15/01/2026
تونسہ شریف میں ٹریفک پولیس کی یکطرفہ کارروائیاں — ایک سنجیدہ سوال
تونسہ شریف ایک مزدوروں کا شہر ہے۔ یہاں زیادہ تر لوگ محنت مزدوری کر کے دو وقت کی روٹی کماتے ہیں، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ٹریفک پولیس کی روزانہ کی کارروائیاں زیادہ تر انہی غریب موٹرسائیکل سواروں تک محدود نظر آتی ہیں۔
کبھی لائسنس کے نام پر، کبھی کاغذات کے بہانے موٹرسائیکل بند، چالان اور تھانے میں بندش — یہ سب کیا صرف مزدور کے لیے ہے؟
سوال یہ ہے کہ:
کیا کبھی بڑی گاڑیوں کو روکا گیا؟
کیا کبھی کار سوار کا لائسنس باقاعدہ چیک ہوا؟
کیا کبھی رکشہ ڈرائیور کی نمبر پلیٹ اور کاغذات دیکھے گئے؟
اگر قانون سب کے لیے برابر ہے تو عمل بھی برابر کیوں نہیں؟
قانون پر عمل ضروری ہے، اس سے کسی کو انکار نہیں۔ لائسنس بننا چاہیے، مگر قانون کا نفاذ انصاف کے ساتھ ہونا چاہیے، انتقام کے ساتھ نہیں۔
بدقسمتی سے کچھ مفاد پرست “چمچا صحافی” بھی اس عمل کو درست ثابت کرنے میں لگے نظر آتے ہیں، جو عوام کی آواز بننے کے بجائے طاقتوروں کی تالیاں بجاتے ہیں۔
ہم تونسہ شریف کے معزز نمائندگان، ایم این اے اور ایم پی اے صاحبان سے مؤدبانہ گزارش کرتے ہیں کہ اس معاملے کا نوٹس لیں، ٹریفک پولیس کو سمجھائیں کہ قانون کا اطلاق یکساں ہو۔
غریب کو تنگ کرنا آسان ہے، مگر انصاف وہی ہے جو سب کے لیے ہو۔
یہ آواز نفرت کی نہیں، اصلاح کی ہے۔
یہ مطالبہ بغاوت نہیں، برابری کا ہے۔