17/03/2026
چارسدہ پریس کلب کا صحافیوں کو دھمکیوں پر احتجاجی تحریک کا اعلان
چارسدہ پریس کلب کی کابینہ کا ایک اہم اجلاس صدر سبز علی خان ترین کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں صحافیوں کو ملنے والی جان لیوا دھمکیوں، سیکیورٹی کی مخدوش صورتحال اور پولیس کی عدم کارروائی پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔
اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ پریس کلب سے وابستہ صحافیوں رفاقت اللہ رزڑوال اور سید شاہ رضا شاہ کو گزشتہ کئی ماہ سے جان سے مارنے، اغوا کرنے اور خودکش حملوں کی دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں۔ متاثرہ صحافیوں کی جانب سے ان دھمکیوں کے شواہد متعلقہ اداروں کو فراہم کیے جا چکے ہیں، تاہم اس کے باوجود تاحال نہ ایف آئی آر درج کی گئی اور نہ ہی ملزمان کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی عمل میں لائی جا سکی ہے۔
شرکاء نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ پولیس نے صحافیوں کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے بجائے انہیں اپنی حفاظت خود کرنے کی ہدایت جاری کی، جبکہ ڈی پی او چارسدہ کی جانب سے پریس کلب کی سیکیورٹی بھی واپس لے لی گئی ہے، جس سے صحافیوں کو لاحق خطرات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
اجلاس میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ دھمکی آمیز کالز کرنے والوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں صحافیوں کے فون نمبرز مقامی پولیس نے فراہم کیے ہیں، جس پر شرکاء نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے نہایت تشویشناک قرار دیا۔ اس صورتحال سے پولیس اور غیر ریاستی عناصر کے درمیان ممکنہ گٹھ جوڑ کا تاثر پیدا ہو رہا ہے۔
شرکاء نے کہا کہ صحافیوں کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی سے روکنا اور ان پر دباؤ ڈالنا آزادی صحافت کے منافی ہے، اور اس سے عوام کے حقِ معلومات کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ چارسدہ کے صحافی اپنے فرائض سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ چارسدہ پریس کلب کے زیر اہتمام چارسدہ پولیس کے خلاف باقاعدہ احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی، جس میں صحافیوں کے تحفظ اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں معاملہ قومی و بین الاقوامی صحافتی تنظیموں، انسانی حقوق کے اداروں اور پارلیمنٹ کے سامنے بھی اٹھایا جائے گا۔
اجلاس کے دوران قبائلی ضلع خیبر میں سینئر صحافی قاضی عبدالرؤف آفریدی پر مبینہ تشدد اور لوئر دیر میں خیبر نیوز کے رپورٹر محمد اسرار پر حملے کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی، اور مطالبہ کیا گیا کہ ان واقعات میں ملوث عناصر کو فوری گرفتار کر کے قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ صحافیوں کے تحفظ، آزادی صحافت اور عوام کے حقِ معلومات کے لیے ہر سطح پر قانونی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔