Markaz Rohani Ilaj

Markaz Rohani Ilaj Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Markaz Rohani Ilaj, Digital creator, Taunsa Shareef, Taunsa.

Islamic Scholar🕋
Herbal Physician🌿🩺
Spiritual Healer❤️
AlRuqiyah AlShariah🤝
Naqshbandia Shazlia✅
Cure For Black Magic💯
Spiritual Teacher🎓
Psychic Healer💫
0340-8628286

24/07/2026

کیا آپ کے گھر میں بھی چھوٹے بچے، بھائی بہن ہر وقت لڑتے رہتے ہیں؟

صبح لڑائی... دوپہر لڑائی... شام لڑائی...
اور والدین کی زبان پر ایک ہی جملہ ہوتا ہے:

"آخر ہمارے بچوں کو ہو کیا گیا ہے؟"

حقیقت یہ ہے کہ جیسے جیسے بچے بڑے ہوتے ہیں، ان کی سوچ، مزاج اور رائے الگ ہونے لگتی ہے۔ جب ایک دوسرے کی بات برداشت نہیں ہوتی تو معمولی سی بات بھی جھگڑے میں بدل جاتی ہے۔

لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے جس پر اکثر والدین کی نظر نہیں جاتی...

اگر گھر میں والد یا والدہ اونچی آواز میں بات کرتے ہیں، ہر وقت ڈانٹ ڈپٹ، چیخ و پکار یا لڑائی جھگڑا رہتا ہے تو بچے بھی لاشعوری طور پر یہی انداز سیکھ لیتے ہیں۔ پھر وہی لہجہ، وہی غصہ اور وہی رویہ ایک دوسرے کے ساتھ اختیار کرتے ہیں۔

الحمدللہ، ہمارے مشاہدے میں ایک نہایت آسان عمل بارہا فائدہ مند ثابت ہوا ہے۔

پہلا عمل:
اَللَّهُمَّ يَا نُورُ تَنَوَّرتَ بِالنُّورِ وَالنُّورُ في نُورِ نُورِكَ يَانُورُ
یہ دعا روزانہ 21 پڑھ کر نمک پر دم کریں، پھر اس نمک کو آٹے اور سالن میں استعمال کریں۔ اس عمل کو کم از کم 40 دن پابندی سے جاری رکھیں۔

دوسرا عمل:
جب کھانا مکمل تیار ہو جائے تو سالن اور روٹیوں پر 21 مرتبہ "بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ" پڑھ کر دم کر دیا کریں۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے گھریلو ماحول میں نرمی، محبت، الفت اور باہمی احترام پیدا ہونے لگتا ہے، اور والدین کی یہ شکایت آہستہ آہستہ ختم ہونے لگتی ہے۔

اگر آپ بھی اپنے گھر میں سکون، محبت اور بھائی بہنوں کے درمیان پیار چاہتے ہیں تو آج ہی ان دونوں اعمال کی پابندی شروع کریں۔
روحانی معالج
حکیم مفتی شاہدالاسلام شاذلی

22/07/2026

"ہم کیوں نہ آئیں...؟" ایک جن کی وہ بات جو آج تک میرے ذہن میں گونجتی ہے۔

آج ایک ایسا واقعہ آپ کے ساتھ شیئر کر رہا ہوں جس نے مجھے بھی بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا تھا۔

ایک مرتبہ ایک مریضہ پر جنات کی حاضری تھی۔ ہم اس سے گفتگو کر رہے تھے۔ جسم چھوڑنے کی بات ہو رہی تھی اور یہ بھی پوچھا جا رہا تھا کہ اس نے اس مریضہ کو اتنی تکلیفیں کیوں دیں۔ گفتگو ہمارے معمول کے طریقۂ علاج کے مطابق جاری تھی۔

اتنے میں اچانک اسی مریضہ کا موبائل بج اٹھا...

رِنگ ٹون میں میوزک چل رہا تھا۔

اس وقت جو بات اس جن نے کہی، وہ آج تک میرے ذہن سے نہیں نکلی۔

وہ کہنے لگا:

"یہ دیکھو... جب ان کی اپنی جیبوں میں ہماری پسند کی چیزیں موجود ہوں گی تو ہم کیوں نہیں آئیں گے؟ ہمیں گانے، میوزک اور ایسی محفلیں پسند ہیں۔ جہاں یہ چیزیں زیادہ ہوتی ہیں، وہاں پہنچنا ہمارے لیے آسان ہو جاتا ہے۔ کبھی ہم جسم پر اثر انداز ہوتے ہیں، کبھی گھر والوں کو پریشان کرتے ہیں اور کبھی وہیں ڈیرہ جما لیتے ہیں، کیونکہ ہمیں اپنا ماحول مل جاتا ہے۔"

یہ الفاظ سن کر میں خاموش ہو گیا...

چاہے کوئی اس بات کو کیسے بھی لے، لیکن ایک حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ آج ہمارے گھروں میں قرآن کی آواز پہلے سے بہت کم اور گانے، ڈرامے، فلمیں اور ہر وقت بجتا ہوا میوزک پہلے سے کہیں زیادہ ہو چکا ہے۔

ہم موبائل کی رِنگ ٹون کو معمولی بات سمجھتے ہیں، ٹی وی پر چلتے ہوئے میوزک کو معمولی سمجھتے ہیں، لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا کہ اگر یہی چیزیں ہمارے گھروں کی روحانی فضا کو متاثر کر رہی ہوں تو؟

اس لیے اپنی حفاظت اپنے ہی ہاتھ میں رکھیں۔

اپنے موبائل کی رِنگ ٹون سادہ رکھیں۔ غیر ضروری میوزک سے بچیں۔ گھروں میں قرآن کی تلاوت کو عام کریں۔ فلموں، ڈراموں اور ہر اس چیز سے حتیٰ الامکان دور رہیں جو دل کو اللہ کی یاد سے غافل کرتی ہے۔

اور ایک معمول آج ہی اپنی زندگی میں شامل کر لیں...

صبح و شام آیت الکرسی پڑھنے کا اہتمام کریں، گھر میں داخل ہوتے وقت مسنون دعا پڑھیں، حتیٰ الامکان باوضو رہنے کی کوشش کریں، اور اپنے بچوں کو بھی یہ عادتیں سکھائیں۔

یاد رکھیں...

شیطان حملہ کرنے سے پہلے اجازت نہیں لیتا، لیکن اللہ کی حفاظت مانگنے والا کبھی خسارے میں نہیں رہتا۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔
آمین۔۔
روحانی معالج
حکیم مفتی شاہدالاسلام شاذلی

21/07/2026

ایک ایسا حصار… جسے اللہ کے نبی ﷺ نے کبھی نہیں چھوڑا

آج میں آپ سب کے لیے، اور خاص طور پر آپ کے بچوں کے لیے، ایک نہایت قیمتی تحفہ پیش کرنا چاہتا ہوں۔

اگر ہم اپنے اردگرد نظر ڈالیں تو ایک حقیقت صاف دکھائی دیتی ہے کہ روحانی اعتبار سے ہم پہلے جیسے نہیں رہے۔ کبھی ہمارے گھروں میں قرآن کی تلاوت ہوتی تھی، نمازوں کی پابندی ہوتی تھی، باوضو رہنے کا اہتمام تھا، امانت داری، دیانت داری اور اللہ کی یاد زندگی کا حصہ تھی۔ آج یہ سب پہلے کے مقابلے میں بہت کم ہوتا جا رہا ہے۔

دوسری طرف شیطانی اثرات پہلے سے کہیں زیادہ عام ہو چکے ہیں۔ ٹی وی، موبائل، فلمیں، ڈرامے، گانے اور بے شمار ایسی چیزیں جن سے دل کی پاکیزگی متاثر ہوتی ہے، ہر گھر تک پہنچ چکی ہیں۔ چاہے ہم زبان سے مانیں یا نہ مانیں، لیکن دل گواہی دیتا ہے کہ روحانیت کم ہوئی ہے اور غفلت بڑھ گئی ہے۔

جب ماحول بدل جائے تو اس کے اثرات صرف بڑوں پر نہیں بلکہ بچوں پر بھی پڑتے ہیں۔ اسی لیے سب سے پہلے اپنے گھروں میں نماز، قرآن کی تلاوت، باوضو رہنے کی عادت اور اللہ کی یاد کو دوبارہ زندہ کریں۔ یہی اصل حفاظت ہے۔

اس کے ساتھ ایک ایسا مسنون عمل بھی ہے جسے ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ نے ہمیشہ اختیار فرمایا۔

رات کو سونے سے پہلے سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس پڑھیں، دونوں ہاتھوں پر دم کریں اور اپنے چہرے اور پورے جسم پر پھیر لیں۔ یہی عمل تین مرتبہ کریں، پھر اطمینان سے سو جائیں۔

اپنے بچوں کے لیے بھی یہی معمول بنا لیں۔ تینوں سورتیں پڑھ کر ہاتھوں پر دم کریں اور ان کے جسم پر پھیر دیں، پھر دوسری اور تیسری مرتبہ بھی اسی طرح کریں۔

یہ چند لمحوں کا عمل ہے، لیکن جس عمل کو اللہ کے نبی ﷺ نے اپنی زندگی بھر اختیار فرمایا ہو، اس کی برکتوں کا اندازہ ہم نہیں لگا سکتے۔



آج ہی اس سنت کو اپنے گھر میں زندہ کریں۔ ان شاء اللہ کچھ ہی عرصے بعد آپ اپنے گھر کے ماحول، اپنے بچوں کے رویّے اور اپنے دل کے سکون میں خوشگوار تبدیلی محسوس کریں گے۔

آپ دیکھیں گے کہ آپ کے بچوں کا چڑچڑا پن ان کا رونا اور بے سکونی والی کیفیت آپ کی زندگی سے بھی ختم ہو جائے گی اپ کے بچوں کی زندگی سے بھی ختم ہو جائے گی
روحانی معالج
حکیم مفتی شاہدالاسلام شاذلی

20/07/2026
19/07/2026

کتاب کھولتے ہی آنکھیں بوجھل ہو جاتی ہیں؟ دماغ جیسے بند ہو جاتا ہے؟...سٹوڈنٹس کے لیے خاص تحفہ

یہ بات شاید بہت سے طلبہ کے دل کی آواز ہے…

کئی بچے ہمارے پاس آتے ہیں جن کی شکایت ہوتی ہے کہ عام حالات میں وہ بالکل نارمل ہوتے ہیں۔ ہنستے بولتے ہیں، دوستوں سے گفتگو کرتے ہیں، موبائل بھی آرام سے استعمال کر لیتے ہیں، لیکن جیسے ہی کتاب سامنے رکھتے ہیں، چند منٹ میں آنکھیں بوجھل ہونے لگتی ہیں، جمائیاں آنے لگتی ہیں، دل گھبرانے لگتا ہے اور دماغ بالکل خالی محسوس ہونے لگتا ہے۔

سبق پڑھ بھی لیں تو کچھ دیر بعد ایسا لگتا ہے جیسے کبھی یاد ہی نہیں کیا تھا۔ امتحان کے ہال میں بیٹھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ساری محنت ایک لمحے میں ذہن سے مٹ گئی ہے۔

یقیناً ہر ایسے مسئلے کی روحانی وجہ نہیں ہوتی۔ بعض اوقات پڑھائی کا دباؤ، ذہنی تھکن، نیند کی کمی، توجہ کی کمزوری یا دیگر ظاہری اسباب بھی اس کا سبب بنتے ہیں۔ اس لیے ان اسباب کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

البتہ ہمارے تجربے میں ایسے بھی بہت سے کیسز آئے ہیں جہاں تشخیص کے بعد نظرِ بد کا معاملہ سامنے آیا، اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے قرآنی اذکار کے ذریعے نمایاں بہتری حاصل ہوئی۔

چند دن پہلے ایف ایس سی کی ایک طالبہ ہمارے مرکز آئیں۔ ان کی کیفیت بھی تقریباً یہی تھی۔ اس وقت میری عدم موجودگی میں میرے شاگردوں نے ان کی تشخیص کی، جس میں نظرِ بد کی علامات سامنے آئیں۔ انہیں منزل (سورۂ فاتحہ سے سورۂ الناس تک مخصوص آیات کا مجموعہ) صبح و شام ایک مرتبہ پڑھنے کا معمول دیا گیا، اور 300 مرتبہ "بسم اللہ الرحمن الرحیم" اول و آخر 11 مرتبہ درودِ شریف کے ساتھ پڑھ کر پانی پر دم کر کے پینے کی ہدایت کی گئی۔

صرف ایک ہفتے بعد جب وہ دوبارہ آئیں تو ان کا کہنا تھا کہ الحمدللہ تقریباً 70 فیصد فرق آ چکا ہے۔ پڑھائی میں دلچسپی بھی واپس آ رہی ہے اور سبق یاد رکھنے میں بھی واضح آسانی محسوس ہو رہی ہے۔

اگر آپ طالب علم ہیں، یا آپ کے گھر میں کوئی بچہ اسی طرح کی کیفیت سے گزر رہا ہے، تو سب سے پہلے ظاہری اسباب پر ضرور توجہ دیں۔ لیکن اگر تمام کوششوں کے باوجود مسئلہ برقرار ہے، تو بہتر ہے کہ کسی معتبر ذریعے سے روحانی تشخیص بھی کروا لی جائے تاکہ معلوم ہو سکے کہ واقعی کوئی روحانی وجہ موجود ہے یا نہیں۔

اس دوران ہماری طرف سے تمام طلبہ کے لیے اجازت ہے کہ:

منزل صبح و شام ایک مرتبہ پڑھیں۔

"بسم اللہ الرحمن الرحیم" 300 مرتبہ، اول و آخر 11 مرتبہ درودِ شریف کے ساتھ پڑھ کر پانی پر دم کریں اور وہ پانی پی لیں۔

یہ اذکار اللہ تعالیٰ کے کلام پر مشتمل ہیں، جو ہر مسلمان کے لیے باعثِ خیر و برکت ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام طلبہ کو تیز حافظہ، یکسوئی، علمِ نافع اور ہر قسم کی ظاہری و باطنی رکاوٹوں سے حفاظت عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔
روحانی معالج
حکیم مفتی شاہدالاسلام شاذلی
゚viralシ

18/07/2026

کہیں کسی کی آہ تو نہیں لگی...؟

کبھی رات کی تنہائی میں خود سے یہ سوال ضرور کیجیے...
آخر ایسا کیوں ہے کہ دعاؤں پر دعائیں مانگ رہے ہیں، وظیفوں پر وظیفے کر رہے ہیں، تہجد کا اہتمام بھی ہے، آنسو بھی بہہ رہے ہیں، صدقہ بھی دے رہے ہیں، تعویذات بھی کروا لیے... لیکن حالات ہیں کہ پلٹنے کا نام ہی نہیں لیتے۔

رزق میں برکت نہیں...
کاروبار میں وسعت نہیں...
اولاد کے مسائل ختم نہیں...
رشتے بنتے بنتے ٹوٹ جاتے ہیں...
دل بے چین ہے، گھر بے سکون ہے، اور مستقبل ایسا دکھائی دیتا ہے جیسے ہر راستے پر دھند ہی دھند چھائی ہوئی ہو۔

ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے زندگی کی گاڑی کسی ایک جگہ آ کر رک گئی ہو...
جیسے قسمت پر برف جم گئی ہو...
اور لاکھ کوشش کے باوجود وہ برف پگھلنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔

کبھی سوچا...
شاید مسئلہ کسی دشمن کے جادو سے پہلے آپ کی اپنی زبان سے نکلے ہوئے ایک جملے کا ہو؟

ہو سکتا ہے کسی دن آپ نے کسی غریب رشتہ دار کے تحفے کو حقیر سمجھ کر کہہ دیا ہو:
"بس اتنی سی چیز؟"

ہو سکتا ہے کسی مجبور انسان کی غربت پر ہنس دیے ہوں...

ہو سکتا ہے کسی ملازم، کسی یتیم، کسی بیوہ، کسی مسکین، کسی دوست یا کسی رشتہ دار کو مذاق میں ایسا لفظ کہہ دیا ہو جو اس کے دل کے آرپار اتر گیا ہو۔

آپ تو چند لمحوں بعد بھول گئے...
لیکن وہ رات بھر روتا رہا...

آپ کے لیے وہ صرف ایک جملہ تھا...
اس کے لیے پوری زندگی کی ذلت بن گیا۔

اور یاد رکھیے...

مظلوم کی آہ زمین پر نہیں گرتی، سیدھی آسمانوں تک پہنچتی ہے۔

نبی کریم ﷺ نے مظلوم کی دعا سے بچنے کی تلقین فرمائی، کیونکہ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔

ہر آہ بددعا نہیں ہوتی...
کبھی کسی کا خاموش دل ٹوٹ جانا بھی اللہ کے ہاں بہت بڑی فریاد بن جاتا ہے۔

اگر وہ شخص کشادہ دل تھا، اس نے آپ کو معاف کر دیا، تو یہ آپ کی خوش نصیبی ہے۔

لیکن اگر وہ دل ہی دل میں ٹوٹ گیا...
اگر اس کی آنکھ سے نکلا ہوا ایک آنسو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول ہو گیا...
تو پھر انسان حیران رہ جاتا ہے کہ ہر دروازہ کھٹکھٹانے کے باوجود کامیابی کیوں نہیں مل رہی۔

آج ایک لمحے کے لیے اپنی پوری زندگی کو ریوائنڈ کیجیے۔

سوچیے...
کیا کسی کا دل تو نہیں توڑا؟
کسی غریب کو حقیر تو نہیں سمجھا؟
کسی محتاج کو ذلیل تو نہیں کیا؟
کسی کے تحفے کا مذاق تو نہیں اڑایا؟
کسی کی عزت کو مجروح تو نہیں کیا؟

اگر کوئی چہرہ یاد آ جائے...

تو دیر نہ کیجیے۔

اس کے پاس جائیے...
اس سے معافی مانگیے...
اس کے ساتھ حسنِ سلوک کیجیے...
اگر ممکن ہو تو اس کی مدد کیجیے۔

اور اگر کچھ یاد نہیں آ رہا...

تب بھی استغفار کو اپنا معمول بنا لیجیے۔

ہزاروں، لاکھوں مرتبہ "اَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ" پڑھتے رہیے۔

اللہ تعالیٰ سے عاجزی کے ساتھ عرض کیجیے:

"یا اللہ! اگر میری زبان، میرے رویّے یا میرے کسی عمل سے کسی بندے کا دل ٹوٹا ہے، مجھے یاد نہیں، لیکن تو جانتا ہے۔ اے میرے رب! مجھے معاف فرما، اس بندے کے دل کو راضی فرما، اور میری زندگی سے ہر رکاوٹ دور فرما۔"

اور جب اللہ تعالیٰ کسی مظلوم کا دل راضی کر دیتا ہے...
تو برسوں سے بند دروازے چند لمحوں میں کھل جاتے ہیں...
روکے ہوئے رزق بہنے لگتے ہیں...
بگڑے ہوئے کام سنور جاتے ہیں...
اور انسان حیران رہ جاتا ہے کہ آخر یہ تبدیلی آئی کہاں سے۔
روحانی معالج
حکیم مفتی شاہدالاسلام شاذلی

ایک مرتبہ ضرور پڑھیں
16/07/2026

ایک مرتبہ ضرور پڑھیں

دس ہزار فالورز کی خوشی میں نئے اور پرانے فالورز کو دانت کے درد کے دم کی خصوصی اجازت

الحمدللہ! ❤️
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور آپ سب کی محبت، دعاؤں اور اعتماد سے ہمارے فیس بک پیج پر 10,000 فالورز مکمل ہو گئے ہیں۔

یہ کامیابی میری نہیں، بلکہ آپ سب کی محبت کا نتیجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کو دنیا و آخرت کی خیر، صحت، رزق اور برکتیں عطا فرمائے۔ آمین۔

اسی خوشی کے موقع پر میں اپنے تمام 10 ہزار فالورز کو دانت کے درد کا ایک خصوصی دم بطور اجازت دے رہا ہوں۔

یہ اجازت صرف اپنے لیے اور اپنے گھر والوں کے لیے ہے۔ اس کی اجازت ہرگز اپنے گھر سے باہر کسی دوسرے شخص پر دم کرنے کی نہیں ہے۔

میں نے برسوں کے مشاہدے میں بارہا دیکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس دم کی برکت سے ایسے ایسے شدید دانت درد میں بھی راحت عطا فرما دیتے ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔ شفا دینے والی ذات صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ہے، ہم تو صرف دعا اور دم کا ذریعہ اختیار کرتے ہیں۔

طریقہ:
جو دم میں آپ کو بتایا جا رہا ہے، اسے سات (7) مرتبہ پڑھ کر دانت کے درد والی جگہ پر دم کریں۔
لِكُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّ٘ و سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ( سورۃ الانعام آیت نمبر67)

لیکن ایک بہت اہم بات ہمیشہ یاد رکھیے...

دم علاج کا متبادل نہیں ہے۔ اگر درد بہت زیادہ ہو، سوجن ہو، پیپ بن رہی ہو، بخار آ رہا ہو، یا تکلیف مسلسل بڑھتی جا رہی ہو تو ہرگز صرف دم پر اکتفا نہ کریں، بلکہ فوراً کسی ماہر اور اچھے ڈینٹل ڈاکٹر سے رجوع کریں اور مکمل علاج کروائیں۔

ہمارے پرانے احباب کو یاد ہوگا کہ پہلے زمانے میں دانت کا دم مختلف بزرگوں کا بہت مشہور تھا، اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے بہت سے لوگ اس سے سکون بھی پاتے تھے۔ اسی طرح یہ دم بھی ہنگامی صورت میں ایک مفید ذریعہ بن سکتا ہے، لیکن مستقل اور مکمل علاج اپنی جگہ ضروری ہے۔

اللہ تعالیٰ اس اجازت کو آپ سب کے لیے خیر، راحت اور شفا کا ذریعہ بنائے، اور آپ سب کو ہمیشہ اپنی حفظ و امان میں رکھے۔

آمین یا رب العالمین۔ 🌹
روحانی معالج
حکیم مفتی شاہدالاسلام شاذلی

14/07/2026

جب ہر دروازہ بند ہو جائے... تو یہ 3 وظائف آزمائیں! ایک اسکول ٹیچر کی حیران کن سچی کہانی

آج میرے پاس ایک دوست مٹھائی کا ڈبہ لے کر آئے۔ چہرے پر خوشی تھی، آنکھوں میں تشکر، اور زبان پر صرف ایک جملہ:

"اللہ تعالیٰ نے آپ کے بتائے ہوئے وظیفے کی برکت سے میرا کام کر دیا!"

میں نے پوچھا: "کون سا کام؟"

کہنے لگے: "میرا ٹرانسفر!"

یہ ایک اسکول ٹیچر ہیں۔ روزانہ طویل سفر کر کے ڈیوٹی پر جانا ان کے لیے انتہائی مشکل ہو چکا تھا۔ انہوں نے ہر ممکن کوشش کی۔ سفارشیں، درخواستیں، تعلقات، ہر دروازہ کھٹکھٹایا... لیکن جب بھی لگتا کہ اب کام ہو جائے گا، عین وقت پر کوئی نہ کوئی رکاوٹ آ جاتی، اور معاملہ پھر وہیں کا وہیں رہ جاتا۔

آخرکار انہوں نے مجھ سے رابطہ کیا۔

میں نے انہیں صرف ایک وظیفہ بتایا:

روزانہ سورۂ تغابن 41 مرتبہ پڑھیں۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو کم از کم 21 مرتبہ ضرور پڑھیں، اور پوری توجہ سے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں۔

عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ لوگ دو چار دن تو بڑے جذبے سے پڑھتے ہیں، پھر آدھا گھنٹہ یا پینتیس منٹ کی تلاوت انہیں زیادہ محسوس ہونے لگتی ہے، اور وہ وظیفہ چھوڑ دیتے ہیں۔

لیکن اس دوست نے ہمت نہیں ہاری۔

وہ روزانہ 21 مرتبہ سورۂ تغابن پڑھتے رہے، دعا کرتے رہے، اور اللہ تعالیٰ سے امید وابستہ رکھے رہے۔

چند دن بعد جب وہ دوبارہ ملے تو ان کے ہاتھ میں مٹھائی کا ڈبہ تھا۔

میں نے پوچھا:

"کتنے دن میں کام ہو گیا؟"

مسکرا کر بولے:

"تقریباً 21 یا 24 دن ہی پڑھے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسا راستہ بنا دیا جس کا میں تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ آج بھی سوچتا ہوں تو حیران رہ جاتا ہوں۔"

دوستو!

عربی کا ایک خوبصورت محاورہ ہے:

"جو شخص مسلسل دروازہ کھٹکھٹاتا رہے، آخرکار اس کے لیے دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔"

اور مجھے ایک شعر ہمیشہ یاد آتا ہے:

کھولیں نہ کھولیں وہ اپنا در، اس پر ہو کیوں تیری نظر,
تو بس اپنا کام کر،
یعنی صدا لگائے جا...

اللہ تعالیٰ کے دروازے پر مسلسل دستک دیتے رہیں۔ وہ ذات کبھی اپنے بندے کو مایوس نہیں کرتی۔

اگر آپ کا بھی کوئی کام بار بار رُک رہا ہے... نوکری... ٹرانسفر... کاروبار... رشتہ... عدالتی معاملہ... یا کوئی اور جائز ضرورت...
تو یہ تین اعمال مستقل مزاجی سے کریں:

✨1۔ سورۂ تغابن
روزانہ 41 مرتبہ پڑھیں، اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو 21 مرتبہ ضرور پڑھیں۔ (اس وظیفے کو 35 دن سے زیادہ نہ کریں۔)
✨ 2۔ حسبنا اللہ ونعم الوکیل
عشاء کی نماز کے بعد 450 مرتبہ پڑھیں۔

3۔ سورۂ قریش
فجر اور مغرب کی نماز کے بعد 21، 21 مرتبہ پڑھیں۔

اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ان وظائف کی برکت سے میرے پاس آنے والے بہت سے لوگوں کے بڑے بڑے رکے ہوئے معاملات آسان فرمائے ہیں۔

لیکن ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں...

اصل کارساز کوئی وظیفہ نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی ذاتِ اقدس ہے۔

وظائف صرف دعا کا ایک ذریعہ ہیں۔ اصل بھروسا اللہ پر ہونا چاہیے۔ نمازوں کی پابندی کریں، قرآنِ کریم کی تلاوت کا معمول بنائیں، خصوصاً سورۂ یٰسین کی تلاوت کا اہتمام کریں، اور اللہ تعالیٰ سے گڑگڑا کر دعا مانگیں۔

آخر میں میری طرف سے تمام قارئین کو ان وظائف کی اجازت ہے۔

اللہ تعالیٰ آپ کے تمام جائز، حلال اور رکے ہوئے معاملات اپنے فضل و کرم سے آسان فرمائے، آپ کی دعاؤں کو قبول فرمائے، اور آپ کے لیے وہاں سے راستے کھول دے جہاں سے آپ کو گمان بھی نہ ہو۔

آمین یا رب العالمین۔
روحانی معالج
حکیم مفتی شاہدالاسلام شاذلی

Address

Taunsa Shareef
Taunsa
32100

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Markaz Rohani Ilaj posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share