پر اپنے بیٹے کے ہمراہ سوار ایک خاتون دوسرے موٹر سائیکل سے حادثے کے باعث زخمی ہوگئیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ نقصان جانی طور پر معمولی رہا، تاہم دونوں موٹر بائیکس کو نقصان پہنچا، جبکہ دوسرے موٹر سائیکل پر موجود ذبح شدہ مرغیوں کے ٹکڑے بھی سڑک پر بکھر گئے۔
خدارا! موٹر بائیک چلاتے وقت یہ باتیں یاد رکھیں:
1) رانگ سائیڈ = خطرہ
چند سیکنڈ بچانے کے لیے مخالف سمت میں نہ جائیں۔ سامنے سے آنے والا ڈرائیور آپ کی موجودگی کا اندازہ نہ لگا سکے تو حادثہ یقینی ہوسکتا ہے۔
2) یوٹرن صرف مقررہ جگہ سے لیں۔
اچانک سڑک کاٹنا یا جہاں دل چاہے موڑ لینا خودکشی کے مترادف ہوسکتا ہے۔
3) رفتار قابو میں رکھیں۔
بازار، آبادی، اسکول، موڑ اور چوک کے قریب رفتار کم کریں۔ یاد رکھیں، رفتار جتنی کم ہوگی، غلطی کی گنجائش بھی اتنی کم۔
4) اوورٹیک سوچ سمجھ کر کریں۔
اندھے موڑ، چڑھائی، رش یا سامنے سے آنے والی ٹریفک کی صورت میں اوورٹیک نہ کریں۔
5) ہیلمٹ لازمی پہنیں۔
ہیلمٹ پولیس سے بچنے کے لیے نہیں، اپنے گھر والوں کے لیے پہنیں۔
6) موبائل فون ہاتھ میں نہ لیں۔
ایک میسج پڑھنے یا کال سننے کے چند سیکنڈ، پوری زندگی کا آخری سفر بن سکتے ہیں۔
7)بچوں کو غیر محفوظ طریقے سے موٹر بائیک پر نہ بٹھائیں۔
بچے آپ کی ذمہ داری ہیں، بوجھ نہیں۔
8) انڈیکیٹر اور آئینے کا استعمال کریں۔
اچانک لین یا سمت تبدیل کرنے سے پہلے پیچھے ضرور دیکھیں۔
9) سڑک پر پیدل چلنے والوں کا خیال رکھیں۔
خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور خواتین کے قریب رفتار کم کریں۔
10) ریس نہ لگائیں، مقابلہ نہ کریں۔
سڑک کوئی ریس ٹریک نہیں۔ جسے آپ چند سیکنڈ کی جیت سمجھتے ہیں، وہ کسی خاندان کا عمر بھر کا نقصان بن سکتی ہے۔
ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں۔
آپ کے گھر میں کوئی آپ کا انتظار کر رہا ہے۔
اسی طرح سامنے آنے والی موٹر بائیک پر بھی کسی کا بیٹا، باپ، بھائی یا ماں ہوسکتی ہے۔
اس لیے سڑک پر صرف اپنی زندگی نہیں، دوسروں کی زندگی بھی اپنی ذمہ داری سمجھیں۔
آرام سے چلیں، محفوظ پہنچیں۔
رفتار کم کریں، زندگی بچائیں۔
یہ پیغام خود بھی پڑھیں اور ایک موٹر بائیک چلانے والے تک ضرور پہنچائیں۔ شاید آپ کی ایک شیئر کسی کی جان بچا دے۔










03/09/2026

سی این جی بند، پیٹرول ڈیزل مہنگا۔ باگ دوڑ تجربہ کاروں کے ہاتھ میں۔

03/09/2026

جلسہ بڑا دکھانا ہے؟ بہت آسان ہے۔

دو چار ماہر کیمرہ مین بلائیے، چند لاکھ روپے خرچ کیجیے، اپنے من پسند جھنڈے لگائیے، اپنے پسندیدہ نعرے لگوائیے۔
پھر دیکھیے، چند سو افراد کا مجمع کیمرے کی آنکھ میں ہجوم کا سمندر بن جاتا ہے۔
جو نعرہ آپ لگوانا چاہیں گے، وہ گونج دار سنائی دے گا۔ جس بات پر داد چاہیے ہوگی، وہاں تالیاں بھی بجیں گی۔
ٹی وی پر ویڈیو چلوانے کی بھی کیا ضرورت؟ "غازی نامہ" فری میں دیگر سوشل میڈیا پیجز سے معاملات خود طے کر لینا اور پھر وہی چند سو لوگ مختلف زاویوں، مختلف کیمروں اور مختلف پوسٹوں کے ذریعے لاکھوں، بلکہ کروڑوں کا مجمع دکھائی دینے لگیں گے۔
کیمرہ مین کا ہنر اپنی جگہ، سوشل میڈیا کا کمال اپنی جگہ اور دکھاوے کی دنیا اپنی جگہ۔
بس اٹک اور نوشہرہ کی چنگڑ بستیوں کے سربراہان سے رابطہ کیجیے، پانچ لاکھ روپے دیجیے، پانچ سو بندے لیجیے اور اگر پانچ سو سے بھی دل نہ بھرے تو نرخ بڑھاتے جائیے۔ آخر شوق، نام اور طاقت کے مظاہرے کے آگے پانچ چھ لاکھ روپے کی کیا وقعت ہے؟ بس ایک بات یاد رکھیے، کیمرے مجمع بڑا دکھا سکتے ہو اور پھر سکون سے انتظار کیجیے، کہ اس مصنوعی سمندر میں کون سی بڑی مچھلی آپ کو ہڑپ کرتی ہے۔
اور اگر ہڑپ ہو ہی گئے تو پھر بڑی مچھلی کے پیٹ میں خوب اچھلیے، کودئیے، مزے کیجیئے۔

03/09/2026

بس آپ خود کو سنبھالے رکھیے
تب بھی کہا تھا، اور آج بھی کہہ رہے ہیں۔ فیصلے ہمیشہ وقت کے پاس رہتے ہیں، اختیار صرف کچھ عرصے کے لیے لوگوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔
جنہوں نے ساتھ چھوڑا ، کل وہی ساتھ دے نگے۔ جنہوں نے سمجھا تھا کہ کہانی ختم ہو گئی، شاید انہیں ابھی اگلا باب پڑھنا باقی ہے۔
سرگوشیاں تو بہت پہلے شروع ہو گئی تھیں، اب وہ سرگوشیاں آوازوں میں بدل رہی ہیں۔ کچھ دروازوں کے اندر بھی آپ کا ذکر ہونے لگا ہے، اور کچھ آوازیں اب باہر تک آ رہی ہیں۔
وقت شاید وہی سوال دوبارہ سامنے لا رہا ہے۔ جسے کل روک دیا گیا تھا، کیا اسے دوبارہ بلانا پڑے گا؟
ہم صرف اتنا کہیں گے، اپنے آپ کو سنبھالے رکھیے۔ نہ وقت سے پہلے کوئی قدم، نہ کسی آواز پر فوری ردِعمل۔ کیونکہ اگر وقت نے واقعی پلٹا کھایا، تو واپسی صرف ایک شخص کی نہیں ہوگی، کئی فیصلوں کا حساب بھی ساتھ آئے گا۔
اور پھر شاید وہی لوگ، جو آج خاموش ہیں، کل خود آواز دیں گے۔
"اب واپس آ جائیے"

Address

Tarbela
23460

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when GHAZI NAMA posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share