Thal Daman

Thal Daman اگر أپکے ساتھ کوئی مسئلہ ہو یا أپکے علاقے کی خبر ہو ہم سے رابطہ کریں ہم بنیں گے أپکی أواز
03217300494

24/02/2026
تونسہ شریف میں ٹریفک پولیس کی یکطرفہ کارروائیاں — ایک سنجیدہ سوالتونسہ شریف ایک مزدوروں کا شہر ہے۔ یہاں زیادہ تر لوگ محن...
15/01/2026

تونسہ شریف میں ٹریفک پولیس کی یکطرفہ کارروائیاں — ایک سنجیدہ سوال
تونسہ شریف ایک مزدوروں کا شہر ہے۔ یہاں زیادہ تر لوگ محنت مزدوری کر کے دو وقت کی روٹی کماتے ہیں، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ٹریفک پولیس کی روزانہ کی کارروائیاں زیادہ تر انہی غریب موٹرسائیکل سواروں تک محدود نظر آتی ہیں۔
کبھی لائسنس کے نام پر، کبھی کاغذات کے بہانے موٹرسائیکل بند، چالان اور تھانے میں بندش — یہ سب کیا صرف مزدور کے لیے ہے؟
سوال یہ ہے کہ:
کیا کبھی بڑی گاڑیوں کو روکا گیا؟
کیا کبھی کار سوار کا لائسنس باقاعدہ چیک ہوا؟
کیا کبھی رکشہ ڈرائیور کی نمبر پلیٹ اور کاغذات دیکھے گئے؟
اگر قانون سب کے لیے برابر ہے تو عمل بھی برابر کیوں نہیں؟
قانون پر عمل ضروری ہے، اس سے کسی کو انکار نہیں۔ لائسنس بننا چاہیے، مگر قانون کا نفاذ انصاف کے ساتھ ہونا چاہیے، انتقام کے ساتھ نہیں۔
بدقسمتی سے کچھ مفاد پرست “چمچا صحافی” بھی اس عمل کو درست ثابت کرنے میں لگے نظر آتے ہیں، جو عوام کی آواز بننے کے بجائے طاقتوروں کی تالیاں بجاتے ہیں۔
ہم تونسہ شریف کے معزز نمائندگان، ایم این اے اور ایم پی اے صاحبان سے مؤدبانہ گزارش کرتے ہیں کہ اس معاملے کا نوٹس لیں، ٹریفک پولیس کو سمجھائیں کہ قانون کا اطلاق یکساں ہو۔
غریب کو تنگ کرنا آسان ہے، مگر انصاف وہی ہے جو سب کے لیے ہو۔
یہ آواز نفرت کی نہیں، اصلاح کی ہے۔
یہ مطالبہ بغاوت نہیں، برابری کا ہے۔

ملک حق نواز ٹالہہ — عوام کا اعتماد، علاقے کا فخرملک حق نواز ٹالہہ، سابق اوئیس چیئرمین ڈونا، نے اپنے اہم اور تاریخی اعلان...
23/11/2025

ملک حق نواز ٹالہہ — عوام کا اعتماد، علاقے کا فخر

ملک حق نواز ٹالہہ، سابق اوئیس چیئرمین ڈونا، نے اپنے اہم اور تاریخی اعلان میں کہا ہے کہ آنے والے بلدیاتی الیکشن میں وہ بھرپور جوش، جذبے اور عزم کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔
انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا:

"ہم اپنا پینل خود میدان میں اتاریں گے، نہ کسی کے پینل میں ضم ہوں گے، نہ کبھی کسی سے مدد مانگنے کے محتاج رہے ہیں۔ ہماری طاقت اللہ اور ہماری عوام ہے۔"

ملک حق نواز ٹالہہ ایک باوقار، بااثر، عوام دوست اور دردِ دل رکھنے والی شخصیت ہیں، جو ہر وقت اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔
اہلِ علاقہ نے ہمیشہ ان پر بھرپور اعتماد کیا ہے، اور اب بھی ان شاءاللہ اپنے قیمتی ووٹ کے ذریعے انہیں کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔

اس بار فیصلہ عوام کا، جیت خدمت کی—
چئیرمین ہوگا صرف ایک: ملک حق نواز ٹالہہ!

08/11/2025

ہیڈ بکائنی جنگل میں ایک بزرگ آدمی ملتان سے تین بچیوں کو لے آیا اور ذبح کر رھا تھا تو ایک آدمی نے آواز سُن کر بھاگا اور اُن کی جان بچائی

💔 سودان کی ماں… انسانیت کا نوحہریت میں لپٹا ہوا چہرہ،آنکھوں میں خوف اور آنسوؤں کی نمی،اور بازوؤں میں لپٹے دو ننھے وجود —...
04/11/2025

💔 سودان کی ماں… انسانیت کا نوحہ

ریت میں لپٹا ہوا چہرہ،
آنکھوں میں خوف اور آنسوؤں کی نمی،
اور بازوؤں میں لپٹے دو ننھے وجود —
یہ ماں کسی جنگ کا حصہ نہیں…
یہ صرف زندہ رہنے کی جنگ لڑ رہی ہے۔

دنیا خاموش ہے،
اور اس کی خاموشی ان چیخوں سے بھی زیادہ ہولناک ہے
جو ان بچوں کے پیٹ کی بھوک چیخ رہی ہے۔

یہ چہرے سوال ہیں —
انسانیت کہاں سو گئی؟
ضمیر کب جاگے گا؟
کب ہم لفظوں سے نکل کر عمل میں آئیں گے؟

خدا کے لیے،
اگر ہم کچھ نہیں کر سکتے تو کم از کم احساس تو کریں!
یہ ماں اور اس جیسے ہزاروں چہرے
ہم سب سے انصاف مانگ رہے ہیں…

🕊️ سودان کی ماؤں کے آنسو صرف سودان کے نہیں — یہ پوری انسانیت کے ماتھے کا داغ ہیں۔

✍️ غلام اکبر سنجرانی

محمد حاجی شفیق — تونسہ شاپنگ محل کے اونرمحمد حاجی شفیق، اپنے نام کی طرح شفیق دل رکھنے والے، نرم گفتار، محبت اور بھائی چا...
02/11/2025

محمد حاجی شفیق — تونسہ شاپنگ محل کے اونر

محمد حاجی شفیق، اپنے نام کی طرح شفیق دل رکھنے والے، نرم گفتار، محبت اور بھائی چارے کی علامت ہیں۔
ان کا انداز ملنساری کا، ان کا دل سخاوت کا، اور ان کی پہچان انسانیت سے جڑی ہے۔
تونسہ کی سرزمین پر وہ صرف ایک کاروباری شخصیت نہیں بلکہ احساس، خیرخواہی اور مدد کے استعارے ہیں۔

غریبوں کا دکھ سمجھنا، محتاجوں کے ساتھ کھڑا رہنا، اور ہنسی خوشی میں دوسروں کو شامل رکھنا — یہی ان کا حقیقی سرمایہ ہے۔
محمد حاجی شفیق ہمیشہ دوسروں کے کام آتے ہیں، دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں،
اور ان کی یہی خوبی انہیں عام لوگوں میں خاص بناتی ہے۔

ایسے لوگ معاشرے کے ماتھے کا جھومر ہوتے ہیں،
جو صرف نام سے نہیں، اپنے عمل سے “شفیق” کہلاتے ہیں۔ ❤️🌿

🌿 لمحۂ شکر، لمحۂ احساس 🌿کورو کے حافظ سلیم بحکمِ خدا باحفاظت اپنے گھر لوٹ آئے۔یہ لمحہ شکر کا ہے، سجدۂ شکر کا ہے،اور اس...
31/10/2025

🌿 لمحۂ شکر، لمحۂ احساس 🌿

کورو کے حافظ سلیم بحکمِ خدا باحفاظت اپنے گھر لوٹ آئے۔
یہ لمحہ شکر کا ہے، سجدۂ شکر کا ہے،
اور اس دعا کی قبولیت کا ہے جو ہر اُس دل سے نکلی جس نے ان کی خیریت چاہی۔

جو لوگ عملی کوششوں، رابطوں، اور پسِ پردہ دوڑ دھوپ میں مصروف رہے — وہ سب داد و تحسین کے مستحق ہیں۔
اور وہ دل بھی مقدّس ہیں جنہوں نے صرف دعا کی، کیونکہ انسانیت کا حسن یہی ہے۔

مگر افسوس اُن اذہان پر جنہوں نے بازیابی کی خبر آتے ہی “کریڈٹ” کی منڈی سجا دی۔
کس کا ہاتھ، کس کا کردار، تاوان دیا یا نہیں —
خیر کے لمحے پر بھی ذہن کی تنگی ختم نہیں ہوتی۔

عثمان بھائی خود گواہ ہیں کہ کوئی تاوان ادا نہیں ہوا،
اور خود مغوی نے اُنہیں فرزندِ تُونسہ نہیں بلکہ فرزندِ پاکستان کہا۔
پھر بھی اگر کوئی بحث کرے تو سمجھ لو یہ دلوں کی تنگی ہے، عقل نہیں۔

خدا کے بندو،
کبھی خیر کو خیر رہنے دو۔
کبھی کسی کی واپسی کو صرف اللہ کا انعام سمجھ کر خوشی منالو۔
جو زندہ سلامت لوٹا، وہ فضلِ الٰہی ہے،
اور جس کے ہاتھ سے خیر ظاہر ہوئی، وہ اللہ کا منتخب بندہ ہے۔

اللہ کریم سب پر رحم فرمائے،
آسانیاں لکھے،
اور ہمیں وہ نظر عطا کرے جو خیر کو پہچان لے اور اس پر شکر ادا کرے۔

✍️ غلام اکبر سنجرانی
#انسانیت

30/10/2025

تونسہ شریف میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا تماشہ جاری!
شام کے پانچ بجے سے رات کے نو بجے تک بجلی غائب— محمودیہ فیڈر تونسہ کے دیہات مسلسل عذاب میں مبتلا ہیں۔
نہ کوئی پوچھنے والا، نہ کوئی سننے والا!
کیا عوام کا صبر اب بھی آزمائش میں ڈالا جائے گا؟ ⚡💡

30/10/2025

🔥 تحریکِ سیاست یا تماشا؟ 🔥

جدھر سے گزرو، دھواں بچھا دو...
جہاں پہنچو، دھمال مچا دو...
تمہیں تو سیاست نے وہ اختیار دیا ہے کہ
ہری زمینوں کو بھی لال کر دو!

تم اپیل بھی تم، دلیل بھی تم،
گواہ بھی تم، وکیل بھی تم —
جسے چاہو “حرام” کہہ دو،
جسے چاہو “حلال” کر دو!

مگر یاد رکھو...
اقتدار کی کرسی ہمیشہ اونچی نہیں رہتی،
وقت کے دربار میں ہر حاکم کو پیش ہونا پڑتا ہے،
ضمیر کی عدالت میں فیصلے بدل نہیں سکتے!

اور جب یہ دھواں بیٹھے گا،
تو انہی جلتی زمینوں پر غریب کی سانسیں رک جائیں گی،
جو تمہارے فیصلوں کے بوجھ تلے اب بھی زندہ ہیں۔

✍️ غلام اکبر سنجرانی

📌 آسمان میں نظر آنے والی یہ عجیب روشنی آخر ہے کیا؟گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر کچھ تصاویر وائرل ہوئیں جن کے بارے میں مختلف د...
29/10/2025

📌 آسمان میں نظر آنے والی یہ عجیب روشنی آخر ہے کیا؟

گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر کچھ تصاویر وائرل ہوئیں جن کے بارے میں مختلف دعوے کیے جا رہے ہیں۔ کوئی کہہ رہا ہے کہ سپرسونک میزائل کا تجربہ ہوا ہے، کوئی اسے بلوچستان کا واقعہ قرار دے رہا ہے اور کچھ لوگ تو اسے غیر معمولی آسمانی واقعہ سمجھ رہے ہیں۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ یہ تصاویر پاکستان کی نہیں ہیں اور نہ ہی یہ حالیہ دنوں کی ہیں۔ یہ دنیا کے مختلف ممالک میں راکٹ اور میزائل لانچ کے دوران آسمان میں بننے والے روشن بادلوں (Rocket Exhaust Clouds) کی تصویریں ہیں جو پہلے ہی انٹرنیٹ پر موجود ہیں۔

جب کوئی راکٹ خلاء کی طرف جاتا ہے تو اس کے پیچھے نکلنے والی گرم گیسیں اونچی فضا میں سورج کی روشنی سے ٹکرا کر ایسے ہی خوبصورت، لہراتے ہوئے اور رنگین مناظر بناتی ہیں۔ یہ بالکل قدرت اور سائنس کی ایک مشترکہ جھلک ہوتی ہے۔

لہٰذا حقیقت یہی ہے کہ:
✅ یہ وائرل تصاویر پرانی ہیں
✅ مختلف ممالک سے لی گئیں
✅ میزائل/راکٹ لانچ کے دوران بنیں
❌ بلوچستان یا پاکستان سے ان کا تعلق نہیں

سوشل میڈیا پر کچھ بھی شیئر کرنے سے پہلے اس کی حقیقت ضرور جانچیں، کیونکہ سچ ہمیشہ زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔ 🌍✨

— غلام اکبر سنجرانی

تحریر: غلام اکبر سنجرانی | Thal Damaan📱 “موبائل کی ترقی… اور انسان کی تنزلی”ایک وقت تھا فون اینٹ جتنا ہوتا تھا اور انسان...
28/10/2025

تحریر: غلام اکبر سنجرانی | Thal Damaan

📱 “موبائل کی ترقی… اور انسان کی تنزلی”

ایک وقت تھا فون اینٹ جتنا ہوتا تھا اور انسان دل بڑا رکھتا تھا۔ موبائل جیب سے نہیں بلکہ بازو سے سنبھالا جاتا تھا، مگر باتیں دل تک پہنچتی تھیں۔ پھر وقت نے کروٹ لی… فون پتلا ہوتا گیا اور انسان کا صبر بھی۔

پرانے موبائل میں بس ایک Snake ہوتا تھا، مگر زندگی سکون سے بھری ہوتی تھی۔ آج پوری دنیا موبائل میں قید ہے، مگر دل خالی۔ پہلے موبائل ہماری ضرورت تھا، اب ہم موبائل کی ضرورت بنے پھر رہے ہیں۔ پہلے کیمرہ نہ ہونے کے باوجود یادیں خوبصورت تھیں، آج ہر لمحہ ریکارڈ ہوتا ہے مگر یاد کرنے والا کوئی نہیں۔

اسکرین بڑھی تو نظریں کمزور ہو گئیں۔ فیچر بڑھے تو رشتے کم ہو گئے۔ فون اسمارٹ ہوا تو انسان بےوقوف۔ نئے ماڈل آنے لگے تو عزت پرانی ہو گئی۔ پہلے بیلنس ختم ہوتا تھا تو فکر لگتی تھی، آج نیٹ ختم ہو جائے تو زندگی تھم جاتی ہے۔

ایک وقت تھا نمبر دل میں محفوظ ہوتے تھے۔ آج نمبرز موبائل میں ہیں اور دل خالی پڑے ہیں۔ کبھی فون گم ہو جائے تو لگتا ہے زندگی برباد ہو گئی۔ کوئی اپنوں سے بچھڑ جائے تو بس ایک اسٹیٹس کافی سمجھتے ہیں۔

وقت بدلا، فون بدلا، انسان بدل گیا۔
مگر… ایک بات اب بھی وہی ہے:

آج بھی ہم فون نہیں چلاتے… فون ہمیں چلا رہا ہے۔

──────────────

✍️ غلام اکبر سنجرانی
🌍 تونسہ شریف | Thal Damaan

Address

Taunsa

Telephone

+923217300494

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Thal Daman posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Thal Daman:

Share