07/09/2026
منصوبے پائپ لائن میں ہیں۔
اتنے عرصے سے منصوبے پائپ لائن میں ہیں کہ اب تو پائپ بھی زنگ آلود ہونے کو آ گئے۔
اعلانات ہوئے، دعوے ہوئے، ٹھیکیداروں کے میلے لگے، معاملات طے ہوئے، مگر منصوبے پائپ لائن سے باہر نہ نکل سکے۔
اب تو لگتا ہے پائپ لائن ہی کرپشن کے گندے سیوریج نالے میں کہیں پھٹ گئی، اور سارے منصوبے گٹر کے پانی کے ساتھ بہہ گئے۔
ہاں، کچھ چمچوں اور چاپلوسوں کے ہاں ترقی کے چند قطرے ضرور گرے، مگر وہ ووٹر اور سپورٹر محروم رہے جنہوں نے مشکل وقت میں ساتھ دیا تھا۔ کیونکہ وہ
منافق نہیں تھے۔ چاپلوس نہیں تھے۔
ہر وقت آگے پیچھے پھدکنے والے نہیں تھے۔
وہ سمجھتے تھے کہ ساتھ دینا عزت ہے، خوشامد کرنا نہیں۔ خیر یہ وقت بھی گزر جائے گا۔
اقتدار، عہدے، پروٹوکول اور چاپلوسوں کے ہجوم سب عارضی ہیں۔ وقت کا پہیہ گھومتا ضرور ہے، اور جب گھومتا ہے تو بڑے بڑے پھدکتے ہوئے زمین نشین ہو جاتے ہیں۔
بس وقت کا انتظار کیجیے۔ کل آئینہ بھی دکھے گا، اور چہرے بھی پہچانے جائیں گے۔